14.02.2020

حافظ سعید کی سزا پر عمل درآمد ، ہندوستان نے کیا شک وشبہ کا اظہار

لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے لشکرطیبہ کے سربراہ حافظ سعیدکو دہشت گردی کی فنڈنگ کے معاملے میں گیارہ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ ہندوستان نے عدالت کے اس فیصلے پر ردّعمل ظاہر کرتے ہوئے اس فیصلے پر پوری طرح عمل درآمد پر سوال اٹھایا ہے۔حکومت کے ذرائع نے کہا ہے کہ آیا یہ کارروائی اقوام متحدہ کے ذریعے دہشت گرد قرار دیے گئے حافظ سعید تک ہی  محدود رہے گی یا پاکستانی حکومت اپنی انسداد دہشت گردی کارروائی کو دیگر دہشت گردوں اور افراد کے خلاف جاری رکھے گی جو اس کے کنٹرول والے علاقوں سے کی جارہی ہے۔ ذرائع نے یہ بھی کہا ہے کہ ہندوستان، ممبئی اور پٹھان کوٹ سمیت سرحد پار سے کیے گئے دہشت گردانہ حملوں میں تیزی سے عدالتی کارروائی اور قصورواروں کو سزا دیے جانے کا منتظر ہے۔ روزنامہ ٹریبیون کی اس رپورٹ کے مطابق امریکہ لشکر طیبہ کو اس کے جرائم کی پاداش میں قصوروار قرار دیے جانے کا ہندوستان سے زیادہ متمنی ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی فنڈنگ سے نمٹنے کیلئے اپنے بین الاقوامی وعدوں کی پابندی کرے۔ البتہ امریکہ اور ہندوستان دونوں کی اس سلسلے میں ایک ہی رائے ہے کہ پاکستان کو تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارراوئی کرنی چاہئے اور ان سبھی کو بند کرنا چاہئے۔ 

حافظ سعید کو مجرم قرار دینے سے ایک بات کی تو تصدیق ہوجاتی ہے کہ پاکستان کو اب مالی ایکشن ٹاسک فورس،  ایف اے ٹی ایف کے ذریعے بلیک لسٹ نہیں کیاجائیگا۔ 

پاکستان نژاد ساجد جاوید کی جگہ ہند نژاد رِشی سونک برطانیہ کے وزیر خزانہ مقرر

روزنامہ اسٹیٹس مین نے عالمی خبر کے اپنے صفحہ پر اس رپورٹ کو اجاگر کیا ہے کہ برطانوی کابینہ میں ردوبدل کی گئی ہے جس میں برطانیہ کے وزیر خزانہ ساجد جاوید کو مستعفی ہونا پڑا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے بریگزٹ کے چند ہفتے بعدہی استعفیٰ دیا ہے جبکہ اگلے مہینے ہی انہیں حکومت کا سالانہ بجٹ پیش کرنا تھا۔ جاوید کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ وہ وزیراعظم بورس جانسن کے ذریعے کابینہ میں کی گئی ردّوبدل میں آسانی کیلئےمستعفی ہوئے ہیں۔ اخبار نے برطانوی پریس ایسوسی ایشن خبر ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم جانسن نے ان  سے اپنے نائبین کی ٹیم کو برخاست کرنے کیلئے کہا تھا جسے انہوں نے قبول نہیں کیا اور اس طرح انہوں نے خود ہی وزیر خزانہ کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا۔ اُدھر وزیراعظم نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے تمام خصوصی مشیروں کو برطرف کرکے وزارت عظمیٰ کے لئے خصوصی مشیر مقرر کرنا تھا لیکن وزیر خزانہ اس بات کو قبول نہیں کیا اور خود ہی مستعفی ہوگئے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نارائن مورتی کے داماد رِشی سونک کو برطانیہ کے نیا وزیر خزانہ مقرر کیا گیا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ برطانیہ کی وزیر داخلہ پریتی پٹیل بھی ہندنژاد ہیں۔ 

