13.02.2020

۔ ایف اے ٹی ایف کا دباؤ-پاکستان کی انسداد دہشت گردی عدالت سے حافظ سعید کو سزائے قید 

۔ آج ملک کے تمام اخبارات نے پاکستان میں انسداد دہشت گردی عدالت کے ذریعے ممبئی حملوں کے سرغنہ حافظ سعید کو سزائے قید کی خبر کو شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس نے اپنی خبرمیں تحریر کیا ہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنے کے لئے پیرس میں قائم فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس سے قبل لاہور کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے 26/11کو ممبئی حملوں کے سرغنہ اور لشکر طیبہ و جماعت الدعوۃ کے بانی حافظ سعید کو بدھ کے روز ساڑھے پانچ برس کی سزائے قید سنائی ہے۔ یہ سزا دہشت گردی کے لئے رقوم کی فراہمی کے دو مقدمات میں دی گئی ہے۔ اخبار پاکستان کے روزنامہ ڈان کے حوالے سے لکھتا ہے کہ سزائے قید کے علاوہ سعید پر 15ہزار روپئے فی مقدمہ جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں مقدمات کی سزائیں ایک ساتھ ہی چلیں گی۔واضح ہو کہ اس سے قبل سعید کو 2018میں 300دن کی صرف نظربندی کی سزا دی گئی تھی ۔ ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے امریکہ اور اقوام متحدہ نے اس کو پہلے ہی بین الاقوامی دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے جبکہ امریکہ اور ہندوستان ،جماعت الدعوۃ کو لشکر طیبہ کا مکھوٹا قرار دیتے ہیں۔ خیال رہے کہ الانفعال ٹرسٹ کے سکریٹری ملک ظفر اقبال کوبھی انہی مقدمات میں اتنی ہی سزا دی گئی ہے ۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ حالانکہ نئی دہلی حکومت کی طرف سے اس فیصلے پر کوئی رائے زنی نہیں کی گئی ہے مگر حکومت ہند ماضی میں پاکستان کے اس طرح کے اقدامات سے مطمئن نہیں رہی ہے اور اس تازہ فیصلے کو بھی وہ ایف اے ٹی ایف کے اہم اجلاس سے قبل اس عالمی ادارے کو مطمئن کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ اخبار ایک اہلکار کے حوالے سے لکھتا ہے کہ وزارت خارجہ کو اسلام آباد کی نیت پر شبہ ہے ۔ واضح ہو کہ 16 سے 21 فروری تک ہونے والے اجلاس میں ایف اے ٹی ایف پاکستان کے معاملے پر غور کرے گی کیونکہ وہ 2018سے اس کی گرے لسٹ میں شامل ہے جبکہ ہندوستان کی کوشش ہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے۔

۔ غیر ملکی ایلچیوں کا دورۂ کشمیر ، 100 وفود سے ملاقات 

۔ اخبار نے جن دیگر خبروں کو نمایاں اہمیت دی ہے ان میں غیر ملکی ایلچیوں کے دورۂ کشمیر کی خبر بھی شامل ہے ۔ اس حوالے سے روزنامہ ہندو نے مطلع کیا ہے کہ 25 رکنی غیر ملکی ایلچیوں کے ایک وفد نے جن میں سے 10 کا تعلق یوروپی یونین ممالک سے ہے، بدھ کے روز سری نگر کا دورہ کیا۔ ان کے ساتھ وہاں کے مقامی افسران بھی تھے ۔ اس دورے میں ایلچیوں نے تقریباً 100 وفود سے ملاقات کی۔ ہندوستانی حکومت کی دعوت پر اس دورے کا مقصد ، ریاست کی خصوصی حیثیت کی تنسیخ کے بعد زمینی صورتحال کا مشاہدہ کرانا تھا۔ ایلچیوں نے منتخبہ سیاست دانوں ، منتخبہ نمائندگان ، مدیروں ، تاجروں اور سول سوسائٹی کے ارکان سمیت مقامی افراد سے ان کی آراء کے بارے میں واقفیت حاصل کی۔ اخبار نے خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ دورہ ،امریکی صدر ڈونل ٹرمپ کے آئندہ دورۂ ہند اور مارچ میں یوروپی پارلیمان میں شہریت ترمیمی بل پر غور کے لئے یوروپی یونین کے منصوبے اور آرٹیکل 370 کے سلسلے میں بات چیت کے حوالے سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔

