11.02.2020

1۔ حکومت کو آٹا بحران کے ذمہ داروں کوفارغ کرنا چاہیے: پاکستانی صدر کا بیان 

1۔ پاکستان میں مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ عام آدمی تو عام آدمی وہاں صدر بھی اس ہوشربا مہنگائی سے پریشان ہو گئے ہیں۔ ایکسپریس نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے صدر عارف علوی کا کہنا ہے کہ ملک میں مجموعی طور پر مہنگائی ہے اور اس مہنگائی سےمیں اتنا ہی پریشان ہوں جتناکہ عام آدمی ہے۔ پاکستان کے صدر نے کہا کہ  آٹے کا بحران انتظامی مسئلہ تھا لہذا اس بحران کے ذمہ داروں کو فارغ کرناچاہیے۔۔ اخبار کے مطابق صدرعارف علوی نے پاکستان میں بڑھتی بے روزگاری پر بھی اپنی تشویش کا اظہا ر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ 2 سال میں 22 لاکھ لوگوں کا بے روزگار ہونا تشویشناک ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ مافیا ہرحکومت میں موجود ہوتے ہیں،  یہ لوگ حکومت کے ذریعے کام کرتے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت مافیا سے نمٹنے کے لیے ہمت سے کام لے ۔ اسی دوران حزب اختلاف کی پارٹی مسلم لیگ (ن) نے بھی مہنگائی کے لئے عمران حکومت کو ذمہ دار قرار دیا ہے ۔ جیو نیو کی ایک رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ آٹا چوراور چینی چور مافیا کی سرپرستی پروزیراعظم کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے ۔ رپورٹ کے مطابق اپنے بیان میں مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے دوست جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کی ملوں کی اب تک تلاشی کیوں نہیں ہوئی ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو راحت پہنچانے  اور تحقیقات کا ڈرامہ کرکے کسی کو بیوقوف نہ بنائیں بلکہ چور کی تلاشی لیں۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے دکانداروں پر چھاپے مار کر اپنی اے اٹی ایمز مافیا کو نہیں بچا سکتے۔

2۔ وفاقی حکومت کی پالیسیوں سے عوام پریشان: امتیاز احمد شیخ  

صوبہ  سندھ  کے وزیر  تواناٴی   امتیاز   احمد  شیخ نے  عمران  حکومت  کو  تنقید  کا  نشانہ  بنایا  ہے  ۔  ڈیلی  ٹائمز  میں  شایع  ایک  رپورٹ  کے  مطابق  صوبہ  سندھ  کے  وزیر  توانای  نے  کہا  کہ  عمران  حکومت  پاکستان  کی  عوام  کے  مسایل  کو  حل  کرنے  میں  ہر  محاذ  میں  ناکام  رہی  ہے  ۔  انہوں  نے  کہا  کہ  سندھ  کے  لوگوں  کی  امیدوں  کے  مطابق  بھی  وفاقی  حکومت  نے  کام  نہیں  کیا  ہے  ۔    صوبہ  سندھ  کے  وزیر  توانایی  امتیاز  احمد  شیخ  نے  کہا  کہ  وفاقی  حکومت  کی  کام  نہ  کرنے  کی  پالیسی  سے  ملک  کے  لوگ  پریشان  ہیں۔  انہوں  نے  مرکزی  حکومت  کی  نکتہ  چینی  کرتے  ہویے  کہا  کہ   سندھ میں  وسایل  کی  کمی  نہیں  ہے  لیکن  حکومت  نے  اس  کے  فروغ  کے  لیے کویی  کام  نہیں  کیا  ہے  ۔   اسی دوران جماعت اسلامی کے امیر،  سینیٹر سراج الحق نے ملک میں مہنگائی کے موضوع پر عمران حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ سینیٹر سراج الحق کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنے پیاروں کی پشت پناہی نہ کرتے تو ملک میں آٹے اور چینی کا بحران نہ ہوتا۔ انہوں نےمزید کہا کہ موجودہ کمر توڑ مہنگائی میں 15 ارب روپےکی سبسڈی کا اعلان قوم کے ساتھ مذاق ہے۔ اپنے ایک بیان میں سینیٹر سراج الحق نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کو خوش کرنے کے لیے عوام پر ٹیکسوں کا کوہ ہمالیہ لاد دیا گیا اور یہ کہ حکومت کے بڑے بڑے دعوے سونامی میں بہہ گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی مشکلات میں سو گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ گزشتہ 18ماہ میں 300 سے زائد چھوٹے بڑے کارخانے بند چکے ہیں۔ حکمران بےحس اور عوام بےبس ہوچکے ہیں۔ حکومت کی تقریروں کے علاوہ کوئی عملی اقدامات نظر نہیں آرہا ہے ۔ 

