موضوع:ایران کے احتجاجات خلیج میں امن واستحکام کی صورت حال کیلئےضرررساں

حکومت ایران نے گزشتہ مہینے اعلان کیا کہ وہ پٹرول کی راشن بندی کرنے جارہی ہے تاکہ اس سے حاصل ہونے والے اضافی پیسے سے غریب شہریوں کی مدد کی جاسکے۔ حکومت کے اس اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہوگیا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف لوگ احتجاجا سڑکوں پر اتر آئے اور اس احتجاج نے جلد ہی متعدد شہروں کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ان مظاہروں نے دھیرے دھیرے سیاسی انتشار کی صورت اختیار کرلی جس سے حکومت کے استحکام کو خطرہ لاحق ہوگیا۔

ایرانی حکام نے اس انتشار کے لیے ملک کے دشمنوں اور جلا وطن اپوزیشن گروپوں کو مورد الزام ٹھہرایا اور اس سے نپٹنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کیے۔ حکومت مخالف مظاہروں کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے انٹرنیٹ کو بھی تقریباً پوری طرح سے بند کردیا گیا۔ پاسداران انقلاب کے چیف کمانڈر کے مطابق ایران کے دشمنوں کا مقصد ان مظاہروں اور احتجاجات کے ذریعہ ملک کے وجود کو خطرے میں ڈالنا تھا۔

اگرچہ ایران نے مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والوں کی کوئی تفصیل نہیں بتائی  ہے تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دعوی کیا ہے کہ مظاہروں کے دوران کم سے کم 208 لوگ مارے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ احتجاجات کے دوران تقریبا 2 ہزار لوگ سیکورٹی فورسز کے ہاتوں زخمی بھی ہوئے اور تقریبا 7 ہزار لوگوں کو حراست میں لیا گیا۔ ہلاک ہونے والوں کی بغیر کوئی تعداد بتائے ایرانی میڈیا نے سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں کچھ لوگوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے۔ ان مہلوکین کو مسلح دہشت گردقرار دیتے ہوئے میڈیا نے ان مظاہروں کو کچلنے کے لیے سیکورٹی فورسز کی تعریف بھی کی ہے۔ اس کے علاوہ ایران کی وزارت انٹلیجنس نے کہا ہے کہ مظاہروں کے دوران امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے سے تعلق رکھنے والے کم از کم آٹھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان تقریبا دو ہفتوں کے پرتشدد تصادم کے بعد صدر حسن روحانی نے اس ہفتے کہا کہ ان لوگوں کو رہا کردیا جانا چاہیے جو بے قصور ہیں اور گرفتاری کے وقت جن کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا۔

ایران میں حکومت مخالف مظاہرے اس وقت ہوئے ہیں جب تہران واشنگٹن کی جانب سے عائد شدید پابندیوں کی زد میں ہے۔ قابل ذکر ہے کہ پچھلے سال ایران اور 6 دوسری عالمی طاقتوں کے ساتھ ہوئے نیوکلیائی معاہدے سے خود کو الگ کرکے امریکہ نے ایران پر شدید پابندیاں عائد کردی تھیں۔ امریکی پابندیوں کے باعث ایران تیل اور گیس کی برآمدات کرنے سے قاصرہے جس کی وجہ سے اس کی معیشت بری طرح متاثر ہے۔ پابندیوں نےایرانی شہریوں کی روزمرہ کی زندگی کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ اب ایرانی حکام معیشت کی بدحالی کے لیے اپنے دشمنوں کو مورد الزام ٹھہرارہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی عوام کی تمام مشکلات اور تکالیف ان پابندیوں کی وجہ سے ہی ہیں۔

اگرچہ حالیہ احتجاجات تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث شروع ہوئے تاہم ایسا لگتا ہے کہ یہ ایران اور امریکہ کے درمیان لمبے عرصہ سے جاری تعطل کا نتیجہ تھے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اس پر سے پابندیاں اٹھالے تو وہ اس سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم امریکہ اس بات پر زور دے رہا ہے کہ پہلے ایران اپنا میزائل پروگرام بند کرکے نیوکلیائی پروگرام کو اس سطح تک واپس لے جائے جہاں وہ نیوکلیائی معاہدہ کرتے وقت تھا۔ اسی کے ساتھ وہ علاقہ میں اپنی سرگرمیوں پر بھی روک لگائے تبھی پابندیاں اٹھائی جاسکتی ہیں۔ اس صورت حال نے دونوں ملکوں کے درمیان ایسا تعطل پیدا کررکھا ہے جس کا ختم ہونا مشکل لگ رہا ہے۔ اور یہ تعطل خلیج فارس میں امن واستحکام کی صورت حال کے لیے ضررر ساں ثابت ہوسکتا ہے۔

ایک غیرمستحکم ایران کسی کے بھی حق میں نہیں ہے۔ خوزستان، سیستان، بلوچستان اور کردستان میں نسلی اقلیتوں کے لوگ رہتے ہیں۔ اگر ان صوبوں میں مظاہروں کو دبایا یا کچلا گیا تو خدشہ ہے کہ تشدد میں شدت پیدا ہوجائے گی۔ اس بات کا بھی ڈر ہے کہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کیلئے ایران کی مولویوں کی حکومت اس طرح کے مظاہروں کو کچلنے کیلئے ایسی طاقت کا استعمال کرے گی جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی تاکہ وہ اپنے مخالفین کو سخت پیغام دے سکے۔ 

ایران یا خلیج میں کسی طرح کا بھی انتشار ہندوستان کے بھی حق میں نہیں ہے۔ ہندوستان کے ایران سمیت خلیج کے تمام ملکوں کے ساتھ اچھے رشتے ہیں جہاں سے وہ تیل درآمد کرتا رہا ہے۔ نئی دہلی ایران میں چابہار بندرگاہ کی ترقی میں بھی مصروف ہے اس لئے  علاقہ میں مزید اتنشار سے اس طرح کی سرمایہ کاری کا مقصد ہی فوت ہوسکتا ہے۔