20.03.2020

کوروناوائرس کے تناظر میں اتوار کو،جنتا کرفیو‘، عوام گھبراہٹ میں ضرورت سے زیادہ سامان نہ خریدیں: وزیراعظم مودی

۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کووڈ۔19 پھیلنے کے تناظر میں اتوار کو جنتا کرفیو کا اعلان کیا ہے۔ اِس پر لوگوں کو خود ہی عمل کرنا ہوگا اور خود نافذ کرنا ہوگا۔ اِس کا اطلاق اتوار کو صبح سات بجے سے رات نو بجے تک ہوگا۔ آکاشوانی کی خبروں کے مطابق جناب مودی نے کہا کہ لازمی خدمات میں کام کرنے والے لوگوں کو چھوڑ کر کوئی بھی اِس عرصے کے دوران اپنے گھر سے باہر نہ نکلے۔ وزیراعظم، کورونا وائرس پھیلنے کے تناظر میں کل شام قوم سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اتوار کو ہی شام پانچ بجے ڈاکٹروں، طبی عملے اور صفائی ستھرائی کے کام سے وابستہ عملے جیسے لوگوں کا شکریہ ادا کریں۔ جناب مودی نے سبھی لوگوں سے یہ درخواست کی کہ وہ آنے والے کچھ ہفتوں میں اپنے گھر سے صرف اُسی صورت میں باہر نکلیں کہ جب ایسا کرنا انتہائی ضروری ہو۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک ہو سکے، گھر سے ہی اپنا کام کریں۔ جناب مودی نے 65 سال سے زیادہ عمر کے بزرگ شہریوں سے بھی زور دے کر کہا کہ وہ آنے والے دنوں میں گھر کے اندر ہی رہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سرکار ضروری اشیاءکی سپلائی کو یقینی بنانے کی خاطر تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ گھبراہٹ میں ضرورت سے زیادہ سامان نہ خریدیں۔وزیر اعظم نے کاروباری برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے ملازمین کی اقتصادی ضروریات کا خیال رکھیں اور اگر وہ کام پر نہیں آ سکتے، تو اُن کی تنخواہ میں کوئی کٹوتی نہ کریں۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ سرکار نے وزیر خزانہ کی صدارت میں ایک ٹاسک فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جو سبھی متعلقہ اداروں اور لوگوں کے ساتھ مِل کر کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت جیسے بڑی آبادی والے ترقی پذیر ملک کیلئے، کورونا وائرس سے نمٹنا آسان کام نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نوویل کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے پختہ عزم اور ضبط و تحمل ضروری ہیں۔

خبروں کے مطابق حکومت نے وضاحت کی ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی اجتماعی منتقلی یا پھیلاؤکے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں اور کووڈ۔انیس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے اہم اقدامات کئے گئے ہیں۔ 

صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت میں جوائنٹ سکریٹری لو اگروال نے کل نئی دلی میں میڈیا کو تفصیل بتاتے ہوئے کہاکہ وزیروں کے گروپ نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی کمرشیل مسافر بردار طیارے کو اس مہینے کی 21 اور 22 تاریخ کے درمیان رات 12 بجے سے کسی بھی دوسرے ملک کے ہوائی اڈے سے بھارت کے کسی بھی ہوائی اڈے کے لیے پرواز نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہدایات اٹھائیس اور انتیس مارچ کی درمیانی شب میں  بارہ بجے تک نافذ العمل رہیں گی۔انہوں نے کہا کہ بسوں، ریلویز، میٹرو اور ہوائی جہازوں کی خدمات میں کمی کرنے اور ان میں سیٹوں کے متبادل بندوبست کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔اِس دوران وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ ملک میں کووڈ -انیس کے کل مریضوں کی تعداد ایک سو تہتر تک پہنچ گئی ہے جبکہ پنجاب میں کورونا وائرس سے متاثرہ ایک شخص کی موت ہوئی ہے جسے اور بھی بیماریاں لاحق تھیں۔ حکومت نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ ایران میں کورونا وائرس سے متاثرہ ایک بھارتی شہری کی بھی موت ہوئی ہے۔ شہری ہوابازی کی وزارت میں جوائنٹ سکریٹری روبینہ علی نے کہا ہے کہ اکیس مارچ کو ایئرانڈیا کے ایک طیارے کو ملن  بھیجا جائے گا جو وہاں پھنسے بھارتیوں کو واپس لائے گا۔ 

