19.03.2020

۔ پاکستان میں کورونا سے2 اموات،نئے کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ۔

پاکستان میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد دو ہوگئی ہے، جاں بحق ہونے والے دونوں افراد کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے۔روزنامہ دی نیوز اس حوالے سے تحریر کرتا ہے کہ کورونا وائرس سے مردان اور پشاور میں مرنے والوں کی عمریں اور 50 اور 36 سال ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں خیبرپختونخوا کے وزیر صحت تیمور جھاگڑا نے صوبے میں 2 اموات کی تصدیق کی ہے۔ 

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے  صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پاکستان میں کورونا وائرس سے پہلی موت کی تصدیق کی تھی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا  تھا کہ گہرے دکھ کے ساتھ پاکستان میں کورونا سے پہلی موت کی تصدیق کررہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مردان کا 50 سالہ شخص حال ہی میں عمرہ کرکے واپس وطن پہنچا تھا اور اس میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔پاکستانی  وزیراعظم کے معاون خصوسی نے مزید کہا کہ متاثرہ شخص کو بخار، کھانسی اور سانس لینے میں تکلیف تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ انتقال کرنے والے شخص سے رابطے میں رہنے والوں کی اسکریننگ جاری ہے، موت پر اہلخانہ سے تعزیت کرتے ہیں۔واضح ہو کہ اس سے قبل ایک بیان میں ڈاکٹر ظفر مرزا نے گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے ہوئی  موت کی تردید بھی کی تھی۔

جبکہ اس حوالے سے گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللّٰہ فراق نے جیو نیوز سے گفتگو میں واضح انداز میں بتایا تھا کہ مریض کا انتقال کورونا وائرس سے ہوا ہے۔لیکن ظفر مرزا  موت کی تردید کر رہے تھے ۔اس کے علاوہ پورے پاکستان میں 304 کورونا وائرس کے مریضوں کی تصدیق ہوگئی ہے۔اس کے علاوہ تفتان سے سکھر آنے والے 151 افراد کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد سندھ میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 208 تک پہنچ گئی۔ کراچی میں کل 19 مریض سامنے آگئے، اور شہر میں 56 مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہوگئی۔

اس کے ساتھ ساتھ پنجاب میں 33، خیبرپختونخوا میں19، بلوچستان میں 16، گلگت بلتستان میں 13 جبکہ اسلام آباد میں 4 افراد زیرعلاج ہیں۔ تفتان سے مزید 757 زائرین پر مشتمل قافلہ سکھر میں قائم قرنطینہ کیئر سینٹر پہنچ گیا ہے۔

لیبر کالونی سکھر میں قائم سینٹر میں پہلے سے 293 افراد موجود تھے، جن کی تعداد بڑھ کر 1050 ہوچکی ہے۔جبکہ 

پنجاب بھر میں تفریحی مقامات بند کردیے گئے ہیں اور صو بائی حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی ایمرجنسی کے لیے عوام  تیار ہے۔

۔ تفتان کے گندے قرنطینہ کیمپس میں متاثرین کے ساتھ کیا جارہا ہے  جانوروں سے بھی بدتر سلوک ،روزنامہ جنگ کی رپورٹ ۔

 ایران سے پاکستان پہنچنے والے سیکڑوں زائرین تفتان کے گندے قرنطینہ کیمپوں میں پھنسے ہیں جہاں محدود میڈیکل کیئر ، فلش کے بغیر ٹوائلٹس اور گندا ماحول کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں مددگار ثابت ہورہا ہے ۔روزنامہ جنگ میں شائع خبر کے مطابق فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے تفتان کیمپس کے موجودہ اور سابق قرنطینہ کئے گئے افراد نے کہا کہ کیمپس میں متاثرین سے جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جارہا ہے ۔  

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرموبائل فون کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے ایک متاثرہ شخص نے بتایا کہ میں گزشتہ 7؍ روز سے وہ ایک ہی ماسک استعمال کررہا  ہے ، جب اسے یہاں لایا گیا تھا تو اسے کورونا وائرس نہیں تھا اور اب کوئی حیران کن بات نہیں کہ اب اسے کورونا ہوگیا ہو۔

 ان کیمپوں میں بیمار اور صحت مند زائرین کو علیحدہ رکھنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی جو عملاً جانوروں سے بھی بدتر سلوک ہے ۔

 عینی شاہدین کا کہنا ہےکہ بہتر سہولتوں کیلئے کیمپوں میں قرنطینہ کئے گئے افراد نے مظاہرہ بھی کیا جبکہ بعض افراد وہاں سے فرار بھی ہوگئے ۔بہرحال اگر پاکستان میں اسی قسم کے حالات رہے تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطہ کو بری طرح متاثر کر سکتے  ہیں۔۔

۔ چین سے واپسی کے بعد شاہ محمود قریشی  کا خود کو آئسولیشن میں رکھنے کا فیصلہ

چین سے واپسی پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہانہوں نے کورونا وائرس کے خدشات کے پیش نظر خود کو آئسوليشن میں رکھنے کا فيصلہ کیا ہے ۔ایکسپریس نیوز کی خبر کے مطابق شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ماہرین نے 5 دن بعد کورونا ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیا ہے جب کہ گھر والے مجھ سے بہت دور ہيں، خود بھی نہيں چاہتا بچوں سے ملوں، کورونا سے متعلق احتياط برتنی چاہيے۔پاکستانی 

