09.12.2019

۔ دہلی میں شدید آتشزدگی، 43؍ ہلاک، 16؍ زخمی 

آج ملک کے تمام اخبارات نے اتوار کے روز علی الصبح دہلی کی ایک رہائشی عمارت میں شدید آتشزدگی کی خبر کو صفحہ ٔ اول پر جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس بھیانک حادثے میں کم از کم 43؍ افراد ہلاک اور 16؍ زخمی ہوئے ہیں۔ روزنامہ ہندو نے اس خبر کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ مہلوکین میں سے  بیشتر کا تعلق بہار سے ہے۔ اس عمارت کے لئے نہ تو محکمۂ فائر بریگیڈ سے عدم اعتراض تصدیق نامہ لیا گیا تھا اور نہ ہی آگ سے تحفظ کے آلات نصب کئے گئے تھے۔ دوسری جانب ڈائریکٹر دہلی فائر سروس کا کہنا ہے کہ یہ عمارت رہائشی تھی اس لئے اس کو عدم اعتراض تصدیق نامے کی ضرورت نہیں تھی لیکن اس کو مینوفیکچرنگ یونٹ کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا۔ اخبار ڈی سی پی شمال کے حوالے سے رقمطراز ہے کہ عمارت کے مالک اور اس کے منیجر کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات کے لئے معاملے کوکرائم برانچ کو منتقل کردیا گیا ہے۔ آگ کی اطلاع ملتے ہی 40؍ سے آگ بجھانے والے انجن روانہ کردیئے گئے تھے لیکن تنگ گلیوں کی وجہ سے جائے حادثے پر پہنچنے اور آگ پر قابو پانے میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑامگر اس کے باوجود بہت کم وقفے میں آگ پر قابو پالیا گیا ۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ چار افراد تو زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے تھے جبکہ بقیہ دم گُھٹنے سے ہلاک ہوئے ۔ پوری کارروائی کے دوران آگ بجھانے والے عملے کے دو افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔ ایک پولیس اہلکار کے مطابق آگ بظاہر شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی تھی اور حادثے کے وقت تقریباً 75؍ مزدور اس عمارت میں موجود تھے۔ وہاں موجود کارڈ بورڈ، ریکسین پلاسٹک اور جلد آگ پکڑنے والے دیگر سازوسامان کی وجہ سے آگ بہت تیزی سے پھیلی تھی اور کثیف دھوئیں نے حادثے کی شدت میں مزید اضافہ کردیا تھا۔ 

۔ سارک کی سرگرمیوں میں دہشت گردی ایک زبردست رکاوٹ 

اخبارات کی دیگر اہم خبروں میں وزیراعظم نریندر مودی کے ایک مراسلے سے متعلق خبر بھی شامل ہے جو انہوں نے سارک سکریٹریٹ گروپ کے 35؍ ویں چارٹر ڈے کے موقع پر ارسال کیا ہے۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز کے مطابق ، وزیراعظم نے اس مراسلے میں تحریر کیا ہے کہ خوف ودہشت کے ماحول اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی وجہ سے سارک کی فعالیت پر اثر پڑتا ہے۔ رکن ممالک کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے نریندر مودی نے یاد دہانی کرائی کہ اس تنظیم کی تشکیل ایک مربوط جنوبی ایشیا کے لئے کی گئی تھی جس کا مقصد اس خطے کے تمام ممالک کی ترقی اور فروغ تھا۔ اخبار اس حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ اپنے مراسلے میں وزیراعظم ہند نے متنوع شعبہ جات میں مختلف پیش قدمیوں کے لئے ہندوستان کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ سارک نے ان شعبوں میں کافی ترقی کی ہے مگر ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔ اس پس منظر میں انہوں نے مزید شراکت کے ہندوستان کی ان کوششوں کو اجاگر کیا جن کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کی وجہ سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ان تمام ممالک کے لئے لازم ہے کہ وہ دہشت گردی اور ان طاقتوں کو شکست دینے کے لئے موثر اقدامات کریں جو اس لعنت کی حمایت کرتی ہیں تاکہ سارک کے لئے مزید بھروسہ اور اعتماد پیدا کیا جاسکے۔ خیال رہے کہ 2016میں پاکستان کی سرزمین سے سرگرم دہشت گردوں کے ذریعے اڑی کے فوجی کیمپ پر حملے کے بعد ہندوستان نے اس سال اسلام آباد میں ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس سے علاحدگی اختیار کر لی تھی اور نئی دہلی کے نقش قدم  پر چلتے ہوئے افغانستان، بنگلہ دیش اور بھوٹان نے بھی اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔ جس کے بعد سے بمسٹک جیسی تنظیموں سمیت دیگر علاقائی گروپوں کو مستحکم بنانے پر ہندوستان نے توجہ مرکوز کردی تھی۔ سارک چارٹر کے دن کے موقع پر مودی نے رکن ممالک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ خوشحال اور پرامن ایشیا کے لئے لوگوں کی خواہشات کے تئیں خود کو وقف کردیں۔ 

