10.02.2020

۔ عمران خان استعفٰی دے کر ہی قوم کو راحت پہنچا سکتے ہیں: مریم اورنگزیب کا بیان

۔    پاکستان میں عمران حکومت حزب اختلا ف کے نشانے پر ہے ۔ دنیا نیوز میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن ) کی رہنما مریم اورنگزیب  نے کہا ہے کہ وزیراعظم  عمران خان استعفٰی دے کر ہی قوم کو راحت پہنچا سکتے ہیں۔ ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب نے  وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا  کہ آپ کے دوستوں کی چوری نے جہانگیر ترین کو امیر ترین اور ملک کو مہنگا اور غریب ترین کر دیا ہے۔دنیا نیوز میں شائع رپورٹ کے مطابق مریم اورنگزیب نے  وزیراعظم عمران خان کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر عمران صاحب عوام کو راحت پہنچانی ہے تو جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کی ملوں سے کتنی چینی برآمد ہوئی اس کی  تلاشی لیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نااہل ترین، نالائق ترین اور بد عنوان ترین ٹولے کی وجہ سے سولہ ماہ میں ملک مہنگا اور غریب ترین ہو گیا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرکے کہا کہ سولہ ماہ کا حساب دیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کی ملوں کو کتنا نفع پہنچا اور ملک کا کتنا نقصان ہوا۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آٹا اور چینی کا بحران ختم اور قیمت کم کرنے کے لئے جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کو تلاشی دینا پڑے گی اور یہ کہ وزیراعظم عمران خان کو اب  اپنی ذات اور تکبر سے بالاتر ہو کر عوام کے بارے میں غور وفکر کرنا ہوگا  اور انہیں گھر جانا ہو گا کیونکہ وزیر اعظم  کے  گھر جانے سے ہی قوم کو راحت مل سکتی  ہے۔

ایکسپریس نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم اورنگزیب کا وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کھا نے پینے کی اشیا میں کمی کے لیے کئے جانے والے اقدامات کے اعلان پر  کہنا تھا کہ 16 ماہ میں ثابت ہو گیا کہ وزیراعظم  کے پاس نہ تو ملک چلانے کی قابلیت ہے اور نہ ہی صلاحیت۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو چلانا جھوٹوں ، نااہلوں ، نالائقوں اور چوروں کے بس کی بات نہیں۔رپورٹ کے مطابق ڈرامے، تماشے اور جھوٹ سے تبدیلی نہیں صرف تباہی آسکتی ہے اور وہ وزیراعظم عمران خان لے آئے ہیں۔ غریب عوام کے منہ سے نوالا چھین کر اور دوستوں کو آرام پہنچا کر 2018 کے انتخابات اور بنی گالہ کا خرچہ پورا کیا جا رہا ہے۔ مریم اورنگزیب نے وزیراعظم عمران خان کی نکتہ چینی کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا کہ عوام کو بتایا جائے کہ عوام کی روٹی، چینی اور آٹا چھین کر دوستوں کی جیبیں کیوں بھری جا رہی ہیں؟ ایک سال میں 13 ہزار ارب کا قرضہ کس کی جیب میں گیا ہے اور یہ کہ  گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے ملی رقم کس کی جیب میں جارہی ہے ؟ مریم اورنگزیب نے یہ بھی پوچھا کہ  عوام کو بتایا جائے کہ دواؤں کی قیمتوں میں تاریخی اضافے سے حاصل  مال کس کی جیب میں گیا؟

ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق ترجمان (ن) لیگ نے کہا کہ وزیراعظم چینی چور، منافع خور اور ذخیرہ اندوز دوستوں کے خلاف کب کارروائی کریں گے؟انہوں نے کہا کہ  بیرون ملک چینی فروخت کر اربوں روپے حاصل کرنے والے  اب چینی باہر سے منگوا کر پھر تجوریاں بھر رہے ہیں۔ مریم اورنگزیب نے سوال کیا کہ  وزیراعظم قوم کی جیب پر ڈاکے کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنانے سے کیوں ڈر رہے ہیں؟ اخبار لکھتا ہے کہ جہانگیر ترین حکمران جماعت تحریک انصاف کے رہنما ہیں جنہیں سپریم کورٹ نااہل قرار دے چکی ہے جبکہ خسرو بختیار وفاقی وزیر برائے تحفظ خوراک اور تحقیق ہیں۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ چند روز قبل ملک بھر میں گیہوں  کے بحران کے باعث آٹے کی قیمت 70 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔ دوسری جانب ملک میں چینی کا بحران بھی سراٹھا رہا ہے۔اسی دوران كوئٹہ میں اشیاء خورد و نوش كی قیمتوں میں اضافے سے شہری عاجز و پریشان ہو گئے ہیں۔ ایکسپریس نیوزاپنی رپورٹ میں لکھتا ہے کہ  اشیاء خوردونوش كی قیمتوں میں استحكام نہیں آنے سے مزدور طبقہ اور دیگر افراد من مانے داموں كی ادائیگی سے پریشان ہیں۔رپورٹ کے مطابق شہریوں نے سبزیوں، پھلوں اور اشیاء خورد و نوش كی قیمتوں میں اضافے اور شہر كے مختلف مقامات پر قیمتوں میں عدم توازن پر تشویش كا اظہار كرتے ہوئے کہا ہے کہ ماركیٹ كمیٹی كی جانب سے روز قیمتوں كا تعین توكیا جاتا ہے مگر نرخ نامے پر عملدرآمد نہیں كرایا جاتا۔ شہریوں نے اضافہ ہوتی قیمتوں پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  شہر كے نواحی اور دیہی علاقوں میں  دكاندار  30 سے 40 گنا زائد پیسے وصول كررہے ہیں۔

۔ مولانا فضل الرحمٰن کا حکومت مخالف مظاہروں کے دوسرے مرحلے کا اعلان

2۔ پاکستان میں عمران حکومت ہر محاذ پرناکام ہوتی نظر آرہی  ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ  جمعیت علمائے اسلام (ف) نے عمران حکومت کے خلاف پھر مارچ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جیو نیوز میں شائع رپورٹ کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے آزادی مارچ کے اختتام کے چند مہینوں بعد ہی حکومت مخالف مظاہروں کے دوسرے مرحلے کا اعلان کردیا ہے ۔جمعیت اہل حدیث کے رہنما ساجد میر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ  ‘ساجد میر کے ساتھ ملک میں ایک آئینی اور منتخب حکومت کے قیام اور 19 مارچ کو لاہور میں آزادی مارچ کے بڑے اجتماع پر مشاورت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘حکومت کی ناکام پالیسیوں کے نتیجے میں ملک معاشی بحران کا شکار ہے۔ اخبار کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہم عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ایک  باصلاحیت اور نمائندہ حکومت کے قیام کے لیے جدوجہد کررہے ہیں’۔انہوں نے بتایا کہ ‘ہم اہلیان لاہور اور زندہ دلان لاہور کی زمین پر عوام کی آواز بن کر آنا چاہتے ہیں، عوام ہماری آواز پر لبیک کہیں تاکہ عوام کی آواز گونجتی رہے’۔اخبار کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ‘اب ضروری ہے کہ ہر عام شہری یکجہتی کا اور قومی وحدت کا مظاہرہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی آواز گونجتی رہے گی  اور ہم لوگ ناجائز حکمرانوں کو للکارتے رہیں گے’۔ مولاما فضل الرحما ن نے کہا کہ 23 فروری کو کراچی میں بڑا جلسہ منعقد  کیا جائے گا اور  یکم مارچ کو اسلام آباد میں قومی کنونشن کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ عوام کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جاسکے’۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ‘حکومت گھر جا چکی ہے اور اس وقت ایک خلا ہے۔اسی دوران پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی عمران حکومت کی نکتہ چینی کی ہے ۔ بلاول بھٹو زرداری نے اعلی تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کٹھ پتلی حکومت نے اپنے سلیکٹرز کی ناک کے نیچے ملکی معیشت کو تباہ کردیا ہے۔ جیو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے اعلی تعلیم کے بجٹ میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی 104 سرکاری یونیورسٹیاں تاریخ کے بدترین مالی بحران سے گزر رہی ہیں ۔ پشاوریونیورسٹی سمیت کئی یونیورسٹیاں ملازمین کو تنخواہیں اورپنشن ادائیگی کے قابل نہیں ہیں لہٰذا سرکاری شعبوں کی یونیورسٹیوں کو بلاتاخیر درکار فنڈز جاری کیے جائیں۔ اخبار کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ کٹھ پتلی حکومت نے لاکھوں افراد کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیا ہے اور یہ کہ ملک کو سماجی، معاشی اور سیاسی دلدل میں پھنسادیا گیا ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ گزشتہ دنوں پشاوریونیورسٹی کے حوالے سے خبر سامنے آئی تھی جس کے مطابق انتظامیہ کے پاس ملازمین کو تنخواہیں اورپنشن ادائیگی کے لیے پیسے نہیں ہیں ۔ اسی دوران  جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے بھی عمران حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ سینیٹر  سراج الحق نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کا مطالبہ کرتی ہے۔ امیر جماعت اسلامی کا مزید کہنا تھا کہ چوروں اور لٹیروں کو پکڑنے کے دعویدار وزیراعظم آج بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ حکومت کے 18 ماہ میں 11 ہزار ارب روپے قرض لیے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملکی سیاست میں اب سابق حکمرانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے تبدیلی کا نعرہ لگایا لیکن تبدیلی کے بجائے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔

