پاکستان میں حزب مخالف کی خاموشی مسئلہ کا حل نہیں

کسی جمہوری ملک میں اس بات کی توقع کی جاتی ہے کہ وہاں ایک فعال حزب مخالف ہو جو برسراقتدار طبقہ کی کوتاہیوں اور کمزوریوں کو زوردار طریقہ سے اٹھائے اور بتائے کہ حکومت میں بیٹھے افراد عوام کے مسائل پر آنکھ بند کرکے بیٹھ نہیں سکتے۔ حزب مخالف کی یہ بھی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ روز مرہ کے مسائل سے عوام کو آگاہ کرتا رہے اور برسراقتدار طبقہ کی ناقص کارکردگیوں کو اجاگر کرنے کے لیے جلسوں اور ریلیوں کا اہتمام کرے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان میں دیکھا گیا ہے کہ حزب مخالف نے ایک طرح کی پراسرار خاموشی اختیار کررکھی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ عمران خاں ایک شطر بے مہار کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کی ہر بات قانون کا درجہ رکھنے لگی ہے جہاں تک اپوزیشن لیڈروں کا سوال ہے تو پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈر بلاول بھٹو ایک طرح سے عوام پر اپنی گرفت کھوچکے ہیں ایک عرصہ سے انہوں نے کوئی ایسی عوام تحریک نہیں چلائی جس کا تعلق عوام کے مسائل سے ہو یہی وجہ ہے کہ عوام کا ایک بڑا طبقہ ان سے کٹ کر رہ گیا ہے۔ جہاں تک تعلق سابق وزیراعظم نواز شریف کا ہے تو وہ عدالتی حکم اور اپنی  بیماری کے باعث لندن میں ایک طرح سے مقید ہوکررہ گئے۔ ان کی پارٹی کا کوئی ایسا نمایاں لیڈر نہیں ہے جو آگے بڑھ کر عوام کی قیادت کرسکے اور ان کو بنیادی مسائل سے آگاہ کرسکے۔ جہاں تک ان کی بیٹی مریم نواز کی بات ہے تو وہ عدالت کے فیصلوں میں الجھی ہوئی ہیں اس لیے ان سے اس بات کی امید کم ہی ہے کہ وہ کوئی جارحانہ رویہ اختیار کریں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں پی ایم ایل این کے حامیوں میں وہ پہلا سا جوش وخروش ناپید ہوگیا ہے ۔ اس کا اندازہ پاکستان کی سڑکوں سے لے کر پارلیمنٹ تک صاف نظر آتا ہے۔ ایسی صورت میں پاکستانی عوام میں مایوسی، الگ تھلگ پڑجانے کا احساس اور شدید قسم کا غم وغصہ نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان میں بے روزگاری بھی اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ ایک طرف جہاں افراط زر کی بڑھتی ہوئی شرح سے عوام پریشان ہیں تو دوسری جانب آمدنی میں نمایاں کمی اور ٹیکسوں میں بڑھتے اضافے نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کا اقتصادی نظام ایک طرح سے درہم برہم ہوکررہ گیا ہے۔

حقیقت تو یہ کہ پاکستان کے حزب مخالف کے لیڈروں کے سامنے کوئی ایسا ایشو نہیں ہے جس کے ذریعہ وہ عوام میں اپنی مقبولیت حاصل کرسکیں۔ بلاول بھٹو موضوع کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹک رہے ہیں۔ پنجاب میں اس لیے دال گلتی دکھائی نہیں دے رہی ہے کیوں کہ ریاستی اخراجات کی ڈور اسلام آباد نے سختی سے پکڑرکھی ہے۔ کبھی وہ ‘عورت مارچ’کی حمایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں تو کبھی بلوچیوں کی ناراضگی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی نہیں ملازمت  پیشہ لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ٹریڈ یونین کے مطالبات کی حمایت میں بھی نظر آتے ہیں لیکن جب اس میں بھی ان کو کامیابی ملتی دکھائی نہیں دیتی تو وہ اپنے دادا اور ماں کے ترقی پسند نظریات کی حمایت پر اترآتے ہیں۔

جہاں تک نواز شریف کا تعلق ہے تو عدالتی فیصلوں اور گرتی ہوئی صحت کے باعث وہ سیاست میں غیر فعال ہوکر رہ گئےہیں۔ ایسی صورت حال میں بلاول بھٹو سے یہی امید کی جاتی تھی کہ وہ آگے بڑھ کر اس سیاسی خلا کو پر کرنے کی کوشش کرتے لیکن وہ اس میں ناکام رہے۔ ایک طرف جہاں شہباز شریف اپوزیشن لیڈر کے طور پر عوام میں اپنی پکڑقائم کرنے میں ناکام رہے تو دوسری طرف مریم نواز بھی اپنے حامیوں میں وہ جوش وخروش پیدا نہیں کرسکیں۔اس کا فائدہ ان کے سیاسی حریفوں کو ہوا۔ یہاں ایک بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ وزیراعظم عمران خاں کو فوج کی بھرپور حمایت حاصل ہے دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہاجاسکتا ہے کہ عمراں خاں فوج سے کوئی ٹکراؤ مول لینا نہیں چاہتے۔ایسی صورت حال میں حزب اختلاف کی پوزیشن اور بھی کمزور ہوئی ہے۔ یہ  صورت حال ایک صحت مند جمہوریت کے لیے نقصان دہ کہی جاسکتی ہے۔

نواز شریف کا سیاسی زوال  تو 2018 کے انتخابات سے ہی شروع ہوگیا جب الیکشن کمیشن نے ایک طرح سے ان کی پارٹی کو شک کے دائرہ میں لاکھڑا کردیا پھر اس کے بعد نیب نے رہی سہی کسرپوری کردی۔ اس طرح سے مقدمات اور ٹرائیبونلس نے ان کی سیاسی سرگرمیوں پر روک لگادی۔ عمران خان اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تک مقدمات کا سلسلہ جاری رہتا ہے وہ ان کے لیے سیاسی حریف ثابت نہیں ہوسکتے۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستان کے سیاسی نظام میں ایسی کوئی بڑی سیاسی تبدیلی رونما نہ ہوجائے جو پورے سیاسی پس منظر کو بدل کر رکھ دے لیکن فی الحال ایسی توقع نہیں ہے۔ اب شاید پی ایم ایل این کی یہی حکمت عملی ہے کہ وہ فی الحال خاموش رہے اور لڑائی کو کچھ دن کے لیے ٹال دے۔ ایسی صورت میں پی ٹی آئی حکومت اقتدار میں اپنی گرفت مستحکم کرنے کے لیے کوئی کسر باقی نہیں رکھے گی۔  اس وقت حزب اختلاف میں جو خاموشی ہے اسے سیاسی طوفان کا پیش خیمہ کہا جاسکتا ہے۔