اسرائیل کے تازہ عام انتخابات تعطل کے خاتمے میں ناکام

اسرائیل میں 23 ویں پارلیمانی انتخابات کے لیے 2 مارچ کو ووٹ ڈالے گئے تھے۔ ایک سال کے اندر ہونے والے تیسرے عام انتخابات، من وسلوی کے لیے پرامید اسرائیلیوں کی توقعات پر پورے نہیں اترے۔ ووٹنگ کے چند گھنٹوں بعد فتحیابی کے دعوے کے باوجود لیکوڈ پارٹی کے رہنما اور وزارت عظمی کے عہدے پر طویل ترین مدت تک فائز رہنے والے بنجامن نتن یاہو، 120 رکنی کنسیٹ(Knesset ) میں 61 کا کرشماتی عدد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

چھ ملین ووٹوں کی 99 فیصد گنتی کے بعد لیکوڈ پارٹی 36 سیٹیں حاصل کرنے کے بعد سب سے بڑی پارٹی رہی اور مذہبی گروپ ساش (Shas) اور یونائٹیڈ۔ تورہ  جوڈازم (Torah Jodasim) کو بالترتیب 9 اور 7 نشستیں ہی حاصل ہوئیں۔جب کہ دائیں بازو صرف 6 سیٹوں پر ہی فتحیاب ہوئی۔ اس طرح بائیں بازو کے مذہبی بلاک کو کل 58 نشستیں ہی حاصل ہوئی ہیں اور ایوان میں اکثریت کے لیے نتن یاہو کو تین سیٹوں کی کمی کا سامنا ہے۔ تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد بھی ایسا نہیں لگتا کہ ان کو اکثریت حاصل ہوجائے گی۔ معاشی نمو اور امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات بھی لیکوڈ پارٹی کو زبردست فتح دلانے میں ناکام رہے جس کے لیے وہ امید کررہی تھی۔

اسی طرح حزب اختلاف کے ذریعے 62 نشستیں حاصل کرنے کے باوجود حکومت سازی کا امکان نظرنہیں آرہا ہے۔ سابق جنرل بینی گینز (Benny Gantz) کی زیر قیادت اعتدال پسند بلیو اینڈ وہائٹ پارٹی کو توقعات کے برعکس صرف 33 سیٹیں ہی مل سکیں اور بائیں بازو کی لیبر پارٹی جیشر میریز (Gesher-Meretz) بلاک کو سات سیٹوں پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔ ان انتخابات کا اصلی فاتح جوائنٹ لسٹ ہے جس کو پندرہ سیٹیں ملی ہیں۔ یہ تعداد 1948 سے اسرائیلی عربوں کی نمائندگی کے سلسلے میں سب سے زیادہ ہے۔تاہم سات سیٹیں جیت کر ایوگ ڈور لیبر مین (Avigdor Liberman) کی زیر قیادت یسرائیل بیتینیو (Yisrael Beiteinu) سب سے بڑی کنگ میکر پارٹی بن کر ابھری ہے۔ اگلی حکومت کی تشکیل کے لیے اس کی حمایت نتن یاہو نیز گینزکے لیے ناگزیر ہے، لیکن یہ آسان نہیں ہوگی۔ لیبر مین ہر اُس حکومت کے مخالف رہے ہیں جس میں عرب پارٹیوں کی شمولیت رہی ہے۔دسمبر 2018 میں نتن یاہو اور لیبرمین کے درمیان اختلافات کی وجہ سے کنسیٹ کو تحلیل کرنا پڑا جس کے بعد 2019 کے اپریل اور ستمبر میں اور اس ماہ تیسری بار انتخابات کروانے پڑے ہیں۔

اسرائیل کی تاریخ میں طویل ترین کارگزار حکومت کی سربراہی کرنے والے نتن یاہو نے حالانکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مذاکرات شروع کردیے ہیں لیکن پھربھی حکومت سازی کا باضابطہ عمل اگلے ہفتے کے اوائل میں متوقع ہے۔ ایک بار جب صدر ریویون ریولن (Reuven Rivlin) کو حتمی نتائج سے باضابطہ طور پرآگاہ کردیا جائے گا تووہ تمام سیاسی جماعتوں سے صلاح ومشورے کے بعد یہ طے کریں گے کہ کون سی پارٹی مستحکم حکومت دے سکتی ہے۔ عام طور سے انتخابات کے بعد حکومت کی تشکیل میں کم از کم چار ہفتے کا وقت لگتا ہےاور اس بار بھی ایسا ہی ہونا چاہیے خصوصا غیر حتمی نتائج کے پیش نظر۔

گزشتہ سال دو انتخابات کے بعد ابھی کسی مستحکم حکومت کی تشکیل نہ ہونے کی وجہ سے لیبرمین، لیکوڈ پارٹی کے رہنما کو حمایت دینے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ اگر لیبر مین اپنے موقف پر قائم رہتے ہیں تو نتن یاہو کی گورنمنٹ کی تشکیل  بلیو اینڈ وہائٹ پارٹی کے ارکان کے ذریعے پارٹی چھوڑنے پر ہے اور اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ اس سلسلے میں مذاکرات جاری ہیں۔17 مارچ کو نتن یاہو وہ پہلے ایسے اسرائیلی وزیراعظم ہوں گے جو عہدے پر رہتے ہوئے بھی بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال  کے الزامات کے تحت عدالت میں پیش ہوں گے۔ گزشتہ کئی مہینوں سے نتن یاہو ایک ایسا قانون لانے میں ناکام رہے ہیں جو کسی امیدوار وزیراعظم کے خلاف مقدمہ نہ قائم کرنے سے روک سکے ۔بلیو اینڈ وہائٹ پارٹی ایسا بل پیش کرنے کا منصوبہ بناچکی ہے جس کے تحت وزارت عظمی کے عہدے پر فائز ہونے سے عہدے داروں کو روکا جاسکے ۔ایک طرف جب  ایک متحدہ حکومت پرکشش متبادل ہے، بلیو اینڈ وہائٹ پارٹی لیکوڈ پارٹی پر اپنا رہنما بدلنے کے لیے زور دیتی رہی ہے۔یہ ایک ایسا موقف ہے جو نہ صرف نتن یاہو کو ناقابل قبول ہوگا بلکہ ان کی پارٹی کی اکثریت بھی اس سے اتفاق نہیں کرے گی۔ کیوں کہ اندیشہ ہے کہ نئے رہنما کے انتخاب سے غیر متوقع چنوتیاں سامنےآئیں گی جس سے پارٹی کمزور ہوجائے گی۔

اسرائیل میں غیریقینی سیاسی صورت حال سے ہندوستان کے ساتھ اس کے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ یہاں تک کہ اگر اسرائیل نیا رہنما منتخب بھی کرتا ہے تو بھی ان تعلقات میں کمی نہیں آئے گی۔ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات بڑھ کر اسٹریٹجک شراکت تک پہنچ گئے ہیں۔ دونوں ممالک مختلف محاذوں پر کام کررہے ہیں، جن میں دفاع، سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے شعبے شامل ہیں۔ لہذا سیاسی اتھل پتھل سے مستحکم باہمی تعلقات کی بنیادوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