جزیرہ نماکوریا میں کشیدگی میں اضافہ

شمالی کوریا نے اس ہفتہ کے اوائل میں تین نامعلوم پروجیکٹائلس داغے۔ کم جونگ ان حکومت کا پچھلے دو ہفتے میں اس طرح کا یہ دوسرا اقدام ہے، جو پیونگ یانگ کی اس دھمکی کے دو دن بعد اٹھایا گیا ہے، جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ اپنی پچھلی مشقوں کی مذمت کے خلاف فوری کارروائی کرے گا۔

ساؤتھ کوریا کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اس نے کوریا جزیرہ نما اور جاپان کے درمیان سمندروں میں شمالی کوریا کی مشرقی ساحل سے داغے جانے والے قلیل دوری کےمختلف اقسام کے پروجیکٹائلس کا پتا لگایا تھا۔ان پروجیکٹائلس کی زیادہ سے زیادہ پرواز  دوسو کلو میٹر اورزیادہ سے زیادہ بلندی پچاس کلومیٹر تھی۔ساؤتھ کوریا کا کہنا ہے کہ اس کی فوج اپنی مکمل تیاری کے ساتھ ساتھ اس قسم کی مزید کسی لانچ کی مانیٹرنگ کررہی ہے۔ اس نے مزید کہا کہ شمالی کوریا کے ساتھ 2018 میں طے پائے معاہدوں کی یہ صریحا خلاف ورزی ہے، جس کا مقصد کوریا جزیرہ نما میں فوجی کشیدگی کم کرنا ہے۔

شمالی کوریا کی سرکاری ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ اس نے 28 فروری کو شروع ہونے والی فوجی مشقیں کی ہیں جو  ہنوئی میں امریکی صدر ڈونل ٹرمپ کے ساتھ کِمْ کی سربراہ ملاقات کے ایک سال مکمل ہونے پر کی گئیں۔اس ملاقات میں کوئی معاہدہ طے نہیں پایا تھا۔یہ سلسلہ اس وقت بھی جاری رہا جب پیونگ یانگ نے مشرقی ساحلی شہر   وانسن (Wonsan) کے قریب کسی علاقے سے دو نامعلوم قلیل دوری تک مارکرنے والے پروجیکٹائلس داغے۔امریکہ نے کہا ہے کہ یہ کارروائی غیر متوقع نہیں تھی اور یہ کہ وہ صورت حال کا جائزہ لیتا رہے گا اور جنوبی کوریا اور جاپان کے ساتھ قریبی مشاورت کرے گا۔ تاہم امریکہ نے شمالی کوریا پر زور دیا ہے کہ وہ اشتعال انگیزیوں سے باز آئے، اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرار داد کے تحت عائد ذمہ داریاں  پوری کرے اور مکمل نیوکلیائی تخفیف اسلحے کے لیے پائیدار اور ٹھوس مذاکرات شروع کرے۔

جاپان نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے ذریعے داغے گئے پروجیکٹائلس،  بیلسٹک میزائل معلوم ہوتے ہیں مگر ان کا نتیجہ جاپانی علاقے یا ایکسلیوسی اکنامک زون (Exclusive economic zone) میں مداخلت کی شکل میں ظاہر نہیں ہوا ہے۔ان کارروائیوں سے جاپان اور خطے کے امن وسلامتی کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

شمالی کوریا نے اس سے دو ماہ قبل اسی طرح کی کارروائیاں انجام دی تھیں۔امریکہ کے ساتھ بات چیت میں تعطل کے درمیان اس نے 2019 میں 13 بار آزمائشی طور پر میزائل داغے تھے۔حالانکہ پیونگ یانگ نے انٹرکانٹی نینٹل رینج کے میزائل داغنے سے پرہیز کیا تھا، جو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے خاص طور سے تشویش کا باعث ہوتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے 2019 میں میزائل داغے جانے کی کارروائی کو بیحد اسٹینڈرڈ قرار دیا تھا اور دعوی کیا تھا کہ اس سے امریکی سرزمین کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں ہے، تاہم ان ہتھیاروں سے جنوبی کوریا اور وہاں تعینات 28 ہزارامریکی فوجیوں کو زبردست خطرہ ہے۔

2019 میں کمِْ نے امریکہ کو خبردار کیا تھا کہ واشنگٹن حکومت اُس سال کے آخر تک معطل نیوکلیائی تخفیف اسلحہ مذاکرات کو فورا شروع کرے۔جب تنبیہ کی یہ تاریخ قریب آئی اور واشنگٹن حکومت نے کوئی قدم نہیں اٹھایا تو کم نے اپنے سال نو کے پیغام میں اعلان کیا کہ ان کا ملک نیوکلیائی ڈیٹرینٹ میں اضافہ کرے گا اور بڑے اسلحوں کی آزمائش پر خودساختہ پابندی پر عمل درآمد نہیں کرے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹریٹجک اسلحوں کا مطلب انٹرکانٹی نینٹل بیلسٹک میزائل یا آبدوز سے چھوڑے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کی جدید ترین اقسام ہوسکتا ہے۔تاہم یہ تازہ ترین آزمائشیں بظاہر اقرارکردہ اسٹریٹجک اسلحوں کے زمرے میں نہیں آتی  ہیں۔شمالی کوریا کی فوجی کارروائیوں کا اکثر وبیشتر ملک اور بیرون ملک زیادہ سے زیادہ سیاسی اثر پڑتا ہے۔ کم کے اپنے عوام کے لیے ان پروجیکٹ کا مقصد بیرونی خطرات سے لیتے ہیں اور اپنی سرحدوں سے دور پیونگ یانگ کی ان کارروائیوں کا مقصد عالمی رڈارپرواپسی کی کوشش سے لیا جاتاہے۔

حال میں جنوبی کوریا ،جاپان اور امریکہ مہلک کورونا وائرس سے لڑنے میں مصروف ہیں اور ان کے پاس شمالی کوریا کی چال بازیوں کی طرف توجہ دینے کا وقت نہیں ہے۔ہوسکتا ہے کہ شمالی کوریا پروجیکٹائلس داغے جانے کی کارروائیوں سے امریکہ ، جنوبی کوریا اور جاپان پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے تاکہ وہ اس کے خلاف بڑے پیمانے پر عائد پابندیاں اٹھالے۔پیونگ یانگ کو توقع ہے کہ امریکی صدر ڈونل ٹرمپ جو اس وقت صدارتی انتخابات میں الجھے ہوئے ہیں، اس کو کچھ رعایتیں دے سکتے ہیں۔

ایک مستحکم ،محفوظ اور پرامن جزیرہ نما کوریا نیز سی آف جاپان کا بحری خطہ ہندوستان کے اسٹریٹجک مفاد میں ہے۔ یہ ہند -بحرالکاہل  حکمت عملی کی بلارکاوٹ ترقی کے لیے بھی ضروری ہے، جو گزشتہ چند برسوں سے لگاتار ترقی پذیر ہے۔