پی ٹی آئی اور اتحادیوں میں بڑھتا ہوا عدم اعتماد  3۔ 

پاکستان  میں  ان  دنوں  برسر  اقتدار  پاکستان  تحریک  انصاف  اور  ان کی   اتحادی  جماعتوں  کے  درمیان  تنازع  میں  اضافہ  ہوتا  ہی  جارہا  ہے  ۔  نوایے  وقت  نے  پی ٹی آئی اور اتحادیوں میں بڑھتا ہوا عدم اعتماد  کے نام  سے  ایک  مضمون  شایع  کیا  ہے  ۔  مضمون  میں  کہا  گیا  ہے  کہ   2018   کے ہونے والے انتخابات کے نتیجہ میں قومی  اسمبلی  میں  بی  اے  پی  اور  پی  ایم  ایل  (ق)  کے  ساتھ  اتحاد  کرکے عمران  خان  نے   تحریک انصاف کی حکومت قائم کی۔  نوایے  وقت  نے  لکھا  ہے  کہ  دھرنے کے دوران جو عوام سے وعدے کئے تھے انہیں پورا کرنے کا عزم کیا۔ اتحادیوں سے بھی تحریری حلف لئے گئے اور 100 دن کا وقت  دے  کر   اپنی حکومت کا آغاز کیا‘ تاہم 19 ماہ گزر جانے کے باوجود نہ تو قوم سے کیا گیا وعدہ پورا ہوا اور نہ ہی اتحادی جماعتوں سے تحریری معاہدوں پر عملدرآمد ہوا۔ بلکہ ملک میں مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آگیا۔ انتظامی امور میں ناتجربہ کاری‘ قرضوں میں اضافہ‘ بے  روزگاری اور معیشت کا پہیہ سست رفتار ہونا شروع ہوا۔ اس کے ساتھ ہی آئی ایم ایف کی شرائط پر مزید قرضہ کا حصول اور ٹیکسوں کی بھرمار نے جہاں عوام میں مایوسی اور بے چینی پیدا کی وہیں اتحادی جماعتوں کے ساتھ پی ٹی آئی کے اپنے کارکنوں میں بھی مایوسی بڑھنے لگی اور ایم کیو ایم نے وزارت سے استعفیٰ دیکر آغاز کیا پھر بی این پی کے اختر مینگل اور چودھری برادران کے ساتھ جی ڈی اے کے سربراہ سید صبغت شاہ راشدی  نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا جس پر وزیراعظم عمران خان نے فوری طورپر جہانگیر ترین اورپرویز خٹک کی سربراہی میں بھی 15 رکنی وفد کو جس میں اسد عمر بھی شامل تھے‘ اتحادی جماعتوں سے مذاکرات کیلئے روانہ کیا اور معاہدوں پر عملدرآمد کا ایک بار پھر یقین دلایا کہ یہ چند روز میں پورے ہو جائیں گے اور اتحادی ایک بار پھر مان گئے مگر چند روز ہفتوں میں تبدیل ہوئے اور مذاکراتی ٹیم میں سے جہانگیر ترین اور پرویز خٹک جو عمران کے قریبی ساتھی مانے جاتے ہیں‘ کوہٹا دیا گیا اور نئی مذاکراتی ٹیم تشکیل دی گئی۔ جس پر اتحادیوں میں عدم اعتماد کی فضا و تذبذب پیدا ہونی شروع ہوئی۔ اخبار  لکھتا  ہے  اسی دوران پنجاب سے تعلق رکھنے والے تقریباً 20 ارکان نے بھی ایک پریشر گروپ تشکیل دے  کر  پی ٹی آئی کی حکومت کو شدید دھچکا   دیا۔ گوکہ بظاہر سب کچھ طے ہونے کی طرف جاتا ہوا لگتا ہے مگر چائے کی پیالی میں اٹھنے والا یہ طوفان کسی وقت بھی ملکی سیاست میں بھونچال لا سکتا ہے۔

