10.03.2020

پی ٹی آئی  حکومت ،نکمی حکومت۔  پی پی پی کی آواز میں آواز ملانے کی بلاول کی اپیل

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی )کے چیٔر مین بلاول بھٹو نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کوناکارہ اور  نا اہل   قرار دیتے ہؤے کہا ہے کہ عوام پی پی پی کی آواز میں آواز ملائیں ،وہ غریبوں کے لٔے کام کرتی ہے۔ڈان اخبا ر میں شائع خبر کے مطابق لاہو رمیں پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہؤے  بلاول نے کہا کہ موجودہ حکومت بالکل نکمی ہے ،اس میں نہ تو ملک کو چلانے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی اس کے پاس کوئی ایسا منصوبہ ہے جس سے ملک کو اقتصادی بحران سے باہر نکالا جا سکے ۔انہوں پی ایم ایل این کی بھی تنقید کرتے ہؤے کہا کہ کسی بھی جماعت کو غریبوں کی فکر نہیں ہے۔ صرف پی پی پی ایسی جماعت ہے جو غریبو ں کے بارے میں سوچتی ہے۔بلاول نے کہا کہ دوسری جماعتیں جب اقتدار میں آتی ہیں تو امیروں کے لٔے ٹیکس ایمنسٹی اور بیل آ ٔوٹ پیکج دئے جاتے ہیں جبکہ پی پی پی عام آدمی کی بہتری کے لٔے کام کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم ایل این کی حکومت ہو یا پی ٹی آئی کی پینشینزاورتنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوتاکیونکہ وہ امیروں کے لئے کام کرتی ہیں۔جب پی پی پی حکومت میں آتی ہے تو وہ غریبوں پر توجہ دیتی ہے ۔ان میں پیسہ تقسیم کرتی ہے اور وہی پیسہ پوری معیشت  میں گھومتا ہے اور ملک ترقی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملکی  مسائل  کا واحد حل پی پی پی ہے ۔ پی ایم ایل نے بھی غریبو ں کے لٔے کچھ نہیں کیا ہے۔پل اور میٹرو کی تعمیر جعلی ترقی ہے ۔

بلاول  نے کہا کہ پی پی پی نے غریب عوام لئے پالیسیاں بنائیں لیکن اس وقت ناکارہ اور نا اہل حکومت عوام پر سب سے  زیادہ ظلم کر رہی ہے۔انہو ں نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے سودا کر لیا ہے اور اس کی ایسی باتیں بھی مان رہی ہے جو کسی بھی اعتبار سے ملک کے حق میں نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف والے آتے ہیں اور آئی ایم ایف والوں سے ہی بات چیت کر کے واپس ہو جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نا اہل اور نا لائق ہے ، یہ عوام کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی۔

 

 گومل یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی  کا معاملہ گرمایا ۔مزیدچارملازمین برطرف

