13.12.2019

حافظ سعید پر فرد جرم کا معاملہ: امریکہ نے تیز رو مقدمے اور قرارواقعی سزا کے لیے پاکستان پر دیا زور

حافظ سعید کو دہشت گردانہ جرائم میں ماخوذ کیے جانے کی خبریں آج پھر اخبارات کی زینت بنائی گئی ہیں۔ خبروں کے مطابق امریکہ نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ حافظ سعید کے خلاف تیز رو مقدمے اور قرار واقعی سزا کو یقینی بنائے۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے اس حوالے سے تحریر کیا ہے کہ بدھ کے روز لاہور میں انسداد دہشت گردی عدالت نے 2008 میں ممبئی حملوں کے سازشی اور ممنوعہ تنطیم جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید اورا س کے تین قریبی ساتھیوں کو دہشت گردی کے لیے مالی اعانت  میں ملوث قرار دیا تھا جس کے بعد امریکہ کا یہ رد عمل سامنے آیا ہے۔اخبار جنوب اور وسطی ایشیا کے لیے کارگزار نائب وزیر خارجہ ایلس جی ویلز (Allice G Wells) کے ٹوئٹ کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ امریکہ کی یہ اپیل بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہے۔ اخبار کے مطابق یہ فرد جرم پاکستان پر اس کی سرزمین سے سرگرم سعید جیسے دہشت گرد رہنماؤں کے خلاف کارروائی کے لیے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ خیال رہے کہ اکتوبر میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو متنبہ کیا تھا کہ اگر اس نے اگلے سال فروری تک دہشت گردی کی مالی اعانت پر کنٹرول نہ کیا تو اس کو بلیک لسٹ کردیا جائے گا۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو کارروائی کے لیے جو 27 اہداف دیے تھے ان کی تکمیل پر ناکامی کے بعد اس نے سخت تشویش کااظہار بھی کیا تھا۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ گزشتہ ماہ 26/11  دہشت گردانہ حملے کی برسی کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پامپیو نے کہا تھا کہ 2008 ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے شکار 166 بےقصورافراد اور انکے اہل خانہ کی واضح توہین ہے کہ ان حملوں کے مرتکبین کو اب تک سزا نہیں دی گئی ہے۔

 ہندوستان کے ساتھ اسٹرائیک کے دوران ایف 16 کے استعمال پر امریکہ کی پاکستان کو سخت تنبیہ

پاکستان کو امریکہ کی ایک اور تنبیہ کے حوالے سے روزنامہ اسٹیٹس مین کی ایک خبر ہے کہ فروری میں پلوامہ پر دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان نے ہندوستان کے ساتھ فضائی ٹکراؤ کے دوران جو امریکی ساخت کے ایف 16 جنگی طیارے استعمال کیے تھے اس سلسلے میں امریکہ نے پاکستان کو سخت تنبیہ جاری کی ہے۔ اخبار امریکی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے لکھتا ہے کہ سابق معاون وزیر خارجہ اور سفارت کار اینڈریوتھامسپن نے اگست میں پاکستانی فضائیہ کے سربراہ کو تحریرکردہ ایک مراسلے میں الزام لگایا ہے کہ پاکستان نے جنگجو جیٹ طیاروں کا غلط استعمال کرکے ان کی فروخت سے متعلق شرائط کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ اخبار کے مطابق چند ماہ قبل ہندوستان نے دعوی کیا تھا کہ اس نے سرجیکل اسٹرائک کے دوران پاکستان کا ایک ایف 16 طیارہ مار گرایا تھا جس کے بعد امریکہ نے پاکستان سے یہ مراسلت کی ہے۔ اس کے برخلاف پاکستان اس سے انکار کرتا رہا ہے۔ اس مراسلے پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ ذرائع سے موصولہ اطلاع ہے اور اگر یہ صحیح ہے تو اس سے ہندوستان کے دعوے کی ہی ترجمانی ہوتی ہے۔ اخبار کے مطابق اپنے مراسلے میں تھامسپن نے جواس کے بعد سے حکومت سے علاحدہ ہوگئے تھے، سفارتی زبان کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو متنبہ کیا کہ اس کا یہ اقدام جوکھم بھرا ہے کیونکہ اس سے یہ اسلحہ جات مذموم عزائم رکھنے والے افراد کے ہاتھ میں پڑجانے کا خطرہ ہے اور اس سے دونوں ممالک کے مشترکہ سلامتی اور بنیادی ڈھانچوں کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

