10.01.2020

غیرملکی سفارت کار حقیقی صورت حال کے مشاہدے کے لیے وادی کے دورے پر

اخبارات کی اہم سرخیوں میں غیرملکی سفارتکاروں کے جموں وکشمیر کے دورے کی خبر بےحد اہمیت کی حامل ہے جس نے وہاں زمینی صورت حال کا عینی مشاہدہ کرنے کے لیے وادی کادورہ کیا ہے۔اس حوالے سے روزنامہ ہندو لکھتا ہے کہ دو روزہ دورے پر آئے اس 15 رکنی وفد نے 100 سے زیادہ افراد سے ملاقات کی جن میں وادی سے تعلق رکھنے والے سیاستداں، اہم اخبارات کے مدیران اور عوامی نمائندے شامل تھے۔ واضح ہو کہ جموں وکشمیر کے خصوصی درجے کو ہٹانے کے بعد پیدا صورت حال ، پاکستان کی دخل اندازی کی کوششوں اور لوگوں کے فوری مطالبات کا حقیقی جائزہ لینے کے لیے حکومت ہندنے وفدکو مدعو کیا تھا۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ گزشتہ اکتوبر میں یوروپی یونین کے پارلیمانی ارکان کے دورے کے برعکس ہندوستان میں امریکی سفیر کینتھ آئی جسٹر (Kenneth I. Juster ) اور ناروے کے سفیر پر مشتمل اس وفد کو ایئرپورٹ سے للت گارڈن ہوٹل لے جایا گیا جس کے دوران یہ لوگ پرہجوم سڑکوں سے بھی  گزرے۔یہ مقام سب جیل کے قریب ہے جہاں نیشنل کانفرنس کے نائب رہنما عمرعبداللہ کو رکھا گیا ہے مگر وفد نے ان سے ملاقات نہیں کی۔ اس وفد کے دورے کے حوالے سے اخبار آگے رقمطراز ہے کہ یوروپی یونین کے وفد کے دورے کے برخلاف اس بار نہ تو کوئی شٹ ڈاؤن ہوا نہ ہی کسی پرتشدد واقعے کی اطلاع ملی۔ سیاستدانوں، مقامی مدیروں اورعوام کے منتخبہ نمائندگان سے رابطے کے دوران سفارت کاروں نے آرٹیکل 370کی منسوخی کے سلسلے میں مخصوص سوالات کیے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی جاننا چاہا کہ آیا پاکستان دخل اندازی کی کوششیں کررہا ہے۔ اس میٹنگ کے دوران انٹرنیٹ خدمات کی بحالی کا عام مطالبہ بھی سامنے آیا۔ اخبار کے مطابق خاص طور پر جنوبی امریکی، افریقی اور ایشیائی ممالک پر مشتمل غیرملکی سفارت کاروں نے الطاف حسین بخاری کی زیرقیادت معروف سیاستدانوں کے ساتھ بند کمرے میں میٹنگ کی۔ خیال رہے کہ الطاف غیر این سی غیر پی ڈی پی تیسرے محاذ کے چہرے کے طور پر تیزی سے ابھر رہے ہیں۔اس دوران سیاستدانوں نے تمام سیاستدانوں کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔اس دورے کے حوالے سے اخبار آگے رقمطراز ہے کہ فوج نے بادامی باغ میں واقع اپنے صدر دفاتر پر وفد کی میزبانی کی اور اس کو سلامتی کی موجودہ صورت حال سے آگاہ کیا جس میں دہشت گردی اور کنٹرول لائن پر نیز مرکز کے زیراہتمام علاقے میں صورت حال کو خراب کرنے کی پاکستانی کوششیں سے متعلق معلومات شامل تھیں۔ یہ وفد جمعرات کے روز جموں کے لیے روانہ ہوگیا ہے۔ اس دورے کے انتظامات سے تعلق رکھنے والے سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس  کے نتائج سے مطمئن ہیں۔