خیبر پختونخوا کی گومل یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی  کا معاملہ گرما تا جا رہا ہے۔ یونیورسیٹی کے پروفیسر اور ڈین  اسلامک سٹڈیز صلاح الدین سے  استعفیٰ لینے کے بعدگورنرکی ہدایت پر مزید چار ملازمین کو مبینہ طور پر جنسی ہراسانی کے الزام کی بنا پر  نوکری سے برخواست کردیا گیاہے ۔انڈیپینڈ نٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق گومل یونیورسٹی کے ترجمان راجہ عالم زیب نےبتایا کہ صلاح الدین کے استعفیٰ کے بعد    ان ملازمین کے خلاف بھی انکوائری چل رہی تھی اور یونیورسٹی سنڈیکیٹ کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ انہیں یونیورسٹی سے نکال دیا جائے۔ترجمان نے مزید بتایا کہ یونیور سیٹی کے  فیصلے کی روشنی میں گورنر خیبرپختونخوا نے ان ملازمین کو برطرف کرنے کی ہدایت دے دی جس کے بعد یونیورسٹی کی جانب سے انہیں برخواست کردیا  گیا۔گورنر ہاؤس سے جاری اعلامیہ میں لکھا گیا کہ یہ تمام یونیورسٹیوں کے لٔیے واضح پیغام ہے کہ وہ اپنا نظام ٹھیک کریں، چاہے کسی کو نوکری سے نکالنا پڑے یا جیل بھیجنا پڑے، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ طلبہ کے مستقبل پر کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔دوسری جانب گومل یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری شاہد کمال ٹیپو نےبتایا کہ ان چار ملازمین کا موقف سنے بغیرانہیں برخواست کیا گیا ہے کیوں کہ ان کے خلاف ایسی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی ہے، جس میں جنسی ہراسانی کے حوالے سے بات کی گئی ہو۔انہوں نے بتایا کہ صلاح الدین والا کیس جینوئن ہے لیکن باقی چار ملازمین کے خلاف یونیورسٹی قوانین کے مطابق کارروائی نہیں کی گئی ہے کیوں کہ نہ انہیں کوئی شوکاز نوٹس ملا ہے اور نہ ہی انہیں ذاتی طور پر سنا گیا ہے بلکہ بغیر کسی وجہ کے برخواست کردیا گیا ہے۔اخبار کے مطابق  جنسی ہراسانی کے حوالے سے انکوائری رپورٹ میں لکھا ہے کہ برطرف ملازمین میں شامل پروفیسر بختیار خٹک کے خلاف 1989 میں جامعہ کے ایک ملازم کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی، جنہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے ہاسٹل کی ایک طالبہ کو یونیورسٹی کے ایک گھر میں جاتے دیکھا جہاں پر پروفیسر بختیار موجود تھے۔اس درخواست کو اس وقت کے گورنر اور وزیراعلیٰ کو بھی بھیجا گیا تھا تاہم مذکورہ پروفیسر کو اس وجہ سے بری کردیا گیا کیونکہ شکایت کسی متاثرہ خاتون کی طرف سے نہیں کی گئی تھی۔انکوائری رپورٹ کے مطابق اس کیس کو 2019 میں دوبارہ منظرعام پر لایا گیا۔ حالیہ رپورٹ میں بھی کہیں پر یہ ثابت نہیں ہوا کہ 1989 کے کیس سے متعلق کوئی متاثرہ خاتون سامنے آئی ہوں، لیکن رپورٹ میں پروفیسر بختیار کو قصوروار ٹھہرایا گیا ہے۔انکوائری رپورٹ میں 1989 کی سینڈیکیٹ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا کہ چونکہ شکایت کنندہ اس کیس میں خود متاثرہ فریق نہیں ہے اور نہ ہی متاثرہ خاتون نے کسی قسم کی شکایت کی ہے، لہذا اس وجہ سے اس کیس میں قانونی کارروائی کا کوئی جواز نہیں ہے۔کچھ ماہرین تعلیم کے مطابق یونیورسٹی طالبات کی جانب سے جنسی ہراسانی کی ایک وجہ امتحانی سسٹم میں مارکنگ  کا نظام ہے۔ یاد رہے کہ سمسٹر نظام میں 50  فیصد تک نمبر پریزینٹیشن، کلاس اسائمنٹس اور سمسٹر ختم ہونے تک متعلقہ استاد کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ اس کے بعد باقی 50  فیصد نمبر فائنل ٹرم میں پرچے کے ہوتے ہیں اور انہیں بھی متعلقہ استاد ہی چیک کرتے ہیں۔پشاور یونیورسٹی میں شعبہ اردو کی  طالبہ نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ سمسٹر سسٹم  کے مارکنگ نظام میں اکثر یہ ہوتا ہے کہ متعلقہ استاد اپنی من مانیاں کرتے ہیں اور اپنی مرضی سے جسے چاہے زیادہ اور جسے چاہے کم مارکس دیتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک مضمون کا استاد طالبہ کو دھمکی دے دیتا ہے کہ وہ اسے امتحان میں فیل کردے  گا کیوں کہ 50 فیصد تک نمبر تو بالکل ہی ان کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔طالبات ڈر کی وجہ سے چاہتی ہیں کہ ہر ایک استاد کے ساتھ اچھے تعلقات بنائیں اور پھر اکثر نوبت یہاں تک آجاتی ہے کہ استاد طالبہ سے غلط قسم کے مطالبات شروع کر دیتے ہیں اور انہیں اس بات پر مجبور کیا جاتا ہے کہ اگر انہوں نے استاد کے ساتھ تعلق نہیں بنایا تو انہیں فیل کر دیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ جن طالبات کا استاد کے ساتھ تعلق ٹھیک ہوتا ہے اور زیادہ تر ان کے دفتر میں آتی جاتی ہیں تو ان ہی کے مارکس امتحان میں زیادہ ہوتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ایسا بھی نہیں کہ ہر ایک مضمون کے استاد ہی اس طرح کرتے ہیں لیکن ہر شعبے میں کوئی نہ کوئی ایک استاد ایسا ضرور ہوتا ہے جو اس قسم کی حرکتیں کرتا رہتا ہے۔پروفیسر حنیف خان خیبر پختونخوا کے ایک ڈگری کالج میں استاد ہیں جہاں پر چند سال پہلے خواتین کے لیے سمسٹر سسٹم میں داخلے شروع چکے ہیں۔ حنیف اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ صرف مارکنگ ہی جنسی ہراسانی کی وجہ ہے کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مارکنگ اگر یونیورسٹی کے استاد نہیں کریں گے جو اپنے شاگرد کو بہت قریب سے جانتے ہیں تو پھر کون کرے گا؟ اور یہ پوری دنیا میں ہو رہا ہے کہ سمسٹر نظام میں زیادہ تر مضمون کے نمبر استاد ہی دیتے ہیں۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کالی بھیڑوں کی نشاندہی ضروری ہے۔ اگر کوئی استاد اس قسم کی حرکات میں ملوث ہے تو طلبہ فی الفور اس کی نشاندہی یونیورسٹی انتظامیہ کو کریں تاکہ اس کے خلاف قانونی کارروائی ہو سکے۔شاد بیگم ایک سماجی کارکن ہیں جو عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرتی ہیں۔ وہ مارکنگ سسٹم کی خرابی والی بات سے جزوی اتفاق کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ جنسی ہراسانی کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ ان کے خیال میں اس کے علاوہ بھی مختلف ایسی وجوہات ہیں جن پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ایک لڑکی اس معاشرے میں اتنی مشکل سے تعلیم حاصل کرکے یونیورسٹی تک پہنچ جاتی ہے اور پھر یونیورسٹی میں اس کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔

