01.03.2020

خاموشی کی آواز

پاکستان میں معیشت کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور بدانتظامی کے اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں۔ ممتاز صحافی نجم سیٹھی کے مطابق اس سے حکمراں پارٹی کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ فرائیڈے ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں وہ لکھتے ہیں کہ گزشتہ ماہ پاکستان کے محصولات سے متعلق وفاقی بورڈ ایف بی آر کے چیئرمین شبر زیدی نے اپنے عہدے پر کام جاری رکھنے پر معذوری کا اظہار کیا تھا۔ بظاہر وہ آئی ایم ایف کے ذریعہ مقرر کردہ ان غیر حقیقت پسندانہ نشانوں کو پورا کرنے کے دباؤ میں تھے جن پر حکومت پاکستان نے اتفاق کیا تھا۔ اس دباؤ نے ان کے اعصاب پر برا اثر ڈالا تھا۔ 

اس کے بعد نجم سیٹھی نے چند روز قبل عہدہ چھوڑنے والے اٹارنی جنرل انور منصور خان کا ذکر کیا ہے۔ ان پر حکومت کے ایسے کاموں کی حمایت کا دباؤ تھا۔ جن کا مناسب جواز پیش کرنا تقریباً ناممکن تھا۔ اس کی وجہ سے ان کے اعتماد کو بہت نقصان پہنچا۔ وکیلوں کے درمیان بھی کرکری ہوئی اور انھیں اپنے حلقہ انتخاب میں بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ اتناہی نہیں وزیرخزانہ حفیظ شیخ اور اسٹیٹ بینک کے گورنر رضاباقر کے خلاف کامرس کے سابق وزیر اور آئی ایم ایف؍ عالمی بینک کے معروف مشیر ڈاکٹر زبیر خاں نے یہ پٹیشن  دائر کی ہے کہ ان دونوں کو غیرملکی ایجنسیوں کی جانب سے تباہ کن پالیسیوں کے ذریعہ پاکستان کو قرض کے سمندر میں غرق کرنے سے روکا جائے۔ نجم سیٹھی کے مطابق اب صورتحال یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان کیلئے مالی امداد کی اگلی قسط منظور کئے بغیر امریکہ لوٹ گئی ہے، اس کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان نے متفقہ اصلاحات کو جس قدر اور جس رفتار سے عملی جامہ پہنایا ہے اس سے وہ مطمئن نہیں ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اقتصادی بدانتظامی اور سیاسی بدنظمی سے پاکستان کا فوجی ادارہ محتاط ہوگیا ہے۔ ایسے حالات میں اپوزیشن پارٹیوں اور خصوصی طور پر پی ایم ایل نواز کی خاموشی سے شیخ راشد کو تشویش لاحق ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اگر شور مچاتی رہے اور دھمکیاں دیتی رہے تو اچھا اس سے اس کے ارادوں کا پتہ چل جاتا ہے لیکن اگراپوزیشن خاموش رہے اور حکومت کے سامنے انکساری کا مظاہرہ کرے تو اس سے حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کی خطرناک سازش کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔

شیخ راشد کو شاید اس جلد بازی پر حیرت ہوئی جس کا مظاہرہ اپوزیشن پارٹیوں نے فوج کے سربراہ کی مدت کار میں توسیع کی تجویز کو منظور کرنے میں کیا۔ نجم سیٹھی لکھتے ہیں کہ خصوصی طور پر نواز شریف اور مریم نواز کی خاموشی اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ پاکستان کے فوجی ادارے کے ساتھ کسی قسم کی سودے بازی پر کام چل رہا ہے اور شیخ راشد کو خوف ہے کہ اس سودے بازی کا نشانہ کہیں ان  کے پیارے وزیراعظم نہ بن جائیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان کی عدالتوں نے جس طرح اپوزیشن لیڈروں کی درخواستوں پر اچانک موافق رویہ اختیار کیا ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ آصف زرداری اور فریال تالپور کا اسپتال میں علاج چل رہا ہے۔ 

رانا ثناء اللہ، فواد حسن فواد اور مفتاح اسمٰعیل کو رہائی مل گئی ہے۔  باقی حضرات کو بھی شاید جلد ہی ضمانت مل جائے۔ نواز شریف اور شہباز شریف لندن میں ہیں۔ نواز شریف کے خلاف بدعنوانی کے معاملے کو معطل کردیا گیا ہے اور شہباز شریف کو ضمانت مل گئی ہے۔ نجم سیٹھی کی رائے میں یہ بات ایسی حکومت کیلئے باعث تشویش ہونی چاہئے جس نے بدعنوانی کے خلاف اپنے ایجنڈے کو اپوزیشن کے خلاف کارروائی کیلئے استعمال کیا۔ اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ پہلے حکومت یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتی تھی کہ تمام معاملات میں فوجی ادارے اور اس کی رائے ایک ہی ہے اس لئے اس کے واسطے خوفزدہ ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔ اب اسے یہ لگ رہا ہے کہ کہیں اس کا استحکام حقیقت سے زیادہ ایک مغالطہ نہ ہو۔  اپوزیشن کیلئے ہمدردری کے اس جذبے کے پیچھے کہیں پاکستان کے فوجی ادارے کا نظر نہ آنے والا ہاتھ نہ ہو۔

