علاقائی بحران سے نمٹنے کے لئے کشیدگی دور کرنا لازمی:ایران

حالانکہ اس بات کے اشارے پہلے ہی مل چکے تھے کہ امریکہ اور ایران دونوں اس بات کے حق میں نظر آتے ہیں کہ ان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکا جانا چاہئے لیکن اس کے بعد کے چند دنوں میں یہ بات کچھ اور زیادہ واضح ہو گئی کہ اگر کشیدگی دور کرنے میں کوتاہی ہوتی ہے تو اس سے مغربی ایشیا پر بطور خاص اس کا بڑا ہی نا خوشگوار اثر پڑے گا جس کے باعث اس علاقے کی سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ۔امریکہ کے صدر ٹرمپ نے عراق میں واقع امریکی فوجی ٹھکانے پر ہونے والے ایران کے میزائل حملوں کے بعد ہی اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے یہ اشارہ کیا تھا کہ ہر چند کہ امریکہ فوجی اعتبار سے طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ ہر طرح کے جنگی ساز و سامان سے بھی لیس ہے لیکن وہ انہیں استعمال کرنے سے گریز کرے گا ۔ کچھ اسی طرح کی بات ایرانی قیادت کی طرف سے بھی کہی گئی تھی۔ در اصل عراق میں ایران کے طاقتور اور اعلیٰ فوجی جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی ڈرون کے ذریعہ ہونے والی ہلاکت کے بعد حالات نے بڑی ہی سنگین شکل اختیار کر لی تھی جو بہر حال ایک قدرتی بات تھی، ایران میں اس کا بہت شدید رد عمل ہوا تھا لیکن ایران کے علاوہ عراق میں بھی زبر دست احتجاج ہوا تھا اور اس پورے علاقے میں ہر طرف بحران کا ماحول پیدا ہو گیا تھا ۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کب کیا ہو جائے، لیکن بہر حال بعد کے حالات سے کچھ ایسا اندازہ ضرور ہوا کہ صورت حال  سنبھل سکتی ہے ۔ میزائیلوں کے حملوں اور جوابی حملوں کے درمیان ایک ناخوشگوار بات یہ بھی ہوئی کہ یوکرین کا ایک طیارہ میزائیلوں کی زد میں آ گیا۔ شروع میں تو ایران کی طرف سے یہی تاثر دیا گیا تھا کہ وہ صرف ایک حادثہ تھا لیکن بعد ازاں ایران نے کھلے دل سے یہ تسلیم کر لیا کہ یہ اسی کی چوک تھی اور غلطی سے وہ طیارہ میزائل کی زد میں ا ٓ گیا ۔ بہر حال اس کی الگ سے اب چھان بین ہونے والی ہے ۔ لیکن طیارے کے سارے کے سارے مسافرلقمہ اجل بنے۔ یہ ایک بڑی انسانی ٹریجیڈی تھی۔ اس میں ایران سمیت متعدد ملکوں کے مسافر ہلاک ہوئے تھے۔ خود ایران میں بھی اس کے خلاف احتجاج ہوا اور لوگوں نے احتجاجی مظاہرے بھی کئے۔

اندازہ اسی بات کا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے ماحول کو کم کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر کوششیں ہو رہی ہیں اور اس ضمن میں سب سے حوصلہ افزا بات یہی ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں مزید کشیدگی بڑھانے کے حق میں نہیں ہیں۔ امریکہ کے وزیر دفاع مارک ایسپرنے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں مل بیٹھ کر بات چیت کریں اور یہ بات چیت بغیر کسی شرط کے بھی ہو سکتی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ کوئی نیا راستہ تلاش کیا جائے تا ہم ایران کا کہنا  اب تک یہ رہا ہے کہ وہ اسی صورت میں بات چیت کرنے کے لئے تیار ہوگا جب امریکہ اقتصادی پابندیاں اٹھالے گا۔ اسی درمیان قطر کے امیر بھی ایران کے دورے پر آئے اور صدر ایران حسن روحانی سے خطے کی صورت حال پر تفصیل سے گفتگو ہوئی۔ علاقے کے ان دونوں رہنماؤں نے اس بات سے پورے طور پر اتفاق کیا کہ اس خطے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے کشیدگی کے ماحول کو ختم کرنا ضروری ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ بات چیت کا سلسلہ شروع ہو۔

یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ قطر امریکہ کو فوجی اڈہ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے یعنی خلیج کے جتنے بھی ممالک ہیں ان میں کم از کم اس معاملے میں وہ امریکی فوجیوں کے سب سے بڑے حصہ کی میزبانی کے فرائض انجام دے رہا ہے  لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایران سے بھی اس کے بڑے گہرے روابط ہیں اورانہی دونوں ملکوں میں گیس کے وسیع ترین علاقے بھی واقع ہیں۔ اگر ان دونوں ملکوں کے درمیان اس خطے میں قیام امن کے تعلق سے اتنی سنجیدہ اور مثبت گفتگو ہو رہی ہے تو اس کا مطلب صاف ہے کہ یہ صرف مثبت گفتگو ہی نہیں ہے بلکہ ایک واضح اشارہ بھی ہے کہ یہ سنجیدہ گفتگو اچھے نتیجوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے ۔ صدر ایران حسن روحانی کا یہ کہنا کہ ہمیں اس خطے کی سلامتی کو اہمیت اور اولیت دینی چاہئے اور پورے خطے کے لوگوں کو آپسی رابطوں اور تعاون کو فروغ دینا چاہئے ایک مثبت سوچ کا آئینہ دار ہے۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ایران اور امریکہ کی اعلیٰ قیادت مزید سنجیدگی کا ثبوت دے اور ایسی باتوں سے گریز کرے جن سے اشتعال پھیلنے کا اندیشہ ہو۔ اب جبکہ ایرانی قیادت نے اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ یوکرین کا طیارہ اسی کی غلطی کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوا ہے تو احتجاج کا سلسلہ بھی بند ہونا چاہئے اور پولیس اور نفاذ قانون کے اداروں کو بھی تحمل اور دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے امن و امان کا ماحول قائم کرنے میں تعاون کرنا چاہئے۔ اگر اس خطے میں امن قائم ہوتا ہے تو نہ صرف پورے خطے کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے بلکہ اس حوالے سےعالمی برادری بھی سکون کا سانس لےسکتی ہے ۔ ہندوستان کے امریکہ اور ایران دونوں ملکوں سے بہتر تعقات ہیں ۔ وہ یہی چاہتا ہے کہ نہ صرف ان میں کشدگی کم ہو بلکہ نیو کلیائی معاملات پر کوئی ایسا سمجھوتہ ہوجائے جس سے نہ صرف یہ کہ نیو کلیائی توسیع پر روک لگے بلکہ پائیدار امن بھی قائم ہو۔

*****