شہریت  ترمیمی بل کا مقصد پڑوسی ممالک کے اقلیتی پناہ گزینوں کو شہریت دینا ہے

پڑوسی ممالک کے ستائے ہوئے اقلیتی پناہ گزینوں کو ہندوستان کی شہریت دینے سے متعلق شہریت ترمیمی بل پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں منظور کرلیا گیا ہے۔ اب اسے ایوان بالا میں پیش کیا جائیگا۔ اسی دوران پاکستان نے اس اقدام کے خلاف ایک بیان جاری کیا ہے ۔ ایک ایسا ملک جس نے اپنی اقلیتوں پر ہمیشہ ظلم ڈھائے اور ان کا صفایا کرنے میں لگی رہی، اس معاملہ پر بولنے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔ قابل ذکر ہے کہ تقسیم ہند کے وقت پاکستان میں اقلیتوں کی آبادی 23 اعشاریہ 5فیصد تھی جو اب پاکستان کے ظلم و ستم کے باعث کم ہوکر محض تین اعشاریہ 5فیصد رہ گئی ہے۔ تقسیم ہند کے وقت جواہر لعل نہرو اور لیاقت علی خاں کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا اس میں دونوں ملکوں میں اقلیتوں کے تحفظ کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن اس معاہدے کے باوجود پاکستان میں اقلیتوں کی آبادی میں کافی کمی واقع ہورہی ہے اور اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ ظلم وستم سے پریشان ہوکر ہندوستان میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ بنگلہ دیش میں بھی اقلیتی آبادی میں کافی کمی آئی ہے۔ 1971 میں اس کے قیام کے وقت وہاں اقلیتوں کی آبادی 21 اعشاریہ تین فیصد تھی جو اب گھٹ کر محض 8 اعشاریہ 5فیصد رہ گئی ہے۔ مذہبی اقلیتوں کے ساتھ اکثر امتیاز برتا جاتا ہے اور ان کی جائیداد یہ کہہ کر ہڑپ لی جاتی ہیں کہ وہ سرکار کی ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تقسیم کے وقت ہندوستان میں اقلیتی آبادی کل آبادی کا 9اعشاریہ آٹھ فیصد تھی جو اب بڑھ کر کافی زیادہ ہوگئی ہے۔ یہ اعداد وشمار یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں کہ ہندوستان اور اس کے پڑوسی ممالک اپنے اپنے اقلیتوں کیساتھ کس طرح کا سلوک روا رکھتے ہیں۔

تقسیم ہند کے بعد پاکستان میں اقلیتی آبادی کے حق رائے دہی کو چھیننے کیلئے کچھ  قانون بنائے گئے۔ انتخابی سیاست میں اقلیتوں کی اہمیت کم کرنے اور انہیں بالکل الگ تھلگ کرنے کیلئے ایک الگ انتخابی نظام بنایاگیا۔ نئے نظام کے مطابق اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگ صدر مملکت یا وزیراعظم نہیں بن سکتے۔ اس سال اکتوبر میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک عیسائی رکن پارلیمنٹ نے قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا جس میں آئینی طور پر کی گئی غلطیوں کو سدھارنے کا مطالبہ کیا گیاتھا لیکن قومی اسمبلی میں اس میں رکاوٹ ڈال دی گئی۔ 

پاکستان میں ہندو، عیسائی اور سکھ اقلیتوں کے علاوہ احمدیہ فرقہ کے لوگوں کےساتھ بھی ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔ آئین پاکستان میں دوسرے ترمیم کے تحت احمدیہ فرقہ کے لوگوں کو غیرمسلم قرار دیا گیا ہے۔ 1984 میں ایک الگ انتخابی نظام کے وجود میں آنے کے بعد احمدیہ فرقہ کے لوگوں کو ایک غیر مسلم کی حیثیت سے ووٹ دینے پر مجبور کیا گیا لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے ووٹ ڈالنے سے ہی انکار کردیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اللہ واسع بنام فیڈریشن آف پاکستان کے مقدمہ میں سنائے گئے فیصلہ میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے احمدیہ فرقہ کے لوگوں کو اپنے نام میں لفظ قادیانی یا مرزا جوڑنے کا مشورہ دیا تاکہ ان کی احمدیہ کے طور پر شناخت ہوسکے ان تمام اقلیتی برادریوں پر اکثر اہانت اسلام کاالزام لگایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ا ن پر اہانت اسلام کے سخت قانون کے تحت مقدمہ چلتا ہے جس میں سزائے موت تک کا التزام ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اقلیتوں کیساتھ معمولی جھگڑوں میں بھی کسی سے بدلا لینے کیلئے اس قانون کا استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وہاں جبراً تبدیلی مذہب ایک عام بات ہے۔ نہ صرف احمدیہ برادری بلکہ شیعہ فرقہ کے ساتھ بھی ناروا سلوک برتا جاتا ہے۔ مذہبی شدت پسندوں کی جانب سے اس فرقہ کو بھی غیرمسلم قرار دینے کی تمام تر کوششیں جاری ہیں۔ انتہاپسند تنظیموں نے پاکستان کو ایک سنّی اسلامی ملک قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ شیعوں کو ملک بدر کیا جاسکے۔ نہ صرف مذہبی اقلیتوں بلکہ اپنے شہریوں کے ساتھ بھی پاکستان کا برتاؤ اچھا نہیں ہے۔ اس وقت بلوچیوں اور مہاجروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان کے ساتھ بھی امتیازی سلوک جاری  ہے۔ 

اس لئے یہ بات باعث حیرت ہے کہ ایک ایسا ملک جو خود اپنی اقلیتی برادریوں کے خلاف امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے، پڑوسی ممالک سے آئے غیرمسلم پناہ گزینوں کو ہندوستانی شہریت دینے کے نئی دہلی کے اقدام پر سوال اٹھا رہا ہے۔ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے شہریوں کے قومی رجسٹر معاملہ پر بھی کافی واویلا مچایا تھا۔ 

1947 سے ہی پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش میں رہنے والے اقلیتی فرقے کے لوگ ہجرت کرکے ہندوستان آرہے ہیں۔ یہ لوگ اس لئے ہجرت کررہے ہیں کیونکہ انہیں اپنے ملک میں ہی ان کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ مجوزہ شہریت ترمیمی بل کا مقصد ایسے ہی پناہ گزینوں کو ہندوستانی شہریت دینے کا ہے تاکہ یہ لوگ وہ تمام سہولتیں حاصل کرسکیں جو ایک ہندوستانی شہری کو حاصل ہیں۔