مارچ کے اوائل سے افغانستان میں تاریخ ساز تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ جنگ سے

متاثرہ اس ملک میں، طویل مدت سے متوقع امن کی بحالی کے لئے، 29 فروری کوامریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد، توقع تھی کہ افغان معاشرے کے انتہا پسند عناصر،طالبان کے ساتھ مذاکرات میں افغانستان کی جمہوری حکومت متحد ہو کر امن کے خواہاں افغان عوام کی نمائندگی کرے گی۔

تاہم،افغانستان کے صدارتی انتخابات کے نتائج کے بعد، وہاں شدید اختلافات ظاہر ہورہے ہیں۔ان کی وجہ سے نہ صرف افغان عوام بلکہ ان  بیرونی طاقتوں کے درمیان بھی نا امیدی پیدا ہوگئی ہے جو کابل میں موجودہ سیاسی تنازعے کے جلد از جلد پرامن حل کےتلاش کی کوشش میں ہیں۔

گذشتہ سال منعقدہ صدارتی انتخابات میں، افغانستان کے انتخابی کمیشن نے موجودہ صدر اشرف غنی کی فتح کا اعلان کیا تھا۔لیکن اشرف غنی کی فتح کے سرکاری اعلان کو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی زیر قیادت حکومت کی ایک دوسری طاقتور جماعت نے چیلنج کردیا۔ دوسری مدت کے لئے، اشرف غنی کو بطور صدر مسترد کرتے ہوئے، ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے اپنے آپ کو ملک کا اگلا صدر قرار دیتے ہوئے ایک متوازی حلف برداری تقریب  بھی منعقد کرڈالی۔ اس سے کابل کی برسراقتدار حکومت کو نہ صرف دھچکا پہونچا بلکہ افغانستان کی جمہوری حکومت کے اتحاد پر بھی ایک سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا ہے۔

موجودہ صدر اشرف غنی نے مبینہ طور پر، افغان حکومت  کے چیف ایگزیکیوٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے سامنے اختیارات کی تقسیم کا ایک فارمولا پیش کیا ہے۔جب تک افغان حکومت کے یہ دونوں طاقتور گروپ، طالبان رہنماؤں کے انتہا پسند ایجنڈے کے خلاف متحد نہیں ہوتے، افغانستان کے مستقبل پر غیر یقینی صورتحال کے بادل چھائے رہیں گے۔

ان اعلیٰ افغان رہنماؤں کے درمیان اختلافات سے، 10 مارچ سے شروع ہونے  والی بین افغان بات چیت خطرے میں پڑسکتی ہے۔ ایسے وقت میں جب کابل کی جمہوری حکومت سے مضبوط اتحاد کی توقع کی جارہی تھی، ان کے شدید اختلافات سے ملک پر حکومت برقرار رکھنے کا ان کا دعویٰ کمزور پڑ جائے گا۔افغان عوم کو اپنے ہی ملک میں حکومت کی تشکیل کی خاطر اپنے نمائندوں کے انتخاب کا موقع دینے بعد افغان حکومت وجود میں آئی تھی۔گذشتہ دو دہائیوں میں ، افغان عوام، خصوصاً خواتین نے دوسرے آزاد معاشروں کی طرح  آزادی کا لطف اٹھایا ہے۔

تاہم انتہا پسند طالبان ،جو 2001 میں  نائن الیون کے مہلک دہشت گردانہ حملوں کے بعد،  اقتدار سے باہر کردئے گئے تھے، پاکستانی حکام کی حمایت سے مسلسل پھل پھول رہے ہیں۔

طالبان، گذشتہ دو دہائیوں سے کابل  کی جمہوری حکومت کے تحفظ کے لئے متعین امریکی افواج کی طاقت کو چیلنج کرتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ 29 فروری کو امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے کے بعد بھی وہ  مزید امن بات چیت کی راہ میں روڑے اٹکارہے ہیں۔ معاہدے کے ایک دن بعد ہی، طالبان نے اپنے اُن پانچ ہزار افراد کی رہائی کا مطالبہ سامنے رکھ دیا تھا جو دہشت گردی سمیت مختلف جرائم کی پاداش میں مقید ہیں۔ لہٰذا اشرف غنی حکومت کو ان کا یہ مطالبہ فطری طور پر مسترد کرنا ہی تھا۔کابل حکومت، رہائی کے اس مطالبے کو بین افغان مذاکرت سے جوڑنا چاہتی ہے۔

حکومت ہند، گذشتہ دو دہائیوں سے افغان قوم اور معاشرے کی تشکیلِ نو کے لئے نمایاں کردار ادا کرتی رہی ہے۔ نئی دہلی حکومت ہمیشہ سے ہی ایسی پیش قدمیوں کی حمایت کے لئے پرعزم رہی ہے جس سے امن اور استحکام کو تقویت ملے اور جو افغان عوام کی زیر قیادت اور ملکیت میں کی جائیں۔ ہندوستان نے، افغانستان میں جاری تعطل پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے، امن کی بحالی کے لئے افغان عوام کی خواہشات کی حمایت کے لئے اپنی عہد بستگی کا واضح طور پر اظہار کیا ہے۔ افغانستان میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر رائے زنی کرتے ہوئے، ہندوستانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ، افغانستان کے ایسے پرامن، جمہوری اور خوشحال مستقبل کے لئے افغان حکومت اور عوام کی ممکنہ حمایت جاری رکھے گی جس میں افغان معاشرے کے تمام طبقات کے مفادات کا تحفظ کیا جائے۔ نوّے کی دہائی کے اوائل میں ، اس ملک سے سوویت یونین کے نکلنے کے بعد،جنگ سے تباہ  اس ملک کی تشکیل نو کے لئے، ہندوستان نے پچھلے 18 برسوں میں تین بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے۔ ملک کی تشکیلِ نو کےلئے ہندوستان کے نمایاں کردار کی وجہ سے،افغان عوام اس سے بے حد محبت کرتے ہیں۔