اس پر طرہ یہ کہ عمران خان کسی اتحادی سے اپنے لاہور یا کراچی کے دوروں کے دوران نہ ملے۔ لگتا کچھ ایسا ہے کہ ان کے اردگرد بھی ایک ایسا گھیرا ڈال دیا گیا ہے ان مشیروں کی جانب سے جو ان کے قریب ہیں کہ نہ خود عمران خان کوئی فیصلہ کر پا رہے ہیں نہ ہی ان کی ٹیم۔ ان تمام مسائل کے ساتھ روز بروز بڑھتی مہنگائی، آئی ایم ایف کی جانب سے مزید ٹیکس کی فرمائشیں، بڑھتا ہوا قرض، روپے کی قدر میں کمی، افراط زر اور گردشی قرضوں نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے جو حکومت کے  لئے مزید پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔ اخبار مزید  رقم  طراز  ہے  کہ  ایسے میں بجٹ ایک بم کی حیثیت رکھتا ہے جس کے آنے پر عوامی بے چینی اور سیاسی قلابازیوں سے عمران خان کی حکومت ڈگمگاتی نظر آرہی ہے اور اس میں صرف مسلم لیگ ق نے ہی علیحدگی کا فیصلہ لے لیا تو عمران خان کی حکومت ختم بھی ہوسکتی ہے۔ اخبار  لکھتا  ہے  کہ  وزیر  اعظم  عمران خان مسائل کے حل میں سنجیدگی اختیار کرنے کی بجائے نہایت اطمینان سے ایسے چل رہے ہیں جیسا کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں ان کو واضح اکثریت حاصل ہے ۔  بلوچستان میں بھی اتحادی پی ٹی آئی سے نالاں نظر آتے ہیں جبکہ سندھ میں پیپلزپارٹی کا راج ہے اور آئی جی کی متنازعہ تبدیلی نے بھی پی ٹی آئی کو مشکل کا شکار کیا ہوا ہے ۔ اخبار  کے  مطابق  پی ٹی آئی کی حکومت کا اس وقت سب سے بڑا درد سر بیرونی قرضوں کا حجم ہے جو  تقریباً 100بلین ڈالر تک جا پہنچا ہے ۔ اس  طرح پاکستان پر قرض  اس کی جی ڈی پی کاتقریبا   %86.4تک پہنچ چکا ہے۔   یہ  نہ  صرف حکومت بلکہ عوام کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ پاکستانی زر کی قدر میں 11فیصد کمی نے بھی پاکستان پر قرضوں کا بوجھ تقریباً  سو  بلین  تک  بڑھا  دیا  ہے  ۔ 

4۔ تحریک طالبان پاکستان رہنما کے ’فرار‘ ہونے پر پاکستان پیپلس پارٹی کی حکومت پر سخت تنقید

حزب  اختلاف  کی  جماعت پاکستان پیپلز پارٹی  اور قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی نے ایک سیکیورٹی ادارے کی تحویل میں موجود تحریک طالبان پاکستان  یعنی  ٹی ٹی پی کے ترجمان احسان اللہ احسان کے ’پراسرار طور پر فرار‘ ہونے پر حکومت سے وضاحت طلب کی  ہے۔  ڈان  نیوز  میں  شایع  ایک  رپورٹ  کے  مطابق  اراکین اسمبلی نے مطالبہ کیا  ہے   کہ اس معاملے کو تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔  ڈان اخبار کی رپورٹ کہتی  ہے  کہ  مذکورہ معاملہ رکنِ اسمبلی محسن داوڑ نے اٹھایا جبکہ قومی اسمبلی میں نقطہ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان  پیپلس  پارٹی   کے سید نوید قمر نے  اس معاملے  پر حکومت کی خاموشی پر   سوال کیا۔ سید نوید قمر نے سوال کیا کہ ’آپ کس طرح احسان اللہ احسان کے فرار ہونے کا معاملہ پس پشت ڈال سکتے ہیں؟ انہوں نے حکومت سے کہا کہ قوم کو بتایا جائے کہ کیا اسے کسی  معاہدے   کے تحت رہا کیا گیا یا وہ سیکیورٹی اداروں کے ہاتھوں سے بچ نکلا‘۔  اخبار  کے  مطابق  پاکستان  پیپلس  پارٹی  کے  رہنما  سید نوید قمر نے پوچھا کہ ’اگر امریکا سے بھی کوئی معاہدہ  ہوا   ہے تو ہمیں بتایا جائے۔  پی پی پی رکن اسمبلی نے یاد دہانی کروائی کہ حکومت نے اس کی حراست کی پرزور تشہیر کی تھی جس میں ’عالمی مجرم‘ کو پکڑنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔  انہوں نے کہا کہ ’اگر ایف اے ٹی ایف اجلاس میں اس حوالے سے سوال کیا گیا تو آپ کا جواب کیا ہوگا؟ سید  نوید  قمر  نے وفاقی  حکومت  سے   سوال  کیا  کہ  ہم کس طرح کی ریاست چلا رہے ہیں؟عمران  حکومت  کو  تنقید  کا  نشانہ  بناتے  ہویے  سید نوید قمر اس معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر احسان اللہ احسان ’اعلیٰ سطح کی سیکیورٹی کے احاطے‘ سے فرار ہوسکتا ہے تو اس سے ’خطرے کی سطح‘ آشکار ہوگئی ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ ملک میں کیا محفوظ ہے؟ انہوں  نے   ایوان کے سربراہ سے مطالبہ کیا کہ یا تو اس کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے یا اس معاملے کو متعلقہ کمیٹی میں بھجوایا جائے کیوں کہ حقائق جاننا پارلیمان کا استحقاق ہے۔

