06.12.2019جہاں نما

امریکی صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی

امریکہ میں اسپیکر نینسی پلوسی نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونل ٹرمپ ٹرمپ کے خلاف، ایوان نمائندگان مواخذے کی دستاویزات کی تیاری شروع کردے گا۔ اس حوالے سے روزنامہ انڈین ایکسپریس نے خبر دی ہے کہ اس اقدام سے تیز رو ٹائم ٹیبل کی تیاری میں مدد ملے گی اور کرسمس سے قبل صدر امریکہ کے خلاف سنگین جرائم اوربداعمالیوں کے سلسلے میں ووٹنگ ہوسکے گی۔ اپنے اعلان میں پلوسی نے کہا کہ دو ماہ کی طویل تحقیقات سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ 2020 کے صدارتی انتخابات میں اپنی مدد کے لیے انہوں نے یوکرین  پر دباؤ ڈالا تھا اور اس طرح اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کیا تھا اور اس پس منظر میں بغیر کسی تدارک کے اگر ٹرمپ کو ان کے عہدے پر برقرار رکھا گیا تو جمہوریت کوخطرہ لاحق ہوجائے گا۔ واضح ہو کہ ہاؤس انٹلی جنس کمیٹی دو ماہ کی تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ سابق نائب صدر جوبائیڈن اوردیگر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کے لئے صدر ٹرمپ نے یوکرین کے صدر وُلادیمیر زیلنسکی پر دباؤ ڈال کر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔اس دباؤ کے لیے انہوں نے وہائٹ ہاؤس کی ایک میٹنگ اور اہم فوجی امداد کے سلسلے میں 391 ملین ڈالر کی رقم کو روک دیا تھا۔ اخبار نینسی پلوسی کے بیان کے حوالے سے آگے رقمطرازہے کہ بڑے دکھ مگر بھرپور اعتماد اور عاجزی کے ساتھ نیز ملک کے بانیوں کے تئیں اطاعت وفرمانبرداری اور امریکہ کے ساتھ پیارومحبت کا اظہار کرتے ہوئے وہ چئیرمین سے درخواست گزار ہیں کہ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی جائے۔

 

پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف بغاوت مقدمے کا فیصلہ 17دسمبر کو 

پاکستان کے سابق فوجی حکمراں پرویز مشرف کے تعلق سے روزنامہ ایشین ایج کی سرخی ہے‘مشرف کے خلاف بغاوت مقدمے کا فیصلہ 17 دسمبرکو: عدالت’۔ اخبار لکھتا ہے کہ خصوصی عدالت نے سماعت کے دوران واضح کیا ہے کہ اس تاریخ میں اب کوئی توسیع نہیں ہوگی اور اگر کسی کو کوئی پریشانی ہے تو وہ اس سلسلے میں عدالت عظمی کے فیصلے سے رجوع کرسکتا ہے۔ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت داخلہ کی عرضداشت کی منظوری دی تھی اور پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کے سنگین جرم کے مقدمے کا محفوظ کردہ فیصلہ سنانے پر روک لگادی تھی۔ اپنے فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ بغاوت کے اس مقدمے میں وفاقی حکومت اور استغاثہ کا کردار کافی اہم ہے اور وفاقی حکومت کو استغاثہ اور ان کی ٹیم کی تقرری کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ اسی اخبار نے ایک اور خبر میں تحریر کیا ہے کہ احتساب کے سلسلے میں وزیراعظم کے خصوصی معاون بیرسٹر شہزاد اکبر نے جمعرات کے روز الزام لگایا ہے کہ شریف کا خاندان اربوں روپے کے بدعنوانی معاملے میں ملوث ہے۔ شہزاد کے مطابق منی لانڈرنگ کے لیے ایک کمپنی قائم کی گئی تھی اور اس رقم کو مختلف کھاتوں میں منتقل کیا گیا تھا۔پاکستان کے ہی سلسلے میں روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے پاکستانی سلامتی اداروں کے حوالے سے خبر دی ہے کہ جنوبی پنجاب میں خفیہ ایجنسی کے دفاتر پر حملہ کی سازش ناکام بنادی گئی ہے اور اس سلسلے میں اسلامک اسٹیٹ کے دو دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ خبر کے مطابق پنجاب پولیس کے انسداد دہشت گردی محکمے کو اطلاع ملی تھی کہ کچھ دہشت گرد لاہور سے 350 کلو میٹر علی پور بائی پاس مظفر گڑھ کے قریب چھپے ہوئے ہیں اور خفیہ ایجنسی کے دفاتر کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ اس اطلاع کے بعد مقامی پولیس اور خفیہ ادارے کی ٹیم نے ان کے ٹھکانے پر چھاپے مارکر ان دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا۔

