08.03.2020

مذہبی جنون کا قیدی پاکستان 

مملکتِ خداداد پاکستان میں آج جو مذہبی جنون کا دور دورہ نظر آتا ہے وہ پریشان کن ہے۔ ایسا لگتا ہی نہیں کہ اس ملک کے بانیوں نے اپنی ابتدا کی تقریروں میں ایسی باتیں کہی ہوں  گی جن سے جمہوریت اور سیکولر ازم کے خدوخال ابھرتے ہوں گے۔ سیاست میں مذہب کے ٹھیکیداروں کی نمائندگی اور مداخلت سے جمہوری اقدار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ اسی ناگفتہ بہ صورتِ حال کا نتیجہ ہے کہ نسلی، لسانی اور مذہبی اقلیتیں آج اس ملک میں اپنے آپ کو قطعاً محفوظ تصور نہیں کرتیں۔ 

اسی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے معروف صحافی جناب زاہد حسین نے روزنامہ ‘‘ڈان’’  میں تحریر کیا ہے کہ آزادیٔ فکروعمل میں عقیدہ رکھنے والے عوام ملک میں بنیادی حقوق کی صورت حال کے حوالے سے مایوس ہیں۔ مذہبی انتہاپسندی جمہوری اداروں کو کس طرح زک پہنچا رہی ہے اس کا اندازہ بین الاقوامی انعام یافتہ  پاکستانی فلم کی نمائش پر پابندی سے لگایا جاسکتا ہے۔ ‘‘ زندگی تماشا’’ نامی اس فلم کی نمائش کی اجازت منسوخ کئے جانے سے آزادیٔ اظہار کی حقیقت طشت ازبام ہوجاتی ہے۔ ایک کٹّر مُلا کی طرف سے لال مسجد کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش بھی اس کی ایک اور مثال ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ چاپلوسانہ سیاست نے ماضی سے عبرت حاصل نہیں کی ہے نیز یہ بھی کہ ریاست جنونیوں کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہے۔ 

زاہد حسین مزید کہتے ہیں کہ مجوزہ ‘‘عورت مارچ’’ پر پابندی کے مطالبہ کی صورت میں بنیادی حقوق پر شبخون مارنے کی ایک اور مثال ہمارے سامنے ہے۔ یہ 8 ؍ مارچ کو عالمی یومِ خواتین کے موقع پر نکالا گیا ہے جس سے مذہب واخلاقیات کے خودساختہ ٹھیکدار چراغ پا ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ابھی حال ہی میں اسلام آباد میں ‘‘ بحالٔی جمہوریت’’ مارچ کی قیادت کرنے والے مولانا فضل الرحمن اب اِن جنونیوں کی قیادت کررہے ہیں۔ سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ فلم ساز سرمد کھوسٹ کی مذکورہ فلم کی وفاقی اور صوبائی سینسر بورڈوں نے ملک میں نمائش کی اجازت دے دی تھی۔ لیکن نمائش سے ایک دن پہلے تحریک لبیک پاکستان یعنی ٹی ایل پی کے سربراہ خادم حسین رضوی کی دھمکی کے آگے سپرانداز ہوتے ہوئے حکومت نے اس کی نمائش روک کر اسے جائزہ کے لئے کونسل آف اسلامک آئیڈیالوجی کے سپرد کردیا۔ کیا المیہ ہے کہ ایک بااستحقاق ادارے کا کام کٹھ ملاؤں کے حوالے کردیا گیا۔ ایل ٹی پی کی طرف سے فلم پرتوہین مذہب کا الزام لگایا گیا تھا جبکہ سینسر بورڈ کواس میں ایسا کوئی مواد نظر نہیں آیا۔ دراصل اس فلم میں مذہب کے نام پر کی جانے والی ریاکاری اور سماج میں پھیلتے تعصب سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ تبصرہ نگار کی نظر میں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ انتہاپسند جماعتیں اپنی تمام سرگرمیاں بے فکری سے انجام دیتی ہیں اس لئے کہ انھیں کسی قسم کی سزا کا بھی کوئی خوف نہیں ہے۔ خادم حسین رضوی کو عدالتِ عظمیٰ کے ذریعہ آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف تشدد بھڑکانے کے جرم میں گرفتار کرنا پڑا۔ آسیہ کو توہینِ مذہب کے فرضی مقدمہ میں برسوں سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑا تھا۔ خادم رضوی رہا ہوکر آج بھی زہر افشانی کررہا ہے لیکن حکام اس کے خلاف قانونی کارروائی سے احتراز کررہےہیں۔ 

