17.03.2020

ملک کی بد ترین معیشت کورونا وائرس سے زیادہ خطرناک۔ شہبازشریف

کرونا وائرس کے مریضو ں کی تعداد میں تیزی سے  اضافہ کے سبب جہاں پورے پاکستان میں کھلبلی مچی ہوئی ہے وہیں اپوزیشن جماعتوں نے کرونا وائس کو معیشت سے جوڑ کر حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔پاکستان مسلم لیگ نواز(پی ایم ایل این) کے صدر اور حزب اختلاف کے قائد محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ ملک کی بد ترین معاشی صورتحال کورونا وائرس سے زیادہ خطرناک  ہے ،انہوں نے حکومت پرکوروناوائرس سے نپٹنے  کے لئے قومی حکمت عملی کی تیاری میں تاخیر کا  الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر بڑھتے معاشی خطرات کو مدنظر رکھ مجموعی قومی پالیسی بنانے  کی ضرورت ہے ۔نوائے وقت کی رپورٹ کے مطابق محمد شہبازشریف نے اپنے بیان میں  کہا کہ کورونا وائرس اور معاشی امور میں حکومت نے وہی غلطی کی جو ڈالر اور روپے کی قدر سے متعلق کی،انہوں نے کہا کہ 12 دن میں 60 کروڑ ڈالر کی رقم کا ملک سے نکل جانا ہمارے خدشات کی تصدیق ہے ۔عالمی سطح پر 9 ٹریلین ڈالر ڈوبنے کے اثرات کا پاکستان کے تناظر میں گہرا تجزیہ اور سنجیدہ حکمت عملی درکار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی آئی ایم ایف سے حماقت پر مبنی ڈیل کورونا کی صورتحال میں ہماری مشکل مزید بڑھائے گی ،پاکستان کی سٹاک ایکسچینج اب تک 10 فیصد پہلے ہی گر چکی ہے، آنکھیں نہ کھولی گئیں توناقابل تلافی نقصان ہوگا،دنیا کورونا اور معیشت کی بدحالی سے لڑ رہی ہے  اورہماری حکومت میڈیا اور اپوزیشن سے لڑ رہی ہے ،ہاٹ منی کی حماقت پر چیخنے چلانے پر حکومت کی ضد، ہٹ دھرمی اور تکبر غالب رہا، آج قوم نقصان اٹھارہی ہے ،پانچ منٹ میں کے ایس ای 30انڈیکس کا 4 فیصد گرنا خطرناک علامت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا پر وزیراعلی سندھ اور دیگر لوگ توجہ دلاتے رہے لیکن عمران کی آنکھ نہ کھلی ،صورتحال مزید بگڑنے پر اب ہاتھ پائوں مارے جارہے ہیں ،انہوں نے خبردار کیا کہ باتوں سے نہ تومعیشت چل سکتی ہے اورنہ کورونا سے پیدا شدہ صورتحال پر قابو پایا جاسکتا ہے –

