20.05.2020

سمندری طوفان اِمفن:  تین لاکھ سے زیادہ لوگوں کو ساحلی علاقوں سے نکالا گیا۔

توقع ہے کہ سپر سائیکلون اِمفن بدھ کے روز مغربی بنگال میں دیگھا اور بنگلہ دیش میں ہاتیا   پہونچ جائے گا۔ اس قبل اس  سائیکلون کی شدت میں تھوڑی سی کمی آئی تھی۔ آج اخبارات نے اس خبر کو اپنی اشاعتوں میں نمایاں اہمیت کے ساتھ شامل کیا ہے۔ روزنامہ ہندو اور روزنامہ راشٹریہ سہارا نے  محکمہ موسمیات کے حوالے سے خبر دی ہے کہ تقریباً تین لاکھ 35 ہزار افراد کو مغربی بنگال اور اوڈیشہ سے نکال لیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ مغربی وسطی اور متصل مشرقی وسطی خلیج بنگال پر قائم سمندری طوفان نے گذشتہ چھ گھنٹوں کے دوران 14 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے شمال۔شمال مشرقی سمت میں پیش قدمی کی ہے امکان ہے کہ آئندہ چھ گھنٹوں میں اس میں شدت آئے گی۔ محکمے کے بلیٹن کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران اور 21 مئی کو شمالی ساحل آندھر پردیش اور یانم میں بعض مقامات پر 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے طوفانی ہوائیں چلیں گی۔این ڈی ایف کی 36 ٹیموں کو دونوں ریاستوں میں تعینات کردیا گیا ہے۔ جب کہ  فوج، بحریہ،فضائیہ اور  کوسٹ گارڈٖز کی راحت رسانی کی ٹیموں کو تیار رہنے کا حکم دےدیا گیا ہےاس سے قبل، وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ایک اعلیٰ اختیاراتی میٹنگ ہوئی تھی جس میں ریاستی وزیر راجب بنرجی نے بھی شرکت کی تھی۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ ریاستی حکومت حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

حزب المجاہدین کو ایک اور جھٹکا: سری نگر میں مسلح جھڑپ کے دوران علیحدگی پسند کا بیٹا ہلاک’

ُحزب المجاہدین کو ایک اور جھٹکا: سری نگر میں مسلح جھڑپ کے دوران علیحدگی پسند کا بیٹا ہلاک’ یہ سرخی ہے روزنامہ ہندوستان ٹائمس کی۔ خبر کے مطابق منگل کے روز، سری نگر میں سلامتی دستوں کے ساتھ مسلح تصادم کے دوران،  علیحدگی پسند رہنما محمد اشرف صحرائی کا بیٹا اور حزب المجاہدین کمانڈر جنید صحرائی ہلاک کر دیاگیا۔ اس لڑائی میں اس کا ایک ساتھی بھی مارا گیا۔ ان ہلاکتوں سے حزب المجاہدین کو پندرہ دن کے اندر دوسری بار سخت جھٹکا لگا ہے۔ اس سے قبل، 6 مئی کو جنوبی کشمیر میں سلامتی دستوں کے ساتھ مسلح جھڑپ میں اس تنظیم کا آپریشنز چیف ریاض نائیکو مارا گیا تھا۔ خیال رہے کہ مختلف مجرمانہ معاملات میں مطلوب ریاض نائیکو ایک خطرناک ترین دہشت گرد تھا۔ اخبار جموں و کشمیر کے ڈی جی پی، دلباغ سنگھ کی ایک اخباری کانفرنس کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ جنید حزب المجاہدین کا ڈویژنل کمانڈر تھا جس کو وسطی کشمیر کے علاقے میں نوجوانوں کو دہشت گردی کے لئے ترغیب و تحریص دینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ سلامتی دستوں کا کہنا ہے کہ وہ کافی دنوں سے جنید کو تلاش کررہی تھیں جوحزب المجاہدین کا گڑھ قائم کرنے کے لئے جنوبی کشمیر سے سری نگر آیا تھا۔  اس کی موجودگی کے بارے میں خفیہ اطلاعات ملنے کے بعد، پولیس اور  سی آر پی ایف کی مشترکہ ٹیم نے پرانے سری نگر میں نوا کدل علاقے کو گھیر لیا جس کے بعد ملٹنٹوں نے ٹیم پر فائرنگ شروع کردی۔ بعد میں سلامتی دستوں نے اس مکان کو دھماکے سے اڑا دیا۔ جس کے بعد  سے جنید اور اس کے ساتھی طارق احمد کی لاشیں ملبے سے نکالی گئیں۔ اس کارروائی میں سلامتی دستوں کے کم از کم چار اہلکار زخمی ہوئے۔

