افغانستان کی تازہ صورتحال پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی

پاکستان  ان دنوں اپنے ہی بنے ہوئے جال میں الجھتا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کی بدنیتی کی پول دھیرے دھیرے کھلتی جا رہی ہے۔ دہشت گردی سے لڑائی کے نام پر دہشت گردوں کی پوری فوج طالبان کی شکل میں کھڑا کرنے والا پاکستان ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں اسے کچھ بھی حاصل نہیں ہونے والا۔ ذرائع ابلاغ پر ہزاروں بندشوں کے باوجود حقیقت کی پرتیں کھلتی جا رہی ہیں اور پاکستانی عوام اسٹیبلشمنٹ سے مشکل سوالات کرنے سے پیچھے نہیں ہٹ رہے۔  احسان اللہ احسان اور مسعود اظہر کے فرارنے ان کے آنکھوں کی پٹیاں کھول دی ہیں۔ عوام کو لگنے لگا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اسٹیبلشمنٹ کا کھلا فریب ہے جو خود پاکستان کی تباہی کا اعلامیہ ہے۔

پاکستان ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ سے بمشکل خود کو بچا پایا ہے لیکن عمران خان کو بخوبی یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ بار بار دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنا آسان نہ ہو گا۔ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب پاکستان کی دوستی کا دم بھرنے والے یا خود پاکستان جن کی دوستی کا دم بھرتا ہے وہ بھی شرمندگی سے بچنے کے لئے کنارہ کشی اختیار کر لیں گے۔ امریکہ  میں انتخابات کے پیش نظر افغانستان سے کسی طرح بچ نکلنے کی مجبوری بھلے ہی پاکستان کے لئے نعمت ثابت ہوئی ہو لیکن یہ موقع بار بار تو ہاتھ آنے سے رہا۔  

لاکھوں افغان پناہ گزین آج بھی پاکستان میں موجود ہیں اور جب تک انھیں افغانستان میں مستقل امن کے واضح آثار نہیں نظر آ جاتے ان کی وطن واپسی ممکن نہیں ہوگی یہ بات پاکستان کو سمجھنا ضروری ہے۔ قطر معاہدے کہ فوراً بعد ہی جس طرح دھماکوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ چل پڑا ہے اس سے قرین قیاس ہے کہ افغان پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے اور پاکستان جس طرح معاشی بدحالی کا سامنا کر رہا ہے اس سے حالات اور سنگین ہونے کا قوی امکان ہے۔ دراصل بے نظیر بھٹو نے 1980 میں ہی جنرل ضیا کو متنبہ کیا تھا  کہ سوویت فوجوں کے خلاف جہاد کا نعرہ خود پاکستان کے لئے تباہ کن ہوگا کیونکہ دیر یا سویر امریکہ افغانستان سے نکلنے کی کوشش کرے گا اور نتائج پاکستان کو بھگتنے پڑیں گے۔ لیکن ضیاألحق کہاں ماننے والے تھے اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ اس نام نہاد جہاد کے نتیجے میں پاکستان دہشت گردوں کی آماجگاہ بن گیا۔ نہ صرف یہ کہ طالبان ، القاعدہ، لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی تنظیمیں پاکستان کی فوج اور ایجنسیوں کے اشارہ پر ہندوستان، افغانستان یا ایران جیسے امن پسند ممالک میں دہشت گردی کا ننگا کھیل کھیلتی رہیں بلکہ انھوں نے اپنے مالک کو ہی ڈسنا شروع کر دیا۔ مشرف کے دور میں   پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد اور دہشت گردی کے ہولناک واقعات میں ملوث کئی گروہ افغانستان میں پناہ گزین تھے جن کے خلاف کارروائی کے لئے طالبان حکومت سے اس وقت کے پاکستانی وزیر داخلہ نے مدد کی درخواست کی جسے طالبان نے صاف لفظوں میں مسترد کر دیا۔ مشرف نے سرحدی علاقوں میں طالبان القاعدہ اور ایسی ہی کئی دہشت گرد تنظیموں اور نظریے کی حامی جماعتوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں جس سے تحریک طالبان پاکستان کو پنپنے اور پھلنے پھولنے کا وافر موقع ہاتھ آیا۔ امریکی فوج کے انخلا کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گرد تنظیمیں ایک بار پھر خود کو منظم کرنے کے لئے لام بند ہونے لگی ہیں۔ ان تنظیموں کی طرف سے امن معاہدے کو  امریکہ کی شکست کے طور پر پیش کئے جانے کا عمل زور پکڑ چکا ہے جس کا اندیشہ تجزیہ کاروں نے پہلے ہی ظاہر کر دیا تھا۔

طالبان اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے تعلق سے جو رازداری برتی جا رہی ہے اس سے شکوک و شبہات کو مزید تقویت مل رہی ہے۔ امریکہ اپنے مفاد کی حفاظت کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے لیکن کسی بھی قسم کے انتشار اور بدامنی کا سیدھا اثر پاکستان پر پڑے گا جو خود ہی سر سے پاؤں تک قرض میں ڈوبا ہوا ہے۔ افغان حلومت سے طالبانی قیدیوں کی رہائی کے سلسلے میں جو قضیہ کھڑا ہو ا ہے وہ خطرناک صورت بھی اختیار کر سکتا ہے۔ زلمے خلیل زاد کے درجنوں دوروں کے بعد بھی امن کی دیرپا ئی  شک و شبہات سے بالاتر نہیں۔اگر طالبان اپنی ضد پر اڑے رہے تو پورے خطے کا امن درہم برہم ہو سکتا ہے۔ پاکستان کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ صرف ہندوستان دشمنی کی خاطر طالبان کو سر پر چڑھانا خود اسے بھی مہنگا پڑ سکتا ہے اور اس ناعاقبت اندیشی سے کسی کا بھلا نہیں ہوگا۔ افغانستان یا پاکستان کا تو ہرگز نہیں۔