07.12.2019

پاک آرمی چیف  کی مدت ملازمت میں توسیع اور جمہوریت کا امتحان

 

پاکستان میں گذشتہ دنوں کچھ ایسا ہوا جس سے پاکستانی سیاست میں ایک نئی  بحث نے جنم لیا۔معاملہ پاک آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا تھا جس کے لیے  پاک فوج کی پشت پناہی میں قائم پی ٹی آئی حکومت نے حکم نامہ بھی جاری کر دیا تھا حالاں کہ ماضی میں مختلف آرمی چیف خودہی اپنی مدت ملازمت کی توسیع کر چکے ہیں  لیکن اس بار حکومت کی جانب سے توسیع کیے جانے کا معاملہ تھا اس لیے سپریم کورٹ میں اس مسئلے کو چیلنج کیا گیا ۔جس کے بعد پاکستا نی عدلیہ نے بھی اس مسئلے کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے پاکستانی پارلیمان کو اس سلسلے میں قانو ن سازی  کے لیے6 مہینے کی مہلت دے کر موجودہ بحران کو لگام لگادی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ ایک مستحکم جمہوریت اورعوام الناس کی منتخب حکومت ہونے کا فرض ادا کرتی ہے یا پھر پاک فوج کی وفاداری کا بوجھ اتارتی ہے ۔

پاکستان سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز میں اس موضو ع پر ایک اداریہ شائع ہواہے جس  کا عنوان ہی اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ پاکستانی پارلیمنٹ کے لیے یہ ایک تاریخی موقع ہے کہ وہ جمہوریت کی بالادستی کا ثبوت دے ۔اداریہ نگا رلکھتے ہیں کہ پاکستا ن کی سپریم کورٹ نے پاک آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 6 مہینے کی مشروط توسیع کر کے ایک سیاسی بحران کو لگام تو لگا دی لیکن اس کےساتھ ہی پاکستانی سیاست میں یہ سوال بھی تیزی سے سر ابھار رہاہے کہ کیا یہ  اقدام اصولاً غلط تھا یا پھر اس سلسلے میں واضح قانون نہ ہونے کی وجہ سے ایسا انتشار پیدا ہوا ۔حالاں کہ حکومتی حلقہ ایک طرح سےچین کی سانس لے رہا ہوگا کیوں کہ وزیر اعظم کے منشاکے مطابق آرمی چیف کی مدت ملازمت میں کسی حد تک توسیع مل ہی گئی ۔لیکن گزشتہ چند دنوں کے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو اس بات سے کو ئی انکا رنہیں کر سکتا کہ پورا پاکستان غیر یقینی صورت حال سے دوچارتھا اور اس پورے ڈرامے میں حکومت کو بھی شرمسار ہونا پڑا۔کیوں کہ وزیر اعظم  کی جانب سے پہلا حکم نامہ 6مہینے کی توسیع سے متعلق تھا پھر دوسرا حکم نامہ صدر مملکت کی جانب سے جاری ہوا جس میں مدت کار کی توسیع کی بجائے تقرری یعنی دوبارہ تقرری کا ذکر تھا۔لیکن جب حکومت کے اس اقدام کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی گئی تو وزیر اعظم اور صدر مملکت کے حکم ناموں میں موجود عدم مطابقت پر کورٹ نے خاص توجہ دی ۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی مصیبت آتی ہے تو سلسلے وار ہوتی ہے ۔ایسا ہی کچھ موجودہ حکومت کے ساتھ پیش آیا۔ وزیر اعظم اور صدر مملکت کے حکم ناموں میں مغائرت کے باعث پہلے ہی الجھن پیدا ہوگئی تھی اس کے بعد پھر سے  حکومت نے خود مزید الجھن کو دعوت دے دی جب انہوں نے کابینہ کی ایک ہنگامی میٹنگ طلب کرکے آرمی ریگولیشن میں فوری ترمیم کے بعد پھر ایک حکم نامہ جاری کر دیا۔اس حکم نامے کو بھی کورٹ نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ آرمی ریگولیشن کا آرمی چیف کی تقرری سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔بالآخر حکومت نے کورٹ کو یہ یقین دہانی کرائی کہ حکومت 6مہینے کے اندر پارلیمنٹ میں آرمی چیف کی تقرری ،توسیع اور دوبارہ تقرری سے متعلق قانون سازی کرے گی تب جا کے کورٹ نے موجودہ آرمی چیف کی مدت کار میں 6 ماہ کی مشروط توسیع کی اجازت دے دی ۔