لداخ کی پینگانگ ٹسو جھیل میں چین نے کیا کشتیوں کی تعداد میں اضافہ

مشرقی لداخ میں پینگانگ ٹسو  جھیل کے قریب ،ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان لڑائی کی دو ہفتے بعد، چین نے  اس علاقے میں گشت بڑھا دی ہے اور جھیل میں اپنی کشتیوں کی تعداد میں اضافی کردیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ انڈین ایکسپریس لکھتا ہے کہ چین، اس علاقے میں ہندوستان کے ذریعے وہیکل ٹریک بنانے اور ایک مخصوص مقام سےآگے گشت کرنے پر اعتراض کررہا ہے۔ اخبار حکام  کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ  لداخ میں کشیدگی کی وجہ سےحقیقی کنٹرول لائن کے دوسرے مقامات پر صورتحال خراب ہوگئی ہے۔ ذرائع نے انڈین ایکسپریس کو بتایا ہے کہ جھیل میں چین نے اپنی کشتیوں کی تعداد بڑھا کر تین گنا کردی ہے جب کہ اس سے یہ تعداد صرف تین تھی۔ جھیل کے 45 کلومیٹر  طویل مغربی علاقے میں اپنا غلبہ برقرار رکھنے کے لئے ہندوستانی کشتیوں کی تعداد بھی اتنی ہی تھی۔ یہ علاقہ ہندوستانی فوج کے زیر کنٹرول ہے۔ تاہم نئی دہلی میں ہندوستانی فوج کے افسران کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں پینگانگ ٹسو  میں حقیقی کنٹرول لائن پر اس طرح کے واقعات  اس وقت ہوتے  ہیں جب  موسم سرما میں  تعینات  یونٹوں کی جگہ لینے کے لئے کچھ نئی یونٹس وہاں بھیجی جاتی ہیں۔ افسران نے اس طرح کے واقعات کو  طرفین کی جانب سے حقیقی کنٹرول لائن پر مختلف دعووں کی وجہ سےمقامی نوعیت کا قرار دیا۔

طالبان اپنی لڑائی لڑرہے ہیں: سہیل شاہین; افغانستان میں قندوز پر طالبان کا حملہ ناکام