بھارت نے کووڈ۔19 سے نمٹنے کیلئے پڑوسی ملکوں کی مدد شروع کی

۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کےمطابق بھارت کو پڑوسی ملکوں سے مدد کرنے کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ عہدیداروں نے کہاہے کہ کورونا وائرس پر سارک ویڈیو کانفرنس کے بعد بھارت نے بھوٹان اور مالدیپ کیلئے وائرس کو پھیلنے سے روکنے کی خاطر تحفظاتی ملبوسات اور دیگر سازوسامان بھیجنا شروع کردیا ہے۔ حکومت نے ویڈیو کانفرنس کے دوران اسلام آباد کے ذریعہ کشمیر کا معاملہ اٹھائے جانےپر یہ کہتے ہوئے سخت نکتہ چینی کی ہے کہ  پاکستان نے اِس موقعے کا غلط فائدہ اٹھایا ہے کیونکہ یہ پورے طور پر انسانی ہمدردری سےمتعلق بات چیت کیلئے تھی۔ اتوار کے روز وزیراعظم نریندرمودی کے ذریعہ کی گئی ویڈیو کانفرنس میں سارک ملکوں نے اِس وبا سے مشترکہ طور پر نمٹنے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا جس کے لئے بھارت نے ایک کروڑ ڈالر کی ابتدائی رقم فراہم کرنے کی پیش کش کی تھی۔  

بھارت اور امریکہ کا شہری ہوابازی کے سیکٹر کو راحت دینے کامنصوبہ

۔ روزنامہ اسٹیٹس مین کی ایک خبر کےمطابق بھارت اور امریکہ نے شہری ہوابازی کی صنعت کیلئے حمایت کا اظہار کیا ہے جو کورونا وائرس سے متاثرہ عالمی معیشت میں بہت بری صورتحال سے گزر رہی ہے۔  اخبار نے رائٹرز کے حوالے سے خبر دی ہے کہ بھارت کی شہری ہوابازی کی وزارت صنعت کو راحت فراہم کرنے کیلئے سو سے 120 ارب روپئے کا پیکیج دینے کا منصوبہ بنارہی ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہواز جہاز بنانے والی دنیا کی دوسری سب سے بڑی کمپنی بوئنگ کو مدد دینے کےمنصوبے کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹ  میں کہا گیا ہے کہ گھریلو ہوابازی کی صنعت کیلئےایک بڑی راحت دیتےہوئے بھارت کی وزارتِ خزانہ، سیکٹر پر عائد بہت سے ٹیکس معاف کرنے کا اعلان کرسکتی ہے۔ دوسری جانب امریکی حکومت نے امریکی ایئرلائنوں کو محفوظ قرض دینے کیلئے پچاس ارب ڈالر کی امداد کی منظوری کیلئے اقدامات کئے ہیں۔ 

اسرائیلی وزیراعظم پر خود کو اقتدار میں رکھنے کیلئے کورونا وائرس کا سہارا لینے کا الزام

اخبار پائینیر کے مطابق اسرائیل میں نوویل کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے جاری مختلف ہنگامی اقدامات کے دوران وزیراعظم نیتن یاہو کو مسلسل ان الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے کہ وہ خود کو اقتدار میں برقرار رکھنے اور ملک کی جمہوری بنیادوں مضبوط کرنے کی خاطر وائرس کے بحران سے فائدہ اٹھارہےہیں۔ زبردست پابندیوں کے دوران، جن سے اسرائیل تقریباً پوری طرح بند ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے، نیتن یاہو نے خود اپنے خلاف فوجداری مقدمات کو ملتوی کرنے کا بندوبست کرلیا ہے۔  اس کے علاوہ انہوں نے اسرائیلی شہریوں کی الیکٹرانک نگرانی کی بھی اجازت دی ہے اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے پارلیمنٹ کے ذریعہ ایسا قانون مرتب کرنے میں بھی رکاوٹ کھڑی کردی ہے جس سے انہیں عہدے سے برطرف کئے جانے کا امکان ہے۔ 