اداریہ نگا رمزید لکھتے  ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہو ا ہے کہ کسی آرمی چیف کی مدت کار میں توسیع کامعاملہ ایک ایشو بناہے ۔ سپریم کو رٹ نے واضح لفطوں میں کہا ہے کہ  آرمی چیف کی دوبارہ تقرری کے لیے آئین میں کوئی شق موجود نہیں ہے ۔اب یہ معاملہ پارلیمنٹ کے حوالے ہے ۔پارلیمنٹ ہی آرمی کے سب سے اعلیٰ عہدے سے متعلق حتمی طو ر پرقانون سازی کر سکتی ہے ۔اداریہ نگار نے اخیر میں چند بے حد اہم باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے وہ یہ کہ جب اس ایشوپر پارلیمنٹ کو غور و فکر کرنا ہی ہے تو کیوں نہ اس بات پر بھی بحث کی جائے کہ  آرمی چیف کی تقرری، دوبارہ تقرری یا ان کی مدت کا رمیں توسیع کا اختیا رسویلین عاملہ کے پا س ہو اور اس مسئلے میں حتمی فیصلہ وزیر اعظم کا ہوتاکہ فوجی جرنیل من مانیاں نہ کر سکے ۔ ’’پاکستان میں سیولین حکومت کی بالادستی ہے‘‘یہ ثابت کر نے کےلیے پاکستان کی پارلیمنٹ کو ایک تاریخی موقع ملا ہے۔

 

پاکستان میں طلبا کو سیاست سے دور رکھنے کے حربے ۔

 

پاکستان میں پچھلے کچھ دنوں سے یونی ورسٹیز کے طلبا زور شور سے متعدد مطالبات کو لے کر احتجاج کر رہے ہیں ۔ان کے احتجاج کا اہم مقصدپاکستان کی یونی ورسٹیز میں طلبا پر بے جا پابندی اورطلبا یونین کے انتخابات پر پابندی وغیرہ  کو ختم کرنا ہے۔سلامتی امور کے معروف تجزیہ کار عامر رانا نے طلبا کے سرگرم احتجاجات کو تاریخی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے اور اس سلسلے میں ایک تفصیلی مضمون انگریزی روزنامہ ڈان میں لکھا ہے ۔

عامر رانا لکھتے ہیں کہ پاکستان میں  یہ تصور راسخ ہوچکا ہے کہ ارباب اقتدار ایک غیر سیاسی معاشرہ پسند کرتے ہیں اس لیے وہ نوجوانوں کی فکر کو اسی جانب مہمیز کرتے  رہے ہیں ۔’’سیاست ‘‘ کو ایک گندہ لفظ بنا دیا گیاہے اور ’’میدان سیاست ‘‘ کو نوجوانوں کے لیے ’ممنوعہ سرزمین‘ قرار دیا جاچکاہے ۔ دوسری طرف یہ بھی دعویٰ کیا جا رہاہے کہ یہ تصور کلی ّ طو رپر سچ نہیں ہے۔ ارباب اقتدار و اختیار سیاست میں یقین تو رکھتے ہیں لیکن اسے مخصوص حلقے تک ہی محدود رکھنا چاہتے ہیں۔

عامر رانا لکھتے ہیں کہ پاکستان کی سیاست میں مختلف مذاہب ، افکار و نظریات اور سیاسی برانڈنگ  کی گنجائش ہے جن سے ارباب اقتدار واختیار اپنے مفاد کی تکمیل کرتے ہیں۔لیکن متبادل ترقی پسند اور تنقیدی نظریات پر مبنی سیاسی رجحانات کی گنجائش نہ کے برابر ہے ۔

 ارباب اقتدار کے لیے سیاست در اصل اتھارٹی اور کنٹرول کا ذریعہ ہے ۔جس کا لوگوں کے سیاسی حقوق اور بااختیار ہونے سے کوئی لینا دینا نہیں۔ان کی نظر میں حقوق کی سیاست کر نے والے افراد ،ملک  دشمن عناصر ہیں ۔اور یہ نوجوان نسلوں کو ملک مخالف جذبات سے لیس کر رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں حقوق پر مبنی سیاست کرنے والی تمام تنظیموں کا قافیہ تنگ کیا جاچکا ہے چاہے وہ ٹریڈ یونین ہوں یا طلبا یونین سب پر شکنجہ کسا جا چکاہے ۔اس کے لیے میڈیا کا بھی بھرپور استعمال کیا جاتا ہے ۔حکومت کے اشارے پرمیڈیا چینلز ان تنظیموں کے تعلق سے منفی ذہن سازی کا کام زور شور سے کرتے ہیں ۔

