ہندوستان میں کووڈ۔19 کے خلاف اقدامات

ایک ہفتے کے اندر دوسری بار قوم سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نریندر مودی نے، ہندوستانی شہریوں سے کووڈ۔19 کے خلاف احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ خوفزدہ نہ ہونے کی بھی اپیل کی ہے۔

وزیر اعظم نے 22 مارچ، بروز اتوار کو جنتا کرفیو میں بڑی تعداد میں شریک ہونے کے لئے ایک اعشاریہ تین ملین ہندوستانیوں کا شکریہ ادا کیا  اور اس کے ساتھ ہی انھوں نے آزمائش کی اس سخت گھڑی میں اپنی بیش قیمت اور انتھک خدمات کی فراہمی پر ڈاکٹروں، نرسوں، نیم طبّی عملے، پیتھالوجسٹس، پولیس و نیم فوجی دستوں کو مبارکباد بھی دی۔

عالمی صحت تنظیم کے حوالے سے ہندوستانی وزیر اعظم نے کہا کہ  اس ناول کورونا وائرس سے متاثرہ کوئی فرد ایک ہفتے کے اندر سینکڑوں لوگوں میں اس  بیماری کو پھیلانے کا باعث بن سکتا ہے۔ نریندر مودی نے کہا کہ اس عالمی تنظیم کے مطابق،  کووڈ۔19 نے 67 دن کے اندر ایک لاکھ لوگوں کو متاثر کیا۔ تاہم، یہ وائرس صرف 11 دن کے اندر ہی دو لاکھ افراد میں پھیل گیا اور اس  وبانے اگلے چار دن میں تین لاکھ لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لیا جو اس خطرناک وائرس کے تعلق سے سنگین حقیقت ہے۔

زبردست وسائل اور اعلیٰ ترین صحت خدمات کی متحمل ہونے کے باوجود، ترقی یافتہ ممالک کو بھی اس وائرس کی روک تھام میں زبردست مشقت اور دقت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب میں کورونا وائرس کے خلاف جنگ کے لئے پندرہ ہزار کروڑ روپئے مختص کرنے کا بھی اعلان کیا۔ اس رقم کو ٹیسٹنگ سینٹرس کے قیام، آئی سی یو بستروں کے انتظام و انصرام، اور وینٹی لیٹرس و دیگر آلات کی خریداری کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ انھوں نے ریاستی حکومتوں پر کووڈ۔19 کی روک تھام کو اعلیٰ ترین ترجیح دینے کے لئے زور دیا  اور کہا کہ اس سخت گھڑی میں ہندوستانی عوام کو صحت خدمات کی فراہمی ان کی حکومت کی سب سے اوّلین ترجیح ہے۔

وزیر اعظم نے نے زور دے کر کہا کہ   حفظان صحت کے اصولوں پر عملدرآمد، سوشل ڈسٹینسنگ اور گھروں کے اندر  رہ کر اس مہلک ناول کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے۔

اس وائرس کی روک تھام لئے، سخت قدم کا اعلان کرتے ہوئے ملک کے وزیر اعظم نے 24  مارچ کو بدھ کی نصف شب سے 21 دن کے ملک گیر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ۔ یہ لاک ڈاؤن  ملک کے تمام شہروں، قصبات، اضلاع، دیہاتوں، سڑکوں، چھوٹی موٹی سڑکوں اور گلیوں میں 14 اپریل  2020 تک نافذ رہے گا۔

اس تین ہفتے کے لاک ڈاؤن کے درمیان،  تمام ہندوستانی شہریوں کو لازماً اپنے اپنے گھروں کے اندر رہنا ہوگا اور سختی کے ساتھ سوشل ڈسٹینسنگ کے اصول پر عمل  درآمد کرنا ہوگا کیونکہ ہر ہندوستانی کی صحت و سلامتی کے لئے یہ از حد ناگزیر ہے۔ وزیر اعظم نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ خود اپنی، اپنے اہل کنبہ اور عزیز و اقارب کی حفاظت کے لئے لاک ڈاؤن کے رہنما اصولوں پر عمل درآمد کریں۔

اس لاک ڈاؤن کے دوران، لازمی خدمات جاری رہیں گی اور راشن، پنساری سامان، دودھ اور ادویہ جیسی ضروری اشیاء ہر شہری کو  دستیاب رہیں گی۔ ملک کے وزیر اعظم نے لوگوں پر بھی زور دیا کہ وہ دوکانوں پر بھیڑ نہ لگائیں اور اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لئے خوف و دہشت سے گریز کریں۔

اس کے ساتھ ہی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے شہریوں کو نصیحت بھی  کی کہ وہ افواہوں کا شکار نہ ہوں اور کسی بھی قیمت پر ڈاکٹر سے صلاح و مشورے کئے  بغیر خود اپنا علاج نہ کریں۔

یہ 21 دن کا قومی لاک ڈاؤن اس ناول کوروناوائرس کے زور کو توڑنے کے لئے  بجا طور پر صحیح سمت میں اٹھایا گیا ایک قدم ہے۔ اس لئے تمام شہریوں کا فرض ہے کہ وہ اس مہلک  بیماری کی روک تھام میں اپنا تعاون دیں۔ ہندوستان کےتمام طبقات نے وزیر اعظم کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے، جو اس موذی مرض پر گرفت کرنے اور اس کی روک تھام کے لئے پر عزم ہیں۔