۔ ٹرمپ کا کیا جائے گا یادگار استقبال :مودی 

۔ ‘‘ ٹرمپ کا ہوگایادگار استقبال’’ : مودی۔ یہ سرخی ہے روزنامہ اسٹیٹس مین کی۔ خبر کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے 24 اور 25 فروری کو امریکی صدر ڈونل ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا کے دورۂ ہند پر از حد خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا یادگار استقبال کیا جائے گا۔ اپنے کئی ٹوئیٹس میں مودی نے کہا کہ ہندوستان اورامریکہ  کے درمیان جمہوریت اور تکثیریت کے تئیں ایک مشترکہ عزم پایا جاتا ہے۔ دونوں ممالک مختلف النوع امور پر ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں اور ان کے درمیان مستحکم دوستی نہ صرف دونوں ملکوں کے عوام بلکہ پوری دنیا کے لئے عمدگی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اخبار مودی کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ یہ دورہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے اور ہند -امریکہ دوستی کو مزید مستحکم کرے گا۔ اپنے اس دورے میں ٹرمپ نئی دہلی کے علاوہ گجرات بھی جائیں گے اور وہاں ہندوستانی رہنماؤں کے ساتھ مشترکہ عوامی میٹنگ سے خطاب کریں گے۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ٹرمپ کے دورے سے قبل ہندوستان نے امریکہ کے ساتھ 30ہیوی ڈیوٹی مسلح ہیلی کاپٹروں کے لئے ساڑھے تین بلین ڈالر کے معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے اور اس پر جلد ہی دستخط ہو جائیں گے۔اس پر دستخط ہونے کے بعد امریکہ کو دیئے جانے والے ہندوستانی دفاعی ٹھیکوں کی کل مالیت 20 بلین ڈالر ہو جائے گی۔ اخبار ذرائع کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ بحریہ کے لئے 24 ایم ایچ 60 رومیو ملٹی مشن ہیلی کاپٹروں اور بری فوج کے لئے 6 اے ایچ 64 ای اپاچے اٹیک ہیلی کاپٹروں کے لئے معاہدوں کو اگلے ہفتے کابینہ کی منظوری متوقع ہے۔ امریکی صدر کے دورے کے تناظر میں روزنامہ ہندوستان ٹائمز کی خبر کے مطابق صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اس ماہ کے اواخر میں ہونے والے ان کے دورے میں ہندوستان کے ساتھ ایک تجارتی معاہدہ ہو سکتا ہے۔ 

۔ پلوامہ حملہ : جیش محمد کے 4 دہشت گردوں کے خلاف فرد جرم 

۔ قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے جیش محمد کے چار مبینہ ارکان کے خلاف دہلی ،اس کے نواحی اضلاع اور ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کے سلسلے میں اضافی فرد جرم داخل کی ہے۔ روزنامہ ایشین ایج نے اس حوالے سے تحریر کیا ہے کہ جیش محمد کے سرغنہ نے ملک کے مختلف حصوں میں ملیٹنٹ حملوں کی سازش تیار کی تھی۔ این آئی اے کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ملزمان کے خلاف اس ممنوعہ گروہ کے ارکان ہونے کے پختہ ثبوت ملے ہیں جو نہ صرف ان حملوں کی منصوبہ بندی بلکہ اس کی سرگرمیوں کے فروغ میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ترجمان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس سازش کو تیار کرنے والا جے ای ایم کا سرغنہ مدثر احمد خاں ، 14 فروری 2019کو پلوامہ حملے کا بھی اہم سازشی تھا۔ خیال رہے کہ مدثر گذشتہ برس 10 مارچ کو ترال علاقے میں جموں و کشمیر پولیس اور سلامتی افواج کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ 