پاکستان شدید قدامت پسندی کی زد میں،عمر فاروق

پاکستان میں قدامت پسندی کوئی نئی بات نہیں  ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے ۔  پاکستان شدید قدامت پسندی کی زد میں ،کے عنوان سے عمر فاروق اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ سخت اخلاقی ضابطہ،جنسی تفریق،قدامت پسندی کو عوام الناس کی رائے کی شکل میں پیش کرنے والے عارضی اعتماد والے نظام کی آئینی بالا دستی اس کی بنیادی وجوہات ہیں ۔اس قدامت پسندی نے جہاں تاریخ کو دھندلا کر دیا ہے وہیں یہ خطے میں ناقابل قبول خارجہ پالیسی کی وجہ بھی بن رہی ہے ۔مضمون میں کہا گیا ہے کہ عوم کو قدامت پسند بناکر پیش ضرورکیا جا  رہا ہے  لیکن اس میں سچائی نہیں ہے ،سچائی یہ ہے کہ ملک کی اکثریت قدامت پسند نہیں ہے، کم از کم ہمیں تو عوامی سطح پر ایسا نظر نہیں آتا ہے ۔انتخابات کے نتائج عام طور سے اس ووٹ بینک کے نظریاتی  جھکائو کی  جانب اشارہ نہیں کرتے جو اکثر سیکو لر سیاسی جماعتوں  کے خیالات کی بنیاد پر ایک پلیٹ فارم پرنظر آتے ہیں بلکہ یہ  متمول قیادت اور نچلے معاشرتی طبقے  کے  عملی اتحاد  کے نتیجے کے طور پر نظر آتے ہیں۔