 ۔ بی آر ٹی منصوبہ: شہباز شریف اور پرویز خٹک کے درمیان ٹوئٹر پر لفظی گولہ باری

 ۔ پاکستان میں ان دنوں برسر اقتدار پاکستان تحریک انصاف اور اپوزیشن کے مابین تنازع کا دور جاری ہے ۔ پشاور کے بی آر ٹی منصوبے سے متعلق مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور وزیر دفاع پرویز خٹک کے درمیان سوشل میڈیا پر لفظی جنگ چھڑ گئی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور وزیر دفاع پرویز خٹک کے درمیان ٹوئٹر پر لفظی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب شہباز شریف نے ٹوئٹ میں کہا کہ پشاور بی آر ٹی کی لاگت لاہور، ملتان اوراسلام آباد میٹرو کی مشترکہ لاگت کے برابر ہے۔ 27 کلومیٹر طویل لاہور میٹرو منصوبے پر کل لاگت 29 ارب 65 کروڑ روپے آئی ہے جب کہ 27.6 کلومیٹر طویل پشاور بی آرٹٰی کی لاگت 90 ارب روپے ہے۔ اخبار کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بنائے گئے تینوں میٹرو منصوبے اپنے وقت پر مکمل ہوئے جب کہ پشاور بی آر ٹی اب تک نامکمل ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ یہ بھی کوئی تعجب خیز بات نہیں کہ پی ٹی آئی نے اپنے منصوبے میں بد عنوانی  کی تحقیقات رکوانے کے لیے حکم امتناعی لے رکھا ہے۔شہباز شریف کے ٹوئٹ پر پرویز خٹک بھی میدان میں آگئے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی کی تعمیراتی لاگت 66 ارب روپے ہے، جو لاہور منصوبے سے اب بھی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ  بی آر ٹی منصوبے کا مرکزی کوریڈوراورمتصل روٹس مکمل ہوچکے ہیں اور  یہاں لگایا جانے والا  انفارمیشن ٹیکنالوجی کا نظام عنقریب مکمل ہونے والا ہے۔واضح رہے کہ پشاور بی آر ٹی منصوبے کو پی ٹی آئی کی گزشتہ خیبر پختونخوا حکومت نے شروع کیا تھا اور  اس وقت وہاں کے  وزیر اعلیٰ پرویز خٹک تھے۔