دوسری جانب قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی حزب اختلاف کی جماعتو ں نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے، اس نے عالمی طور پر وباء کی شکل اختیار کرنے والے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے اطمینان بخش اقدامات نہیں اٹھائے ہیں۔ اپوزیشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ  اس معاملے پر ایوان کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے ۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے مطابق کرونا وائرس پورے ملک کو لپیٹ میں لے رہا ہے لیکن بدقسمتی سے حکومت کی کوئی جامع قومی پالیسی سامنے نہیں آئی ہے ، انہوں نے کہا کہ وائرس کے باعث پوری دنیا میں بحرانی کیفیت چھائی ہوئی ہے لیکن ملک میں اس حوالے سے کوئی خاص کوششیں وقوع پذیر ہوتنظر نہیں آرہی ہیں۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ اس معاملے پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس ہونا چاہیے تا کہ اس بات کا فیصلہ کیا جائے کہ اس وائرس کا مقابلہ کس طرح کریں جس کے لیے ملک کو اکٹھا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں موجود سیاسی تقسیم سے مسئلے حل نہیں ہوں گے۔ اس لیے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر صحت ایوان میں آکر آگاہ کریں کہ حکومت کیا اقدامات اٹھا رہی ہے کیوں کہ یہ بیماری چھپی رہتی ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کورونا وائرس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بروقت اقدامات نہیں اٹھائے گئے ۔پاکستان میں یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا تھا جب ہم نے ووہان میں پھنسے طلبا کے لیے آواز اٹھائی تھی ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ ایئرپورٹس پر سکرینڈ کیے جانے والے مسافروں کے حقیقی اعدادو شمار اور تفصیلات سے ایوان کو آگاہ کریں۔ راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ ہم سیاست دان لوگوں سے ملاقاتوں سے بچ نہیں سکتے تاہم ایوان کو معمول کی کارروائی منسوخ کرتے ہوئے اس مسئلے کو اٹھانا چاہیے ۔اسی معاملے پر بات کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن قومی اسمبلی آغا حسن بلوچ نے کہا کہ حکومت بلوچستان ملک بھر میں کرونا وائرس پھیلانے کی ذمہ دار ہے۔ آغا حسن نے ایران سے آنے والے افراد کو چیک کرنے کے لیے ’مناسب اقدامات نہ اٹھانے‘ پر صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’کیا ہوگا اگر وائرس ہمارے ساتھ سفر کرتا ہوا قومی اسمبلی تک آ پہنچے۔

 

۔ جنگ گروپ ایڈیٹر انچیف کیس میں نواز شریف کو سمن

نیشنل اکأونٹبلیٹی بیورو (نیب )نے جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف شکیل الرحمان کے معاملے میں سابق وزیر اعظم اور نواز شریف کے نام سمن جاری کرانہیں 20  مارچ  کو نیب کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ڈأون کی رپورٹ  کے مطابق نیب کا الزام ہے کہ نواز شریف نے 1986میں شکیل الرحمان کو 54 کینل زمین غیر قانونی طور سے لیز پر دی تھی۔ نیب اس سلسلے میں ان کا بیان رکارڈ کریگی ۔قابل ذکر ہے کہ نواز شریف ان دنوں علاج کے سلسلے میں لندن میں ہیں ۔منی لأنڈرنگ معاملے میں انہیں طبی بنیا د پر ضمانت ملی ہوئی ہے۔پانچ دن قبل نیب نے  34 سالہ پرانے کیس میں جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف کو گرفتار کیا ہے ۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 54 کینل زمین غیر قانونی طور سے حاصل کی تھی ۔جب یہ زمین انہیں ملی تھی تو نوازشریف پنجاب کے وزیر اعلی تھے۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کے خلاف  عدالت پہونچ گئی ہیں۔مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنی  مشترکہ درخواست میں کہا ہے کہ نیب نے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے سربراہ کو گرفتار کیاہے۔درخواست گزاروں میں سابق وزیراعظم شاہد خان عباسی، سابق وزیر داخلہ احسن اقبال، شاہدہ اختر اور مولانا عبدالاکبر چترالی شامل ہیں۔پٹیشن میں وفاق پاکستان، چئیرمین پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اور چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) کو فریق بنایاگیا ہے۔

اپوزیشن نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت مفاد عامہ میں دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آزادی اظہار رائے، اطلاعات تک رسائی آئین کے آرٹیکل17 کا لازمی حصہ ہے اور میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہےجبکہ آزاد عوام کی حکومت کی بنیاد اظہار رائے کی آزادی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ میر شکیل الرحمان پر دباؤ تھا کہ نیب پر تنقید نہ کریں، نیب کو جیو نیوز کے اینکر شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام پر خاص طورپر اعتراض تھا لیکن میر شکیل الرحمان نے غیرقانونی حکم نہ مانا۔ دستاویزات نیب کو دیں لیکن انہیں گرفتار کرلیاگیا۔ 

