29.02.2020

وزیراعظم عمران خان کی حکمرانی پر سوالیہ نشان

عموما دنیا کے ہرملک میں عوام کو نئی حکومت سے کافی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ وہ اس امید سے نئی حکومت منتخب کرتے ہیں کہ وہ ان کے مسائل کا مداوا کرے گی اور ان کی توقعات پر کھری اترےگی۔مملکت خداداد پاکستان میں بھی جب عمران خان اگست دوہزار اٹھارہ  میں فوج کی مدد سے اقتدار میں آئے تو عوام کو ان سے بہت ساری امیدیں وابستہ تھیں، لیکن یہ سب امیدیں کافور ہورہی ہیں۔ آج پاکستان جس بحرانی دور سے گزر رہا ہے اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اور وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہرمحاذ پر ناکام نظر آتی ہے جس نے عوام کے اندر ایک بددلی کی کیفیت پیدا کردی ہے۔ عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی وفاقی حکومت کی خراب کارکردگی کا جائزہ معروف پاکستانی تجزیہ کار تسنیم نورانی نے اپنے ایک مضمون میں لیا ہے۔ روزنامہ ڈان میں شائع مضمون میں انہوں نے لکھا ہے کہ جب حکومت کے بارے میں بری خبر عام آدمی تک پہنچتی ہے تو اس کے اندر مایوسی جگہ لینے لگتی ہے ۔ جن لوگوں نے عمران خان کی تحریک انصاف پاکستان کو اس امید کے ساتھ اقتدار سونپا تھا کہ  وہ ملک کے لیے کچھ اچھا کرے گی وہ اب مایوس ہونے لگے ہیں۔ حکومت کے بارے میں بری خبر صرف ایک شعبہ تک محدود نہیں ہے۔ حکمرانی کا کوئی ایک شعبہ نہیں ہے جو خراب حکمرانی سے متاثر نہ ہوا ہو۔ فاضل تجزیہ کار کے مطابق گزشتہ 15 مہینوں میں پاکستان پر قرضوں کی مالیت کا بوجھ بڑھ کر گیارہ ٹریلین پاکستانی روپے ہوگیا ہے۔ تحریک انصاف حکومت کی پیشرو حکومتوں یعنی کہ آصف زرداری اور نواز شریف کی حکومتوں میں قرضوں کی رقم بالترتیب 10 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی تھی۔

اسی طرح افراط زر کی شرح بھی آسمان کو چھو رہی ہے۔ حکومت غذائی اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے میں ناکام ہے۔ آٹا کے دام میں 30 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جو غریب طبقہ کی عام خوراک ہے۔ اسی طرح شکر کے دام میں بھی بیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں جن کے ذریعہ غریب خود کو زندہ رکھ پاتا ہے۔ان دونوں خوردنی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ قلت پیداوار کو قرار دیا جاتا ہے مگر یہ عذر صحیح نہیں ہے بلکہ یہ بدانتظامی یا بددیانیتی کا نتیجہ ہے۔

اہل اور لائق افراد بھی حکومت کی کارکردگی سے نالاں ہوکر اپنے عہدوں سے استعفے دے رہے ہیں۔ اس معاملے میں تسنیم نورانی نے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے چیئرمین شبّر زیدی کا ذکرکیا۔ زیدی اب حکومت کے ساتھ کام کرنا نہیں چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے عہدہ سے استعفی دے دیا ہے۔ عمران خان کی حکومت میں خدمت انجام دینے والے ایسے قابل افراد میں سے بیشتر نے مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے اپنے عہدوں سے استعفی دے دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیراعظم کے مالیاتی مشیر کی طرف سے تنقید کے بعد زیدی نے آخرکار اپنا استعفی دے دیا۔ انٹرنیشنل مانیٹری  فنڈ یا آئی ایم ایف نے آمدنی کے جو غیر حقیقی اہداف مقرر کیے ہیں اس پرکافی تنقیدہورہی تھی۔

فاضل تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو چاہیے تھا کہ وہ ایسے قابل لوگوں کا دفاع اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے۔ انہوں نے اب تک ایسا نہیں کیا۔ موجودہ حکومت کا المیہ یہ ہے کہ وہ اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ افراد کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ عمران خان کا یہ فلسفہ ہے کہ اچھے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں حکمرانی کا بحران اوپر سے شروع ہوا ہے۔ صاحب مضمون نے اسد عمرکی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قابلیت کی ساکھ کو اس وقت دھکا لگا جب وہ وزیراعظم کی ٹیم میں شامل ہوئے  انہیں سرعام ذلیل اور رسوا کیا گیا۔ اب انہیں خود اپنا دفاع کرناپڑرہا ہے۔ کیا اس واقعہ کے بعد کوئی نجی شعبہ کا کامیاب منتظم رضاکارانہ طورپر حکومت میں شامل ہونا پسند کرے گا۔؟ اور اس نے اپنی پوری زندگی میں جو نام کمایا ہے کیا اسے وہ خطرے میں ڈالے گا؟

