06.03.2020جہاں نما

امریکہ نے روس پر اوپن اسکائی معاہدے کی خلاف ورزی کا عائد کیا الزام

۔ روزنامہ ایشین ایج کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر دفاع مارک ایسپرنے روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ دونوں سپرپاورس کی فوجوں کے درمیان  شفافیت اور اعتماد میں اضافہ کرنے کے والے اوپن اسکائی معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ جناب ایسپر نے امریکی کانگریس کے سامنے ایک بیان دیتے ہوئے کہاکہ روس بالٹک سمندر کے ساحلی شہرکالننگراڈ اور قریبی جورجیا سے امریکی پروازوں کو روک رہا ہے جبکہ اِن پروازوں کیلئے 18 سال پرانے  معاہدے میں اجازت دی گئی ہے۔ اُنھوں نےمزید کہاکہ ہمیں فوجی مشقوں سے گزرنے والی پروازوں کی بھی اجازت نہیں ہے اور مجھے اس سمجھوتے کے بارے میں بہت تشویش ہے۔ اِس سمجھوتے کے مطابق، جس پر دیگر32 ملکوں نے بھی دستخط کئے ہیں، ایک ملک مختصر نوٹس پر دوسرے ملک پر نگرانی کی پروازیں چلا سکتا ہے البتہ اِن پروازوں کی تعداد محدود ہوگئی ہے۔ یہ طیارے فوجی تنصیبات اور سرگرمیوں کے بارے میں معلومات اور تصاویر یکجا نہیں کرسکتے ۔ البتہ انہیں ان علاقوں میں پرواز کرنے کی اجازت ہوگی۔ جناب ایسپر نے کہاکہ اُنھوں نے یہ معاملہ پچھلے مہینے ناٹو کے وزرائے دفاع کے ساتھ اٹھایا تھا۔ ہمارے کئی ناٹو کے حلیف ملکوں کیلئے یہ بات اہم ہے کہ اُن کے پاس ‘اوور فلائٹ’ کی سہولیات موجود ہیں۔ 

 

افغانستان میں جنگی جرائم کی تحقیقات 

۔ روزنامہ  ہندو نے افغانستان سے متعلق ایک خبر کو اہمیت کے ساتھ شائع کیا ہے جس کے مطابق بین لااقوامی فوجداری عدالت کے استغاثہ اس بات کی تحقیق کریں گے کہ آیا طالبان ، افغان فوج اور امریکہ کی فوجوں نے افغانستان میں جنگی جرائم انجام دیئے ہیں۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت، آئی سی سی کا یہ فیصلہ افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی پر رضامندی کے بعد سامنے آیا ہے۔ آئی سی سی میں دائر کی  گئی اپیلوں میں افغانستان میں جنگی جرائم کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ آئی سی سی کے جج پائیٹر ہوف منسکی نے کہاہے کہ عدالت اس معاملے میں تحقیقات کرانے کو درست سمجھتی ہے۔ 2017 میں ابتدائی چھان بین سے اس بات کے کافی شواہد ملے تھے کہ افغانستان میں جنگی جرائم انجام دیئے گئے ہیں جو آئی سی سی کے دائرے کار میں آتے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ کے وزیر خارجہ مائک پومپیو نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ لاپرواہی پر مبنی ہے کیونکہ یہ امریکہ کے ذریعہ تاریخی امن معاہدے کے بعد سامنے آیا ہے جو افغانستان میں قیامِ امن کا ایک تاریخی معاہدہ ہے۔ 

 

شام میں جنگ بندی کیلئے ترکی اور روس کا سمجھوتہ 

۔ روزنامہ ٹریبیون کی ایک خبر کے مطابق ترکی اور روس شام کے جنوبی مغربی صوبے ادلب میں جنگ بندی کیلئے ایک سمجھوتے پر رضامند ہوگئے ہیں۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ماسکو میں میٹنگ کے بعد اعلان کیا کہ آدھی رات سے جنگ بندی نافذ کردی جائے گی۔ ترکی کے صدر طیب اردوگان اور صدر پوتن نے جمعرات کے روز ماسکو میں بات چیت شروع کی تھی جس کا مقصد شام کے جنوبی مغربی صوبے ادلب میں جنگ بندی کرنا تھا۔جناب پوتن نے میٹنگ کے آغاز میں کہاکہ ادلب کی صورتحال اتنی خراب ہوچکی ہے کہ اس کے لئے براہ راست بات چیت بہت ضروری ہے۔ جناب ادروگان نے کہاکہ پوری دنیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے اس لئے ہمیں مناسب اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ خطے میں امن وامان قائم ہوسکے۔ 