دوسری طرف سرمد کھوسٹ کے کنبہ اور ساتھیوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں  اور سرمد نے وزیراعظم کو خط لکھ کر اپنے کرب کا اظہا ربھی کیا ہے لیکن اس کے جواب میں اقتدار کے گلیاروں پر چھایا ہوا پُراسرار اور مُہیب سنّاٹا ان جنونیوں کے آگے اربابِ اقتدار کی بے بسی کا بھرپور مظہر ہے ۔

زاہد حسین کہتے ہیں کہ  دنیا بھر میں ملک کی عزت وشہرت میں اضافہ کرنے والی اس فلم پر پابندی کا واقعہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ معقول اور ترقی پسندانہ خیالات کے لئے اب جگہ گھٹتی جارہی ہے۔ سخت گیر عناصر اپنے خلاف جانے والی کسی بھی بات کو گوارا نہیں کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ترقی پسندانہ لٹریچر پر ایک طرح سے غیراعلانیہ سینسرشپ عائد ہوچکی ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ ایک عالمی شہرت یافتہ فلم ہم اپنے گھر پر بھی نہیں دیکھ سکتے۔ یہ ایک ایسامعاشرہ  ہے جو سچائی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔ مذہبی تعصب اور کٹرپن سے ایک ایسا ماحول پیدا ہوگیا ہے جس میں عقلیت پسندی اور آزادیٔ اظہار کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ 

زاہد اپنی بات کے اختتام میں کہتے ہیں کہ جمہویت آزادیٔ اظہار اور سماج کے ہر طبقے کو مساوی حقوق دیئے بغیر باقی نہیں رہ سکتی۔ اس کے لئے ہمیں مذہبی جنون کے خلاف متحد ہوکر جنگ کرنا ہوگی۔ 

 

پاکستان: احتساب، ایک ادھورا خواب

بدعنوانی ایک ایسا مرض ہے جس میں دنیا بھر کے سیاستداں عموماً نظر آتے ہیں، مگر پاکستان میں یہ مرض کچھ زیادہ ہی پھیل گیا ہے۔ یہاں بھی یوں تو سماج کے  ہر طبقے میں اس کے جراثیم کی نشاندہی کی جاسکتی ہے لیکن اربابِ سیاست اس کھیل میں بھی بازی مارتے نظر آتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ ان پر قانونی گرفت کا امکان کم اور سزا سے بریّت کا امکان زیادہ رہتا ہے۔ اس سے سرکاری اداروں کی کارکردگی کی جو حالت بن چکی ہے، وہ بیان سے باہر ہے۔ 

انھی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کالم نگار حفیظ خان روزنامہ ڈیلی ٹائمز  میں طنزیہ طور پر تحریر کرتے ہیں کہ اگر آپ چھوٹی موٹی چوری نہ کرکے اربوں ڈالر پر ہاتھ صاف کرسکتے ہیں تو آپ کو بجائے سزا کے معاشرے میں عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ اس لئے کہ ملک میں اس وقت در حقیقت مافیاؤں کا راج ہے۔  بدعنوانی کا زہر ہمارے معا شرے میں پوری طرح سرایت کرچکا ہے۔ آزادی کے کچھ عرصہ بعد تک ہمارے یہاں نیک وبد کی کچھ تمیز باقی تھی۔ لیکن بعد کی کچھ دہائیوں میں کچھ نَودولتیوں نے ناجائز طریقوں سے دولت کے انبار لگا لیے۔ بعد میں یہی لوگ سرکاری اداروں میں داخل ہوگئے جہاں ناجائز دولت جمع کرنے میں مزید آسانی ہوگئی۔ یہ لوگ دونوں ہاتھوں  سے عوام کو لوٹتے ہیں لیکن ان کے عزت واحترام میں کوئی کمی نہیں آتی۔ 

