11.12.2019

دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو کرنا ہوگی کارروائی: یوروپی یونین

یوروپی یونین چاہتا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گردوں کے خلاف نہ صرف کارروائی کرے بلکہ ایسے گروپوں کے لئے ہر قسم کی مالی امداد فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی اقدامات کرے۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے ہندوستان میں یوروپی یونین کے سفیر اوگوآسٹوٹو کے حوالے سے مطلع کیا ہے کہ  یوروپی یونین کو سلامتی سے متعلق ہندوستان کی تشویشات کااعتراف ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس کی خواہش ہے کہ علاقائی کشیدگی دور کرنے کیلئے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کئے جائیں۔ منگل کے روز نئی دہلی میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ قانون کی پاسداری کرے تاکہ اس ملک سے سرگرم تمام دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ کیاجاسکے۔اخباران کی گفتگو کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف پاکستان نے جو کارروائی کی ہے، ایف اے ٹی ایف نے حال ہی میں اس کا جائزہ لیا ہے اور اُس ملک سے مزید درخواست کی ہے کہ وہ دہشت گردی کے لئے رقوم کی فراہمی کے خلاف اقدامات کرے۔ آسٹوٹو نے کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امور خارجہ اور سلامتی پالیسی سے متعلق اعلیٰ نمائندے فیڈریکا موگھرینی  کی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے اگست اور ستمبر میں جو ملاقاتیں ہوئی تھیں ان کے بعد سے مسئلہ کشمیر پر یوروپی یونین کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ 

 

جموں وکشمیر میں رہنماؤں کی رہائی کا فیصلہ مقامی انتظامیہ کی ذمہ داری: مرکز

روزنامہ اسٹیٹس مین نے خبردی ہے کہ جموں وکشمیر میں سیاسی رہنماؤں کی رہائی کے لئے حزب اختلاف جو مطالبہ کررہا ہے اس کے سلسلے میں مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ ہی اس سلسلے میں کوئی کارروائی کرسکتی ہے۔ جموں وکشمیر میں دفعہ 370 کی منسوخی اور اس کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ قرار دیئے جانے کے بعد وہاں جو صورتحال ہے اس کا معاملہ لوک سبھا میں وقفہ سوالات میں اٹھایا گیا تھا۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس صورتحال کے سلسلے میں کانگریس رکن، کے۔ سری دھر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ کرشن ریڈی نے کہا کہ 5؍اگست کے بعد سے اب تک کوئی بھی شخص پولیس فائرنگ میں ہلاک نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سلامتی افواج پر سنگ باری کے واقعات میں بھی کمی آئی ہے، وادی کےچند علاقوں کے سے شبینہ کرفیو اٹھالیا گیا ہےاور اسکول معمول کے مطابق کام کررہے ہیں۔ نیز یہ کہ گیارہویں درجے کے 99اعشاریہ سے زیادہ طلباء امتحانات میں شامل ہوئے ہیں۔ 

کشمیر کی تازہ ترین صورتحال کے حوالے سےہی روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے مطلع کیا ہے کہ ون ٹائم  پاسورڈ سمیت ایس ایم ایس جیسی خدمات عوام خصوصاً تجارتی برادری کی درخواست پر وادی میں 40 لاکھ سبسکرائبرس  کے لئے بحال کردی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق، حالانکہ جموں وکشمیر انتظامیہ نے مشین پر مبنی پیغامات کی خدمات کی اجازت دیدی ہے مگر استعمال کنندگان کو اپنے موبائل سے پیغامات بھیجنے کی اجازت نہیں ہے۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ 14؍اکتوبر کو 72 دن کے بعد موبائل خدمات  بحال کردی گئی تھیں مگر فوج کے اس دعوے کے چند گھنٹوں بعد ایس ایم ایس پر پابندی لگادی گئی تھی کہ دہشت گرد ،لوگوں کو ہموار کرنے کیلئے اس سہولت کا استعمال کررہے ہیں۔ 

 

