13.01.2020 جہاں نما

۔ کشمیر میں ترال کمانڈر سمیت 3ملیٹنٹ ہلاک ، حزب المجاہدین کو زبردست جھٹکا

جنوبی کشمیر کے کلگام ضلع کے ترال علاقے میں اتوار کے روز مسلح تصادم میں حزب المجاہدین کے ایک سینئر کمانڈر حماد خاں سمیت تین ملیٹنٹ ہلاک کردیئے گئے۔ اس اہم خبر کو اخبارات نے شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ روزنامہ ٹری بیون نے ان ہلاکتوں کو اس دہشت گرد گروپ کے لئے زبردست دھچکا قرار دیا ہے۔ خبر کے مطابق جنوبی کشمیر میں ایک پولیس افسر کے ساتھ حزب المجاہدین کے ایک اعلیٰ کمانڈر نوید مشتاق کی گرفتاری کے بعد یہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ کشمیر پولیس کے سربراہ وجے کمار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ تصادم ملیٹنٹوں کی پوشیدہ کمین گاہ پر چھاپے کے بعد پیش آیا۔ ان ملیٹنٹوں سے ہتھیار ڈالنے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے فائرنگ شروع کردی اور جوابی فائرنگ میں بقیہ دو ملیٹنٹ عادل اور فیضان مارے گئے۔ ان کی کمین گاہ سے اسالٹ رائفلس اور گرینیڈ سمیت بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولی بارود قبضے میں لیا گیا۔ اخبار آئی جی پی وجے کمار کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ نوید خاں ایک خطرناک دہشت گرد تھا اور شہریوں کی ہلاکت اور ملیٹنٹ گروپ کے ارکان کو تربیت دینے میں ملوث تھا۔ واضح ہو کہ نوید خاں کی ہلاکت سے پلوامہ ضلع کے ترال سب ڈسٹرکٹ میں ملیٹنٹوں کی طاقت کم ہوئی ہے۔ یہ علاقہ ملیٹنٹوں کے ہمدرد افراد کے لئے معروف ہے۔ 

اسی اخبار کی ایک اورخبرکے مطابق، پولیس میڈل سے سرفراز ڈی ایس پی دیوندر سنگھ کو سنیچر کے روز دو ملیٹنٹوں اور ایک ساتھی کے ساتھ گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔ آئی جی پی کشمیر وجے کمار کے مطابق یہ گرفتاریاں جنوبی کشمیر میں سری نگر شاہراہ پر وان پاؤ کے نزدیک ایک گاڑی کی تلاشی کے دوران کی گئیں۔ ان میں سے ایک نوید بابو جو پولیس کی نوکری چھوڑ کر دہشت گرد بن گیا تھا جبکہ ملیٹنٹ رفیع راتھر اور اس کاساتھی عرفان میر ہے۔ اخبار وجے کمار کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ اگرچہ دیویندر سنگھ نے ملیٹنسی کے خلاف کئی کارروائیوں میں حصہ لیا تھا مگر اتوار کو جو کچھ بھی سامنے آیا  وہ ایک گھناؤنا جرم ہے اور اس کے ساتھ بھی دہشت گردوں جیسا سلوک کیا جائیگا۔ پولیس ذرائع کے مطابق سری نگر میں فوج کی حساس 15 کور اڈّے اندرانگر میں واقع سنگھ کی رہائش گاہ سے دو اے کے 47 رائفلز بھی برآمد کی گئی ہیں۔ 

۔ پاکستان میں برسراقتدار حکومت کو جھٹکا،ایم کیو ایم رہنما خالد مقبول صدیقی کا عمران حکومت سے استعفیٰ

روزنامہ ایشین ایج کے مطابق پاکستان میں متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینر اوروفاقی وزیر برائے اطلاعاتی ٹیکنالوجی و ٹیلی مواصلات، خالد مقبول نے عمران خاں حکومت سے استعفیٰ کا اعلان کیا ہے جو برسراقتدار حکومت کے لئے صدمے سے کم نہیں ہے۔ کراچی میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے حکومت سازی کے وقت ان سے جو وعدے کئے تھے وہ پورے نہیں کئے جس کے بعد وفاقی کابینہ میں ان کی موجودگی بے سود تھی۔ تاہم ان کی جماعت نے تحریک انصاف سے تعاون کا جو وعدہ کیا تھا وہ اس پر قائم رہے گی۔ ایم کیو ایم رکن پارلیمان نے یاد دلایا کہ اسلام آباد اور کراچی میں ان کی پارٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان جہاں گیر خاں ترین کی موجودگی میں کنٹریکٹ پر دستخط کئے گئے تھے جن میں طے شدہ مسائل ،ہنوز حل طلب ہیں۔ 

۔ علاقائی بحران کے خاتمے کے لئے کشیدگی کم کرنے سے ایران کا اتفاق

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے پس منظر میں تہران نے اتوار کے روز اشارہ دیا ہے کہ علاقائی بحران کے حل کے لئے کشیدگی کاخاتمہ ضروری  ہے۔ اس حوالے سے روزنامہ ہندو نے خبر دی ہے کہ صدر روحانی نے ایران کے دورے پر آئے قطر کے امیر کے ساتھ میٹنگ میں اس بات کا اشارہ دیا ۔صدر ایران حسن روحانی کے الفاظ میں علاقے کی سلامتی کے پیش نظر انہوں نے مزید صلاح ومشورے اور تعاون کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر   نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ اب بھی غیرمشروط بات چیت کے لئے تیار نہیں ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ جب تک پابندیاں نہیں ہٹائی جائیں گی وہ بات چیت کے لئے تیار نہیں ہوگا۔ اخبار نے قطر کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ اگرچہ قطر میں امریکہ کا سب سے بڑا اڈہ موجود ہے مگر اس کے ساتھ ہی اس کے ایران سے بھی اچھے تعلقات ہیں۔ اسی دوران پورے ایران میں اتوارکو دوسرےروز بھی احتجاجی مظاہرے جاری رہے۔ جس کی وجہ سے قیادت پر دباؤ میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ واضح ہو کہ یہ مظاہرے فوج کے اس اعتراف کے بعد ہورہے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ یوکرین کا ایک مسافر بردار طیارہ غلطی سے مار گرایا گیا تھا۔ 