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کیبل آپریٹرز نے وفاقی حکومت اور پیمرا کے حکم پر جیو کی نشریات دکھانا بند کردیں، جیو نیوز کی نشریات معاون خصوصی برائے اطلاعات کی پریس کانفرنس کے بعد بندکی گئیں، جیو پہلے جس نمبر پر نشر ہورہا تھا، اسے بھی تبدیل کردیاگیا۔ لہٰذا موجودہ حالات میں سوائے عدالت کی داد رسی کے اور کوئی ذریعہ دستیاب نہیں ہے۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کو غیرقانونی قرار دے، جیو نیوز چینل کی پرانے نمبرزپر نشریات فوری طورپر بحال کی جائیں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے لیے نگرانی کمیٹی بنائی جائے۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں جنگ اور جیو نیوز کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کو نیب نے لاہور آفس میں پیشی کے دوران گرفتار کرلیا تھا۔ میر شکیل الرحمان کو نیب نے پرائیوٹ پراپرٹی کیس میں گرفتار کیاہے۔میر شکیل الرحمان کی اہلیہ نے بھی خاوند کی گرفتاری کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہےجس میں چیئرمین نیب، ڈی جی نیب، احتساب عدالت کے جج اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ نیب نے میر شکیل الرحمان کو گرفتار کرتے ہوئے 2019ء کی بزنس مین پالیسی کی خلاف ورزی کی اور ڈی جی نیب نے گرفتاری سے قبل چیئرمین نیب سے قانونی رائے نہیں لی۔

درخواست  میں میر شکیل الرحمان کی احتساب عدالت سے جسمانی ریمانڈ کی منظوری پر مؤقف اپنایا گیا کہ جج نے جسمانی ریمانڈ کے تحریری حکم میں ریمانڈ کی وجوہات بیان نہیں کیں۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی اور طارق سلیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے میر شکیل الرحمان کی اہلیہ کی درخواست پرسماعت کی۔ عدالت نے ریمارکس دیا کہ کہ عدلیہ اور صحافت ریاست کے دو بنیادی ستون ہیں، ان کو ہلانے کی اجازت نہیں دیں گے، شکایت کی تصدیق کےابتدائی مرحلے میں گرفتاری کا کیا جواز تھا؟ چیئرمین نیب نے شکایت پر ہونے والی رپورٹ دیکھے بغیر وارنٹ کیسے جاری کردیے؟ ہمارے سامنے وزیراعظم ہو یاعام شخص یا عدالت قانون کےمطابق چلے گی۔بعد ازاں سماعت کے بعد عدالت نے میر شکیل الرحمان کو روزانہ میڈیکل چیک، گھریلو کھانا، ادویات، واک، فیملی سے ملاقات اور اخبارات فراہم کرنے کی اجازت دے دی۔                           

۔ 13ججو ں کو زبردستی ریٹائرمنٹ دینے کا فیصلہ کالعدم

پاکستان سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا میں لوور کورٹ کے 13  ججوں کو زبردستی ریٹائرمنٹ دینے کے فیصلے کو کالعدم اورباطل قراردے  دیا ہے ۔دی نیشن کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس گلزار احمد کی قیادت والی سہ رکنی بنچ نے خیبر پختونخوا سبورڈینیٹ کورٹ کے 13  ججوں کو ریٹائرمنٹ دینے کے معاملے کی سماعت کی اور اسے جوڈیشیل سروس ٹریبونل کو اس ہدایت کے ساتھ واپس بھیج دیا کہ وہ تین ماہ کے اند ر برطرف ججوں کے منفی سالانہ کنفیڈینشیل رپورٹ کا فیصلہ کرے۔واضح ہو کہ اپریل  2017 میں جسٹس یحیٰ آفریدی نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر 13 جوڈیشیل افسروں کو بر طرف کر دیا تھا۔ان افسروں میں ڈسٹرکٹ اور سیشن جج اور سات ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشن جج شامل ہیں۔انہیں ڈسپلن شکنی کا الزام لگا کرعہدے سے  ہٹایا گیا تھا۔کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجا زالحسن نے کہا کہ جو ڈیشیل ٹریبونل برطرف ججوں کے اثا ثے کی بھی جانچ کرے کیو نکہ ان کے اثاثے میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دو برس میں تین بار ان کی دولت میں اضافہ ہوا ہے اور یہ 6 ملین سے بڑھکر 35 ملین ہو چکی ہے ۔یہ اس وقت ہوا جب وہ سول جج کے عہدے پر پہونچے۔