بنگلہ دیش میں پلاسٹک فیکٹری میں آتشزدگی، 13 ہلاک

‘‘بنگلہ دیش میں پلاسٹک فیکٹری میں آتشزدگی، 13 ہلاک’’، یہ سرخی ہے روزنامہ ہندو کی۔ بنگلہ دیش پولیس کے مطابق ڈھاکہ کے گردونواح میں واقع غیرقانونی پلاسٹک فیکٹری ‘پرائم پینٹ پلاسٹک لمیٹیڈ’ میں بدھ کے روز آگ لگ گئی جس میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور 21 شدید زخمی ہوگئے۔ بی ڈی نیوز ڈاٹ کام کی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ سنگین طور پر زخمی افراد کو علاج کے لیے ڈھاکہ میڈیکل کالج اسپتال میں داخل کردیا گیا ہے۔ حکام ابھی تک آتشزدگی کی وجہ معلوم نہیں کرسکے  ہیں تاہم ایک زخمی کا کہنا ہے کہ آگ اس کمرے سے شروع ہوئی جہاں آٹھ سلنڈر رکھے ہوئے تھے۔اخبار ڈھاکہ ٹری بیون کے حوالے سے آگے رقم طراز ہے کہ اس سے قبل فروری میں بھی اس فیکٹری میں آگ لگ چکی ہے۔ واضح ہو کہ اس فیکٹری میں تقریبا 300 افراد دو شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔ ان میں خواتین بھی شامل ہیں۔

 میانمار میں نسل کشی پر خاموشی کے لیے سوچی کی مذمت

ہیگ کی بین الاقوامی عدالت میں میانمار کی رہنما آنگ سانگ سوچی  نے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی معاملے میں مدافعت کی ہے جس کے بعد گامبیا نے ان مسلمانوں کے استحصال پر خاموشی کے لیے سوچی کی مذمت کی ہے۔ اس حوالے سے روزنامہ اسٹیٹس مین لکھتا ہے کہ افریقی ملک گامبیا کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ اپنی مدافعت میں انہوں نے جو دلیل دی ہے کہ 2017 میں فوج کے ذریعے کارروائی کا مقصد ملیٹنٹوں کا صفایا کرنا تھا اس سے اجتماعی قتل وغارت گری،زنا بالجبر اور جبری انخلا کے عالمی الزامات سے پردہ پوشی کا اظہار ہوتا ہے۔ بین الاقوامی عدالت میں گامبیا کے وکیل فلپ سینڈس (Phllip Sands) نے کہا کہ مادام سوچی کی خاموشی نے ان کے الفاظ سے زیادہ بہت کچھ کہہ دیا ہے جو اس مقدمے میں میانمار کے ایجنٹ کی حیثیت سے پیش ہوئی ہیں۔ واضح ہو کہ مسلم اکثریتی ملک گامبیا نے بودھ اکثریتی میانمار کے خلاف ہیگ عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے اور ان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے نسل کشی سے متعلق اقوام متحدہ کے 1948 کے کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس کے ساتھ یہ درخواست بھی کی گئی ہے کہ روہنگیاؤں کی حفاظت کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔ اخبار کے مطابق میانمار کی ظالم جنٹا (Junta) کے خلاف سینہ سپرہونے کے بعد آنگ سانگ سوچی کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی تھی مگر اس شہرت کو اس وقت زبردست دھچکا پہنچا جب انہوں نے روہنگیابحران کے دوران فوجی کارروائی کی حمایت کی تھی۔ سوچی کی اس دلیل پرکہ یہ اندرونی تنازعہ تھا اور فوج نے اگست 2017 میں روہنگیا ملیٹنٹوں کے خلاف صفائی مہم چلائی تھی، گامبیا کے ایک اور وکیل پال ریشلر (Paul Reichler) نے کہا کہ اس مہم میں جو لوگ مارے گئے، ان میں نوزائیدہ بچے بھی شامل تھے اور یا ان کو  ماؤں کی گود سے چھین کر ندی میں پھینک دیا گیاتھا،جن کی ڈوبنے سے موت ہوگئی تھی تو یہ بچے کس طرح سے دہشت گرد ہوسکتے ہیں؟ نیز یہ کہ مسلح تنازعے کو کبھی بھی نسل کشی کا بہانہ نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ توقع ہے کہ سوچی اپنا اختتامی بیان جمعرات کے بعد دیں گی اور اس سلسلے میں کسی فیصلے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ اسی دوران روہنگیا پناہ گزینوں نے سوچی پر بین الاقوامی عدالت میں جھوٹ بولنے کا الزام لگایا ہے۔