اسلامی نظریاتی کاؤنسل نے جبری تبدیلیٔ مذہب کو قرار دیا غیراسلامی اور غیر آئینی

پاکستان کےتعلق سےروزنامہ انڈین ایکسپریس نے خبر دی ہے کہ پاکستان میں ہندو اورسکھ سمیت اقلیتوں کے جبری تبدیلیٔ مذہب کے بڑھتے ہوئے واقعات کے درمیان آئینی ادارے اسلامی نظریاتی کاؤنسل سی آئی آئی نے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات غیراسلامی اور غیرآئینی ہیں۔ خیال رہے کہ اس کاؤنسل کے قیام کامقصد قانون سازوں کواسلامی امور سے متعلق قانونی صلاح ومشورہ دینا ہے۔ اخبار پاکستان کے روزنامے دی نیوز کے حوالے سے لکھتا ہے کہ اپنے دو روزہ اجلاس  میں کاؤنسل نے جبری تبدیلیٔ مذہب کے معاملات کو اٹھایا اور فیصلہ کیا کہ اس عمل میں اقلیتوں کے رہنماؤں کو بھی شامل کیاجائے۔ سی آئی آئی نے وزارت مذہبی امور کے سامنے یہ تجویز بھی رکھی کہ اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرنے والوں یا مذہب اسلام قبول کرنے والوں کے لیے ایک پرفارما تیار کیا جائے۔ اس اجلاس کے بعد کاؤنسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جبری تبدیلی ٔ مذہب اسلامی تعلیمات اورآئین کی خلاف ورزی ہے۔ واضح ہو کہ پاکستان میں اغوا، جبری تبدیلیٔ مذہب اوراقلیتی افراد کی شادی کے واقعات کی ہندوستان سخت مذمت کرتا رہا ہے۔

امریکہ، ایران کے ساتھ غیرمشروط سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار

پاسداران انقلاب کی شاخ قدس کے جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد امریکہ اور ایران  کے درمیان کشیدگی میں زبردست اضافے اور ایک دوسرے کے خلاف معاندانہ واقعات نیز زبانی جنگ کے بعد اب امریکہ نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ غیرمشروط سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ روزنامہ ایشین ایج خبررساں ایجنسیوں کے حوالے سے لکھتا ہے کہ اقوام متحدہ کو ایک مراسلے  میں امریکہ نےجنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کویہ کہتے ہوئے قابل جواز ٹھہرایا ہےکہ اس نےیہ اقدام خود حفاظت میں اٹھایا تھا۔امریکی سفیر کیلی کرافٹ نے اقوام متحدہ کوبتایا کہ مذاکرات کی پیشکش کا مقصد ایران کےذریعے بین الاقوامی امن وسلامتی کومزید خطرےمیں ڈالنے یا اس میں اضافے کو روکناہے۔اخبار آگے رقمطرازہےکہ تاہم اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر ماجد تخت روانچی (Majid Takht Ravanchi) نے کہا ہے کہ ایک طرف تو امریکہ ان کے ملک کے خلاف سخت معاشی پابندیاں عائد کررہا ہے اور دوسری جانب اس طرح  کی پیشکش کررہا ہے جو ناقابل یقین ہے۔ اسی دوران پاسداران انقلاب کی ایرواسپیس فورس کےسربراہ عامر علی حاجی زادہ نے کہا ہے کہ عراق میں امریکی افواج کے خلاف حملہ امریکہ کی جوابی کارروائی کی صورت میں ایک بڑے حملے کی شروعات ہے۔ایک اخباری کانفرنس سے جس کی نامہ نگاری ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے کی ہے، حاجی زادہ نے کہا کہ ایران نے سیکڑوں یہاں تک کہ ہزاروںمیزائل چھوڑنے کی تیاری کرلی ہے۔ نیز یہ کہ ایران نے ان حملوں کے دوران سائبر حملے بھی کیے تھے جن کی وجہ سے میزائلوں کو ٹریک کرنے والے امریکی نظام ناکارہ ہوگئے تھے، تاہم امریکی حکام کاکہنا ہے کہ ان حملوں میں کوئی اموات نہیں ہوئی ہیں کیوں کہ پیشگی اطلاع دینے والے ان کے نظام بخوبی کام کررہے تھے۔امریکہ کے حوالے سے روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے مطلع کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان  فوری جنگ کا خطرہ تو ٹل گیا ہے مگر صدر ٹرمپ اور امریکی کانگریس کے درمیان مواخذے کے معاملے پر پہلے ہی سے موجود کشیدگی میں جنگ کے اختیارات کی وجہ سے مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ امریکی جنگی اختیارات ایکٹ کے مطابق امریکی صدر مسلح افواج کو بیرون ملک کارروائی کے لیے اس وقت تک نہیں بھیج سکتا جب تک کانگریس جنگ کا اعلان نہ کردے۔ یا پھر امریکہ، اس کے علاقوں، املاک یا اس کی مسلح افواج پرحملے کی صورت میں قومی ہنگامی حالات نہ پیدا ہوجائیں۔ ٹرمپ نےبھی بل کلنٹن اورجارج بش سمیت اپنے پیش روؤں کی طرح اس ایکٹ میں موجود استثنی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی مرضی سے فوجوں کو روانہ کردیاتھا اورٹوئٹ کے ذریعے کانگریس کو مطلع کرنا ہی کافی سمجھا تھا۔ جس کے بعد ڈیموکریٹس کی اکثریت والی کانگریس نے جنگ سے متعلق اپنے اختیارات پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ سابق سی آئی اے تجزیہ کار اور سینئر محکمہ ٔ دفاع کی اہلکار ایلیزا سلوٹ کن (Elissa Slot Kin) نے صدر پر زور دیا ہے کہ وہ  ایران میں یا ایران کے خلاف فوجی معاندانہ کارروائیوں کو اس وقت تک کے لیے روک دیں جب تک کانگریس جنگ کا اعلان نہ کردے یا مسلح افواج کو استعمال کرنے کے لیے خصوصی اختیارات نہ دے دے۔ سینیٹ کے ڈیموکریٹس ایک قرارداد بھی پیش کررہے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ صدر ایران میں افواج کو معاندانہ کارروائیوں سے روکیں۔

