14-01-2020

مشرف کو سزائے موت سنانے والی عدالت غیر آئینی قرار

۔ پاکستان میں لاہور ہائی کورٹ نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو ملک سے غداری معاملے میں سزائے موت سنانے والی خصوصی عدالت کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے اپنے کالموں میں   نمایاں جگہ دی ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ایشین ایج تحریر کرتا ہے کہ جسٹس مظہر علی اکبرکی قیادت میں لاہور ہائی کورٹ کی ایک تین رکنی بنچ نے پیر کے روز خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف جنرل مشرف کی پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے متفقہ طور پر یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں خصوصی عدالت کی تمام کارروائیوں کو بھی کالعدم قرار دیا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد پرویز مشرف کی سزا بھی ختم ہو گئی ہے اور اب وہ ایک آزاد انسان ہیں۔ یاد رہے کہ دسمبر میں اس خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو سنگین غداری کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں آئین پاکستان کی دفعہ 6 کے تحت سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل کے سلسلہ میں قانونی تقاضے پورے نہیں کئے گئے تھے اور نہ ہی عدالت کی تشکیل اور نہ مقدمے کے اندراج کے لئے مجاز اتھارٹی سے منظوری لی گئی تھی۔ عدالت نے کہا کہ 10 ویں ترمیم کے تحت آئین کے آرٹیکل 6 میں جو ترمیم کی گئی ہے اس کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت عالیہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی بھی ملزم کی عدم موجودگی میں اس کا ٹرائل کرنا غیر اسلامی اور غیر قانونی ہے۔ جسٹس مظہر علی اکبر کی سر براہی میں لاہور ہائی کورٹ کی تین رکنی بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس امیر بھٹی اور جسٹس مسعود جہانگیر شامل تھے۔ عدالت عالیہ اس درخواست پر اپنا تفصیلی فیصلہ بعدمیں جاری کرے گی۔ پرویز مشرف کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا تھا کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ بے ضابطگیوں اور متضاد بیانات کاایک مرکب ہے اور بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خصوصی عدالت کی سر براہی کرنے والے جج نے فیصلے میں چند ایسی اصطلاحیں استعمال کی ہیں جو ان کی ذاتی وابستگی ،تعصب، بدگمانی ،عداوت،بعض صوابدیدی اختیارات  کا غیر قانونی استعمال اور حلف سے رو گردانی کی غماز ہیں۔

دہلی پہنچانے کے لئے دہشت گردوں سے لئے 12 لاکھ روپے،گرفتار ڈی ایس پی کا اعتراف

۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دیویندر سنگھ نے جسے سنیچر کے روز کلگام میں حزب المجاہدین کے تین دہشت گردوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا، تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ اس نے دہشت گردوں کوجموں پہنچانے اور پھر وہاں سے چنڈی گڑھ اور پھر دہلی لے جانے کے لئے 12 لاکھ روپے لئے تھے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ روزنامہ دی ٹائمز آف انڈیا کشمیر کے آئی جی اجے کمار کا حوالہ دیتے ہوئے تحریر کرتا ہے کہ دہشت گردوں کا ارادہ یوم جمہوریہ پر حملے کرنا تھا۔ دیویندر کو پیر کے روز معطل کر دیا گیا  اور امید ہے کہ صدر جمہوریہ کے پولیس میڈل سمیت اس سے تمام ایوارڈ واپس لے لئے جائیں گے۔ پولیس کے علاوہ اینٹلی جنس بیورو،ملٹری انٹلیجنس اور را سمیت مختلف خفیہ ایجنسیاں دیویندر سے پوچھ تاچھ کر رہی ہیں۔تفتیش کے دوران دیویندر نے بتایا کہ اس نے سرینگر کے اندرا نگر میں اپنی رہائش گاہ پر دہشت گردوں کو رکھا تھا۔ یہ علاقہ فوج کی 15 کور ہیڈ کوارٹرسے ملاہوا ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ وہ اپنی رہائش گاہ سے ان دہشت گردوں کو ایک ماروتی کار میں لے کر جموں کے لئے روانہ ہوا۔ خفیہ ایجنسیوں کے ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ اس کیس کو قومی تحقیقاتی ایجنسی کو سونپ سکتی ہے تاکہ دہشت گردوں کے اصل مقاصد کا پتہ لگایا جا سکے۔ اس کے علاوہ اس بات کا پتہ لگایا جا سکے کہ دہشت گردوں سے دیویندر کا رابطہ کیسے اور کب ہوا اور کیا ماضی میں بھی اس نے دہشت گردوں کی مدد کی ہے ۔قابل دلچسپ بات یہ ہے کہ جس وقت غیر ملکی سفراء سری نگر کے دورے پر تھے دیویندر ان کو سیکورٹی  فراہم کرنے کی ڈیوٹی پر تھا۔