 

5۔ حکومت کو طاقت کے ذریعے قوانین بنانے ہیں تو پارلیمان ختم کردے: بلاول بھٹو 

پاکستان پیپلس پارٹی نے عمران حکومت کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ پیپلس  پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کو ایگزیکٹو پاورز کے ذریعے زبردستی قانون بنانا ہے تو پارلیمان کو پھر ختم کردے۔ ایکسپریس نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ ہاوٴس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیئرمین پیپلس پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پارلیمان قانون ساز ادارہ ہے جس کا درست استعمال نہیں ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ  پی ایم ڈی سی آرڈیننس میں زبردستی توسیع کرائی گئی اور آرڈیننس کی زبردستی توسیع پارلیمان کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت اپنے مافیا کو سپورٹ کرنے کے لیے ایسے آرڈیننس لاتی ہے جس سے عوام بھی پریشان ہوتے ہیں۔

پاکستان پیپلس پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری  کا کہنا تھا کہ آئی جی سندھ کے معاملے پر 18 ویں آئینی ترمیم اور وفاق کو مجروح کیا جارہا ہے۔ مرکزی حکومت دانتسہ طور پر سندھ میں قیام امن کی صورت حال اور انتظامیہ کے کردار کو خراب کر رہی ہے  کیوں کہ سندھ میں ان کی حکومت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرائم بڑھنے کی ایک وجہ ملک کی بدترین معاشی صورت حال ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلس پارٹی پہلے دن سے ہی حکومت اور آئی ایم ایف کے ساز باز کے خلاف ہے  اور یہ کہ نااہل افراد نے آئی ایم ایف سے ایک غلط معاہدہ کرتے ہوئے پاکستانی عوام کے مفادات پر سمجھوتہ کیا ہے ۔ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق بلاول بھٹو نے کہا کہ جیسے ہی میں حکومت کے خلاف کوئی اعلان کرتا ہوں، نیب نوٹس بھیج دیتا ہے۔ نیب کو سوچنا ہوگا کہ کیا لوگ اس کو ایسے پہچانیں کہ وہ پاکستان تحریک انصاف  کا ایک ادارہ ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ نیب اگر ایک غیرجانب دار ادارہ ہے تو اسے ان کے خلاف تحقیقات کرنی چاہئے جو آج حکومت میں ہیں اور جن کی وجہ سے ملک میں 10 سال بعد آٹے کا بحران پیدا ہوا ہے اور جن کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیا عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوگئی ہیں۔ اور یہ کہ ان لوگوں کے خلاف نیب کو تحقیقات کرنی چاہئے جن لوگوں کی وجہ سے اتنے سالوں میں بی آر ٹی کا ایک منصوبہ تک نہ بن سکا۔پاکستان پیپلس پارٹی کئے چیئر مین نے  مزید کہا کہ نیب کا کردار سب کے سامنے ہے۔ وہ صرف حزب اختلاف کو نشانہ بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن کو عدالتوں نے سزا دی ہے انہیں چھوڑدیا جاتا ہے۔ بلاول بھٹو نے وفاقی حکومت کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کی جیلیں اور تحقیقاتی ادارے صرف سیاسی کارکنوں کے لیے رہ گئے ہیں۔