امریکہ اور طالبان کے درمیان ایک ہفتے کی جزوی جنگ بندی کا اعلان

روزنامہ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں مذاکرات کے ذریعے امن قائم کرنے میں مدد کیلئے بات چیت کے ذریعے  سات دن تک تشدد میں کمی پر رضامندی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان افغان صدر اشرف غنی کے اس اعلان کے ایک دن بعد کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسلامی شورش پسندوں کے ساتھ مذاکرات میں قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے۔ 

امریکہ اور طالبان نے ایک ہفتے تک تشدد میں کمی کی تجویز پر بات کی ہے۔ جناب ایسپر نے نیٹو کے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ ان کی میٹنگ کافی کامیاب رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں صرف سیاسی حل ہی سب سے بہتر متبادل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کافی پیش رفت ہوئی ہے اور امید ظاہر کی کہ مزید پیش رفت ہوگی۔ البتہ جناب ایسپر نے یہ نہیں بتایا کہ یہ جزوی جنگ بندی کب شروع ہوگی لیکن بدھ کے روز طالبان کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ گروپ جمعہ سے تشدد میں کمی کا آغاز کریگا۔ 

جناب ایسپر نے کہا کہ ہماری نظر میں فی الحال سات دن کی جنگ بندی مناسب ہے لیکن اس تمام عمل میں ہمارا طریقہ کار شرائط پر مبنی ہوگا۔ انہوں نے شرائط پر کافی زور دیا۔ 

سیاست سے جرائم کو الگ کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کا خیرمقدم

روزنامہ ہندوستان ٹائمس نے سیاست اور جرائم کو الگ الگ کرنے کے موضوع پر اپنا اداریہ تحریر کیا ہے۔ اخبار نے جرائم اور سیاست کے بڑھتے ہوئے اختلاط پر سپریم کورٹ کے ذریعے دیے گئے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ فیصلے میں اس بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے سیاسی پارٹیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے امیدواروں پر جرائم کی فرد جرم کی تفصیلات اپنی ویب سائٹ، سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور اخباروں میں شائع کریں۔ عدالت عالیہ نے مزید کہا ہے کہ پارٹیوں کو واضح طور پر امیدواروں کے خلاف الزامات کی وضاحت کرنی چاہئے اور یہ بھی  واضح کرنا چاہئے کہ ان امیدواروں کو ٹکٹ کیوں دیے گئے ہیں۔ یہ تمام معلومات مشتہر کی جانی چاہئے اور اس پر عمل درآمد کی ایک رپورٹ ایک مقررہ وقت کے اندر انتخابی کمیشن کو بھیجی جانی چاہئے۔ اگر سیاسی پارٹیاں ایسا نہیں کرتی ہیں تو اسے توہین عدالت کے مترادف سمجھا جائیگا۔

اخبار کا کہنا ہے کہ مجرمانہ ریکارڈ والے سیاستدانوں کی موجودگی جمہوریت کیلئے  مہلک ہے۔ اخبارکا کہنا ہے کہ قتل اور آبروریزی سمیت دیگر جرائم کے ملزم، انصاف کے کمزور نظام کی وجہ سے برسوں تک مختلف طریقوں سے قطعی فیصلے کو ٹالنے میں کامیاب رہتے ہیں اور اس طرح وہ مقامی طور پر بااثر شخص کے طور پر اُبھرتے ہیں وہ موجودہ سیاسی لیڈروں ، پولیس کی مشینری کے ساتھ گٹھ جوڑ قائم کرکے نئی طرح کی کاروباری سرگرمیوں میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وہ سرکاری سرپرستی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ آخر کار وہ سیاست میں داخل ہوتے ہیں اور جیت بھی جاتے ہیں۔ ایسے قانون سازوں کے لئے عوام کا مفاد کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اخبار نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نیک ارادے سے کیا گیا ہے اور یہ سیاسی پارٹیوں کو مزید شفاف ہونے پر مجبور کریگا۔ اس حکم پر عمل درآمد خاص طور سے اہمیت کا حامل کیوں کہ اس حکم کی عمل آوری نہ کی گئی تو سیاسی پارٹیوں کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے کیوں کہ سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں انتخابی کمیشن کو مزید اختیارات دیے ہیں۔ البتہ اخبار کا کہنا ہے کہ اس حکم کی حدود اور اس کے غلط استعمال کے امکانات بھی کافی اہم ہیں۔اخبار کا کہنا ہے کہ جب تک امیدواروں کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جاتا اس وقت تک انہیں بے قصور ہی سمجھا جاتا ہے۔ دوسری جانب سیاست میں جرائم کی آمیزش کی جڑیں بھی کافی گہری ہیں۔ 