۔ وادیٔ کشمیر میں پاکستان کی حمایت سے ایک وقت میں کم ازکم ڈھائی سو دہشت گرد موجود 

گزشتہ چند برسوں سے کشمیر میں سرگرم دہشت گردوں کی تعداد ایک وقت میں 250سے تین سو کے درمیان رہی ہے۔ یہاں تک کہ سلامتی دستوں کے  ذریعے دہشت گردوں کے خلاف ہائی پروفائل اور سخت کارروائیوں کے باوجود اس تعداد میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ اس حوالے سے روزنامہ ایشین ایج نے سلامتی ادارے میں ذرائع کے حوالے سے خبردی ہے کہ کشمیر میں دہشت گرد نیٹ ورک کے لئے رقوم، بنیادی ڈھانچے، مقامی لوگوں کی حمایت ومدد اور دیگر عوامل ضروری ہوتے ہیں اور مالی مسائل درپیش ہونے کے باوجود پاکستان نےان کے لئے ایک لگ بجٹ مختص کیا ہے جس کا مقصد ایک ہی وقت میں معینہ دہشت گردوں کی حمایت وامداد ہے۔ یہ تعداد بظاہر 250؍ ہوسکتی ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ملٹنٹ گروپوں کے مقامی کمانڈر اپنے دہشت گردوں اور کارکنوں کو دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دینے کے لئے رقوم کی ادائیگی کرتے ہیں۔ اخبار مزید رقمطراز ہے کہ کبھی کبھی مقامی کمانڈر مقامی نوجوانوں سے کہتے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر اسلحے کے ساتھ اپنی تصاویر ڈالیں تاکہ وہ اس تعداد کو اپنے آقاؤں کو دکھا سکیں۔ جس کے بعد سلامتی دستوں سے بچنے کے لئے وہ ان نوجوانوں سے روپوش ہوجانے کو بھی کہتے ہیں۔ خیال رہے کہ سلامتی دستوں نے کشمیر میں آپریشن ‘‘ماں’’  شروع کیا تھا جس کے بعد 50؍ کشمیری نوجوان معمول کی زندگی کی طرف پلٹ آئے تھے۔ یہ ملٹنٹ مزید دہشت گردوں کو بھرتی کر لیتے ہیں تاکہ 250؍ سے تین سو کی تعداد کو برقرار رکھا جاسکے۔ 

۔ برطانوی وزیراعظم کا لندن میں ہندومندر کا دورہ، نئے ہندوستان کی تشکیل کے لئے مودی کے ساتھ

مل کر کام کرنےکے عزم کا کیا اظہار 

روزنامہ انڈین ایکسپریس کی ایک خبر کے مطابق، برطانوی وزیراعظم بورس جونسن نے لندن میں سوامی نارائن مندر کا دورہ کیا جس کا مقصد جمعرات کے روز ہونے والے عام انتخابات سے قبل غیر مقیم ہندوستانیوں کو رجھانا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ وہ نئے ہندوستان کی تشکیل کے مشن میں وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ شراکت کریں گے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ مسئلۂ کشمیر پر حزب اختلاف لیبر پارٹی کے ہند مخالف موقف کا حوالہ دیئے بغیر انہوں کہا کہ اس ملک میں نسل پرستی یاکسی بھی قسم کے ہند مخالف جذبات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ماضی میں برطانوی ہندوستانیوں نے انتخابات جیتنے میں کنزرویٹو ارکان کی مدد کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے۔ خیال رہے کہ سوامی مہاراج کے 98؍ ویں یوم پیدائش کے موقع پر تقریبات کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں برطانیہ کی وزیر داخلہ پریتی پاٹل نے بھی شرکت کی۔ 

۔ مہنداراج پکسے کی حکومت چین کی حمایت سے تعمیر کولمبو پورٹ سٹی پروجیکٹ کی کرے گی حمایت، جبکہ