 

  بجلی مزید 1 رو پے 48 پیسے فی یونٹ مہنگی ہونے کا امکان

پاکستان میں جہاں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں وہیں بجلی بھی مہنگی ہوتی جارہی ہے ۔ دنیا نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بجلی مزید ایک روپے 48 پیسے فی یونٹ مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے تعلق سے سینٹرل پاور پر چیزنگ ایجنسی نے نیشنل الکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی،  نیپرا کو درخواست  دے دی ہے ۔  جنوری کی فیول ایڈجسٹمنٹ  مد میں بجلی مہنگی کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ  عوام اب زیادہ پیسے خرچ کرنے کے لئے تیار ہو جائیں  کیونکہ بجلی اب مزید مہنگی ہونے والی ہے ۔سینٹرل پاور پر چیزنگ ایجنسی کے مطابق جنوری میں پانی سے 11.13 فیصد، کوئلے سے 32.09 فیصد ،مقامی گیس سے21.22 فیصدجبکہ درآمد شدہ ایل این جی سے12.29 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔ جنوری کے دوران ،فرنس آٓئل سے 10.28 فیصد ،ایٹمی وسائل سے 8.74 فیصد اور ہائی سپیڈ ڈیزل سے بھی 0.01 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ فرنیس آٓئل سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت 13روپے77 پیسے فی یونٹ جبکہ ڈیزل سے پیدا کی گئی بجلی کی قیمت 22 روپے 83 پیسے فی یونٹ رہی۔ لیکن اب ان کی قیمت میں اضافے کا قوی امکان ہے ۔ خیال رہے کہ سی پی پی اے کی درخواست پر نیپرا 25 مارچ کو اس کا حتمی فیصلہ کرنے والا ہے ۔

 

پاکستان میں 50 فیصد بچے خون کی کمی کے شکار

پاکستان میں 50 فیصد سے زا ئد عورتیں اور بچے خون کی کمی وٹامن ڈی اور کیلشیم کی کمی کے شکار ہیں  جس کی بنیادی وجہ نا منا سب خوراک  ، غذأیت کی کمی اور پیٹ کے کیڑے شامل ہیں۔غذأیت کی کمی اور نا مناسب خوراک کی وجہ سے خواتین اور بچے ہڈیوں کی کمزوری کے شکار ہیں ۔روزنامہ اکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ان خیالات کا اظہار عالمی یوم خواتین کی مناسبت سے ہیلتھ اسکریننگ کیمپ کے موقع پر گفتگو میں ملک کے ماہرین صحت نے کیا۔کیمپ میں سو سے زائدخواتین اور بچوں کے خون اور ہڈیوں کے ٹیسٹ کئے گئے ۔ 50 فیصد  بچے اور خواتین فولاد کی وجہ سے خون کی کمی اور وٹامن ڈی اور کیلشیم کی وجہ ہڈیوں کی کمزوری کے شکار نکلے۔ماہرین صحت نے بتایا کہ خون ،کیلشیم اور وٹامن ڈی کی کمی کے نتیجے میں خواتین اور بچے مختلف جسمانی اور نفسیاتی امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں ۔خواتین اور بچوں میں معمولی چوٹ لگنے کے نتیجے میں فریکچر ہو جانااور دیگر مسائل شامل ہیں۔ماہرین کا کہنا تھا کہ حاملہ خواتین کو صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرکے نہ صرف انہیں بلکہ ان کے ہونے والے بچے کو بھی بچایا جا سکتا ہے۔