ماحولیاتی کارکردگی کی فہرست میں ہندوستان کا درجہ بڑھا

روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے ہی ماحولیات کے سلسلے میں ہندوستان کے تعلق سے ایک حوصلہ افزا خبر شائع کی ہے۔ خبر کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی کی کارکردگی کے اشارئیے یعنی سی سی پی آئی میں ہندوستان پہلی بار پہلے دس ممالک کی صف میں شامل ہوگیا ہے۔ واضح ہو کہ اس سلسلے میں ایک رپورٹ ہر سال جاری کی جاتی ہے جس کے لئے چار پیمانوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یعنی گرین ہاؤس گیس کااخراج، قابل تجدید توانائی، ماحولیاتی پالیسی اور توانائی کا استعمال۔ اس سے قبل ہندوستان گیارہویں درجے پر تھا جو اس سال گھٹ کر نواں ہوگیا ہے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اس درجہ بندی میں سویڈن چوتھے، ڈنمارک پانچویں اور مراکش چھٹے درجے پر ہے۔ پہلے تین درجات علامتی طور پر خالی رکھے گئے ہیں کیونکہ کوئی بھی ملک پیرس معاہدے کے لحاظ سے اس پیمانے پر پورا نہیں اتراہے۔ اخبار کے  مطابق سی سی پی آئی کی فہرست میں 57 ممالک شامل ہیں اور اجتماعی طور پر یوروپی یونین عالمی جی ایچ ایس اخراج کے 90فیصد کا ذمہ دار ہے۔واضح ہو کہ سی سی پی آئی 2020 رپورٹ تین بین الاقوامی غیرسرکاری تنظیموں نے جاری کی ہے جن کے نام ہیں جرمن واچ، نیوکلائمیٹ انسٹی ٹیوٹ اور کلائمیٹ ایکشن نیٹ ورک۔ اقوام متحدہ کی ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق جاری کانفرنس سی او پی 25کے موقع پر جاری اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس فہرست میں اجتماعی طور پر یوروپی یونین 22 ویں درجے پر اور چین 30ویں درجے پر ہندوستان سے نیچے ہے جبکہ سب سے زیادہ گیس اخراج کرنے والا ملک امریکہ اس فہرست میں سب سے نیچے ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس ماحولیاتی کارکردگی میں تمام تر درجہ بندی کے باوجود ماہرین کا خیال ہے کہ فوسل ایندھن پر سبسیڈی کو مرحلہ وار ختم کرنے کے لئے ایک خاکہ تیا رکرنے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے کوئلے پر انحصار کم ہوجائیگا۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ امریکہ کے علاوہ ترکی، پولینڈ ، جاپان ، روس ، کناڈا اور آسٹریلیا بھی اس فہرست میں نچلی سطح پر ہیں۔ 

 

ٹرمپ کو مواخذے کے دوران دو الزامات کا سامنا

‘‘ٹرمپ کو مواخذے کےدوران دو الزامات کا سامنا’’۔ امریکہ کی تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے یہ سرخی ہے روزنامہ ہندو کی ایک خبر کی۔ خبر کے مطابق، ہاؤس ڈیموکریٹس نے اعلان کیاہے کہ صدر ڈونل ٹرمپ  پر یوکرین کے سلسلے میں اختیارات کے غلط استعمال اور مواخذے کی تحقیقات میں کانگریس کی کارروائی میں روکاوٹ ڈالنے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ ایک پریس بریفنگ میں کمیٹی کے چیرمین جیرالڈنیڈلر نے بتایا کہ ایوان کی غالب اکثریت کے سامنے ارسال کرنے سے قبل، ایوان کی جیوڈیشری کمیٹی اس ہفتے کے اواخر میں آرٹیکلس پر ووٹنگ کرے گی۔ اس بریفنگ میں اسپیکر نینسی پلوسی سمیت ایوان کی ڈیموکریٹک قیادت بھی موجود تھی۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ امریکہ کی تاریخ میں ڈونل ٹرمپ چوتھے ایسے صدر ہیں جن کو مواخذے کا سامنا ہے۔ اس سے قبل اینڈریو جونس، رچرڈ نکسن اور بل کلنٹن کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی جاچکی ہے۔ ان میں سے رچرڈ نکسن نے ووٹنگ سے پہلے ہی استعفیٰ دیدیا تھا۔ خیال رہے کہ اگر اگلے ہفتے ایوان میں ووٹ پڑتے ہیں اور ارکان، ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی حمایت میں ووٹ ڈالتے ہیں تو صدر کو سینیٹ میں ٹرائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حالانکہ ڈیموکریٹس کی اکثریت والے ایوان میں ان کے خلاف ووٹ پڑسکتے ہیں مگر تازہ ترین اشاروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سینیٹ ٹرمپ کو مجرم نہیں ٹھہرائے گی کیونکہ وہاں ریپبلکن ارکان کی اکثریت ہے۔ 