۔ پاکستانی معیشت میں تنزلی،  18 ماہ میں ملکی پیداوار میں 41 ارب ڈالر کی کمی

 ۔پاکستان میں جاری معاشی کساد بازاری سے معیشت کے  حجم کے کم ہونے کی رفتار مزید تیز ہوگئی ہے ۔ دنیا نیوز میں شائع ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ  جولائی سے  دسمبر 2019 کے 6 ماہ کے دوران کل ملکی پیداواریعنی ششماہی جی ڈی پی  کا حجم گزشتہ برس کے اس عرصے کے مقابلے میں 6 اعشاریہ 78 فیصد مزید کمی کے ساتھ 139 ارب 88 لاکھ ڈالر پر آگیا ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے 18 ماہ کے دوران مجموعی طور پرملکی معیشت 16 اعشاریہ 5 فیصد سکڑ گئی ہے یعنی کل ملکی پیداواری سرگرمیوں میں تقریبا  41 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوگئی ہے۔ دنیا نیوز اپنی رپورٹ میں کہتا ہے کہ  اسٹیٹ بینک آف پاکستان، وزارت خزانہ، سکیورٹریز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور دیگر سرکاری دستاویزات کے مطابق کساد بازاری کا پاکستان میں کاروبار کر رہی غیر ملکی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں پر اثر نہیں پڑا اور 35 ملکوں کی تقریباً 1001 غیر ملکی کمپنیوں کے مجموعی منافع میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک دستاویز کے مطابق گزشتہ 18 ماہ کے دوران پاکستان سے منافع کی مد میں 2 ارب 66 کروڑ 14 لاکھ ڈالربیرون ملک گئے۔ ان میں سے جولائی 2019 سے دسمبر 2019 تک کے عرصے میں پاکستان سے 83 کروڑ 63 لاکھ ڈالر منافع بیرون ملک منتقل کیا گیا۔مسلم لیگ (ن)  کی 5 سالہ حکومت اور پی ٹی آئی حکومت کے پہلے 18 ماہ کے دوران یہ کمپنیاں اپنی سرمایہ کاری کے بدلے میں 9 ارب 54 کروڑ ڈالر منافع کی مد میں بیرون ملک لے گئی ہیں۔ اقوام متحدہ کی عالمی سرمایہ کاری کی تازہ ترین رپورٹ سے کی گئی تحقیقات کے مطابق پاکستان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مجموعی سرمایہ کاری کا حجم 42 ارب ڈالر ہے اور یہ 74 ارب ڈالر کے اثاثوں کی مالک بن چکی ہیں۔ جولائی 2013 سے دسمبر 2019 تک جو منافع بیرون ملک منتقل کیا گیا اس میں ماچس سے موبائل فون اور بجلی و گیس سے کھانے پینے اور ادویات بنانے کی کمپنیاں شامل ہیں۔ بیرون ملک جانے والا منافع سب سے زیادہ 2 ارب 43 کروڑ ڈالرغیر ملکی بینکوں ،  انشورنس اور لیزنگ کمپنیوں کا ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ اس کے بعد موبائل فون کمپنیوں نے 1 ارب 31 کروڑ، خوراک کی کمپنیوں نے 74 لاکھ ڈالر، کاریں اور بسیں بنا نے والی کمپنیوں نے 64 کروڑ ڈالر، سگریٹ کمپنیوں نے ساڑھے 32 کروڑ ڈالر، کولا اور دیگر مشروبات ساز 36 کروڑ ڈالر، کیمیکلز 72 کروڑ ڈالراور ادویات ساز کمپنیوں نے 26 کروڑ ڈالر باہر منتقل کئے جبکہ ان میں  تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیاں اور ٹرانسپورٹ کمپنیاں بھی شامل ہیں۔اخبار مزید کہتا ہے کہ اسی طرح پاکستان میں کام کر رہی 5 ملٹی نیشنل کمپنیوں سمیت 34 بینکوں کی طرف سے اسٹیٹ بینک کو بھیجی گئی رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ ستمبر 2018 میں ان بینکوں کے نادہندہ قرضوں کا مجموعی حجم 652 ارب روپے تھا جو ستمبر 2019 تک 122 ارب کے اضافے سے 774 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سب سے زیادہ نادہندگی نیشنل بینک سمیت 9 سرکاری بینکوں اور مالیاتی اداروں کے قرضوں پر کی گئی ہے جن کے نادہندہ قرضے 93 ارب سے بڑھ کر 153 ارب روپے ہوگئے ہیں۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نو منتخب صدرمیاں انجم نثارنے کہا ہے کہ ملکی معیشت کی صورتحال اچھی نہیں ہے اور بینک قرضوں کی نادہندگی اس بات کا ثبوت ہے۔  پاکستان بزنس کونسل کے ایک بڑے عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی شدید بحران کا شکار ہیں اور پاکستان میں دونوں بڑی کار ساز کمپنیاں شدید مشکلات میں ہیں۔