پاکستان کے لیے ایک مسئلہ بیوروکریسی یا نوکر شاہی ہے۔ وہ جوابدہی اور سیاسی مداخلت کے ڈر سے کام نہیں کررہی ہے۔ تاہم بدعنوان اور نااہل افسران  عیاری اور چاپلوسی کے ذریعہ اپنی پسند کے عہدے حاصل کرلیتے ہیں۔ احتساب یا نیب کے قانون میں ترمیم کی گئی ہے وہ بیوروکریسی کو جوابدہ بنانے کے سمت میں ایک صحیح قدم ہے لیکن  یہ دیر سے اٹھایا گیا ناکام قدم ثابت ہورہا ہے۔

نورانی کے بقول حکمرانی کی ناکامی اوپرسے شروع ہوتی ہے۔ خیبرپختونخوا صوبہ میں دو وزرا کو بغیر ان کا مؤقف جانے برطرف کردیا گیا۔ مگر دوسرے ہی دن ان برطرف وزراء  سے ملاقات کرکے وزیراعلی کو یہ عندیہ دیا گیا کہ انہیں دوبارہ حکومت میں شامل کیاجاسکتا ہے۔ اس صوبہ میں تحریک انصاف پاکستان چھ سال سے برسراقتدار ہے ۔ اس طرز عمل سے ایک غلط تاثر گیا۔نورانی کہتے ہیں کہ پاکستان میں حکمرانی عجیب وغریب مخمصے کا شکار ہے۔ وزیراعظم پاکستان اندرون ملک ایک ناکام منتظم اور حکمراں ثابت ہورہے ہیں۔ ان کی پالیسیاں اور خراب حکمرانی ایک کنفیوژن پیدا کرتی ہیں۔ کامیاب لیڈر اسے کہاجاتا ہے جو اپنی استعداد اور کمزوریوں کا برملا اعتراف کرتا ہے اور اسے دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔خراب حکمرانی کے نتیجے میں آج کل عوام میں مایوسی اور بدظنی پھیلتی جارہی ہے اور ہم اس بحران سے نکلنے کے بارے میں مختلف تجویزیں سنتے آرہے ہیں لیکن صورت حال میں بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ عمران خان اور ان کی حکومت جب تک اپنے رویے اور طرز عمل میں تبدیلی نہیں کرتی اس وقت تک پاکستان کا ان بحرانوں سے باہر نکلنا مشکل ہوگا۔

پاکستان میں سوشل میڈیا پرقدغن لگانے کی کوشش

اظہار خیال کی آزادی ہرملک میں ایک ٹیڑھا مسئلہ بنی ہوئی ہے، تاہم پاکستان میں تو یہ ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہی ہے چاہے وہاں حکومت جمہوری ہو یا فوجی آمریت ۔پاکستان کا یہ بھی المیہ ہے کہ وہاں جو جماعت برسراقتدار آتی ہے وہ حزب اختلاف کی آواز کو دبانے کی کوشش کرتی ہے اس کے لیے مختلف  حربے استعمال کرتی ہے ۔ موجودہ حکومت میں ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کو نشانہ بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ آج وزیراعظم عمران خان وہی کام کررہے ہیں جن کا الزام وہ اپنی پیشرو حکومت پر لگاتے تھے۔

پاکستان کے صحافی اورمیڈیا میٹرس فارڈیموکریسی کے بانی اسد بیگ نے سوشل میڈیا کے خلاف حکومتی کارروائی کا سخت نوٹس لیا ہے۔ روزنامہ ‘نیوز’ میں شائع اپنے مضمون میں انہوں نے عمران خان کو ان کاایک ٹوئیٹ یاد دلایا ہے جب وہ پاکستان میں حزب اختلاف کے رہنما تھے۔عمران خان نے مئی دو ہزار سترہ میں ایک ٹوئیٹ میں لکھا تھا‘‘ حکومت سائبر کرائم قانون کا غلط استعمال کرکے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کارکنوں کو سیاسی نشانہ بنارہی ہے انہیں گرفتار کرنے کی دھمکی دے رہی ہے، جو ایک جمہوریت میں ناقابل قبول حرکت ہے’’ْ۔