پاکستانی حکمرانوں کا متضاد رویہ جگ ظاہر ہے ۔ایک طرف اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں میں قائم یونی ورسٹیوں میں طلبا وطالبات کو  پالیسی فورم یا مباحثے کے پروگرام و غیرہ منعقد کرنے سے روکا جاتا ہے اور دوسری طرف یہی ارباب اقتدار و اختیار مذہبی جماعتوں یا ممنوعہ جماعتوں سے منسلک طلبا تنظیموں کو کھلی چھوٹ دیتے ہیں۔انہیں یونی ورسٹی انتظامیہ سے لے کر ایوان اقتدا رمیں بیٹھے حکمرانوں  تک کی پشت پناہی او رسرپرستی حاصل ہوتی ہے ۔کیوں کہ ایسی طلبا تنظیمیں ارباب اقتدار کی مفاد کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہیں۔سخت گیر مذہبی گروپس پاکستان کے تعلیمی اداروں میں زوروں پر سرگرم ہیں ۔

عامر رانا کہتے ہیں کہ طلبا کو سیاست سے دور رکھنے کے متعدد جواز کے باجود انہیں سیاست سے دور رکھنا کہیں سے بھی انصاف نہیں ہے۔یونیورسٹیوں میں سیکورٹی کے پیش نظر سختی اور تعلیم کی نجی کاری کے باعث طلبا کا سیاست میں سرگرم ہونا مشکل سے مشکل ہوتا جارہاہے لیکن ایسے حالات میں بھی طلبا کاحالیہ مارچ امیدجگا رہاہے ۔ یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ طلبا کا یہ مارچ کسی حتمی نتیجے پر پہنچے گا بھی یا نہیں لیکن اتنا ضرور ہو اکہ اس مارچ سے ایک بے حد اہم مسئلے کو توجہ ضرورحاصل ہوئی ۔

عامر رانا لکھتے ہیں کہ پاکستان کے ارباب اقتدار نے پاکستان کے نوجوانوں کو تین اہم سیاسی رجحان میں الجھا رکھا ہے ۔ایک تو سرکاری تعلیم سے نوجوانوں کو مایوس کررکھا ہے جس کے سبب نوجوان بآسانی انتہاپسند اور شدت پسند پارٹیوں کا ہدف بن جارہے ہیں۔دوسرا رجحان مدرسہ میں زیر تعلیم طلبا سے منسلک ہے ۔یہ طبقہ مسلکی انتہاپسندوں اور شدت پسندوں کے سیدھے نشانے پر ہوتا ہے ۔لیکن اب دھیرے دھیر ے مدرسہ والے بھی سیاست میں جگہ بنانے لگے ہیں اور مواقع سے استفادہ  کی جدوجہد کررہے ہیں۔تیسرا رجحان 2000یا 1990کے بعد کی نسلوں میں دیکھا جا سکتا ہے جو پرائیویٹ اداروں کے طالب علم ہیں یا وہاں کے فارغین ہیں ۔ان کے والدین نائین الیون کے بعد سروس سیکٹر کی توسیع کاری سے مستفید ہورہے ہیں اور  پوش کالونی یا کنٹونمنٹ میں مقیم ہیں ۔اس نسل میں سیاسی شعور نہ کے برابر ہے لیکن سائبر اسپیس کی رسائی نے ان کے سیاسی رویے کو ضرور اثر انداز کیا ہے ۔کل ملا کر پاکستان کے نوجوانوں کے سیاسی شعور  کو مہمیز کرنےکے لیے یہ تین راستے تیا رکیے گئے ہیں۔ نوجوان نسلوں کو ان راستوں پر چلا کر ارباب اقتدار اپنا مفاد حاصل کرتے ہیں۔لیکن ان تینوں راستوں سے جداگانہ طلبا کی اصلی جماعت جو حقوق کی سیاست کرناجانتی ہے انہیں  طاقتور ارباب اقتدار اپنی طاقت سے دباتے رہتے ہیں۔ایسے میں بس امید ہی کی جاسکتی ہے کہ سیاست کے آرزومند نوجوانوں کو سیاست کی سرزمین پر قدم رکھنے کی جگہ مل جائے ۔