۔ امن معاہدے کے سلسلے میں امریکہ کو طالبان کا الٹی میٹم 

۔ روزنامہ اسٹیٹس مین نے خبر دی ہے کہ امریکی ایلچی کے ساتھ کئی ہفتوں کی امن بات چیت کے بعد طالبان نے امریکہ کوالٹی میٹم دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں سات دن کے تشدد میں کمی کی ان کی پیش کش کا جواب دیا جائے ورنہ وہ مذاکرات سے الگ ہو جائیں گے۔ا خبار آگے لکھتا ہے کہ تازہ ترین صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب شورش پسندلیڈروں کے ذریعے تشدد میں کمی کے معاہدے میں کچھ ہی روز باقی رہ گئے تھے۔ اس کے علاوہ افغان صدر اشرف غنی نے ایک ٹوئیٹ میں لکھا ہے کہ ان کو امریکی وزیر خارجہ مائیک پامپیو کی جانب سے فون کال موصول ہوئی تھی جس میں انہوں نے طالبان کے ساتھ بات چیت میں اہم پیش رفت کے بارے میں بتایا تھا۔ ان مذاکرات سے آگاہ دو طالبان اہلکاروں کے مطابق یہ الٹی میٹم، طالبان کے اہم مذاکرات کار ملا عبدالغنی بارادار کی جانب سے دیا گیا ہے جنہوں نے وہائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد اور قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن الثانی سے اس ہفتے کے اوائل میں ملاقات کی تھی۔ اخبار کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے اس پر ابھی تک کوئی رد عمل ظاہر کیا ہے ۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ کے مشیر برائے قومی سلامتی رابرٹ اوبرائن نے کہا ہے کہ ان کو کسی حد تک امید ہے کہ اگلے چند دنوں یا ہفتوں میں طالبان کے ساتھ امریکہ کا معاہدہ ہو جائے گا۔ لیکن امریکی افواج کی واپسی کی امید نہیں ہے۔

۔ ہندوستان سمیت دنیا کے ممالک کے خلاف سی آئی اے کی جاسوسی 

۔ روزنامہ ایشین ایج نے امریکہ کے واشنگٹن پوسٹ اور جرمن پبلک براڈ کاسٹر زیڈ ڈی ایف کے حوالے سے خبر دی ہے کہ سی آئی اے نے خفیہ طور پر اپنی ملکیت کی ایک کمپنی کر پٹواے جی کے ذریعے ہندوستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک کے خفیہ پیغامات تک رسائی حاصل کی تھی۔ یہ کمپنی سوئٹزرلینڈ میں قائم ہے۔ اس کمپنی اور سی آئی اے کے درمیان 1951 میں ایک معاہدہ ہوا تھا اور ستّر کی دہائی میں یہ امریکہ کی ملکیت میں آ گئی تھی۔ اس سے ظاہر ہو تا ہے کہ سی آئی اے کئی دہائیوں سے دوسرے ممالک کی جاسوسی کرتا رہا ہے اور ان کےخفیہ راز چراتا رہا ہے۔ اخبار آگےلکھتا  ہے کہ اس کمپنی کو مواصلات اور انفارمیشن سیکورٹی میں مہارت حاصل ہے اور 40 کی دہائی میں آزادانہ طور پر اس کا قیام عمل میں آیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق سی آئی اے اور قومی سیکورٹی ایجنسی کر پٹو اے جی کے ذریعے اپنے اتحادیوں اور مخالفوں کی جاسوسی کرتی رہی ہے جس کو کر پٹوگرافی آلات بنانے میں مہارت حاصل ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق نصف صدی سے زیادہ عرصے سے دنیا کے ممالک اپنے جاسوسوں ، سپاہیوں اور سفارتکاروں کے رازوں کی حفاظت کے لئے اس کمپنی پر اعتبار کرتے رہے ہیں جس کے گاہکوں میں ایران اور لا طینی، امریکہ ،ہندوستان ، پاکستان اور یہاں تک کی ویٹیکن بھی شامل ہیں۔ 

۔ چین میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں کمی ، لیکن مرنے والوں کی تعداد ہوئی ایک ہزار 113 

۔ روزنامہ ہندو کی ایک خبرمیں  چین کے حوالے سے تحریر کیا گیاہے کہ گذشتہ دو ہفتے کے دوران کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ اور 2015 نئے متاثرین سامنے آنے کے بعد کل تعداد 44ہزار 653 ہو گئی ہے جو 30 جنوری سے روزانہ متاثرین کی تعداد میں سب سے کم ہے۔ دوسری جانب اس وبا سے مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار 113 ہو گئی ہے ۔ اس بیان کے بعد عوام کے خوف و دہشت میں کمی آنے کا امکان ہے۔ کورونا وائرس کے حوالے سے ہندوستان ٹائمز نے خبر دی ہے کہ جاپان میں الگ تھلگ کئے گئے بحری جہاز پر موجود مسافروں میں دو ہندوستانی، اس وائرس سے متاثر پائے گئے ہیں جس کے بعد متاثرہ ہندوستانیوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔ اسی اخبار کی ایک اور خبر کے مطابق سنگاپور کی ایک بینک ڈی بی ایس نے اپنے 300 ملازمین سے کہا ہے کہ وہ دفتر نہ آئیں اور گھر سے ہی کام کریں کیونکہ بینک کے عملے کا ایک فرد اس وائرس سے متاثر پایا گیا تھا۔