دوسری جانب سے روزنامہ اسٹیٹیس مین کی ایک رپورٹ کے مطابق یونان نے ترکی کے اِن الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ ترکِ وطن کرنے والے ایک شخص کی موت کا ذمہ دار ہے کیونکہ ترکی سے ملنے والی یونان کی سرحد پر حکام نے مسلسل چھٹے دن بھی ہزاروں تارکین وطن کو یونان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی اور اُن پر آنسوں گیس کے گولے اور پانی کی بوچھار کا استعمال کیا۔ پچھلے ہفتے ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان کے ذریعہ یونان کی سرحد کو کھولے جانے کے اعلان کے بعد سے یونان کی حفاظتی فورسز نے تارکین وطن کے خلاف سخت کارروائیاں کی ہیں۔ 

 

کورونا وائرس سے لوگوں میں خوف وہراس

۔ آج کے اخباروں میں بھی کورونا وائرس کی وبا میں تیزی سے اضافے کی خبریں چھائی ہوئی ہیں۔ پائینیر نے اپنی شہ سرخی بنائی ہے۔‘‘کورونا کے خوف میں اضافہ، وزیراعظم کی یوروپی یونین  کے ساتھ سربراہ میٹنگ ملتوی’’۔ خبرکے مطابق پوری دنیا میں کورونا وائرس کے معاملات میں اضافے کے پیش نظر وزیراعظم نریندرمودی کے مارچ کے آخر میں ہونے والے برسلز کے دورے کو دوبارہ مرتب کیا جارہا ہے۔ وہ بھارت۔یوروپی یونین سربراہ میٹنگ کیلئے برسلز کا دورہ کرنے والے تھے۔ اخبار کے مطابق اِس دوران ملک میں کورونا وائرس سے متاثر مریضوں کی تعداد 30 تک پہنچ گئی ہے۔ حال ہی میں غازی آباد کے ایک شخص کو اس وائرس سے متاثر پایا گیاجس نے کچھ دن پہلے ایران کا دورہ کیا تھا۔ ایران میں اس وبا سے اب تک ایک سو سات افراد کی موت ہوچکی ہے۔ دنیا بھر میں کووڈ۔19 کی وبا سے 95 ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں جبکہ اس مرض سے تین ہزار تین سو سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔  راشٹرپتی بھون میں ہولی ملن کی تقریبات کی منسوخی کے ساتھ مغل گارڈن کو بھی عوام کیلئے سات مارچ سے بند کردیا گیا ہے۔ بھارت میں اٹلی اور جنوبی کوریا سے آنے والے لوگوں کیلئے اضافی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔ اِن لوگوں کیلئے یہ شرط لازمی کردی گئی ہے کہ وہ اپنے ملک کے مجاز صحت حکام سے اس بات کا تصدیق نامہ پیش کریں کہ وہ اس وائرس سے متاثر نہیں ہیں۔ وزیراعظم نریندرمودی بذات خود اِس وائرس سے نمٹنے کی تیاریوں کی نگرانی کررہےہیں جبکہ وزیروں کا ایک گروپ بھی صورتحال کی نگرانی کیلئے تشکیل دیا گیا ہے۔ 

 

