موضوع:کرتارپور کوریڈور پاکستان کی بدنیتی کامظہر

گزشتہ ماہ جب سرحد کی دونوں جانب کرتارپور صاحب کوریڈور کا افتتاح ہوا تھا تو ایک اچھی فضا قائم ہوئی تھی کیونکہ ہندوستان کے لوگوں کی بالعموم اور سکھ عقیدتمندوں کی بالخصوص ایک دیرینہ خواہش تھی کہ گرودوارہ کرتارپور صاحب اور بابا ڈیرا نانک گورداس پور کے درمیان کوریڈور کی تعمیر ہو تاکہ عقیدتمندوں کو آنے جانے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ ان دونوں مقدس مقامات کا فاصلہ محض چند کلو میٹر کا ہے لیکن تقسیم کے بعد ان کی دوریاں اتنی بڑھ گئی تھیں کہ گزشتہ 70سال سے بھی زیادہ عرصہ سے لوگ کرتارپور صاحب کے دیدار سے محروم تھے۔ گزشتہ سال پاکستان کی طرف سے یہ رضامندی ظاہر کی گئی کہ اس راہداری کو تعمیر کیاجائے گا۔ بہرحال یہ خبر قدرتی طور پر باعث مسرت تھی۔ یہ بات بھی اطمینان بخش تھی کہ ایک سال کے عرصے میں دونوں ملکوں نے اپنے اپنے حصہ کی راہداری کا کام مکمل کرلیا تھا اور گزشتہ ماہ کے اوائل میں اس کا افتتاح بھی ہوگیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اس کا افتتاح کرتے ہوئے اپنے پاکستانی ہم منصب عمران خان کا شکریہ بھی ادا کیا تھا کہ انہوں نے ہندوستان کے لوگوں کی ایک دیرینہ خواہش کا احترام کیا اور لوگوں کے جذبات کو سمجھا۔ نہ صرف وزیراعظم بلکہ متعدد حلقوں نے اس کا استقبال کیا تھا اور امید ظاہر کی تھی کہ دوسرے معاملات میں بھی پاکستان کچھ ایسی ہی مثالیں پیش کرے گا تاکہ اسی طور پر کشیدگی کے ماحول میں رفتہ رفتہ کمی واقع ہو۔ ابھی حال ہی میں لندن میں کچھ دانشوروں اور اس خطے میں امن کے کاز کو فروغ دینے والے آزاد مشاہدین نے ایک میٹنگ میں اس بات پر تبادلہ خیال کیا تھا کہ پاکستان کی مجروح ہوتی ہوئی ساکھ کے پیش نظر پاکستان کو اپنی امیج بہتر بنانے کیلئے کرتارپور کاریڈور کی تعمیر جیسے دیگر اقدام بھی کرنے چاہئیں اور دہشت گردی کی لعنت سے اپنا دامن بچانا چاہئے۔ لیکن ایک ستم ظریفی یہ ہے کہ اس طرح کے مشوروں کا احترام کرنے یا ان پر غور کرنے کی بجائے پاکستان کے سیاسی اور سفارتی حلقوں کی طرف سے ایسے رویوں کا اظہار ہوتا ہے کہ پاکستان کو امن مصالحت کی فضا سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ان کی باتوں اور سرگرمیوں سے اکثر نفرت کی بو آتی ہے۔ مثلاً لندن کی جس میٹنگ کا یہاں ذکر ہوا اسی کے بعض شرکاء نے بتایا کہ لندن میں واقع پاکستانی سفارتخانے نےاس بات کی بھرپور کوشش کی کہ وہ میٹنگ منعقد نہ ہونے پائے۔

اب پاکستان کے ایک وفاقی وزیر کے ایک حالیہ بیان پر غور کیجئے ، موصوف کا نام ہے شیخ رشید! وہ وزارت ریلوے کا قلمدان سنبھال رہے ہیں۔ انہوں نے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ کرتاپور راہداری کی تعمیر کا پروجیکٹ پاکستان کے موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوا کا برین چائلڈ تھا۔ شیخ رشید نے اسی پر بس نہیں کیا۔ انہوں نے آگے بڑھ کر یہ بھی کہا کہ یہ راہداری ہندوستان کو چوٹ پہنچاتی رہے گی۔ جنرل باجوا نے ایک ایسا زخم لگایا ہےجو ہندوستان کو یاد رہے  گا۔ شیخ رشید پاکستان میں اکثر مذاق کا موضوع بنتے رہتے ہیں ۔ بیان داغنے کے معاملے میں وہ بہت مشہور ہیں فوجی ڈکٹیٹر جنرل مشرف نے جو اپنی نام نہاد کابینہ بنائی تھی اس میں بھی وہ وزیر تھے اور جنرل مشرف کی وردی کی تعریف کیا کرتے تھے۔ لیکن اس وقت کی حقیقت یہ ہے کہ وہ عمران خان کی حکومت میں شامل ہیں۔ ان کا یہ تازہ بیان ظاہر ہے اسی حکومت کے ایک وزیر کا مانا جائیگا۔ ان کا یہ کہناکہ کرتارپور راہداری کا پروجیکٹ جنرل باجوا کا برین چائلڈ ہے اور یہ کہ اس کے ذریعے جنرل نے ہندوستان پر ایک زخم لگایا ہے قرین قیاس بھی لگتا ہے ۔ کیونکہ اس کی تجویز جنرل باجوا نے ہی عمران خان کی حلف برادری کی تقریب کے وقت پیش کی تھی۔ یعنی اس کا اعلان کسی سیویلین قائد نے نہیں کیا تھا۔ عمران خان اور پاکستانی فوج ایک دوسرے کے حامی ہیں۔ تو کیا واقعی کرتارپور کوریڈور پاکستان کی بدنیتی اور ہندوستان کے تئیں اس کی روایتی سوچ کی آئینہ دار ہے؟ وزیراعظم عمران خان کو اس سلسلے میں خود وضاحت کرنی چاہئے کہ آیا شیخ رشید کا بیان حقیقت پر مبنی ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور اس کی قیادت اپنی بدنیتی خود ہی ظاہر کردیتی ہے۔ یہ بات کوئی پوشیدہ نہیں ہے کہ پاکستان خالصتانی علیحدگی پسندوں کو ایک عرصہ تک مدد فراہم کرتا رہا ہے اس کی تمام سازشیں ناکام ثابت ہوچکی ہیں اور کشمیر سے پہلے اس نے پنجاب میں بھی یہی کھیل کھیلنے کی کوشش کی تھی۔ ماضی کی اس سرگرمی اور دہشت گردی کی حمایت کے پیش نظر بعض حلقوں میں پہلے سے شکوک وشبہات موجود تھے کہ کرتارپور راہداری کو پاکستان، خاص طور سے اس کی خفیہ ایجنسیاں تخریب کارانہ مہم جوئیوں کے لئے استعمال کرسکتی ہیں اور انتہاپسندانہ خیالات کو فروغ دینے کیلئے نام نہاد خالصتان کا نعرہ لگانے والے عناصر کو علیحدگی پسندی کی طرف مائل کرنے کی کوشش کرسکتی ہیں۔ شاید شیخ رشید کی زبان پر وہ بات آگئی جو پاکستان کا خفیہ ایجنڈا ہوسکتا ہے۔ لیکن انہیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ہندوستان اب اس طرح کی سرگرمیاں قطعی برداشت نہیں کرسکتا۔ اس ضمن میں بالاکوٹ کے واقعے کو ایک ‘‘ٹریلر’’ سمجھا جانا چاہئے۔