05.12.2019جہاں نما

 مواخذہ کی تحقیقاتی رپورٹ نے کہا، صدر ٹرمپ نے ذاتی مفاد کیلئے عہدے کا غلط استعمال کیا

 

۔ امریکی ایوان نمائندگان کی ہاؤس انٹلیجنس کمیٹی نے منگل کے روز صدر ڈونل ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی سے متعلق اپنی رپورٹ جاری کر دی ۔ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ذاتی سیاسی مفاد کیلئے نہ صرف اپنے عہدے کاغلط استعمال کیا بلکہ چھان بین کی کارروائی میں رکاوٹ بھی ڈالی ۔ا س خبر کو تمام اخبارات نے نمایاں طور پر اپنے کالموں میں جگہ دی ہے ۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ہندو تحریر کرتا ہے کہ مواخذہ کی تحقیقات سے متعلق تین کمیٹیوں کے سربراہوں نے ایک بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے سیاسی حریف اور سابق نائب صدر جوبائیڈن کے خلاف تحقیقات کرانے کیلئے یوکرین کے صدر پر زور ڈالا تھا اور اس طرح انہوں نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے یہ کہانی بھی گڑھی کہ 2016 کے انتخابات میں روس نے نہیں بلکہ یوکرین نے مداخلت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کرانے کا مقصد 2020 کے صدارتی انتخابات میں خود کیلئے فائدہ حاصل کرنا تھا۔ رپورٹ کے مطابق صد ر ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنیسکی کے ساتھ وہائٹ ہاؤس میں ایک میٹنگ کا پروگرام بنایا۔ انہوں نے یوکرین کیلئے 391 ملین ڈالر کی فوجی امداد کا بھی اعلان کیا لیکن کہا کہ جوبائیڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف تحقیقات کے اعلان کے  بعدہی یہ امداد جاری کی جائے گی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایجنسیوں اور گواہوں کو تحقیقات کو نظر انداز کرنے کا حکم دے کر صدر نے مواخذے کی انکوائری میں خلل ڈالنے کی پوری کوشش کی۔ صدر نکسن کے معاملہ کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر نکسن نے بھی مواخذے کے تحقیقات کرنے کیلئے کانگریس کے اختیارات کو تسلیم کیا تھا اور اپنے اہلکاروں اور مشیروں کو بھی کانگریس کی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی اجازت دی تھی اگرچہ انہوں نے بھی کمیٹی کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تھی ۔رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کی رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں کے باوجود ایوان کو صدر کے عہدہ کا بے جا استعمال کرنے سے متعلق زبردست شواہد ملے ہیں۔ تاہم صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذہ شروع کیا جائے یا نہیں اس بات کا حتمی فیصلہ ایک دوسری کمیٹی پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔لیکن یہ بات تقریباً طے ہے کہ ایوان مواخذہ سے متعلق دفعات تیار کرنے اور اس پر ووٹنگ کرانے کی کوشش ضرور کرے گا۔ 

 

 ناٹو کی سربراہ کانفرنس کے دوران عالمی رہنماؤں نے ٹرمپ کا اڑایا مذاق 

 

۔ صدر امریکہ ڈونل ٹرمپ نے کہا ہے کہ کناڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈوکے دو چہرے ہیں۔ اس خبر کو بھی تمام اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ انڈین ایکسپریس لکھتا ہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایک ویڈیو دیکھنے کے بعد آیا جس میں جناب ٹروڈو لندن میں ناٹو کے دوسرے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کے دوران صدر ٹرمپ کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ جب ان سے اس ویڈیو کے بارے میں پوچھا گیا تو جناب ٹرمپ نے کہا کہ کناڈا کے وزیراعظم کے دو چہرے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ایک اچھے انسان ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے کناڈا پر ناٹو کے فوجی اخراجات میں دو فیصد کا اضافہ کرنے کیلئے دباؤ ڈالا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایسی حرکت کی۔ وہ شاید اس بات سے خوش نہیں تھے۔ اس ویڈیو میں بکنگھم پیلیس میں ایک استقبالیہ کے دوران عالمی رہنماؤں کو صدر ٹرمپ کا مذاق اڑاتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔ ویڈیو میں جناب ٹروڈو کو صدر ٹرمپ کے برتاؤ کے بارے میں بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔ منگل کے روز ناٹو میٹنگ سے پہلے صدر ٹرمپ دو گھنٹے تک نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے رہے ۔ اتنی دیر تک اخبار نویسیوں سے باتیں کرتے رہنا ٹروڈو کو عجیب سا لگا تھا۔ جس گروپ سے ٹروڈو بات چیت کر رہے تھے اس میں شہزادی اینے فرانس کے صدر میکروں ، برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن اور نیدر لینڈس کے وزیراعظم مارک روٹ شامل تھے۔

 

 اویغور بل کے خلاف چین کی جوابی کارروائی کرنے کی دھمکی 

 

