10.12.2019 جہاں نما

ہمبن ٹوٹا بندر گاہ پر چین سےمعاہدہ کوئی غلطی نہیں، وزیر اعظم مہندا راج پکشے کی وضاحت

سری لنکا کے نئے وزیر اعظم مہندا راج پکشے نے کہا ہے کہ ہمبن ٹوٹا بندر گاہ کے بارے میں صدر گوت بایا راج پکشے کی جانب سے دیئے گئے حالیہ بیان کو میڈیا نے توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ صدر منتخب ہونے کے فوراً بعد صدر گوت بایا نے کہا تھا کہ ہمبن ٹوٹا بندر گاہ کا چین کو پٹے پر دیا جانا ایک غلطی تھی۔ اس خبر کو روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے اپنے کالموں میں نمایاں جگہ دی ہے ۔ خبروں کا حوالہ دیتے ہوئےا خبار تحریر کرتا ہے کہ وزیر اعظم مہندا راج پکشے نے یہ بات سنیچر کے روز کولمبو پورٹ سٹی کو باضابطہ طور پر سری لنکا کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہی۔ صدر گوت بایا نے یہ بھی کہا تھا کہ ا س بندرگاہ کے بارے میں جو معاہدہ ہوا ہے اس پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا خیال تھا کہ سرمایہ کاری کے لئے ایک چھوٹا سا قرض دینا  ایک الگ بات ہے لیکن اسٹریٹیجک طو رپر اہم اس معاشی بندر گاہ کوکسی دوسرے کو دے دینا قابل قبول نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے ہمیں گریز کرنا چاہئے تھا۔ وزیر اعظم مہندا راج پکشے نے اس سلسلہ میں چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کو وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ صدر گوت بایا کے بیان کا مقصد یہ بتانا تھا کہ بندر گاہ کی خود مختاری کے بارے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کے کہنے کا یہ مطلب تھا کہ ہماری حکومت کسی بھی اثاثے کی نجکاری نہیں کرے گی۔ جبکہ پچھلی حکومت کے دور میں ایسا ہوتا رہا ہے ۔ اگر سری لنکا اور چین کو کسی مسئلہ کا سامنا ہے تو ہم دوست کی حیثیت سے تمام مسائل حل کر لیں گے ۔ وزیر اعظم مہندا راج پکشے نے مزید کہا کہ سری لنکا یہ بات کبھی فراموش نہیں کرے گا کہ چین نے ملک کی ترقی کے لئے زبر دست حمایت فراہم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ سری لنکا ہمبن ٹوٹا بندر گاہ اور دوسرے ترقیاتی پروجیکٹوں کے لئے لئے گئے قرضوں کو چکانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک کی معیشت خستہ حال ہے لیکن جب ہم اسے بہتر بنائیں گے تو قرضوں کی واپسی کوئی مشکل کام نہیں ہوگا۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے سامنے مظاہرے، سابق امریکی فوجی بھی شامل

امریکہ کے درالحکومت واشنگٹن میں اتوار کے روز ہند نژاد امریکی شہریوں نے پاکستانی سفارت خانہ کے سامنے مظاہرہ کیا۔ اس میں سابق فوجی بھی شامل ہوئے ۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ٹریبیون تحریر کرتا ہے کہ اس مظاہرے کا اہتمام کشمیر سے تعلق رکھنے والے امریکی شہریوں نے کیا تھا ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو دہشت گردی کا مرکز بنا ہوا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اوسامہ بن لادن جیسا دہشت گرد اسی پاکستان میں چھپا ہوا تھا اور طالبان جیسا گروپ بھی اسی ملک کی دین ہے۔ مظاہرین کاکہنا تھا  کہ طالبان کی حمایت کے ذریعہ پاکستان امریکی شہریوں کو ہلاک کر رہا ہے۔ پاکستان 25 ہزار سے بھی زیادہ کشمیری ہندوؤں کی ہلاکت کا بھی ذمہ دار ہے۔ ایلشیا اینڈروز نے جو کانگریس کے لئے انتخاب لڑ رہی ہیں ، کہا کہ ایسے لوگوں کا ساتھ دنیا نہایت ضروری ہے جو دہشت گرد گروپوں کا شکار ہیں۔ اسی دوران لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ(ن) ک نائب صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کی جانب سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے اپنا نام نکلوانے کی درخواست پر وفاقی حکومت کو مریم کا موقف سن کر 7 دن کے اندر فیصلہ کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ اس خبر کے حوالے سے  روزنامہ دی ہندوستان ٹائمز لکھتا ہے کہ مریم نواز اسلام آباد کی احتساب عدالت سے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ ہیں جسے بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ستمبر 2018 میں معطل کر دیا تھا تا ہم ان کا نام اگست 2018 سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں موجود ہے۔ جس کی وجہ سے وہ بیرون ملک سفر کرنے سے قاصرہیں۔ ادھر لندن میں زیر علاج سابق وزیر اعظم نواز شریف کی حالت ٹھیک نہیں ہے اسلئے ڈاکٹروں نے انہیں بہتر علاج کے لئے امریکہ جانے کا مشورہ دیا ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے بتایا کہ نواز شریف کو فوری طور پر امریکہ منتقل کرنا میڈیکل ٹیم کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔

یوکرین سے متعلق صدر ٹرمپ کی کارروائی شفاف انتخابات کے لئے خطرہ،ڈیمو کریٹس کا الزام

