ویتنام: ہندوستان کی ایکٹ ایسٹ پالیسی کا کلیدی حامی 

سوشلسٹ رپبلک ویتنام کے نائب صدر ڈینگ تھائی ناگ تن   پچھلے دنوں ہندوستان کے دورے پر تھیں۔ جس کا مقصد نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو کے ساتھ وفد کی سطح کی بات چیت تھا۔ ویتنام، ہندوستان کی ایکٹ ایسٹ پالیسی اور اس کی وسیع النوع ہند۔بحر الکاہل حکمت عملی کا حامی ہے۔ اس کے علاوہ وہ نئی دہلی کی سی ایل ایم وی  یعنی کمبوڈیہ لاؤ س پی ڈی آر، میانمار اور ویتنام ممالک کا کلیدی رکن بھی ہے کیونکہ اس کا اہم مقصد جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ مستحکم اور اسٹریٹیجک روابط کی نشو ونما ہے۔ 

اس موجودہ دورے میں ہند۔ویتنام جامع اسٹریٹیجک شراکت کو مزید مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس کی ایک  اہم خصوصیت، ہندوستان اور ویتنام کے درمیان براہ راست پروازوں کے آغاز کا اعلان تھا۔ مزید برآں نائب صدر ویتنام کے اس دورے میں دہلی میں وائس آف ویتنام کے ریزیڈنٹ آفس کے قیام کے سلسلے میں ایک معاہدے پر بھی دستخط کئے گئے اور مہمانِ ذی وقار نے بودھ گیا کا دورہ بھی کیا ۔ 

2016میں جب وزیراعظم نریندر مودی نے ویتنام کا دورہ کیا تھا تو اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات جامع اسٹریٹیجک شراکت کی بلندی پر پہنچے تھے جن کا مقصد ضوابط پر مبنی ایک علاقائی نظام کی حمایت تھا۔ ویتنام، ہندوستان کی کی ایکٹ ایسٹ پالیسی کے تئیں مثبت فکر برقرار رکھے ہوئے ہے اور علاقائی امور پر ہندوستان کے ایک مستحکم کردار کا خیر مقدم کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ اختیاراتی دوروں کے تبادلے، باہمی خدمات کے سلسلے میں تعاون، بحری جہازوں کے دوروں، تربیت اور صلاحیت کی تشکیل، دفاعی آلات کی خریداری اور ٹکنالوجی کی منتقلی سے دو طرفہ دفاعی اور سلامتی تعاون میں استحکام پیدا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ آسیان ڈیفنس منسٹرس میٹنگ پلس  (Plus)،مشرقی ایشیا سربراہ کانفرنس، میکانگ گنگا تعاون ، ایشیا۔ یوروپ میٹنگ جیسے علاقائی فورمس اور اقوام متحدہ اور عالمی تجارتی تنظیم کے ساتھ تعاون میں بھی استحکام آیا ہے۔ 

2016میں ہندوستان نے دفاع کے شعبے میں ویتنام کو 500ملین امریکی ڈالر کا سلسلے وار قرض دیا تھا۔ سلسلے وار قرض کے استعمال کے ذریعے دفاعی آلات کی خریداری کے لئے لارسن اور ٹوبرو اور ویتنام سرحدی محافظوں کے درمیان کنٹریکٹ پر دستخط کئے گئے تھے۔ مزید برآں ہندوستان نے، نہا ترانگ کی ٹیلی مواصلاتی یونیورسٹی میں آرمی سافٹ ویئر پارک کی تعمیر کے لئے 5ملین امریکی ڈالر کی گرانٹ کا بھی وعدہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ بین ملکی جرائم کے بیخ کنی کے لئے دونوں ممالک کے ساحلی محافظوں کے درمیان مفاہمت کی ایک دستاویز پر بھی دستخط ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی ویتنام کی وزارتِ عوامی سلامتی اور ہندوستان کی وزارت معیشت واطلاعاتی ٹکنالوجی کے درمیان سائبر سیکورٹی کے سلسلے میں بھی مفاہمت کی ایک دستاویز طے پائی ہے۔ دفاعی اور سلامتی تعاون کے علاوہ، معاشی تعاون کو بھی دو طرفہ تعلقات میں ایک اہم ستون کی حیثیت حاصل ہے۔ ہندوستان، ہنوئی کے دس اعلیٰ تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے۔ آسیان کے اندر ویتنام سنگاپور کے بعد ہندوستانی اشیاء کا دوسرا بڑا درآمدکار ہے اور انڈونیشیا، سنگاپور اور ملیشیا کے بعد چوتھا تجارتی شراکت دار ہے۔ باہمی تعلقات میں پانچ اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی  ہے جس میں ملبوسات اور کپڑا، فارماسیوٹیکلز، زرعی اشیا، چمڑا، جوتے اور انجینئرنگ کا سامان شامل ہے۔ 

جنوب مشرقی ایشیا کی تیز ترین ، ترقی پذیر معیشت کے طور پر ویتنام میں ہندوستان کے لئے کئی مواقع موجود ہیں۔ ہندوستان نے اس ملک میں توانائی، معدنیات کی تلاش، زرعی پروسیسنگ، چینی کی پیداوار، ایگرو کیمیکلز، اطلاعاتی ٹکنالوجی اور آٹو موبائل کے پرزہ جات جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔ ویتنام نے منتازعہ بحر جنوبی چین سمیت ہندوستان کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا ہے۔ او این جی سی۔ ودیش ویتنام میں چھ اعشاریہ ایک بلاک اور بلاک 128سمیت ہائیڈرو کاربن کی تلاش میں شراکت دار ہے۔ واضح ہو کہ پھو کھنہہ طاس میں بلاک چھ اعشاریہ ایک پیداواری اثاثہ اور بلاک 128کھوج اثاثہ ہے۔ او این جی سی کے علاوہ ٹاٹا پاور، ریلائنس انڈسٹریز، جم پیکس ، جے کے ٹائرس اور گلین  ، فارما سیوٹیکلز لمیٹڈ جیسی مختلف ہندوستانی کمپنیاں بھی ویتنام میں تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھارہی ہیں۔ 

ہند۔ ویتنام اسٹریٹیجک شراکت کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ 1954میں ڈین بین پھو میں فرانس کے خلاف ویتنام کی فتح کے بعد ، پنڈت جواہر لعل نہرو اس ملک کا دورہ کرنے والے پہلے رہنماؤں میں شامل تھے۔اس کے بعد 1958میں صدر ہوچی مینہ نے جو ہندوستانیوں میں انکل ہو کے نام سے معروف تھے، ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔ بعد ازاں1958میں ہندوستان کے پہلے صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجندرپرساد ویتنام کے دورے پر گئے تھے۔ اس کے بعد سے اعلیٰ اختیاراتی دوروں کا سلسلہ جاری ہے جن کے نتیجے میں دو طرفہ تعلقات کو استحکام حاصل ہو رہا ہے۔ 

چونکہ ویتنام کو ہندوستان کی ایکٹ ایسٹ پالیسی میں کلیدی اہمیت حاصل ہے،اس لئے ہندوستان، باہمی جامع اسٹریٹیجک شراکت کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لئے اقدامات کرتا رہے گا ،جن میں تاریخی، روابط، مشترکہ علاقائی اور عالمی مقاصد شامل ہیں۔ نیز جغرافیائی اسٹریٹیجک ترقیات کے فروغ کے پس منظر میں ہند۔ بحر الکاہل علاقے میں تعاون بڑھانے کی کوششیں بھی کرتا رہے گا۔