اپوزیشن کیلئے عدالتوں کے نرم رُخ کی وجہ عوام میں پھیلا ہوا وہ عدم اطمینان بھی ہوسکتا ہے جو حکومت کے ذریعہ کام نہ کئے جانے کے باعث پیدا ہوا ہے۔ نجم سیٹھی کے مطابق حکومت کا اقتصادی اور سیاسی نظریہ کارگر ثابت نہیں ہوا ہے۔ عوام میں حکومت کے کم ہوتے ہوئے اعتماد کے پیش نظر مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کیلئے اگلے ماہ مارچ کا اعلان کرکے شیخ راشد اور عمران خان کے لئے خطرے کے گھنٹی بجادی ہے۔ خطرے کو بھانپ کر شیخ راشد نے اعلان کیا ہے کہ اگر مولانا نے اسلام آباد آنے کے جرأت کی تو انھیں جیل کی ہوا کھانی پڑے گی۔ جبکہ مشکلات سے دوچار وزیراعظم گزشتہ ماہ حکومت کے خلاف سازش کرنے کیلئے ان کو ملک سے غداری کے الزام میں لپیٹنا چاہتے ہیں۔

اب پاکستان کی سیاسی صورتحال کو مزید واضح کرنے کیلئے چند اشاروں کا انتظار مبصرین کو ہے۔ ایک مقالہ مریم نواز کو اپنے بیمار والد کے ساتھ رہنے کیلئے لندن جانے کی اجازت کا ہے۔ ان کے معاملے کو ججوں نے ہفتوں سے ملتوی کر رکھا ہے۔ انھیں لندن جانے کی اجازت ملنے کا مطلب یہ ہوگا کہ کہیں نہ کہیں کھچڑی پک رہی ہے اور شیخ راشد کے خدشات بے بنیاد نہیں ہیں۔ دوسرا معاملہ اسلام آباد مارچ کیلئے اپوزیشن کے متحد ہونے کا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو بڑھتی ہوئی قیمتوں، بے روزگاری اور صوبائی حکومتوں میں پولیس کے ساتھ ساتھ افسر شاہی میں بڑھتی  ہوئی بے چینی کی وجہ سے عمران خان کیلئے اس حملے کا مقابلہ کرنا مشکل ہوگا۔ ایسی صورت میں نجم سیٹھی کے مطابق پاکستانی فوجی ادارے کے لئے اس غیرمقبول حکومت کا دفاع کرنا مزید مشکل ہوجائے گا، جس کی وجہ سے اس کو پہلے ہی کافی کچھ برداشت کرنا پڑا ہے۔ آخری اشارہ حکمران پی ٹی آئی کی اتحادی پارٹیوں کے پالا بدلنے کا ہے جس کے قومی امکانات ہیں۔ 

  

گلشن کا کاروبار چلانے والے 

کسی بھی ملک کی حکومت کو چلانے کیلئے سیاسی نظریہ ضروری ہوتا ہے۔ حکومت کے تمام کام اس نظریئے کی روشنی میں انجام دیئے جاتے ہیں لیکن پاکستان میں عمرفاروق کے مطابق پاکستان میں موجود تمام سیاسی نظریات کا مقصد محض حکومت اور اس کے اداروں پر قبضہ کرنا ہے۔ نیا دور ٹی وی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے اپنے مضمون وہ لکھتے ہیں کہ ہرایک سیاسی نظریئے کی بنیاد یہ ہوتی ہے کہ سرکاری مشینری پر قبضے سے ہی معاشرے اور حکمرانی میں وہ تبدیلی لائی جاسکتی ہے، جس کا اس سیاسی جماعت نے عوام سے وعدہ کیا ہے۔ 