 

۔ آل پاکستان آڈٹ اینڈ اکا   ٔونٹس کمبائنڈ ایسوسی ایشن کی جانب سے ملک گیرہڑتال کی دھمکی

اکأونٹنٹ جنرل پاکستان (اے جی پی آر )کے ملازمین پر مشتمل جماعت آل پاکستان آڈٹ اینڈ اکا   ٔونٹس کمبائنڈ ایسوسی ایشن (اے پی اے اے سی اے )نے وارننگ دی ہے کہ اگر حکومت نے طویل عرصےسے جاری مطالبات فوراً تسلیم نہیں کئے تو وہ ملک گیر ہڑتال شروع کر دیں گے۔ڈیلی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اے پی اے اے سی اے کی جانب سے پریس کے لئے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اے پی اے اے سی اے نے تفریق اور دیگر عدم مساوات کو لیکر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا تھا لیکن اس کے باوجود ان کی کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ۔پریس بیان کے مطابق اے پی اے اے سی اےچئیرمین انور شاہ نے اے جی پی آر دفتر میں موجود افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ مظاہرہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تنخواہ اور پنشین میں اضافے کا مطالبہ تسلیم نہیں کر لیا جاتا۔انہوں نے پین ڈأون ہڑتال کی وارننگ دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر مالیات حافظ شیخ سے کہا کہ وہ اس وارننگ کو نظر اندازنہ کریں اور اے جی پی آر میں جو تفریق برتی جارہی ہے ،اسے فوراً ختم کریں ورنہ ہڑتال کی صورت میں حکومت کو ہی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

۔ پاکستان کی 23فیصد آبادی گردے کے امراض میں مبتلا

پاکستان کی کل آبادی کا 23فیصد حصہ گردوں کی بیماری میں مبتلا ہے اور اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی ہر 5 میں سے 1 عورت اور ہر 8 میں سے 1 مرد گردوں کی بیماری میں مبتلا ہے جس کی بڑی وجہ لوگوں کا پانی کم پینا اور غیر معیاری غذاؤں کا استعمال ہے-جسارت کی رپورٹ کے مطابق گردوں سے متعلق آگاہی کے عالمی دن کے موقع پر نیشنل فورم فار ہیومن رائٹس آف پاکستان (این ایف ایچ آر پی) کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عبدالرحیم شیخ، ڈاکٹر محمد یوسف اور ڈاکٹر مریم اسلم نے اپنےبیان میں  کہا کہ پاکستان اس وقت دنیا میں گردوں کے امراض میں آٹھویں نمبر پر آتا ہے اور ہر سال پاکستان میں اس بیماری سے 20 ہزاراموات واقع ہوتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات قابل توجہ ہے کہ جب تک گردے 80سے 90 فیصد ناکارہ نہ ہو جائیں تب تک مریض کو پتا بھی نہیں ہوتا۔ لوگوں کو چاہیے کہ نمک،مرچیں اور تلی ہوئی چیزوں سے خاص پرہیز کریں جبکہ پانی زیادہ سے زیادہ اور پھل و سبزیوں کا استعمال کریں اور روزانہ ہلکی پھلکی ورزش کو معمول بنائیں۔ انہوں نے انسانی زندگی کو صحت مند بنانے کے لیے حکومت سے مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ بھی کیا ۔