 بریگزٹ پر فیصلے کے لیے برطانیہ میں ووٹنگ

برطانیہ میں رائے دہندگان نے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے۔ جن سے وزیراعظم بورس جونسن کی قیادت میں بریگزٹ کی راہ ہموار ہوگی یا پھر برطانیہ میں ایک اور استصواب رائے ہوگا جس کے بعد یوروپی یونین سے علاحدگی کا فیصلہ پلٹ جائے گا۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس نے اپنی خبر میں تحریر کیا ہے کہ 31 اکتوبر کو بریگزٹ پر عمل درآمد میں ناکامی کے بعد بورس جونسن نے سیاسی تعطل کے خاتمے کے لیے انتخابات کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے یوروپی یونین سے برطانیہ کی علاحدگی میں رکاوٹ آئی تھی۔ واضح ہو کہ جونسن نے ان انتخابات کے لیے بریگزٹ کی تکمیل کا نعرہ دیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ تعطل کا خاتمہ کردیا جائے گا نیز صحت، تعلیم اور پولیس کے شعبے میں زیادہ رقوم خرچ کی جائیں گی۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ تمام اہم اوپنین پولس (Opinion Polls) سے جونسن کی فتح کا اظہار ہوتا ہے۔ حالانکہ 2016 کے استصواب رائے کے لیے یہ پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئی تھیں۔

ہند-جاپان دوستانہ تعلقات پر ہندوستان ٹائمز کا اداریہ

روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے ہند-جاپان دوستانہ تعلقات پر اپنا اداریہ تحریر کیا ہے۔ اداریئے کے مطابق جاپان ہندوستان کے جغرافیائی معاشی شراکت دار کے طور پر ابھرا ہے۔ چاہے وہ صنعتی راہداریوں کی تعمیر کا معاملہ ہو، عوامی نقل وحمل نظام ہوں، بحرہند میں اسٹریٹجک بنیادی ڈھانچوں کی تعمیر ہو یا ہندوستان میں سرمایہ کاری کے لیے جاپانی فرموں کی حوصلہ افزائی کا معاملہ ہو، وزیراعظم شنزوآبے کے علاوہ دنیا کے کسی بھی عالمی رہنما نے اس قدر دلجمعی کے ساتھ اس سلسلے میں کام نہیں کیا ہے۔ یہ کہنابے جا نہ ہوگا ہندوستان میں ان کی آئندہ سربراہ ملاقات سے اس کا بروقت اظہار بھی ہوتا ہے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اس سے بھی آگے بڑھ کر جاپان نے قومی ذہنیت بدلنے میں ہندوستانی قیادت کی مدد کی ہے۔ اس سلسلے میں میٹرو کی مثال قابل غور ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ ایک زمانے میں اس پروجیکٹ کو ناقابل عمل سمجھا جاتا تھا مگر اب یہ شہروں کے شہ رگ کی حیثیت سے لازم سمجھی جارہی ہیں۔ یہی معاملہ بلیٹ ٹرین کا ہے جو زیر عمل ہے۔ اور اس سے بھی آگے بڑھ کر ہندوستان کو الیکٹرانک ہب بنانے کا پروگرام ہے۔ لیکن ہندوستان کو ابھی بہت کرنا باقی ہے جس میں ٹریڈ ڈپلومیسی، ٹیکس نظام اور کسٹمز میں نرم روی اور بیرون ملک ہندوستانی نجی فرموں کی امداد بھی شامل ہے۔ اخبار کے مطابق جاپان کی اپنی بھی قیود  ہیں خصوصا دفاع کے شعبے میں اسی وجہ سے برسوں کے مذاکرات کے باوجود جاپان کے ہتھیار ہندوستان کو درآمد نہیں کیےجاسکے ہیں۔ جغرافیائی وسیاسی غیر یقینی حالات میں اگر ان دونوں میں سے ہرملک ایک دوسرےکی اسٹریٹجک ضروریات کو سمجھے تو یہ اس نصف کرۂ ارض میں یہ امن وخوشحالی کی بہترین ضمانت ہوگی۔