وزیرخارجہ نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ایران ۔پاکستان  بارڈر پر کورونا سے بچاو کے انتظامات ناکافی تھے، زائرين کی واپسی کا فيصلہ انتہائی مشکل تھا، سعودی عرب سے عمرہ زائرين کے معاملے پر بات ہوئی ہے، عمرہ زائرين کی وقفے وقفے سے واپسی کی درخواست کی  گئی ہے ۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کورونا سے مقابلے کے لئے مکمل لاک ڈاون سے معيشت پر جو اثر پڑے گا اُسے بھی ديکھنا ہے، عوام کو اعتماد دلانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کروڑوں لوگوں کو سنبھالنا کسی کے بس کی بات نہيں ہے۔

پاکستانی وزیرخارجہ نےبتایا  کہ چین سے آنے پر صدر عارف علوی اور وفاقی وزیر اسد عمر کا کورونا ٹیسٹ ہوا ہے ، ماہرین نے انہیں بھی کورونا وائرس ٹیسٹ کا مشورہ دیا ہے، انہوں نے کہا کہ وہ  بھی کورونا وائرس کا ٹیسٹ کروائنگے ، تاہم اگر وہ منفی بھی ہوئے تب بھی رضاکارانہ طور پر ’خود ساختہ تنہائی‘ میں رہنے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ شاہ محمود قریشی گزشتہ دنوںپاکستانی صدر مملکت کے ہمراہ 2 روزہ دورہ چین سے واپس آئے ہیں۔

۔ پی ٹی آئی رہنما نے جو اطلاعات شئیر کیں وہ مصدقہ نہیں،مرتضی وہاب کا الزام۔

 سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے دعویٰ کیا تھا  کہ بڑی تعداد میں سندھ حکومت کو ٹیسٹنگ کٹس دی ہیں، لیکن انہوں نے جو اطلاعات شیئر کیں وہ مصدقہ نہیں تھیں۔ڈیلی ٹائمز کی خبر کے مطابق مرتضیٰ وہاب نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران سندھ میں کورونا وائرس سے متعلق صورتحال پر کہا کہ 143 کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے جس کے بعد صوبے بھر میں مجموعی تعداد 181 ہوگئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ 143 لوگ تفتان سے سکھر کی قرنطینہ میں منتقل کیے گئے تھے۔

مرتضی وہاب نے بتایا کہ کورونا سے متاثرہ افراد کو آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے، جبکہ دو مریض صحتیاب ہونے کے بعد اسپتال سے ڈسچارج ہوگئے ہیں۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ تفتان بارڈر سے آنے والے سکھر قرنطینہ میں رکھے گئے افراد میں سے 50 فیصد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں ، جبکہ اب تک سندھ میں کورونا کے کل 844 ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ آغا خان ، ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس اور انڈس اسپتال میں سرکاری سطح پر کورونا کے ٹیسٹ کئے جارہے ہیں ۔ مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا کہ اب تک وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ  کو صرف 200 کٹس ملی ہیں جو وفاق نے 100 کٹس آغا خان اور 100 اوجھا کیمپس کو دی تھیں۔ مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت 10 ہزار ٹیسٹ کی کٹس درآمد کر چکی ہے۔

مرتضٰی وہاب نےاس بات کا  اعتراف کیا کہ کچھ ریسٹورانٹ اور دکانیں پابندی کو نظر انداز کر رہے ہیں، جس کے لئے پولیس سے کہا  گیا ہے کہ پابندی پرعمل درآمد کروانے کے لیے اگر سختی کی ضرورت ہو تو سختی کریں۔لیکن پہلے سے ہی مہنگائی کی مار اور کورونا کا ڈر جھیل رہے عوام کو اب پولس کی پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑیگا تو عوام کا پرسان حال کون ہوگا۔

۔ میڈیا کو پابندیوں میں جکڑنے سے حکمران اپنی نااہلی نہیں چھپا سکتے‘ امیر العظیم کا بیان۔۔

جماعت اسلامی  پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل  امیرالعظیم نے کہا ہے کہ پاکستانی قوانین کے مطابق اظہار رائے کی آزادی کو برقرار رہنا چاہئے ،میڈیا کو پابندیوں میں جکڑنے سے وفاقی و صوبائی حکمران اپنی نااہلی نہیں چھپا سکتے۔ ایسی پابندیاں کسی صورت قابل قبول نہیں۔
جماعت اسلامی ایسے اقدامات کے خلاف میڈیا کے ساتھ ہے۔ جمہوری طرز عمل کی حوصلہ شکنی سے سیاسی بحران میں بدترین اضافہ ہوگا۔ ریاستی اداروں کی جمہوری شناخت برقرار رہنی چاہئے۔ روزنامہ جنگ کی خبر کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع راولپنڈی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔۔ امیرالعظیم نے کہا کہ آج ایک میڈیا گروپ کو دیوار سے لگایا گیا ہے اگر اسے یہاں نہ روکا گیا تو یہ سلسلہ بڑھ سکتا ہے۔ گزشتہ حکمرانوں کی طرح تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کی بھی یہی خواہش ہے کہ میڈیا ان کے اشاروں پر چلے ان کی غلطیوں کو بے نقاب نہ کرے جس سے ان کی سبکی ہوتی ہے۔ لیکن ایسا کسی صورت قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے مفادات کیلئے کسی میڈیا گروپ کونشانہ بنانہ کسی طرح موزوں نہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں حکومت و اپوزیشن‘ بیوروکریٹس اور کاروباری شخصیات سمیت ہر اس فرد کا احتساب کیا جائے جس نے ملکی و عوامی دولت کو لوٹا اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے۔ .  