یہ ٹوئیٹ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کارکنوں کی مبینہ گرفتاریوں اور ان کے مواد کو سوشل میڈیا سے ہٹانے سے متعلق تھا۔اب یہی طرز عمل عمران خان کی حکومت نے اختیار کیا ہے۔اب وہ کس منھ سے اس کا دفاع کرے گی۔ فاضل مضمون نگار نے لکھا ہے کہ گزشتہ ماہ کابینہ کے اجلاس میں دو پالیسیوں پر نظر ثانی کی گئی ان میں سے ایک ‘سوشل میڈیا کے خلاف کارروائی’ سے متعلق ہے۔ اجلاس میں یہ بات سامنے آئی کہ خود عمران خان سوشل میڈیا کو پابند بنانے کے خیال کے حامی ہیں اور وہ اس کی پرزور وکالت بھی کررہے تھے۔ حالانکہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ان کے بعض کابینی ساتھیوں نے وزیراعظم کی رائے سے اختلاف بھی کیا مگر وہ سوشل میڈیا کے دائرہ کار کو محدود کرنے پر بضد تھے۔ اس اجلاس کے دو ہفتے بعد یعنی اس ماہ ایک دستاویز سٹیزن پروٹیکشن رولز2020  منظر عام پر آیا،جس میں پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن ری آرگنائزیشن ایکٹ (پی ٹی آر اے) اور پری وینشن آف الیکٹرانک کرائمس ایکٹ (پی ای سی اے) کے ضوابط اور طریقہ ٔ کار میں تبدیلیوں کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ شہریوں کو آن لائن نقصان سے تحفظ فراہم کرنے کے نام پر دراصل یہ سوشل میڈیا کی آزادیوں کو سلب کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔ ان مجوزہ ضوابط کے تحت پاکستان میں نئی سوشل میڈیا کمپنیاں شروع کرنے والوں کے لیے تین مہینے کے اندر رجسٹریشن کرانا لازمی ہوگا۔ اگر وہ اس پر عمل نہیں کرتے ہیں تو اس صورت میں ان کمپنیوں کی خدمات بند کردی جائیں گی۔ان ضوابط کے تحت ان کمپنیوں کو اپنا ڈیٹا حکومت کے حوالے کرنا ہوگا۔ اس میں ‘وہاٹس ایپ’ کا ڈیٹا بھی شامل ہے۔ اور جب حکومت کسی مواد کو ہٹانے کے لیے ہدایت دے گی اسے ہٹانا ہوگا۔ اگر کوئی کمپنی حکومت کے  حکم کی تعمیل نہیں کرتی ہے تو اس پر 500 ملین پاکستانی روپے تک کا جرمانہ عائد کیاجاسکتا ہے۔

فاضل مضمون نگار اسد بیگ نے کہا کہ عمران خان حکومت کی آن لائن اور سوشل میڈیا کے خلاف اس غلط مہم جوئی کے نتیجے میں پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو زبردست نقصان ہوسکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر قدغن لگانے کے یہ ضوابط اور اصول ہرطرف سے نشانہ ٔ ملامت بنے ہیں۔ اس کی پاکستان کے اندر اور باہر دونوں جگہ پر مخالفت اور تنقید ہوتی رہے ۔ اس کی مذمت میں اب تک ایک درجن سے زائد بیانات آچکے ہیں۔ ایشین انٹرنیٹ کولیشن یا اے آئی سی نے بھی اس بارے میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے ان ضوابط پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ کولیشن عالمی انٹرنیٹ کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم ہے۔ اس نے پاکستان حکومت کو خبردار کیا ہے کہ ان نئے ضوابط سے ملک کی ڈیجیٹل معیشت کو زبردست نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اے آئی سی نے وزیر اعظم عمران خان کو بھی ایک خط لکھا ہے ،جس میں اس نے واضح کیا کہ اگر یہ شرائط لگائی گئیں تو انٹرنیٹ کے گلوبل پلیٹ فارم پاکستان میں اپنی خدمات فراہم نہیں کرسکیں گے۔

جب ان ضوابط کی ہرطرف سے تنقید ہونے لگی تو پاکستان حکومت کو ہوش آیا۔ چنانچہ وزیراعظم عمران خان کو ایک اعلی سطحی اجلاس بلاناپڑا،جس میں ان ضوابط پر نظرثانی کی گئی۔ دراصل پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ جمہوری طورپر منتخب ہونے والی حکومتیں بھی فوجی حکومتوں کی طرح کام کرنے میں یقین رکھتی ہیں اور وہ اپنے خلاف کسی بھی طرح کی تنقید کو برداشت کرنے کی عموما متحمل نہیں ہوتی ہیں۔اب عمران خان کا ہی معاملہ لیں،جب وہ اقتدار میں نہیں تھے حزب اختلاف کی صفوں میں بیٹھے تھے اس وقت انہیں سوشل میڈیا کی آزادی بڑی عزیز تھی اور اسے وہ جمہوریت کی روح قرار دیتے تھے، لیکن اب وہ خود اقتدار میں ہیں تو اس کی آزادیوں پر قدغن لگانا چاہتے ہیں۔ اسد بیگ نے کہا کہ اس کے نتیجے میں پاکستان کو عالمی سطح پر شرمندگی کاسامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہمارے پالیسی ساز افراد ڈیجیٹل انڈسٹری کے بارے میں پوری طرح سےواقفیت نہیں رکھتے ہیں اور وہ اس سلسلے میں عالمی رجحانات اور دیگر امور سے بھی ناواقف ہیں۔ اگر یہ لوگ ڈیجیٹل دنیا کے تمام  رموز ونکات سے اچھی طرح واقف ہوتے تو پاکستان کو عالمی سطح پر اس حوالے سے سبکی اٹھانا نہیں پڑتااور وزیراعظم عمران خان کی امیج کو بھی نقصان نہیں پہنچتا۔