موضوع:لندن کے دہشت گرد کے پاکستان سے رابطے

گزشتہ ہفتے لندن کے مشہور زمانہ لندن برج پر جس 28 سالہ نوجوان نے دو افراد کو چھرا گھونپ کر مارڈالا اور مزید تین افراد کو شدید طور پر زخمی کیا تھا وہ لندن پولیس کے ہاتھوں خود بھی مارا گیا لیکن ماضی کے اس کے کارنامے بہت چونکانے والے ہیں۔  یوں تو وہ برطانوی شہری تھا لیکن نسلا پاکستانی تھا اور اس کی کمسنی کا کچھ حصہ پاکستان میں گزرا تھا۔ اس کے بارے میں لندن پولیس اور دوسرے ذرائع سے جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسے اس طور پر پروان چڑھایاگیا تھا کہ جہاد اور شہادت جیسے الفاظ رگ جاں کی طرح اس کی سوچ کا حصہ بن گئے تھے۔ اس کی برین واشنگ اس طور پر ہوئی تھی کہ گویا وہ پیدائشی طور پر دہشت گرد تھا۔2012میں اسے لندن کی عدالت سے سزا ہوئی تھی اور کئی سال جیل میں رہا۔ اس کا نام عثمان خان تھا۔ عدالت نے آٹھ سال کی سزا سنائی تھی۔ سزا کی وجہ یہ تھی کہ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر موجودہ برٹش وزیراعظم بورس جونسن کو، جو اس وقت لندن کے میئر تھے ہلاک کرنے، لندن کے اسٹاک ایکسچینج اور ویسٹ منسٹر میں واقع پارلیمنٹ کمپلیکس کو اڑادینے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ان کا ارادہ ٹھیک ویسا ہی حملہ کرنا تھا جیسا ممبئی پر 26/11 کو لشکر طیبہ کا حملہ ہوا تھا۔ 2018 میں اسے کچھ شرائط کے ساتھ رہا کردیا گیا تھا اور اب اس کا یہ کارنامہ سامنے آیا ہے۔

اسے سزا سناتے وقت جج نے کہا تھا کہ اس کی بات چیت سے پتہ چلتا ہے کہ مدرسہ قائم کرنے کے منصوبے اور دہشت گردی کے تئیں اس کے رویہ کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے ارادے کتنے خطرناک ہیں۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے جن باتوں کی نشاندہی اس کے بارے میں متعلقہ ایجنسیوں نے کی ہیں ان کے مطابق ان کا منصوبہ بہت طویل مدتی تھا۔ ایک منصوبہ یہ تھا کہ وہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں ایک مدرسہ قائم کریں اور وہاں دہشت گردی کی ٹریننگ کے لیے ہر طرح کی سہولیات فراہم کریں۔ وہ فراڈ اور دوسرے ناجائز طریقوں سے فنڈ اکٹھا کرنا چاہتے تھے۔ ان کا منصوبہ ہندوستان میں جموں وکشمیر پر حملہ کرنا اور وہاں خون خرابے کو فروغ دینا تھا۔ اس ٹریننگ سینٹر میں برطانوی مسلمانوں کو وہ لے جانا چاہتے تھے اور وہاں رہ کر وہ خود بھی براہ راست دہشت گردانہ حملوں کا تجربہ کرنا چاہتے تھے۔ تفصیل میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ عثمان خان مقبوضہ کشمیر میں اسی مقام پر مدرسہ اور ٹریننگ کیمپ قائم کرنا چاہتا تھاجو خود اسی کی فیملی کی ملکیت ہے۔ اسی کیمپ سے وہ اور اس کا گروپ جموں وکشمیر پر حملہ کرنے کا پروگرام بنارہا تھا۔ 2018 میں کچھ شرائط کے ساتھ اسے رہا تو کردیا گیا تھا لیکن وہ اپنی جہادی ذہنیت سے پیچھا نہ چھڑا سکا۔لندن برج پر ہونے والا حملہ اس کے اسی جنون کا ایک اظہارتھا۔

ادھر پاکستان میں ایک انتہاپسند حلقے کو عثمان خان کی شناخت ظاہر کرنے پر بھی اعتراض ہوا۔ظاہر ہے وہ پاکستان نژاد برطانوی شہری تھا لہذا خبروں اور رپورٹوں میں یہی کہا گیا کہ وہ برطانوی شہری تھا لیکن اس کا خاندان پاکستان سے وہاں گیا تھا۔ پاکستان کے ممتاز اور کثیرالاشاعت اخبار ‘ڈان’ نے یہی بات اپنی رپورٹ میں بھی کہی کہ لندن برج پر حملہ کرنے والا دہشت گرد پاکستان نژاد برطانوی شہری تھا تو یہ حلقہ بوکھلا اٹھا اور اخبار کے آفس پر ہی حملہ کردیا۔اخبار کے ملازمین اور رپورٹروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ یاد رہے کہ اخبار ‘ڈان’ اکثر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے نشانے پر رہتا ہے کیوں کہ اس کی رپورٹس اور اداریے وغیرہ اسے راس نہیں آتے لہذا یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ حملہ کرنے والے کون لوگ ہوسکتے ہیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ مغربی ملکوں میں اقتصادی خوشحالی یا بہتر مستقبل کا خواب لے کر جو لوگ جاتے ہیں وہ وہاں کی آزاد جمہوری قدروں سے فیضیاب بھی ہوتے ہیں۔ پاکستان سے ترک وطن کرکے جانے والوں کی ایک بڑی تعداد بھی وہا رہتی ہے۔ ان میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو جمہوریت کی نعمتوں سے مستفید بھی ہوتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنی جہادی ذہنیت کو بھی پروان چڑھاتے ہیں اور خود اسی ملک کے مفاد کے خلاف بھی کام کرتے ہیں جہاں کی انہیں شہریت ملی ہوتی ہے۔ عثمان خان ویسے ہی لوگوں میں سے ایک تھا۔ برطانیہ اور دوسرے مغربی ملکوں میں پاکستان یہ پروپگنڈا کرتا ہے کہ ہندوستان میں جو دہشت گردانہ واقعات ہوتے ہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں کشمیریوں کے انسانی حقوق پامال کیے جاتے ہیں۔ اگر پاکستان کی یہ منطق مان لی جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان، لشکرجھنگوی، سپاہ صحابہ اور اس جیسے دوسرے گروپ جو خود پاکستان میں حملے کرتے ہیں، ان کے بارے میں وہ کیا جواز پیش کرے گا؟ مغربی ملکوں میں جو حملے ہوتے ہیں ان میں اکثر ایسے افراد بھی ملوث ہوتے ہیں جن کے رابطے کسی نہ کسی سطح پر پاکستان سے ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کو جھٹلانا ناممکن ہے۔ لندن برج پر ہونے والے حالیہ حملے نے ایک بار پھر اسی حقیقت کی تصدیق کی ہے۔