گوٹابایا نے سری لنکا کی غیر جانبدارانہ حیثیت کا کیا تھا اعلان 

سری لنکا کے وزیراعظم مہندا راج پکسے نے کہا کہ  ان کی حکومت، چین کے ذریعے تعمیر کردہ کولمبو پورٹ سٹی پروجیکٹ کی مکمل حمایت کرے گی اور اس کی ترقی میں تیزی لائے گی۔ اس حوالے سے روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے مطلع کیا ہے  کہ ان کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب چند ہفتے قبل نومنتخب صدر گوٹابایا نے کہا تھا کہ وہ سری لنکا کو ایک غیرجانب دار ملک بنانے اور دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ چین حامی تصور کئے جانے والے سری لنکا کے صدر نے یہ بھی کہا کہ سری لنکا ہندوستان کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور ایسا کوئی کام نہیں کرے گا جس سے اس کے مفادات کو نقصان پہنچے۔ اخبار ژنہواخبر رساں ایجنسی کے حوالے لکھتا ہے کہ وزیراعظم مہندا راج پکسے نے سری لنکا میں چین کے سفیر چینگ شو یوان اور اپنے دیگر وزراء کے ساتھ کولمبو پورٹ سٹی کا دورہ کیا تھا جس کا مقصد کولمبو ضلع کے ایک حصے کے لئے سمندر کوپاٹ کر 269ہیکٹراراضی کو باضابطہ مشتہر کرنا تھا۔ اس موقع پر ایک یادگاری ٹکٹ اور فرسٹ ڈے کور کا بھی اجرا کیا گیا۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ یہ سٹی، سری لنکا کا راست سرمایہ کاری  کا بہت بڑا پروجیکٹ کا ہے اور توقع ہے کہ اس سے آئندہ برسوں میں کئی بلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی۔ 

۔ امریکی پابندیوں کے پس منظر میں ایران نے کیا مزاحمتی بجٹ کا اعلان

‘‘امریکی پابندیوں کے پس منظر میں ایران کے مزاحمتی بجٹ کا اعلان’’یہ سرخی ہے روزنامہ اسٹیٹس مین کی۔ خبر کے مطابق ایران کے صدر نے سخت امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مزاحمتی بجٹ کا اعلان کیا ہے۔ خیال رہے کہ ایران نے چند ہفتے قبل ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا جس کے نتیجے میں ملک گیر سطح پر شدید احتجاج شروع ہوگئے تھے۔ روحانی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ اس مزاحمتی بجٹ کا مقصد اسلامی جمہوریہ کو درپیش مشکلات کو کم کرنا ہے جن کی وجہ سے معیشت کو سخت دھکا لگا ہے، افراط زر میں اضافہ ہوا ہے اوردرآمدی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ اس بجٹ کے تحت عوامی شعبوں میں تنخواہوں میں 15؍ فی صد اضافہ شامل ہے جس سے دنیا کو یہ پیغام جائے گا کہ پابندیوں کے باوجود ایران ملک کانظام چلا سکتا ہے خصوصی تیل کے حوالے سے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان پابندیوں کے باوجود، ان کی حکومت کا تخمینہ ہے کہ اس سال ایران کی تیل سے الگ معیشت مثبت رہے گی۔ 

۔ پیانگ یانگ نے کیا اہم تجربہ، شمالی کوریا کے ذرائع ابلاغ کا دعویٰ 

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کورین سینٹرل نیوز ایجنسی یعنی کے سی این اے نے خبردی ہے کہ پیانگ یانگ حکومت نے اپنی سوہی سیٹلائٹ لانچ سائٹ پر ایک بے حد اہم تجربہ کیا ہے۔ روزنامہ ٹری بیون نے اس حوالے سے خبر دی ہے کہ یہ تجربہ ایسے وقت کیا گیا جب شمالی کوریا اور امریکہ کے ساتھ نیو کلیائی عدم توسیع مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ایک سال کی مدت ختم ہو رہی ہے جو پیانگ یانگ نے دی تھی۔ کے سی این اے نے اس تجربے کی کامیابی کی اطلاع تو دی ہے مگر اس کی نوعیت نہیں  بتائی ہے۔ دوسری جانب جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ سیول حکومت اور واشنگٹن انتظامیہ، شمالی کوریا کی اہم سائٹس پر سرگرمیوں کی گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