۔ انسانی حقوق کمیشن نے کہا موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیاں مایوس کن ۔۔

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے عالمگیر وبا کووڈ-19 کے نتیجے میں ملکی ہیلتھ ایمرجنسی کے غریب، پسے ہوئے لوگوں، خاص کر دیہاڑی دار مزدروں اور ورکرز پر پڑنے والے شدید منفی اثرات پر نہایت تشویش کا اظہار کیا ہے۔دی نیوز کی خبر کے مطابق ایچ آر سی پی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی ادارے، دفاتر، دوکانیں اور کاروبار بند ہونے سے گھر سے کام کرنے کی سہولت صرف وائٹ کالر (دفتری یا انتظامی امور انجام دینے والے) تعلیم یافتہ ملازمین کو دستیاب ہے۔ کم آمدنی والے گروہ اگر بیماری سے بچ بھی جاتے ہیں تو اُنہیں خوراک کے شدید عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سماجی تحفظ کے انتظامات مثلاََ تنخواہ سمیت چُھٹی اور طبی فوائد کی کمی کا مطلب یہ ہے کہ مزدوروں کی بہت بڑی تعداد خاص طور پر اس بحران کی زد میں ہے۔ایچ آر سی پی موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے بہت زیادہ مایوس ہے کیونکہ یہ پالیسیاں آبادی کے ایک بڑے حصے کی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ترجیحات تبدیل کی جائیں اور استحکام اور پیداوار کے نام پر لوگوں اور اداروں کے لیے شروع کی گئی رعایتی اسکیمیں ترک کر کے عام شہریوں کی فلاح و بہبود کو منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جائے۔

۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا سلسلہ جاری100 انڈیکس 1700سے زائد پوانٹس گرا۔۔۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا سلسلہ جاری ہے اور کاروباری ہفتے کے چوتھے روز مسلسل بدترین مندی کے باعث کاروبار کو پھر روک دیا گیا۔روزنامہ ڈان اس حوالے سے رقمطراز ہے کہ جمعرات کو کاروبار کا آغاز ہوا تو ایک ہفتے سے زائد عرصے سے جاری مندی کا رجحان ختم نہ ہوسکا اور ابتدا میں ہی کے ایس ای 100 انڈیکس ایک ہزار 752 پوائنٹس گر کر 28 ہزار 664 پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔

کے ایس ای 100 انڈیکس کے ساتھ ہی 30 انڈیکس میں بھی 6.92 فیصد یا 916 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے باعث کاروبار کو 45 منٹ کے لیے روک دیا گیا۔

یہاں یہ مدنظر رہے کہ یہ رواں ہفتے میں تیسری جبکہ 2 ہفتوں میں چھٹی مرتبہ ہے کہ مندی کے باعث کاروبار کو معطل کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ بورس رولز کے مطابق کے ایس ای 30 انڈیکس 4 فیصد یا اس سے زائد گر جائے اور 5 منٹ تک برقرار رہے تو کاروبار کو 45 منٹ کے لیے روک دیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کے ایس ای 100 انڈیکس 2 ہزار 200 پوائنٹس کم ہونے کے بعد 30 ہزار 416 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

گزشتہ روز جب کاروباری دن کا آغاز ہوا تھا تو تقریباً ایک گھنٹے بعد 1682 پوائنٹس کی کمی کے بعد کاروبار کو معطل کرنا پڑا تھا۔

منگل یعنی 17 مارچ کو بھی سرمایہ کاروں میں کورونا وائرس کے حوالے سے بے چینی کے باعث شدید مندی کا رجحان جاری رہا تھا اور ایک ہزار پوائنٹس کی کمی کے ساتھ کے ایس ای-100 انڈیکس 32 ہزار 650 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

اگر رواں ہفتے کے آغاز کی بات کریں تو پیر کو کاروبار کا اختتام چار ماہ کی کم ترین سطح 2 ہزار 416 پوائنٹس کے ساتھ 33 ہزار 644 پوائنٹس پر ہوا تھا جبکہ اسی روز کے ایس ای 100 انڈیکس ایک ہزار 651 پوائنٹس گرنے پر کاروبار روکا گیا تھا۔قابل ذکر ہے کہ پیر کو دیکھی جانے والی شدید مندی کے باعث مارکیٹ سے 382 ارب روپے کی بھاری رقم ضائع ہوگئی تھی۔