موضوع: میڈرڈ تبدیلی آب وہوا کانفرنس:ہندوستان کی کارکردگی کی ستائش

اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں دنیا کے 196ملکوں کے رہنما اور ماہرین ماحولیات،عالم انسانیت کے لئے خطرہ بن چکے ماحولیاتی تبدیلی کے مضمرات اور اس کا مقابلہ کرنے کے طریقہ کار پر غور و خوض کررہے ہیں۔

کاپ (coop) 25کے نام سے اس عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقو ام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے بالکل درست کہا کہ انسان کئی دہائیوں سے کرۂ ارض کے خلاف جنگ کی حالت میں ہے اور اس سیارے نے انسان کے خلاف لڑائی کا آغاز کردیا ہے۔عالمی حرارت کے تباہ کن اثرات انسانیت کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ہمیں عالمی ماحولیاتی بحران کا سامنا ہے اوریہ عالمی بحران ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہے۔گوٹیرس کے مطابق ماحولیات سے متعلق سنگین بحران پہلے سے کہیں زیادہ مہلک اور تباہ کن ہو چکے ہیں۔ جس کی وجہ سے انسانی صحت اور غذائی امن خطرات سے دوچار ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ مربوط فضائی آلودگی سالانہ 70 لاکھ افراد کی موت کا سبب بن رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے ترقی یافتہ اور بڑے اقتصادی ملکوں کی جانب سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج پر روک لگانے کے واسطے کئے جانے والے ناکافی اقدامات پر سخت نکتہ چینی بھی کی۔انہوں نے نام لیے بغیر واضح طور پر ان ممالک کو مخاطب کیا جو دنیا بھر میں گرم گیسوں کے نصف سے زیادہ اخراج کے ذمے دار ہیں۔

افسو س کی بات یہ ہے کہ ماحولیات کے لئے نقصان دہ مواد کے اخراج کا سبب بننے والے دنیا کے بڑے ملکوں کی طرف سے حالیہ برسوں میں اپنی پاسداریوں کے تئیں صرف کمزور اشارے ہی سامنے آئے ہیں۔ا س ضمن میں امریکہ کی مثال سب کے سامنے ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ رواں برس کے اختتام تک ماحولیات سے متعلق پیرس معاہدے سے علیحدہ ہوجائے گا۔

دوسری طرف ہندوستان کے لئے اطمینان کی بات یہ ہے کہ اس نے ماحولیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے لئے دنیا سے جو وعدہ کیا، اسے نبھایا بھی ہے اور اس پر مسلسل آگے بڑھ بھی رہاہے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کی کارکردگی کے انڈکس میں پہلی مرتبہ ہندوستان بہترین کارکردگی والے دس ملکوں کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے۔ اس فہرست میں گذشتہ برس ہندوستان گیارہویں نمبر پر تھا لیکن اس مرتبہ وہ نویں مقام پر پہنچ گیا ہے۔امریکہ ا س فہرست میں سب سے خراب کارکردگی والے ملکوں میں شامل ہے۔ اچھی کارکردگی کے لحاظ سے سویڈن چوتھے اور ڈنمارک پانچویں مقام پر ہے۔ جب کہ پہلے تین مقام خالی ہیں۔اس کا پیغام یہ ہے کہ دنیا ابھی بھی مقررہ ہدف سے کافی پیچھے ہے۔چین نے بھی پچھلے برس کے مقابلے اپنی رینکنگ بہتر کی ہے۔

اس سے ایک بات واضح ہے کہ امریکہ جیسے چند ایک ممالک کو چھوڑ کر دنیا کے تمام ملک ماحولیاتی تبدیلی کے مضمرات کے سلسلے میں فکر مند ہیں اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے سب اپنے اپنے طور پر کچھ نہ کچھ کررہے ہیں۔لیکن عمومی نظریہ اب بھی یہی ہے کہ جب حالت خراب ہوگی تو دیکھا جائے گا۔ یہ رویہ ہمیں بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔ کیوں کہ یہ بحران ہماری سوچ سے کہیں زیادہ سنگین اور بھیانک ہے اور یہ بالکل ہمارے سر پر آچکا ہے۔

ہندوستان اس بات پر بھی قدرے اطمینان کرسکتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے اس کے اقدامات کی عالمی سطح پر تعریف کی گئی ہے۔کاپ 25کانفرنس میں ماحولیات کے مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے ہندوستان کے اقدامات کا ذکر بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ 450گیگاواٹ قابل تجدید توانائی پیدا کرنے کے اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے لئے ہندوستان کے پرعزم منصوبہ نے عالمی برادری کی توجہ اپنی جانب مبذول کی ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا قابل تجدید توانائی پروگرام ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی کے سلسلے میں عالمی اہداف حاصل کرنے کے متعلق ہندوستان کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر ماحولیات پرکاش جاوڈیکر نے بتایا کہ ہندوستان نے نہ صرف کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 22فیصد کی کمی کی ہے بلکہ جنگلات کے علاوہ ہریالی والے علاقے یعنی گرین ایریا میں اضافہ کرنے والے دنیا کے منتخب ملکوں میں اس کا شمار ہوا ہے۔آئی پی سی سی اور دیگر رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان چوٹی کے ان پانچ ملکوں میں شامل ہے جو پیرس معاہدہ کے التزامات پر تیزی سے عمل کررہے ہیں۔ ہندوستان نے کاربن گیس کے اخراج میں کمی لانے کی جو کوشش شروع کی ہے اس میں وہ 2030 تک 35فیصد کمی لانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ ہندوستان نے 175گیگاواٹ شمسی توانائی کا جو ہدف مقرر کیا ہے اس میں سے نصف حاصل کرچکا ہے اور 2022تک اسے مکمل طورپر حاصل کرلے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے سب سے پہلے عالمی برادری کے سامنے بین الاقوامی سولر الائنس ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لئے ملکوں کا گروپ بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔

پوری دنیا یہ بات اچھی طرح جانتی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کو بگاڑنے میں سب سے زیادہ رول ان ملکوں کا رہا ہے جو آج ترقی یافتہ کہلاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے اقتصادی فائدے کے لئے دنیا کو آج ایک ایسے دہانے کے قریب کھڑ ا کردیا ہے جہاں سے واپسی مشکل دکھائی دے رہی ہے۔

ہندوستان نے اسی لئے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ پہلے ترقی یافتہ ممالک کاربن گیس کے اخراج کو کم کرنے کے سلسلے میں 2020 تک مقررہ اپنے اپنے اہداف حاصل کریں۔ وہ یہ کہہ کر نہیں بچ سکتے کہ اب کیوٹو پروٹوکول کو صرف ایک سال باقی رہ گیا ہے اور اب کچھ نہیں ہوسکتا۔ ان ملکوں نے جو وعدے کئے تھے اسے بہر حال انہیں پورا کرنا ہی ہوگا۔ ترقی یافتہ ملکوں کو چاہئے کہ وہ ترقی پذیر ملکوں کو نصیحت کرنے سے پہلے اپنی ذمہ داری ادا کریں۔