 

میانمار نسل کشی ختم کرے: بین الاقوامی عدالت کا سوچی پر زور

میانمار کی سویلین رہنما اور نوبیل امن اعزاز یافتہ آنگ سان سوچی پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ملک میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی بند کریں۔ روزنامہ اسٹیٹس مین  لکھتا ہے کہ منگل کے روز جب وہ اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت میں ذاتی طور پر اپنے ملک کی قیادت کے لئے حاضر ہوئیں تو ان کو ان الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ اخبار لکھتا ہے کہ ہیگ میں بین الاقوامی عدالت میں مغربی افریقی ملک زامبیا کے وزیر انصاف ابوبکر نے ججوں سے درخواست کی کہ میانمار پر بے رحمانہ  قتل اور اپنے ہی عوام کی نسل کشی روکنے کیلئے زور دیا جائے تاکہ بربریت آمیز سرگرمیوں پر قدغن لگائی جاسکے جنہوں نے اجتماعی طور پر لوگوں کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ مسلم اکثریتی ملک زامبیا نے میانمار پر الزام لگایا ہے کہ اس نے 1948 کے نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے اور عدالت سے درخواست کی اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو اپنے تنازعات ختم کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ مزید تشدد روکنے کے لئے وہ ہنگامی اقدامات کرسکیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے نسل کشی جاری ہے اور اس کو روکنے کیلئے کچھ بھی نہیں کیا جارہا ہے۔ واضح ہو کہ 2017 میں میانمار کی فوج کے ہاتھوں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف خونیں کارروائی کی گئی تھی جس کی وجہ سے تقریباً ساڑھے سات لاکھ روہنگیا، پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے۔ اس کارروائی کو اقوام متحدہ کے تفتیش کار پہلے ہی نسل کشی قرار دے چکے ہیں۔ 

 

سلواکیہ میں مسلح شخص کے ہاتھوں چھ افراد کا قتل

چیکو سلواکیہ کے شہر اوسٹراوا   میں ایک مسلح فرد نے منگل کے روز چھ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور بعد میں فرار ہوگیا۔ اخبار انڈین ایکسپریس نے تحریر کیا ہے کہ جب پولیس نے اس کا  پیچھا کیا تو اس نے اپنے سر میں گولی مار لی جس کے آدھے گھنٹے کے بعد اس کی موت ہوگئی۔ اوسٹراوا کے یونیورسٹی اسپتال کے آؤٹ پیشنٹ کلنک میں پیش آئے اس واقعے کا مقصد واضح نہیں ہوسکا ہے۔ اخبار کے مطابق 2015 میں اوہرسکی   کے ایک ریستوراں میں ایک شخص نے آٹھ افراد کو ہلاک کرنے کے بعد اپنے آپ کو بھی گولی مارلی تھی۔ جس کے بعد فائرنگ کا یہ بدترین واقعہ ہے۔ وزیراعظم اینڈریج بیبز نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ شخصی معاملہ ہے۔ اخبار علاقائی محکمہ پولیس کے سربراہ کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ حملے کے وقت حملہ آور خاموش تھا اور اس کے کسی ساتھی کی موجودگی کی کوئی علامت نہیں ملی ہے۔