وہ لکھتے ہیں کہ چاہے بائیں بازو کا نظریہ ہو یا دائیں بازو کا دونوں کا مرکزی مقصد ایک ہی ہے۔ اسی لئے ان کو مملکت اور سرکاری مشینری پر قبضے یا ان کومتاثر کرنے کے علاوہ کوئی سیاسی سرگرمی نظر نہیں آتی۔ دائیں بازو کے گروپ یہ دعوی کرتے ہیں کہ تاریخی اعتبار سے پاکستان پر انھیں کا حق ہے اور پاکستان میں اسلامی اصولوں کی بنیاد پر ہی سیاست ہونی چاہئے۔ وہ  اس سلسلے میں مزید بحث کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے تمام پیچیدہ سیاسی مسائل کا حل اسلام ہی فراہم کراسکتا ہے۔ عمرفاروق کے مطابق دائیں بازو والوں کے اس رویّے سے یہ تو ظاہر ہے کہ وہ پاکستان سے باہر کی زندگی پر اور وہاں کے طور طریقوں پر غور نہیں کرتے۔ ان کے مطابق سیاست کا مقصد یا تو حکومت پر قبضہ ہے یا اپنے مقاصد کیلئے حکومت کو متاثر کرنا ہے۔ اس سے علیحدہ کسی سماجی، سیاسی یا دانشورانہ سرگرمی پر وہ کبھی توجہ نہیں دیتے۔ وہ لکھتے ہیں کہ مذہبی علما نے گزشتہ دس برسوں میں اگر ملکی سطح کا کوئی فتویٰ دیا تو وہ خودکش بمباری کے سلسلے میں ہے اور یہ فتویٰ بھی حکومت کی کوششوں سے جاری ہوا ہے۔ مذہبی گروپوں نے حکومت سے علیحدہ کبھی ملکی سطح پر کوئی سرگرمی نہیں دکھائی۔ پاکستانی اسلام پسندوں کو مغلوں کی مذہبی اور سیاسی روایات وراثت میں ملی ہیں جن کی حکومت میں تمام طرح کے سیاسی، سماجی اور دانشورانہ معاملات پر حکومت کا غلبہ ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تمام سیاسی سرگرمیوں کا مقصد حکومت پر قبضہ کرنا یا سرکاری اداروں کو متاثر کرنا ہی رہتا ہے۔ عمرفاروق نے اسلامی قوانین کے ایک ممتاز امریکی تاریخ داں وائل حلاق  کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسلامی مملکت میں مفتی صاحبان سرکاری مشینری کا حصہ نہیں ہوتے تھے۔ ان کا علیحدہ وجود ہوتا تھا اور ان کی دانشورانہ سرگرمیاں سرکاری مشینری سے بالکل علیحدہ ہوتی تھیں لیکن آج کے پاکستانی معاشرے میں مذہبی علما کا کوئی علیحدہ وجود نظر نہیں آتا۔

اس کے برعکس بائیں بازوں کے گروپوں کا معاملہ ہے۔ انھوں نے ہمیشہ پاکستان کے حکمرانوں کی مخالفت کی ہے۔ ظاہر ہے کہ نظریاتی اعتبار سے حکومت پاکستان کے کام کاج انھیں پسند نہیں آتے۔ گزرے زمانے میں حکومت پاکستان کی دوستی امریکہ سے ہوتی تھی جب کہ بائیں بازو والے سوویت یونین کے حامی تھے۔ پاکستان کھلے بازار کی طرف قدم بڑھاتا تھا تو بائیں بازو والے پیداوار کے ذرائع پر حکومت کی ملکیت کا مطالبہ کرتے تھے۔ حکومت پاکستان کا جھکاؤ عوامی پالیسی کے طور پر مذہب کو اختیار کرنے پر ہوتا تھا تو بائیں بازو والے سیکولر سیاست کا مطالبہ کرتے تھے۔ 

عمر فاروق کے مطابق پاکستان کے بائیں بازو کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ شروع سے لے کر اب تک حکومت پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات دائیں بازو کی طرح کبھی دوستانہ نہیں رہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ پاکستانی بائیں بازو کے ایک حصے نے 1951 میں حکومت پاکستان پر قبضہ کرنے کی کوشش تو ضرور کی لیکن اس کے نتیجے میں بائیں بازو کے نظریات سے متاثر افسروں اور دانشوروں کو بڑی تعداد میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 1971 میں ذو الفقار علی بھٹو کے اقتدار میں آنے پر فیض احمد فیض سمیت بائیں بازو کے نظریات والے کئی دانشوروں نے حکومت میں شمولیت اخیتار کی تھی۔

اس کے باوجود عمر فاروق لکھتے ہیں کہ پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں بائیں بازو کو کبھی نمایاں مقام حاصل نہیں رہا۔ بائیں بازو کے نظریات والے چھوٹے چھوٹے گروپوں نے پاکستان کے تین اہم شہروں لاہور، کراچی اور اسلام آباد کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا ہے اور ان کی سیاسی سرگرمیوں سے ان کے مقاصد اور ترجیحات کا اظہار ہوتا ہے۔ عمرفاروق کی رائے میں پاکستان میں کوئی ایسا نمایاں گروپ موجود نہیں ہے جو حکومت یا سرکاری مشینری کے سائے سے دور رہ کر پاکستان کی سیاست کی تشریح کرنے کی کوشش کررہا ہو۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ محض حکومت یا سرکاری مشینری پر قبضہ کرنے سے ہی معاشرے یا طرز حکومت میں تبدیلی نہیں آتی۔ وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان میں موجود تمام نظریاتی گروپ معاشرے میں تبدیلیاں لانے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن ان میں سے کسی بھی گروپ کو یہ احساس نہیں ہے کہ پالیسی سازی کے عمل پر ان گروپوں کا نہیں بلکہ سرکاری مشینری کا ہی غلبہ ہوتا ہے۔