چین میں ایغور مسلمانوں کی حالت زار

مبہم پالیسی کسی ملک کی واضح، شفاف اور مثبت شبیہ نہیں بنا سکتی مگر چین کی پالیسی بھی واضح نہیں اور اس کے دوست پاکستان کی پالیسی بھی غیر واضح ہے۔ پاکستان ایک طرف تو کشمیریوں کے حقوق کی باتیں کرتا ہے مگر اپنے علاقے کے لوگوں کے حقوق کا اسے پاس نہیں ہے۔ جبری گمشدگی کے واقعات پر بلوچستان کے لوگ آئے دن احتجاج کرتے رہتے ہیں۔ پاک لیڈران ہندوستانی مسلمانوں کو ورغلانے والے بیانات دیتے رہتے ہیں لیکن سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کی حالت زار پر ہمدردی کے دو بول بولنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کئی پاکستانی تاجروں کے ایغوروں سے رشتے ہیں۔ ایغور نسل کی ان کی بیویوں کو چین نے ڈٹینشن کیمپوں میں قید کر رکھا ہے، وہ اس کے خلاف احتجاج کرتے رہتے ہیں لیکن پاک حکومت اپنے شہریوں سے ہمدردی کا اظہار کرنے کے بجائے خاموش رہنے میں ہی بہتری سمجھتی ہے، کیونکہ اسے ڈر ہے کہ اس کا دوست چین ناراض ہو جائے گا۔ اس خاموشی کا صلہ چین یہ دیتا ہے کہ برے عمل میں بھی وہ پاکستان کا حامی و مددگار رہتا ہے۔ اقوام متحدہ میں دہشت گرد سرغنہ مسعود اظہر پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی تو چین نے بار بار ویٹو کیا۔ اس کا موقف ایسا تھا جیسے مسعود اظہر دہشت گرد نہیں اور پاکستان میں کہیں دہشت گردی ہے ہی نہیں لیکن سنکیانگ کے معاملے میں وہ یہی ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے کہ یہ علاقہ دہشت گردی سے متاثر ہے۔ اس نے دہشت گردی کے نام پر ایغورمسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ انہیں طرح طرح سے دبانے، ٹارچر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان سے سارے انسانی حقوق چھین لیے گئے ہیں۔ انہیں تربیت دینے کے نام پر‘تربیتی کیمپوں’ میں رکھا جاتا ہے۔ ان تربیتی کیمپوں کو چین ڈٹینشن کیمپ نہیں مانتا۔ بحث کی خاطر یہ بات مان بھی لی جائے کہ یہ ’تربیتی کیمپ‘ ہی ہیں تب بھی سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا دس لاکھ ایغور مسلمانوں کو تربیت کی ضرورت ہے؟ آخر انہیں کیسی تربیت کی ضرورت ہے؟ ان میں اور چین میں رہنے والے دوسرے لوگوں میں کیا فرق ہے کہ ایغوروں کو تو تربیت کی ضرورت ہے مگر دوسروں کو نہیں؟

چین کے دوہرے معیار سے عالمی برادری واقف ہو چکی ہے۔ وہ یہ سمجھ چکی ہے کہ کچھ ایغور دہشت گرد ہو سکتے ہیں، سارے کے سارے نہیں مگر چینی حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی آڑ میں ایغوروں کو کچل ڈالنا چاہتی ہے تاکہ وہ اپنے حقوق کی باتیں نہ کریں، ہر اس بات کو مان لیں جو انسانیت کے لحاظ سے، مذہب کے لحاظ سے غلط ہو مگر چین کے  نظام کے مطابق ہو۔ ایغور مسلمانوں کی حالت زار نے ہر ذی ہوش اور انسان پسند شخص کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایغوروں کے خلاف روا رکھی جانے والی مذموم کارروائیوں کے خلاف پوری دنیا میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ان مظاہروں کا سلسلہ امریکہ میں بھی جاری ہے، اس لیے یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ یہ ایشو امریکی حکومت کی توجہ سے محروم رہ جاتا، چنانچہ پہلے تو امریکی حکومت نے چینی حکومت کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ ایغوروں کو انسان ہی سمجھے، بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی تو امریکی حکومت نے اسے متنبہ کیا، بات پھر بھی اس کی سمجھ میں نہیں آئی۔ مجبوراً امریکی ایوان نمائندگان میں ایغور مسلمانوں کی ‘عبوری نظر بندی، جبری سلوک اور ہراسانی’ کے خلاف ایک بل ‘ایغور ہیومن رائٹس پالیسی ایکٹ2019’ نام سے پیش کرنا پڑا۔ امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ اس میں صد فیصد ڈیموکریٹس ہی ہیں۔ اس کے باوجود بل کے حق میں 407 ووٹ پڑے اور مخالفت میں صرف ایک ووٹ پڑا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکیوں کو ایغوروں کے خلاف ہونے والے مظالم کا کتنا شدید احساس ہے۔ یہ بل سینیٹ سے پاس ہونے کے بعد منظوری کے لیے امریکہ کے صدر کے پاس جائے گا۔ایغوروں کی حالت زار کا اقوام متحدہ نے بھی سخت نوٹس لیاہے۔

بل میں بجا طور پر ایغوروں کو ‘اظہار رائے کی آزادی، مذہبی حقوق، نقل و حرکت کے حق اور منصفانہ مقدمے جیسے شہری حقوق’ سے محروم رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ چین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ بل ‘بدنیتی پر مبنی’ ہے لیکن اس کی یہ بات اس وقت تک عالمی برادری کے لیے قابل توجہ نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ یہ نہ ثابت کر دے کہ ‘ڈٹینشن کیمپوں’ اور ’تربیتی کیمپوں‘ تک ایغور وں کی زندگی کو محدود کرنے میں اس کی نیک نیتی کیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ دہشت گردی پر چین کا موقف دنیا سمجھ چکی ہے، وہ یہ سمجھ چکی ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے خلاف کارروائی میں چین اس کا ساتھ اس لیے دیتا ہے کہ اس سے اس کا مفاد وابستہ ہے اور سنکیانگ کو دہشت گردی سے متاثر اس لیے بتانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اپنا من مانہ عمل جاری رکھ سکے لیکن ان مذموم کوششوں نے اس کی شبیہ منفی بنا دی ہے اور یہی چینی لیڈروں کی بے چینی کا سبب ہے اور اسی لیے وہ امریکہ کو ’بدنیت‘ قرار دینے کے لیے کوشاں ہیں!