امریکہ-ایران تنازعہ کے مشرق وسطی پر اثرات: اداریہ ٹائمز آف انڈیا

روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے ایران-امریکہ تنازعے پر اپنے اداریے میں تحریر کیا ہے کہ اب جب کہ ایران اور امریکہ جنگ تک پہنچتے پہنچتے  پیچھے ہٹ گئے ہیں تو اس صورت میں ہندوستان کو کیا کرنا ہوگا۔ امریکہ کے ہاتھوں جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور ایران کے ذریعے جوابی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئےتجزیہ کاروں کے حوالے سے اخبار نے لکھا ہے کہ ایران نے زیادہ سے زیادہ تنبیہ کے ساتھ کم از کم نقصان پہنچایا ہے اور اس کے میزائل حملوں میں کوئی اموات نہیں ہوئی ہیں  جس کے بعد تہران یہ پیغام دینے میں کامیاب رہا ہے کہ معاندانہ کارروائیوں کی وجہ سے مشرق وسطی کے مفادات کو خطرہ لاحق ہوگا جب کہ امریکہ بظاہر کشیدگی کم کرنے کے سلسلے میں کریڈٹ لیتا نظر آرہا ہے۔ مگر مستقبل میں کشیدگی دوبارہ ہوسکتی ہے کیوں کہ ایران، امریکہ کو عراق سے نکلنے کے لیے کوشاں ہے جب کہ واشنگٹن نے اس خطے میں مزید افواج بھیجی ہیں۔ اس کے علاوہ ایران حمایت یافتہ ملیشیا امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے۔ دوسری طرف ہندوستان کو جس کی تیل کی ضروریات80 فیصد سے زیادہ  درآمدات پر منحصر ہیں مشرق وسطی میں کسی تازہ اور متوقع کشیدگی سے بےحد تشویش ہے۔اس لیے حکومت کو چاہیے کہ اپنی معیشت کو بیرونی تبدیلیوں سے بچانے کے طریقۂ کار پر غوروخوض کرے۔

یوروپی کاؤنسل کے صدر نے ایران کے ساتھ نیوکلیائی معاہدے کی حمایت کی

امریکی صدر ٹرمپ نے یوروپ سے کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ کیے گئے نیو کلیائی معاہدے سے علاحدہ ہوجائے جس کے بعد یوروپین کاؤنسل کے صدر نے اس نیوکلیائی معاہدے کی حمایت کی ہے۔ اس حوالے سے روزنامہ ہندو لکھتا ہے کہ اس کے ساتھ ہی صدر چارلس مائیکل نے تہران کوخبردار بھی کیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جن کی بعد میں تلافی نہ ہوسکے اور جن سے معاہدہ ختم ہوجائے۔ ایران کے صدر حسن روحانی کو ٹیلیفون پر بات چیت میں چارلس مائیکل نے ان سے خطے میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے بھی کہا۔

یوروپی یونین سے برطانیہ کی علاحدگی کے لیے راستہ صاف

روزنامہ ٹری بیون کی خبر کے مطابق برطانوی پارلیمان نے جمعرات کے روز بریگزٹ کی بالآخر منظوری دے دی، جس کے بعد اس ماہ کی آخر میں برطانیہ، یوروپی یونین سے علاحدہ ہونے والا پہلا ملک بن جائےگا۔ ایوان میں اس کی حمایت میں 330 جب کہ مخالفت میں 231 ووٹ پڑے اور نتیجتا اس غیرمعمولی سیاسی ڈرامے کا اختتام ہوگیا ہے۔