بھارت نے ملیشیا کے ساتھ تعلقات پھر مستحکم کرنے کے اقدامات شروع کئے

۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز کی ایک خبر کے مطابق ملیشیا کے سابق وزیراعظم مأثر محمد کے ذریعہ کشمیر اور شہریت ترمیمی قانون سےمتعلق نکتہ چینی کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان آئی تلخی کے بعد اب بھارت نے ملیشیا کے ساتھ تعلقات پھر بحال کرنے کے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔ ملیشیا میں بھارت کے ایلچی مِردُل کمار نے پیر کے روز ملیشیا کے نئے وزیراعظم محی الدین یاسین اور وزیرخارجہ حشام الدین حسین کے ساتھ میٹنگ کی۔ ایک عہدیدار کے مطابق ان میٹنگوں میں تعلقات کو پھر  واپس ٹریک پر لانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ جناب کمار نے ملیشیا کے نئے وزیراعظم کو جناب نریندرمودی کی طرف سے ایک مبارکباد کا مراسلہ بھی سونپا۔ اُنھوں نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ وزیراعظم نریندرمودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ملیشیا کے وزیراعظم نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کی اپنی شدید خواہش کا اظہار کیا۔ 

پاکستان نے اٹاری- واگھہ سرحد سیل کی، کئی پاکستانی بھارت میں رکنے پر مجبور

۔ روزنامہ ٹریبیون کی ایک خبر کے مطابق پاکستان نے جمعرات کو کووڈ۔انیس کے پیش نظر اٹاری واگھہ سرحد کو سیل کردیا ہے جبکہ کئی پاکستانی شہری جنہیں واپس اپنے ملک جانا تھا، مشترکہ چیک پوسٹ پر ہی پھنسے رہ گئے ہیں۔ کم ازکم چھ پاکستانی کنبوں کو امیگریشن مکمل کرنے کے ضابطے کی اجازت نہیں دی گئی اور اس طرح وہ ہندوستان کی جانب ہی پھنسے رہے۔جس کے بعد ہندوستانی  عہدیداروں نے اُن پر زور دیا کہ وہ بھارت میں اپنے اپنے رشتہ داروں کے پاس لوٹ جائیں اور اگلے احکامات تک انتظار کریں۔ 

اسی اخبار کی ایک اور رپورٹ کے مطابق صحت حکام نے کم ازکم ترالیس افراد کو الگ تھلگ کردیا ہے جو پاکستان سے اٹاری واگھہ سرحد کے راستے بدھ کے روز بھارت پہنچے ہیں۔ پاکستان سے واپس لوٹنے والے اُن افراد کو سوامی وویکانند سینٹر میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ یہ سو بستر والا اسپتال ہے جسے قرنطینہ مرکز میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ 

امریکہ نے متحدہ عرب امارات کی پانچ کمپنیوں پر پابندی عائد کی

۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات میں قائم پانچ کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق اِن کمپنیوں پر مبینہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے یکطرفہ عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے   ایران سے تیل لے جانے کے الزام میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکہ کے محکمہ خزانہ نے کہا ہے کہ اِن کمپنیوں نے ایران کی سرکاری تیل کمپنی سے پچھلےسال لاکھوں میٹرک ٹن تیل خریدا تھا اور اِس سلسلے میں اپنی شناخت چھپائی تھی۔ خاص بات یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات امریکہ کا ایک قریبی حلیف ہے اور ایران کے خلاف امریکی مہم میں بھی اُس کا ساتھی ہے۔ امریکی وزیرخزانہ اسٹیون مینوچن  نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایرانی حکومت پٹرولیم مصنوعات سے حاصل ہونے والے روینیو کو اپنی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے استعمال کرتا ہے۔ وہ ایران کے پاسداران انقلاب کی قدس فورس کا حوالہ دے رہے تھے جس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو امریکہ نے بغداد ہوائی اڈے پر ایک ڈرون حملے کے ذریعہ ہلاک کردیا تھا۔ 

جموں و کشمیر سرکار نے سماجی اور تعلیمی اعتبار سے پسماندہ طبقوں کی بہبود کیلئے ایک کمیشن تشکیل دیا

جموں و کشمیر حکومت نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات کیلئے ایک کمیشن تشکیل دیا ہے۔ یہ کمیشن جموں و کشمیر میں سماجی اور تعلیمی اعتبار سے پسماندہ طبقات، درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل سے متعلق اُمور کا جائزہ لے گا۔ جسٹس جی ڈی شرما کو کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے، جبکہ سابق آئی ایف ایس روپ لال بھارتی اور آئی پی ایس افسر مُنیر احمد خاں کمیشن کے ارکان بنائے گئے ہیں۔ کمیشن، جموں و کشمیر میں کسی بھی طبقے کو سماجی اور تعلیمی اعتبار سے پسماندہ قرار دینے کیلئے پیمانہ مرتب کرے گا۔