روزنامہ ہندو  نے دوحہ میں طالبان کے سیاسی گروپ کے دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کا ایک بیان شائع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ طالبان اپنی لڑائی لڑ رہے ہیں اور وہ کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ روزنامہ ہندو سے گفتگو کے دوران سہیل شاہین نے کہا کہ افغان اسلامک نیشنل لیبریشن موومنٹ کو دہشت گرد یا پراکسی کہنا غلط اور اشتعال انگیز بیان ہے۔ اس سے قبل، قطر میں طالبان کے نائب سیاسی رہنما شیر محمد عباس استینک زئی نے مبینہ طور پر ہندوستان پر الزام لگایا تھا کہ وہ افغانستان میں منفی کردار ادا کررہا ہے۔ جس کے فوراً بعد افغانستان پر ہندوستان کی پالیسی کے سلسلے میں سہیل شاہین کا یہ بیان سامنے آیا ہے۔خیال رہے کہ ہندوستان نے طالبان کی رائے پر خصوصاً کشمیر کے بارے میں جس تشویش کا اظہار کیا تھا اس کے پیچھے یہ حقیقت کارفرما ہے کہ وزارت دفاع طالبان کو اب بھی دہشت گروپ مانتی ہے اور ہندوستان  نے ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی مذاکرات میں شامل ہونے انکار کیا ہے۔اخبار آگے لکھتا ہے کہ  اپنے اس بیان کے ذریعے سہیل شاہین نے کشمیر کے بارے میں سوشل میڈیا پر اس تنظیم کی رائے کو اس طرح بالواسطہ طور پر مسترد کردیا ہے۔ اپنے بیان میں انھوں نے نیشنل سکیورٹی بورڈ کے رکن امر سنہا کے شبہات کے بارے میں کہا کہ طالبان ایک ازاد تنظیم ہیں اور وہ آئی ایس آئی ایس کے خلاف لڑائی میں کسی کے ساتھ شامل نہیں ہوں گے۔ اس سے قبل امر سنہا نے روزنامہ ہندو کے ساتھ ایک گفتگو میں کہا تھا کہ طالبان آئی ایس آئی ایس۔کے پی کے خلاف جنگ میں افغان فوج کے ساتھ کیوں نہیں شامل ہوجاتے۔اسی اخبار کی ایک اور خبر کے مطابق، افغانستان میں سلامتی افواج نے قندوز پر طالبان کے ایک حملے کو ناکام بنادیا ہے۔ماضی میں شمالی افغانستان کا یہ اہم شہر دو بار ملٹنٹس کے قبضے میں رہ چکا ہے۔ اخبار وزارت دفاع کے ایک بیان کے حوالے سےلکھتا ہے کہ  طالبان جنجوؤں نے رات ایک بجے شہر کے گرد و نواح میں کئی فوجی اڈوں پر حملہ کیا جس کے بعد شدید جنگ چھڑ گئی۔ جو کئی گھنٹے تک جاری رہی۔لیکن فضائیہ کی مدد سے اس حملے کو ناکام بنادیا گیا۔ اخبار نے یاددہانی کرائی ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران، دیہی علاقوں میں کئی تصادم ہوئے ہیں لیکن ملٹنٹوں کے ذریعے قندوز میں داخلے کی کوشش ایک سنگین معاملہ ہے۔ اس سے قبل لگاتار شدید حملوں کے بعد،  گذشتہ ہفتے صدر اشرف غنی نے اعلان کیا تھا کہ فوج اب شورش پسندوں کے خلاف جارحانہ رخ اپنائے گی۔ جس کے جواب میں طالبان نے بھی سلامتی افواج کے خلاف حملوں میں شدت کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ 

ٹرمپ نے عالمی صحت تنظیم سے علیحدگی کی دی دھمکی

امریکی صدر ڈونل ٹرمپ نے اگر عالمی صحت تنظیم کو خبر دار کیا ہے کہ اگر اس نے اگلے 30 دنوں میں کوئی بڑی اصلاح نہیں کی تو امریکہ اس کے لئے رقوم کی فراہمی کو مزید موخر کردے گا۔ روزنامہ راشٹریہ سہارا نے ٹرمپ کے ایک ٹوئیٹ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ  امریکہ کووڈ۔19 وبا کی روک تھام کے سلسلے میں ناکامی کے لئے اس کو ذمہ دار سمجھتا ہے اور اگر اس نے اصلاح کی طرف توجہ نہیں کی تو وہ تنظیم میں اپنی رکنیت جاری رکھنے کے سلسلے میں غور کرے گا۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ ان کی توجہ چین کی جانب ہے اور اس نے غلط مشورے دیئے ہیں۔ اگر  یہ ادارہ چین کے تسلط سے اپنی خودمختاری نہ ثابت کرسکا تو  رقوم کی فراہمی کو عارضی طور پر منجمد کئے جانے کا فیصلہ مستقل شکل اختیار کرلے گا۔ خیال رہے اس سے قبل صدر ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت کوشدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ‘چین کے ہاتھوں کٹھ پتلی قرار دیا تھا۔واضح ہو کہ امریکہ اس ادارے کو سب سے زیادہ رقوم فراہم کرتا ہے جس کی مالیت تقریباً 45 کروڑ  ڈالر ہے۔ دوسری جانب چین،امریکہ کے ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

ہندوستان اور امریکہ کورونا وائرس ٹیکے کی تحقیق اور جانچ میں کریں گے تعاون

کووڈ۔19 کے حوالے سے روزنامہ ہندو نے خبر دی ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کورونا وائرس ٹیکے کی تحقیق اور اس کی جانچ میں ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔ نئی دہلی میں ایک اخباری کانفرنس میں امریکی سفارت خانے کی ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کی اتاشی پریتا  راجہ رمن نے بتایا کہ موجودہ صورتحال میں ویکسین ایکشن پلان کے تحت شراکت دار اس سلسلے میں  تحقیق اور جانچ کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