۔ امریکی ایوان نمائندگان نے منگل کے روز کثرت رائے سے اویغور حقوق انسانی پالیسی ایکٹ منظور کر لیا۔ اس خبرکو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی اسٹیٹس مین تحریر کرتا ہے کہ اس بل کی منظوری پر چین نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ وہ جوابی کارروائی کر ے گا۔ اس بل میں چین کے شنجیانگ صوبے میں دس لاکھ سے زیادہ اویغور اور دوسرے اقلیتی مسلمانوں کی نظر بندی کا مسئلہ حل کرنے کیلئے وسائل کا استعمال کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس بل کو سینٹ سے پہلے ہی منظوری مل چکی ہے۔ بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اویغور مسلمانوں کی نظر بندی اور اذیت رسانی فوراً بند کی جائے۔ ایوان کے ریپبلکن لیڈر کیون میک کارتھی نے کہا کہ اس بل کو منظور کر کے کانگریس یہ بتانا چاہتی ہے کہ امریکہ مظلوم لوگوں کی تکلیفات کے تئیں تجاہل عازمانہ سے کام نہیں لے گا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے ہم نے ہانگ کانگ کے بارے میں ایک بل منظور کیا ہے اسی طرح سے ہم نے چین کے بارے میں بھی یہ بل منظور کر کے کمیونسٹ پارٹی کو ایک سخت پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ حقوق انسانی کی خلاف ورزی کے بہر حال نتائج بھگتنے ہونگے۔ادھر بیجنگ میں نیشنل پیپلز کانگریس کی امور خارجہ سے متعلق کمیٹی نے ایک بیان جاری کرکے اس بل کی سخت مخالفت کی۔ بیان میں کہاگیا ہے کہ اس بل کی منظوری چین کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حقائق نے ثابت کر دیا ہے کہ حکومت چین کی جانب سے کئے گئے موثر اقدامات سے شنجیانگ صوبے میں سیکورٹی کی صورتحال کافی بہتر ہوئی ہے۔ گذشتہ تین برسوں کے دوران اس صوبے میں ابھی تک تشدد اور دہشت گردی کے واقعات کی کوئی رپورٹ نہیں ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ہوا چونئینگ نے کہاکہ امریکہ غیر ضروری الزامات لگا رہا ہے اور وہ چیزیں پیش کر رہا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر غلط لفظ اورحرکت کی قیمت چکا نی پڑے گی۔ 

 

 629 پاکستانی لڑکیاں بردہ فروشی کا شکار، دلہن کے طور پر بھیجی گئیں چین۔

 

۔ پاکستان میں عورتوں کی بردہ فروشی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پاکستانی تفتیش کاروں کے مطابق اب تک 629لڑکیاں دلہن کے طور پر چین کے گاہکوں کو بیچی جا چکی ہیں۔ اس خبر کو بیشتر اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ ایشین ایج تحریر کرتا ہے کہ پاکستان میں عورتوں کی بردہ فرشی عرصۂ  دراز سے جاری ہے۔ اس بارے میں تحقیقات بھی شروع کی گئی تھیں تاہم انہیں بعد میں روک دیا گیا۔حکام کو ڈر تھا کہ کہیں ان کی وجہ سے چین کے ساتھ تعلقات خراب نہ ہو جائیں ۔ اس سال اکتوبر میں فیصل آباد کی ایک عدالت نے 31 چینی شہریوں کو بری کردیا۔ ان پر لڑکیوں کی بردہ فروشی کا الزام تھا۔ پولیس اہلکاروں کے مطابق اس معاملہ سے جڑی بہت سی عورتوں نے عدالت میں گواہی دینے سے اس لئے انکار کردیا کیونکہ یا تو انہیں ڈرایا دھمکایا گیا تھا یا پھر پیسے دے کر انہیں خاموش کردیا گیا تھا۔ اسی کے ساتھ حکومت نے تحقیقات کو روک دیا ہے جس کی وجہ سے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے افسروں پر دباؤ کافی بڑھ گیا ہے۔ ایجنسی کے کچھ افسروں کا تبادلہ بھی کر دیا گیا ہے اور اگر حکومت کے لوگوں سے اس سلسلہ میں کوئی بات کی جاتی ہے تو اس پر توجہ ہی نہیں دیتے۔ جب وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ سے اس بارے میں سوال پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دینے سے انکار کر دیا۔ ان معاملات سے جڑے بہت سے سینئر افسروں نے کہاکہ بردہ فروشی کی تحقیقات اس وقت سست روی کا شکار ہے ۔ تحقیق کار کافی الجھنوں میں ہیں اور پاکستانی میڈیا کو اس بارے میں رپورٹنگ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ان لڑکیوں کی مدد کیلئے کوئی کچھ نہیں کر رہا ہے۔ اسی دوران حکومت پاکستان نے حکومت برطانیہ سے کہا ہے کہ علاج کے بعد وہ نواز شریف کو وطن واپس بھیج دے۔ جناب شریف 19 نومبر کو ایک ایئر ایمبولینس کے ذریعہ علاج کی غرض سے برطانیہ گئے تھے۔ 

 

 صدر ٹرمپ کے منظوری کے بعد امریکہ اور طالبان کے درمیان دوبارہ بات چیت 

 

۔ امریکہ طالبان کے ساتھ دوبارہ بات چیت شروع کرے گا۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ایشین ایج امریکی وزارت خارجہ کا حوالہ دیتے ہوئےتحریر کرتا ہے کہ افغانستان کیلئے امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کابل پہنچ چکے جہاں وہ صدر اشرف غنی سے ملاقات کریں گے۔ کابل میں اپنی ملاقات کے بعد وہ قطر جائیں گےجہاں وہ طالبان کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ خلیل زاد قطر میں طالبان کے ساتھ بات چیت شروع کریں گے۔ وہ اس بات پر تبادلہ خیال کریں گے کہ بین افغان مذاکرات کیسے شروع کئے جائیں تاکہ ملک میں تشدد کا خاتمہ ہو سکے ۔ قابل ذکر ہے کہ تین مہینے پہلے افغانستان میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد صدر ٹرمپ نے سفارتی کوششیں اچانک روک دی تھیں لیکن پچھلے ہفتہ افغانستان میں امریکی اڈوں کے دورے کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ طالبان سمجھوتہ کرنا چاہتے ہیں لیکن طالبان نے بعد میں کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ راست بات چیت کے امکانات کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