ایران  میں یو کرینی طیارہ مار گرائے جانے کے خلاف مظاہرے جاری

۔ ایران میں پیر کے روز بھی مطاہرین سڑکوں پر اتر آئے۔ وہ یوکرین کے مسافر بردار طیارے کے گرائے جانے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔اس خبر کے حوالہ سے روزنامہ دی انڈین ایکسپریس تحریر کرتاہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے اس بات کا اعتراف کئے جانے کے بعد کہ یہ طیارہ غلطی سے ایرانی میزائل کی زد میں آ کر تباہ ہو گیا، مظاہرین اس واقعہ میں ملوث اعلیٰ حکام کو بر طرف کرنے کا مطلابہ کر رہے ہیں۔ایران سے جاری  ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ اسفہان اور تہران یونیور سٹیوں کے باہر طلباء حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں اور مطالبہ کر ہرے ہیں کہ واقعہ کے ذمہ دار لوگوں کو بر طرف کیاجائے۔ویڈیو میں پولیس کی جانب سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کو بھی دکھایا گیا ہے۔ تا ہم حکام نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی ہے۔ ادھر صدر امریکہ نے ایک ٹوئٹ میں ایرانی حکام سے کہاکہ وہ طلباء پر ظلم نہ کریں۔ اتوار کے روز جو ویڈیو پوسٹ کیا گیا اس میں تہران کے آزادی اسکوائر پر مظاہرین کے آس پاس بندوق چلنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا کہ زخمیوں کو اسپتال لے جایا جارہا ہے اور سیکورٹی اہلکار رائفیلیں لے کر ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں۔

اسی دوران ایران کی سنٹرل انشورنش کمپنی کے سر براہ غلام رضا سلیمانی نے کہا ہے کہ چونکہ یوکرینی طیارہ تہران کی حدود میں گر کر تباہ ہو اہے اس لئے حکومت متاثرین کو زر تلافی کی ادائیگی میں تعاون کرے گی۔ روزنامہ انقلاب کے مطابق تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ یوکرین کا مسافر بر دار طیارہ غلطی سے تباہ ہو الہذا ایران اور یو کرین باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ نقصانات کے اژالے پر بات چیت کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنی پر زر تلافی سے متعلق کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہے لیکن حکومت کو بات چیت کے دوران ان کے مشوروں کی ضرورت پر سکتی ہے۔

 

افغان فضائی حملے میں طالبان کمانڈر محب اللہ ہلاک

۔ افغانستان میں ایک فضائی حملہ میں طالبان کمانڈر محب اللہ کی کار کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجہ میں اس کی موقع پر ہی موت واقع ہو گئی۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ انقلاب تحریر کرتا ہے کہ محب اللہ اپنی کار میں قندوز کے دورے پر تھا جہاں اسے طالبان کے شدت پسندوں سے ملاقات کرنا تھی۔ ملک کی خفیہ ایجنسی نے صوبے میں طالبان کمانڈر کی آمد سے افغان فوج کو آگاہ کر دیا ۔وزارت دفاع کے ترجمان نے محب اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ افغان فوج نے محب اللہ کو فضائی حملہ میں مار گرایا۔صوبہ قندوز میں طالبان شدت پسند کافی متحرک ہیں اور کئی اضلاع میں ان کا تسلط  ابھی بھی بر قرار ہے۔ تا ہم طالبان کی جانب سے محب اللہ کی ہلاکت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ۔

  فلپائن کے آتش فشاں سے نکلا لاوا، ہزاروں لوگ گھر بار چھوڑنے پر مجبور

۔ فلپائن کی راجدھانی منیلا میں پیر کے روز آتش فشاں سے پیدا  راکھ کے بادل چھا گئے جس کے باعث تمام بازار اور اسکول بند کردیئے گئے ۔ اس خبر کو بیشتر اخبارات  نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے ۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ہندوستان ٹائمز تحریر کرتا ہے کہ علم زلزلہ کے ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ کسی بھی وقت  آتش فشاں پھٹ سکتا ہے جس کی وجہ سے سونامی آ سکتی ہے۔ اس واقعہ کے بعد تال کے نزدیک رہنے والے ہزاروں لوگوں کو علاقہ چھوڑنے پرمجبور ہونا پڑا۔ فلپائن انسٹی ٹیوٹ آف والکینو لاجی کی چیف سائنس ریسرچ اسپیشلسٹ ماریا انٹونیا نے نامہ نگاروں کو بتیا کہ تال کے آتش فشاں میں جس تیزی کے ساتھ حرکت ہوی ہے اس سے انہیں کافی تعجب ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ آتش فشاں سے کسی بھی وقت مزید لاوا نکل سکتا ہے ۔ ابھی تک 24 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا جا چکا ہے۔ آتش فشاں کے جنوب مغربی علاقہ کے ایگون سیلور اور لیئری شہروں میں راکھ کی موٹی پرت جمی ہوئی ہے جس کی وجہ سے سڑکوں پر چلنا مشکل ہو گیا ہے۔ ایگون سیلو کے میئر ڈینیئل ریفر نے بتایا کہ راکھ کی وجہ سے کچھ گھر تباہ ہو گئے۔ قریب کے تالیسے بٹنگاس کے نائب گورنر مارک لیو سٹے نے بتایا کہ بارش کی وجہ سے راکھ کیچڑ میں تبدیل ہو گئی اور دور دراز کے علاقوں سے لوگوں کو نکالنے کے لئے سڑکوں کااستعمال کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ علاقہ میں بجلی بھی نہیں ہے اور پانی کی بھی کافی قلت ہے۔