اسی علاقے کی صورتحال کے حوالے سے روزنامہ ایشین ایج نے خبر دی ہے کہ شمالی بغداد میں فضائی اڈے پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا جہاں امریکی فوجی موجود تھے۔ لیکن عراقی فوج کے مطابق اس حملے میں صرف چار عراقی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آٹھ کٹیوشا ٹائپ راکٹ البلاد ایربیس پر گرے جس میں دو عراقی افسران اور دو ایرمین زخمی ہوگئے۔ خیال رہے کہ البلاد ایربیس،عراق کے ایف 16 طیاروں کا اہم اڈہ ہے جو اس نے اپنی فضائی صلاحیتوں میں اضافے کے لئے امریکہ سے خریدے ہیں ۔ اس کے علاوہ اس اڈے پر امریکی فضائیہ کی ایک چھوٹی سی ٹکڑی اور امریکی کنٹریکٹر بھی رہتے ہیں لیکن ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد ان میں سے زیادہ ترکو وہاں سے ہٹالیا گیا تھا اور اب وہاں 15 سے زیادہ امریکی فوجی موجود نہیں ہیں۔ 

۔ یوکرین طیارے کی تباہی: ایران میں احتجاجی مظاہرے ، ذمہ داران سے معافی اور استعفیٰ کا مطالبہ

ایران میں ملک گیر سطح پر احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کی خبر کے مطابق یہ مظاہرے ایرانی فوج کے ہاتھوں یوکرین کے ایک مسافر برادر طیارے کے مار گرائے جانے کے خلاف کئے جارہے ہیں۔ احتجاجیوں کاکہنا ہے کہ جو لوگ اس حادثے کے ذمہ دار ہیں وہ معافی مانگیں اور استعفیٰ دیں۔ اخبار نے ایران کے اعتدال پسند اخبار اعتماد کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ تہران میں ایک یونیورسٹی کے باہر احتجاجیوں نے حکومت مخالف نعرے لگائے۔ آن لائن ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس کی زبردست تعداد کے باوجود لوگوں کے بڑے ہجوم کو سب وے اسٹیشنوں اور سائڈواکس کی طرف بڑھتے دیکھا گیا۔ ان میں سے زیادہ تر آزادی اسکوائر کی طرف بڑھ رہے تھے۔ دوسرے ویڈیوز میں بھی ایران کے دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہروں کو دکھایا گیا ہے۔ واضح ہو کہ یوکرین کے اس طیارے پر 176 مسافر تھے اور ان میں سے کوئی بھی بچ نہیں سکا تھا۔ اس سےقبل اتوار کے روز سینکڑوں طلباء تہران کی شاہد بہشتی  یونیورسٹی میں ان ہلاک شدگان کا سوگ منانے اکٹھا ہوئے ۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اسی دوران امریکی صدر ٹرمپ نے جنہوں نے حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت کی تھی، اپنے ایک ٹوئیٹ میں ایران کے رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ اپنے ہی احتجاجیوں کو ہلاک نہ کریں، پوری دنیا کی نگاہیں ان کی طرف لگی ہوئی ہے اور اس سے بھی زیادہ خود امریکہ ان پر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ 

۔ نیپال میں نئی پالیسی کی تیاری: ہندوستان اور چین کی مخالفت میں پروگراموں پر عملدرآمدکے لئے غیرسرکاری تنظیموں پر ہوگی پابندی

روزنامہ انڈین ایکسپریس کی ایک خبر کے مطابق نیپال ایک نئی پالیسی تیار کررہا ہے جس کے تحت بین الاقوامی غیرسرکاری تنظیموں کو ایسے پروگراموں پر عمل درآمد سے روکا جائے گا جن کی وجہ سے ہندوستان اور چین کے ساتھ تعلقات متاثر ہوتے ہوں۔ اخبار نے نیپالی حکام کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ ایک طرف اگر سرحد پار سے دہشت گردی اور مجرمانہ سرگرمیاں ہندوستان کے لئے باعث تشویش رہی ہیں تو دوسری جانب ماضی میں چین، براستہ نیپال تبتیوں کی تحریکوں کی شکایت کرتا رہا ہے۔ اخبار کٹھمنڈو پوسٹ کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ سوشل ویلفیر کاؤنسل کو یہ پالیسی تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جس کے مسودے کے مطابق متوازن تعلقات پر مبنی خارجہ پالیسی کی بنیاد پر ایسے پروجیکٹوں کو جو کسی بھی ملک کے خلاف ہوں گے نافذ نہیں کیاجائیگا۔ کاؤنسل سے متعلق اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس کے کچھ التزامات کے تحت غیرسرکاری تنظیموں کے رجسٹریشن کے لئے نئے قوانین تیار کئے جائیں گے۔