 

چینی قرضے کی تشکیل نو کرے گا مالدیپ،ہندوستان اول پالیسی کو ترجیح

روزنامہ ہندو نے مالدیپ کے وزیر خارجہ عبداللہ شاہد کا بیان شائع کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایک اعشاریہ چاربلین ڈالر کے چین سے لیے گئے قرض کی  تشکیل نو کے لیے بات چیت کرے گا نیز اس ایشیائی ملک سے مذاکرات میں ان کے ملک کی ہندوستان اول کی پالیسی رکاوٹ نہیں بنے گی۔ واضح ہو کہ عبداللہ شاہد ،نو منتخب صدر گوٹے بایا راج پکشے اور نئے وزیر اعظم مہندا راج پکشے کو مبارکباد دینے کے لیے سری لنکا کے دورے پر ہیں۔وزیر موصوف نے کولمبو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چین، مالدیپ کے لیے سب سے بڑا عطیہ دہندہ ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بےحد مستحکم ہیں۔ اخبار کے مطابق، بیجنگ سے بلاجواز قرضوں کے حصول کے لیے سابق صدر عبداللہ یامین پر الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا ملک قرضوں کی تشکیل نو کے لیے پراعتماد ہے اوراس سلسلے میں چینی حکام سے بات چیت کی جارہی ہے۔ ان کا مشاہدہ تھا کہ بحرہند خطے میں ان کے ملک کی ہندوستان اول پالیسی جغرافیائی حقیقت کی عکاس ہے اور ہندوستان نے ہنگامی حالات میں ہمیشہ مالدیپ کی مدد کی ہے۔ اسی لیے ان کا ملک اس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اخبار نے آگے تحریر کیا ہے کہ سری لنکا کی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں وزیر موصوف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کی بیخ کنی کے لیے ان کا ملک سری لنکا کے ساتھ ہے۔ ایسٹر کے موقع پر بمباری کے فوراً بعد جب انہوں نے مئی میں اس ملک کا دورہ کیا تھا، انہوں نے اس وقت بھی حکومت مالدیپ اور صدر ابراہیم کے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ ہم دہشت گردی اور بنیاد پرستی کی لعنت کے خاتمے کے لیے کولمبو کے ساتھ ہیں۔

 

عراق میں نیم فوجی دستوں کے حامیوں کا اہم احتجاجی کیمپ پر اجتماع

روزنامہ اسٹیٹس مین کی ایک خبر کے مطابق ایران کے قریبی سمجھے جانے والی نیم فوجی دستوں کے حامی ہزاروں افراد نے عراق کے دارالحکومت کے اہم احتجاجی کیمپ پر حملہ کیا ہے جس سے حکومت مخالف مظاہرین کو تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ واضح ہوکہ یہ احتجاجی ملک میں تہران کی سرگرمیوں کی مذمت کرتے رہے ہیں۔ اخبار  آگے لکھتا ہے کہ یہ افراد ملک کے مختلف حصوں سے تحریر اسکوائر پر پہنچے تھے، ان کے پاس لاٹھیاں تھیں اور یہ لوگ عراقی پرچم اور الحشد الشعبی کا لوگو لہرارہے تھے۔ ان میں سے کچھ افراد اپنے ہاتھوں میں، جہادیوں کے خلاف لڑائی میں مارے گئے حشد کے جنگجوؤں اور ملک کے اعلی شیعہ رہنما آیت اللہ علی سیستانی کی تصویریں بھی لیے ہوئے تھے۔ واضح ہو کہ الحشد نے عراقی حکومت کی حمایت کی تھی لیکن گزشتہ ہفتے سیستانی کے ذریعے ڈرامائی مداخلت کے بعد اس نے حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا تھا اور مورچہ بند وزیر اعظم عادل عبدالمہدی نے استعفی دے دیا تھا۔ اخبار لکھتا ہے کہ احتجاجیوں کا اصرار ہے کہ برسراقتدار تمام رہنما بدعنوان ہیں۔