ڈیمو کریٹک پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کے وکیل بیری بر کے  نے کل صدر ڈونل ٹرمپ کے مواخذے سے متعلق ایوان کی جو ڈیشری کمیٹی کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کی حرکتوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے ملک کے مفادات کی پروا کئے بغیر اپنے ذاتی سیاسی مفادات کے لئے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے ۔ اس خبر کےحوالے سے روزنامہ دی ٹائمز آف انڈیا  تحریر کرتا ہے کہ بیری بر کے نے کمیٹی کو بتایا کہ ریپبلیکن ارکان پارلیمنٹ کے اس الزام میں کوئی دم نہیں ہے کہ مواخذے کی انکوائری جلد بازی میں شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شواہد اتنے پختہ ہیں کہ صدر مواخذے کی کارروائی سے بچ نہیں سکتے۔ انکے جواب میں ریپبلکنس کے وکیل اسٹیفن کاسٹر نے کمیٹی کو بتایا کہ ڈیمو کریٹس نے کس طرح حقائق سے چھیڑ چھاڑ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل جو چل رہاہے باکل ناجائز ہے۔ اس عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈیمو کریٹس صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کے لئے کوئی بھی راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔

نیوزی لینڈ میں آتش فشاں پھٹنے سے 5 افراد ہلاک،24 لاپتہ

نیوزی لینڈ کے معروف سیاحتی مقام ‘‘وہائٹ آئی لینڈ’ پر آتش فشاں کے اچانک پھٹنے سے کم از کم پانچ سیاح ہلاک اور 24 لاپتہ ہیں۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے نمایاں طو رپر شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ہندوستان ٹائمز لکھتا ہے کہ حکام  نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق 16 لوگوں کوبچا لیا گیاہے جن میں سے کچھ لوگ بری طرح جل گئے ہیں۔ سیکورٹی حکام کے مطابق لاوا کی شدت کے سبب متاثرہ مقام کے آس پاس امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات حائل ہیں۔ آتش فشاں پھٹنے کے وقت تقریباً 100 افرادجزیرے پرموجود تھے ۔ پولیس نے بتایا کہ جزیرے پر آتش فشاں سے متاثر افراد میں نیوزی لینڈ کے علاوہ دیگر ممالک کے سیاح بھی شامل تھے۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ساحل سمندر سے متصل علاقہ میں آتش فشاں پھٹنے کے بعد بہت سے افراد لا پتہ ہیں۔ انہوں نے متاثرہ سیاحوں کو ہر ممکن امداد کا یقین دلایا ہے ۔آتش فشاں کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہائیٹ آئی لینڈ کی سطح سے  تقریباً 10 ہزار فٹ سے زائد بلندی تک لاوا اور راکھ اٹھتے دیکھا گیا ۔

فن لینڈ کی سنا مارین دنیا کی سب سے کم عمر وزیر اعظم منتخب

یوروپی ملک فن لینڈ کی وزیر اعظم34 سالہ سیاستداں سنا مارین دنیا کی سب سے کم عمر وزیر اعظم بن گئی ہیں۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے ۔ اس خبر کے حوالہ سے روزنامہ دی ہندو تحریر کرتا ہے کہ سنا مارین کو اتوار کے روز ملک کا وزیر اعظم منتخب کیا گیا ۔ وہ رخصت پذیر لیڈر اینتی رینے  کی جگہ لیں گی۔ جنہوں نے اعتماد کے ووٹ میں شکست کھانے کے بعد وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ سنا مارین فن لینڈ کی اب تک بننے والی تیسری خاتون وزیر اعظم بھی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ پہلی بار فن لینڈ کی 5 سیاسی جماعتوں کے اتحاد سے بننے والی حکومت کی وزیر اعظم بھی ہیں اور اس اتحاد میں شامل پانچوں سیاسی جماعتوں کی سربراہی خواتین کے پاس ہے ۔ سنا مارین کا تعلق معروف سیاسی جماعت سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی سے ہے۔ خبروں کے مطابق سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی کی اعلیٰ کونسل میں شامل 32 ارکان میں سے 29 ارکنا نے سنا مارین کو وزیراعظم بنانے کے لئے ووٹ دیا،۔ قابل ذکر ہے کہ ملک میں کئی ہفتوں سے محکمہ ڈاک کے ملازمین کے شدید احتجاجات کے باعث اینتی رینے کو وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دینا پڑاتھا۔

روس پر اولمپکس اور عالمی فٹ بال میں کھیلنے پر پابندی 

دنیا کی ڈوپنگ مخالف ایجنسی ، واڈا نے روس پر چار سال کی پابندی عائد کر دی ہے جس کا مطلب ہےکہ اب وہ اگلے چار سال تک کسی بھی قسم کے اہم کھیل مقابلوں میں حصہ نہیں لے سکے گا۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کےساتھ شائع کیا ہے ۔اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ایشین ایج تحریر کرتا ہے کہ اس پابندی کا سب سے بڑا اثر یہ ہوگا کہ وہ اگلے سال ٹوکیو میں ہونے والے اولمپکس مقابلوں  میں حصہ نہیں لے سکے گا۔ وہ قطر میں ہونے والے عالمی کپ فٹبال ٹورنامنٹ سےبھی باہر ہو گیاہے ۔ واڈا نے روس پر ایک ڈوپنگ مخالف لیب سے غلط اعداد و شمار فراہم کرنے کے الزام لگائے اور اس کی وجہ سے اس پر یہ پابندی عائد کر دی ۔ لیکن اس کے وہ کھلاڑی جنہیں ڈوپنگ میں کلین چٹ مل جائے گی وہ ان کھیلوں میں حصہ لے سکیں گے ۔ تا ہم انہیں روس کا پرچم استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