طالبان اندرون افغانستان امن سے متعلق بات چیت کرنے سے گریزاں؟

اگر افغانستان کی موجودہ صورتحال کو دیکھا جائے تو صحیح معنوں میں کوئی حوصلہ افزاء بات نظر نہیں آتی۔ طالبان اور امریکی نمائندوں کے درمیان بات چیت کے کئی دور بھی چلے اور ایک سمجھوتہ بھی ہوا لیکن جو شبہات اور وسوسے پہلے سے ہی محسوس کئے جارہے تھے، وہ دور نہیں ہوئے اور بڑی حد تک کنفیوژن اور الجھاؤ کا ماحول برقرار ہے۔ اس پورے عمل میں ایک بات سب نے محسوس کی کہ طالبان کو اپنے ملک میں امن کا ماحول قائم کرنے میں قطعی کوئی دلچسپی نہیں۔ امریکہ اور طالبان نمائندوں کے درمیان جب بات چیت کا دوسرا سلسلہ چلا تو وہ کسی صورت انجام  کو تو پہنچا لیکن اس کے بعد جو مرحلے طے کئے جانے کی بات ہورہی تھی، ان کے بارے میں کوئی پیش رفت ہوتی تو فی الحال نظر نہیں آتی۔ بات چیت کا جو دوسرا سلسلہ شروع ہوا تھا اس سے پہلے کی بات چیت جو کافی لمبی چلی تھی، اس درمیان بھی طالبان کے لوگ پرتشدد کارروائیاں، بڑی سرگرمی سے انجام دے رہے تھے۔ حتیٰ کہ صدارتی الیکشن کے درمیان انتخابی عمل میں بھی رکاوٹ ڈالنے کی بھرپور کوشش کی گئی اور نہ صرف افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا بلکہ امیدواروں تک پر حملے ہوئے تھے اور سویلین افراد بھی ہلاک اور زخمی ہوتے رہے۔ ایسے ہی ایک حملے میں ایک امریکی سپاہی بھی ہلاک ہوگیا تھا جس  کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بات چیت کا سلسلہ منسوخ کردیا تھا۔ بہرحال اس کے بعد بات چیت کا ایک دورا سلسلہ شروع ہوا اور ایک فیصلہ بھی ہوا، جس کا حاصل یہ رہا کہ امریکہ کی قیادت والی  باقی ماندہ فوجیں افغانستان سے جب واپس جائیں گی تو طالبان ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بنانے کی گارنٹی دیں گے۔ یہ تو طالبان اور امریکہ کی بات چیت سے متعلق ہونے والے سمجھوتے کی بات تھی لیکن اس کے بعد اندرون افغانستان کیا صورتحال ہوگی، اس کے بارے میں کوئی واضح بات سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ عام تاثر تو یہی دیا گیا تھا، طالبان اور امریکہ کے مابین ہونے والی بات چیت جب اپنے انجام تک پہنچ جائے گی تو اندرون افغانستان بات چیت کا سلسلہ الگ سے شروع ہوگا اور پھر وہاں کے سیاسی مستقبل کا روڈ میپ تیار کیا جا سکتا ہے۔ شاید یہی چیز ٹیڑھی کھیر ثابت ہونے والی ہے کیونکہ افغانستان کی موجودہ حکومت کو طالبان والے خاطر ہی میں نہیں لاتے۔ اس کے تئیں نہ صرف منفی ایپروچ کا مظاہرہ کرتے ہیں بلکہ اسے حکومت ماننے سے بھی کتراتے ہیں۔ حالانکہ وہ آئینی طور پر ایک منتخب حکومت ہے جو اس وقت کابل کے اقتدار پر قابض ہے۔ اس حکومت کے سربراہ نے بارہا طالبان کو سیز فائر اور پرامن بات چیت کی پیش کش بھی کی لیکن طالبان نے کبھی اسے قابل اعتنا نہ سمجھا۔ کسی بھی ملک میں جب کوئی حکومت برسراقتدار ہوتی ہے تو اس سے بات چیت بھی کی جاتی ہے۔ اندرون ملک کے معاملات ہوں یا دوسرے ملکوں سے تعلقات کی بات، معاملات تو بہرحال اسی حکومت سے طے کئے جاتے ہیں، لیکن طالبان اس حکومت کے خلاف مسلسل منفی پروپیگنڈے کررہے ہیں۔

حد تو یہ ہے کہ حال ہی میں طالبان کے ایک ذمہ دار نمائندے نے ہندوستان کو بھی اس منفی پروپیگنڈے میں لپیٹ لیا۔ ‘‘عزم’’ نام کی ایک خبر رساں ویب سائٹ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں قطر میں واقع طالبان کے سیاسی دفتر کے نائب سربراہ شیر محمد عباس استانک زئی (Stanekzai) نے ہندوستان کے بارے میں گمراہ کن باتیں کہیں۔ ان کے مطابق ہندوستان گزشتہ چالیس سال سے افغانستان میں سرگرم ہے لیکن اس نے ہمیشہ ‘‘منفی’’ رول ادا کیا اور افغان قوم کی مدد کرنے کے بجائے اس نے ایک کرپٹ حکومت سے اقتصادی فوجی اور سیاسی رشتے قائم کئے۔ اگر وہ افغانستان میں امن سے متعلق کی جانے والی کوششوں میں مثبت رول ادا کرے اور افغانستان کی تعمیر نو میں معاونت کرے تو اس کے بارے میں غور کیا جاسکتا ہے۔

اس بے سر پیر کے بیان کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ ہندوستان کو ‘‘نیک مشورہ’’ دینے کا شکریہ لیکن جہاں تک ہندوستان کے رول کو ‘‘منفی’’ قرار دینے کی بات ہے تو پوری دنیا اور خود افغانستان کے عوام بھی جانتے ہیں کہ ہندوستان نے ہمیشہ افغانستان کی تعمیر نو میں تعاون کیا ہے۔ اسپتال، سڑکیں، اسکول یا پُل جیسی چیزیں تعمیر کرکے ہندوستان نے وہاں کے انفرا اسٹرکچر کو فروغ دینے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ خود استانک زئی کا کہنا ہے کہ ہندوستان ، افغانستان میں گزشتہ 4 دہائیوں سے مختلف شعبوں میں سرگرم ہے تو وہ خود ہی بتائیں کہ موجودہ اشرف غنی کی حکومت یا اس سے پہلے کرزئی حکومت کے دور میں ہندوستان وہاں کی حکومت کے تعاون سے ہی تو کوئی تعاون کرسکتا تھا؟ کسی ایسے گروپ کے ساتھ تو تعاون نہیں کرسکتا تھا جس کی کوئی آئینی حیثیت نہ ہو یا جو،  نان اسٹیٹ (Non State) ایکٹر کے زمر ے میں آتا ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ حکومتیں تو اس کے بہت بعد قائم ہوئیں جبکہ ہندوستان سے افغانستان کے تعلقات خاصے پرانے ہیں۔ ہندوستان کو نصیحت دینے کی بجائے اگر طالبان کے لوگ خود ہی اپنے ملک میں امن اور خوشحالی کے لئے کام کریں اور کسی دوسرے کے آلہ کار کے طور پر کام نہ کریں تو ان کے اور ان کے ملک کے لئے یہی سب سے اچھا راستہ ہوگا۔

***