 

فرانس میں زبردست مظاہرے، ایفل ٹاور بند، نقل وحمل نظام درہم برہم

حکومت فرانس کے ذریعے سبکدوشی نظام میں ردوبدل کے منصوبے کے بعد عوام میں زبردست غصہ پھوٹ پڑا ہے۔جمعرات کے روز ہزاروں کی تعداد میں لوگ پیرس اور دیگر شہروں کی سڑکوں پر نکل آئے۔ نتیجتاً ایفل ٹاور کو بند کردیا گیا ہے اور فرانس کی ہائی اسپیڈ ریل گاڑیوں کے پہیے تھم گئے ہیں۔ اس حوالے سے روزنامہ ہندو لکھتا ہے کہ نقاب پوش افراد کے گروپوں نے اسٹور کی کھڑکیوں کے سیشے توڑ دیے اور آگ لگادی۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کو آنسو گیس کے گولے داغنا پڑے۔ اپنی خبر میں روزنامہ نے آگے تحریر کیا ہے کہ صدر ایمانوئیل میکروں کی اصلاحات کے نتیجے میں یونینوں نے جمعرات سے ملک گیر ہڑتال شروع کردی ہے۔ ایک سال قبل معاشی عدم مساوات کے خلاف یلوویسٹ  تحریک کے بعد یہ دوسرا بڑا چیلنج ہے جو صدر کو درپیش ہے۔ مخالفین کو خدشہ ہے کہ کارکنوں کی سبکدوشی کے نظام میں تبدیلی سے فرانس میں معمولات زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ اخبار کے مطابق ان احتجاجوں کے وجہ سے امریکہ کے وزیر توانائی سمیت بہت سی شخصیات نے دنیا کے اس بڑے سیاحتی مقام کا دورہ منسوخ کردیا ہے۔ احتجاج اتنے شدید ہیں کہ پیرس حکام نے صدارتی محل کے چاروں طرف رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں اور 6 ہزار پولیس افسران کو تعینات کردیا ہے کیونکہ احتجاجی، گیرے ڈی ایل ایسٹ ٹرین اسٹیشن پر مارچ کے لئے اکٹھا ہوگئے ہیں۔ پولیس نے اس علاقے میں واقع تمام تجارتی اداروں، کیفوں اور ریستورانوں کو بند کرنے کا حکم جاری کردیا ہے اور سیکورٹی چیک شروع کردیا ہے  اس کے علاوہ 71 افراد کو حراست میں بھی لے لیا گیا ہے۔ 

 

 دو افراد کو ہلاک کرنے کے بعد امریکی بحریہ کے سیلر نے کی خودکشی

اسی اخبار کی ایک اور خبر کے مطابق، پرل ہاربر میں امریکی بحریہ کے ایک سیلر   نے بدھ کے روز فائرنگ کرکے دو شہریوں کو ہلاک کردیا اور ایک دیگر فرد کو زخمی کردیا۔ جس کے بعد اس نے اپنے آپ کو بھی گولی مار کر ہلاک کرلیا۔ حکام نے قاتل اور ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی شناخت نہیں بتائی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ قاتل نے امریکی بحریہ کی یونیفارم پہنی ہوئی تھی۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ قاتل نے یہ واردات کیوں انجام دی جو 7دسمبر 1941 کو امریکی بحری اڈے پر حملے کی سالگرہ سے صرف تین دن قبل ہوئی ہے۔ واضح ہو کہ 1941 میں حملے کے بعد امریکہ نے جاپان کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا اور دوسری جنگ عظیم چھڑ گئی تھی۔ اخبار نے ایک اور خبر میں بتایا ہے کہ اس حملے کے وقت، ہندوستانی فضائیہ کے سربراہ ایر چیف مارشل راکیش کمار سنگھ بھدوریا پرل ہاربر میں فضائیہ کے سربراہوں کی ایک کانفرنس میں شرکت کررہے تھے لیکن سربراہ اور ان کی ٹیم کے ارکان محفوظ ہیں۔ واضح ہو کہ اس کانفرنس کا مقصد ہند۔ بحرالکاہل خطے میں سلامتی کے لئے طریقہ کار وضع کرتا تھا۔