ڈبلیو ایچ او کا طبی سازوسامان کی سپلائی بڑھانے پر زور 

۔ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی صحت تنظیم،ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی مانگ، گھبراکر خریداری کرنے ، جمع خوری کرنے اور اُس کا غلط استعمال کرنے کے نتیجے میں ذاتی تحفظ کے سازوسامان ، پی پی ای کی سپلائی میں خلل پڑا ہے اور اِس کی وجہ سے نوویل کوروناوائرس اور دیگر متعدی بیماریوں کی وجہ سے لوگوں کی زندگی خطرے میں پڑ رہی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ حفظان صحت کے مرکز اپنے ذاتی تحفظ کیلئے اور اپنے مریضوں کے انفیکشن سے بچانے کیلئے ذاتی تحفظ کے سازوسامان پی پی ای کا استعمال کرتے ہیں لیکن ان کی سپلائی میں کمی کی وجہ سے ڈاکٹر، نرسیں اور دیگر کارکنوں کے پاس کووڈ۔انیس کے مریضوں کی دیکھ بھال کرنے کیلئے مناسب سازوسامان دستیاب نہیں ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلنے کے پیش نظر لوگ گھبراہٹ میں اس طرح کے سامان زیادہ تعداد میں خریدرہے  ہیں جس کا اثر طبی دیکھ بھال کرنے والوں پر پڑ رہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈراس نے صنعت اور حکومتوں پر زور دیا ہے کہ ذاتی تحفظ کے ذاتی سازوسامان میں سپلائی میں اضافے کیلئے فوری اقدامات کریں۔ 

 

حکومت بھارتی شہریوں کو ایران سے واپس لانے کی کوششوں میں مصروف

۔ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کے بعد اب بھارت ایران سے بھارتی شہریوں اور طلبا کو واپس لانے کیلئے کوششیں کررہا ہے۔ صحت کے مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے پارلیمنٹ  کے دونوں ایوانوں میں بیان دیتے ہوئے کہاکہ بھارت میں 29 افراد کوروناوائرس سے متاثر پائے گئے ہیں۔ اگرچہ بعد میں ملک میں اس انفیکشن کے 30 مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ وزیرموصوف نے کہا کہ حکومت بھارت میں کووڈ۔19 کو پھیلنے سے روکنے کیلئے تمام ضروری اقدامات کررہی ہے۔  انہوں نے مزید کہاکہ بھارت ایران میں موجود بھارتی زائرین اور طلبا کو واپس لانے کیلئے ایران کی حکومت کے ساتھ رابطہ قائم کئے ہوئے ہے۔ 

 

بھارت نے چین کی نکتہ چینی کی

۔ ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت نے کہا ہے کہ اُس نے پچھلے مہینے پاکستان جانے والے چین کے ایک تجارتی بحری جہاز سے دوہرے استعمال کا ایسا سازوسامان ضبط کیا ہے جو ماہرین کے مطابق فوجی ضروریات کیلئے استعمال کیاجاسکتا ہے۔ بھارت نے چین سے کہاہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اُس کی کمپنیاں یا اکائیاں ایسی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہوں جن سے ہتھیاروں کی توسیع  میں مدد مل سکے۔ اِس سے پہلے دن میں چین کی وزارتِ خارجہ نے بیان دیا تھا کہ ہانگ کانگ میں درج شدہ بحری جہاز سے بھارتی حکام نے جو سازوسامان اپنی تحویل میں لیا ہے وہ کسی فوجی استعمال کے لئے نہیں ہے اور نہ ہی اُس کا دوہرا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس بحری جہاز کو تین فروری کو کانڈلا بندرگاہ پر بھارتی کسٹم حکام نے روک لیا تھا۔ یہ جہاز کراچی کے پورٹ قاسم جارہا تھا۔ 

 

ایلزابتھ وارین امریکی صدرارتی انتخاب کی دوڑ سے باہر

اسی اخبار کی ایک اور رپورٹ کے مطابق ایلزابتھ وارین  ، جنہوں نے ہر ایک کیلئے منصوبے کے ساتھ اپنی ترقی پسند مہم کا آغاز کیا تھا، ڈیموکریٹک صدارتی ریس سے باہر ہوگئی ہیں۔  سُپرٹیوزڈے کو ایک بھی جیت حاصل نہ کرنے پر وہ اِس ریس سے باہر ہوئی ہیں۔ محترمہ وارین سُپرٹیوز ڈے کو ایک بھی ریاست میں جیت حاصل نہیں کرپائیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنی ریاست میں بھی ہار گئیں۔