دوحہ سمجھوتے کے بعد افغانستان کے حالات

گزشتہ ہفتہ امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ میں سمجھوتہ تو ہوگیا لیکن سچ پوچھئے تو کم ہی حلقے ایسے ہیں جو اس بات سے پرامید ہیں کہ افغانستان میں مستقبل قریب میں پائیدار امن قائم ہوسکے گا۔ بہت بڑے حلقے کا تو یہ بھی خیال ہے کہ افغانستان میں امن کی بجائے ایک بار پھر خانہ جنگی کی صورت حال پیدا ہوجائے گی۔ بیک وقت دو معاہدے ایسے ہوئے ہیں جو اگلے  چودہ مہینوں کے پروگرام کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی، غیرملکی فوجوں کو تشدد کا نشانہ نہ بنایا جانا اور بین افغانستان مذاکرات کا آغاز جیسے اہم معاملات شامل ہیں۔ ان دو معاہدوں کی تفصیل یہ ہے کہ پہلے معاہدے کو یہ نام دیا گیا ہے کہ ‘‘افغانستان میں امن قائم کرنے کیلئے اسلامی امارات افغانستان اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے درمیان یہ سمجھوتہ ہوا ہے لیکن امریکہ اسلامی امارات افغانستان کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتا بلکہ اسے طالبان کہتا ہے’’۔ دوسرا معاہدہ دراصل مشترکہ اعلامیہ کی شکل میں کابل سے جاری ہوا ہے اور اس کے دونوں فریقوں کے نام ہیں اسلامی جمہوریہ افغانستان اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ۔ اس کا مقصد بھی افغانستان میں امن قائم کرنا بتایا گیاہے۔ امریکہ سے لے کر ہندوستان تک کے تجزیہ کاروں اور سفارتی حلقوں کا غالب خیال یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر حلقہ یہی چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو اور تشدد کے واقعات میں کمی آئے۔ تاہم یہ بات قابل غور ہے کہ طالبان کی تقریباً تمام ترمانگوں کو مان لینے کا عندیہ ملتا ہے لیکن صحیح معنوں میں امن کے سمجھوتے کا کوئی خاص نقشہ ابھر کر سامنے نہیں آرہا ہے۔ یعنی طالبان ااور افغان حکومت کے مابین بات چیت کی کیا نوعیت ہوسکتی ہے۔ بعض ایسے سفارت کاروں کا، جو افغانستان میں سفارتی عہدوں پر بھی رہ چکے ہیں، یہ کہنا ہے کہ معاملہ یکطرفہ نظر آتا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ نے طالبان کی بیشتر مانگیں مان تولی ہیں لیکن اس بات کی امیدکم ہے کہ طالبان خود اپنے وعدے نبھائے گا۔ اس بات کی بھی امید نہیں ہے کہ طالبان قانون کی بالادستی ، جمہوریت یا انتخابی عمل کی پاسداری کریں گے یا انہیں خاطر میں لائیں گے۔ ہندوستان کے تعلق سے ایک بات بطور خاص تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ دوحہ سمجھوتے کے تحت افغانستان نے اس بات کا عہد تو کیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔ لیکن اس حوالے سے اصل تشویش کی بات یہ ہے کہ ہندوستان یہاں امریکہ کا باقاعدہ اتحادی نہیں ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا طالبان ہندوستان کو افغانستان میں امریکہ کے اتحادیوں میں شامل کریں گے یا نہیں؟ اس ضمن میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان کے حامی دہشت گرد گروپ جو افغانستان میں اب تک سرگرم رہے ہیں اور جو روایتی طور پر ہندوستان کے خلاف بھی رہے ہیں، کیا وہ اب بھی افغانستان میں سرگرم رہیں گے؟ کابل اعلامیہ میں افغان حکومت نے بطور خاص اس بات کا ذکر کیا ہے کہ القاعدہ اور آئی ایس جیسے بین الاقوامی دہشت گرد گروپوں کو اس بات کی اجازت نہیں ہوگی کہ وہ افغانستان کی زمین کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال کریں اور ان کی سکیورٹی کے لئے خطرہ پیدا کریں۔ 

اب یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ طالبان کے ساتھ حقانی نیٹ ورک کی جب  Mainstreaming ہوگی تو کیا لشکر طیبہ جیسے ہندوستان دشمن گروپ بھی اس میں شامل ہوں گے؟ یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ لشکرطیبہ بھی افغانستان میں مقامی جنگجوؤں کے ساتھ مل کر لڑتا رہا ہے۔ 2008 میں کابل میں واقع ہندوستانی سفارتخانے پر اس نے بم کے حملے بھی کرائے تھے۔ 

کچھ اور باتیں جو نہ صرف افغانستان اور ہندوستان کیلئے تشویش کا باعث بن سکتی ہیں بلکہ عالمی برادری کے لئے بھی تشویشناک ہیں۔ سمجھوتوں کی رو سے 5 ہزار طالبان  قیدی 10 مارچ تک رہا کئے جاسکتے ہیں۔ امریکہ نے اس بات کا وعدہ کیا ہے کہ وہ مئی 2020 تک اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے طالبان کے ممنوعہ لیڈروں کے نام حذف کرائے گا جس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایسے دہشت گردوں کی تعداد بہت گھٹ جائے گی جن کے بارے میں پاکستان پر یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ ان کو پناہ گاہیں مہیا کراتا رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان کو اس کا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ  FATF نے پاکستان کو جون تک کی مہلت دی ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف سخت قدم اٹھائے ورنہ اسے بلیک لسٹ میں شامل کرلیا جائے گا۔ 

غرضیکہ غالب خیال یہی ہے کہ امریکہ طالبان سمجھوتے سے افغانستان کے حالات بہتر ہونے کی توقع کم نظر آتی ہے جبکہ اس بات کے واضح اشارے مل رہے ہیں کہ طالبان کو افغانستان میں بالادستی حاصل ہوسکتی ہے اور خدانخواستہ اگر خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو کہا نہیں جاسکتا ہے کہ حالات کیا سے کیا ہو جائیں! افغانستان سے ملنے والی خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ طالبان نے سکیورٹی فورسز اور پولیس پر حملوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ بھی خبر ہے کہ امریکہ نے جوابی حملے کے طور پر طالبان پر ہوائی حملے بھی کئے ہیں۔ اس طرح کی خبریں بہتر حالات کی نشاندہی نہیں کرتیںَ۔