حفیظ خان کہتے ہیں کہ ضیاء الحق کے دور میں کرپشن کے ناگ نے سراُبھارا اور آگے چل کئی سروں والے اژدہے کی شکل اختیار کرلی۔ بعد میں دو جماعتی نظام میں کرپشن اپنے نقطۂ عروج پر پہنچ گیا۔ ملک کی دولت دھڑلّے سے غیرممالک میں منتقل کی گئی اور جائیدادیں خریدی گئیں۔ یہ لعنت چونکہ پوری دنیا میں پائی جاتی  ہے اس لئے ہرجگہ اس پر گرفت کیلئے قوانین بنائے گئے ہیں جن پر ترقی پذیر ممالک کی بہ نسبت ترقی یافتہ ممالک میں خاطرخواہ طور پر عمل ہوپاتا ہے۔ 20؍ ویں صدی سے دھوکہ دھڑی اور فراڈ کے جرائم میں اضافہ ہوا جس میں دفتری لوگ عموماً ملوث پائے گئے۔ 

دوسرے ملکوں میں ملزمین پر قانونی چارہ جوئی کے نتیجے کی روشنی میں اقدام کیے جاتے ہیں جن میں اثاثہ جات کی ضبطی بھی شامل ہے۔ پاکستان میں ایسے قوانین کا فقدان ہے۔ عمران خان کی جماعت احتساب اور انسدادِ بدعنوانی کے گھوڑے پر سوار ہوکر مسندِ اقتدار تک پہنچی تھی جس سے لوگوں کو بہت سے مثبت اور نتیجہ خیز اقدامات کی توقع تھی ، لیکن ناامیدی کے علاوہ اُن کے کچھ ہاتھ نہیں لگا۔ احتساب، سب کیلئے انصاف، اور غریبوں کی فلاح وبہبود عمران خان کے ایجنڈے میں سرفہرست تھی ، لیکن چونکہ درپیش مسائل کا درست اندازہ نہیں لگایا گیا تھا، اس لئے وعدوں کی عمارت جلد ہی زمیں بوس ہوگئی۔ دوسری طرف عوامی میڈیا ہے جو نظام کی خامیوں کو اجاگر کرنے کے بجائے ذاتی پرفاش نکالنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ 

زاہد حسین مزید کہتے ہیں کہ قومی احتساب بیورو انسدادِ بدعنوانی کے اداروں میں نمایاں مقام رکھتا ہے اور بدعنوان افسروں کے خلاف اقدام میں ناکامی میں بھی ۔ کسی بھی قانونی چارہ جوئی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ جرم کی نشاندہی کے بعد مناسب تفتیش اور معلومات کو صحیح طور پر جمع کیا جائے۔ قانونی چارہ جوئی کرنے والوں کو ان سے حاصل شہادتوں کی روشنی میں ہی آگے بڑھنا ہوتا ہے۔  لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوپاتا ۔ مقدمات بیکار وبے نتیجہ رہتےہیں۔ اس لئے کہ متعلقہ ذمہ داران میں نااہلی کے علاوہ اقربا پروری اور بدعنوانی کا رجحان پہلے ہی موجود ہوتا ہے۔ ہمارا عدالتی نظام دراصل انیسویں صدی کے برطانوی راج کے فرسودہ نظام کی باقیات ہے۔ آج ہمیں اُن طور طریقوں کی ضرورت ہے جو مہذب سماج میں ضروری ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں کسی بھی صاحب جائیداد سے اُس کے وسائل کے متعلق باز پرس کی جاتی ہے۔ کسی بھی قسم کا تضاد پائے جانے پر تفصیلات کی فراہمی کیلئے بارِ ثبوت صاحبِ اثاثہ کے کاندھوں پر ڈالا جاتا ہے، جو کہ بالکل مناسب ہے۔ 

زاہد صاحب فرماتے ہیں کہ پاکستان میں  نظام عدل ہی نرالا ہے۔ یہاں پر ہر سرِ عہدہ افراد وکارروائی میں تاخیر جیسے حربے اپناتے ہیں۔ مجرموں کو ہر قسم کا فائدہ دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بدعنوان افسران احتساب کے علم برداروں کو ٹھینگا دکھاتے ہیں۔ 

آخر میں زاہد حسین عمران خان کو مشورہ دیتے ہیں کہ احتساب کے عمل کو مؤثر بنایا جائے ورنہ اُن کے تمام پروگرام دیوانے کا خواب ہو رہ جائیں گے۔ آخر آپ موجودہ نظام کے تحت کسی بھی بدعنوان فرد کو کس طرح سزا یاب کرسکتے ہیں؟ اگر آپ اقدامات کو نتیجہ خیز بنانا چاہتے ہیں تو اس پورے نظام ہی کو سرے سے بدلنا ہوگا۔