غیرملکی سفاتکاروں کے گروپ کا جموں وکشمیر دورہ

روزنامہ ہندو نے 25سفیروں کے جموں وکشمیر کے دورے سے متعلق ایک خصوصی رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق اپنے دورے کے دوسرے دن ان سفیروں نے جموں میں انتظامیہ کے سینئر عہدیداروں، فوجی افسروں اور ان گروپوں کے ساتھ میٹنگ کی جو دفعہ 370 کی منسوخی اور شہریت ترمیمی قانون کی حمایت کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سیاستدانوں ، سول سوسائٹی کے گروپوں سمیت 33مندوبین نے دورے پر آئے ہوئے غیرملکی سفارتکاروں سے ملاقات کی اور انہیں جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور سی اے اے کی منظوری کے بعد علاقے کی صورتحال کے بارے میں تفصیل سے معلومات فراہم کی۔ مغربی پاکستان کے مہاجروں کے لیڈر لبارام گاندھی  نے سفارتکاروں کو بتایا کہ 370 کی منسوخی کے بعد مغربی پاکستان کے مہاجرین کو سی اے اے کی وجہ سے شہریت حاصل ہوئی ہے اور انہیں 70 سال بعد ووٹ دینے کا حق ملا ہے۔ سی اے اے کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے جناب گاندھی نے انہیں بتایا کہ جموں وکشمیر میں اس قانون کے خلاف کوئی مظاہرہ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ اس قانون کے خلاف مظاہرہ کررہے ہیں وہ اس معاملے پر سیاست کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ بالمیکی برادری کے نمائندوں، پاکستان کے زیر قبضہ کشمیرکے بے گھر ہوئے افراد اور کشمیری پنڈت مہاجرین نے بھی جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کی منسوخی اور اس کے بعد کے حالات کے بارے میں دورے پر آئے ہوئے سفارتکاروں کو مطلع کیا۔ 

اس سے پہلے فوج نے سفارتکاروں کو پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کو خطے میں بھیج کر فساد پیدا کرنے کی کوششوں کے بارے میں بتایا۔ سفارتکاروں کے اس گروپ نے، جس میں یوروپی یونین میں شامل ملکوں کے دس سفیر شامل ہیں، جموں وکشمیر ہائی کورٹ کی چیف جسٹس گیتا متل سے بھی ملاقات کی اور ان کے ساتھ مرکز کے زیر انتظام علاقے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ سفارتکاروں کے اس وفد نے لیفٹیننٹ گورنر جی سی مُرمو، چیف سکریٹری  بی وی آر سبرامنیم اور جموں وکشمیر کے پولیس سربراہ دلباغ سنگھ سے بھی بات چیت کی۔ 

چین میں کورونا وائرس سے ایک دن میں سب سے زیادہ 254 افراد کی موت

نوویل کورونا وائرس یا کووڈ 19 کے بارے میں سبھی اخباروں  میں خبریں نمایاں ہیں۔ روزنامہ پائینیئر کی ایک رپورٹ کے مطابق چین میں جمعرات کے روز اس وبا سے سب سے زیادہ اموات ہونے کی اطلاع ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک ہی دن میں 254 اموات ہوئی ہیں اور اس طرح چین میں  کووڈ-19 سے مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار 367 تک پہنچ گئی ہے۔ چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے ترجمان نے بتایا کہ مرکزی صوبے ہوبئی میں ایک دن میں مرنے والوں کی تعداد 242 ہوگئی ہے جبکہ 15 ہزار تازہ معاملات سامنے آئے  ہیں۔ بارہ افراد دیگر صوبوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ خبر کے مطابق فلیپن میں بھی اس وبا سے ایک شخص کے موت ہونے کی اطلاع ہے۔ اب تک دنیا کے مختلف حصوں سے 445 افراد کے اس وائرس سے متاثر ہونے کی اطلاع ہے جن میں تین مریض بھارت  میں ہیں۔