21.05.2020

1۔ اوڈیشہ اور بنگال میں تباہ کاریوں کے بعد، طوفان اَمفن کی بنگلہ دیش میں دستک

آج ملک کے تمام اخبارات اورخبر رساں چینلوں نے سمندری طوفان اَمفن کی تباہ کاریوں سے متعلق خبروں کو اہمیت کے ساتھ اپنے قارئین اور سامعین تک پہونچایا ہے۔ آل انڈیا ریڈیو کی خبروں کے مطابق، یہ طوفان جمعرات کی صبح مغربی بنگال کے ساحل کو پار کرکے بنگلہ دیش کی طرف بڑھ گیا۔ کل  شام ساڑھے چار بجے یہ طوفان 190 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے اڈیشہ اور مغربی بنگال کے ساحل سے ٹکرایا تھا۔ خیال رہے کہ پچھلی دو دہائیوں کے دوران خلیج بنگال کے اوپر بننے والا یہ شدیدترین طوفان ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں تیز ہواؤں اور موسلا دھار بارش میں مکانات منہدم ہوگئے، اور درخت و بجلی کے کھمبے اکھڑ گئے۔ مغربی بنگال میں اس قدرتی آفت کی وجہ سے 12 اموات ہوئی ہیں اور کولکاتا، ہاؤڑہ، ہگلی، شمالی اور جنوبی 24 پرگنہ ضلعے اور گرد نواح کے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ریڈیو نے این ڈی آر ایف کے سربراہ ایس این پردھان کے حوالے سے بتایا ہے کہ  طوفان کے ساحل سے ٹکرانے سے پہلے مغربی بنگال اور اڈیشہ سے کم از کم چھ لاکھ 58 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہونچایا  دیا گیا تھا۔ طوفان اَمفن بدھ کی رات بنگلہ دیش کے ساحل سے ٹکرایا تھا جس کی وجہ سے وہاں شدید بارش ہورہی ہے اور سیلاب آگیا ہے۔

 

2۔ ہند کے ساتھ سرحدی تنازعہ، چین کے ذریعے اشتعال انگیزی کی یاددہانی: امریکہ

اخبارات نے جن دیگر خبروں کو جلی سرخیوں کے تحت شائع کیا ہے ان میں چین کے ساتھ سرحدی تنازعے پر امریکہ کے ردعمل کی خبر بھی شامل ہے۔ روزنامہ ہندو نے  اعلیٰ امریکی سفیر برائے جنوبی   ا و ر    وسطی ایشیا،  ایلس ویلز  کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ حقیقی کنٹرول لائن پر چین اور ہندوستان کے درمیان حالیہ کشیدگی، چین کے ذریعے اشتعال انگیزی کی یاددہانی ہے۔ امریکی رہنما کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب چین اور امریکہ کے درمیان پہلے ہی سے کشیدہ  تجارتی تعلقات  میں مزید خرابی آئی ہےجس کی وجہ  امریکہ کے ذریعے چین پر کورونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں بدانتظامی کے الزامات ہیں۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ نامہ نگاروں سے گفتگو کے دوران، ہند۔چین سرحدی کشیدگی پر پوچھے گئے سوال کے بارے میں انھوں نے کہا کہ چاہے چین کی اشتعال انگیزی جنوبی بحر چین میں ہو یا پھر ہندوستان کے ساتھ اس کی سرحدوں پر، امریکہ کے نزدیک چین کا یہ رویہ اشتعال انگیز اور پریشان کن ہے۔ایلس ویلز نے مزید کہا کہ چین کے اس  رویئے کے خلاف دیگر ممالک متحد ہونے پر مجبور ہورہے ہیں تاکہ جنگ عظیم دوئم کے بعد کے تجارتی نظام کومستحکم کیا جاسکے۔ اس سلسلے میں انھوں نے آسیان اور ہندوستان،  امریکہ و جاپان کے درمیان سہ فریقی شراکت نیز آسٹریلیا اور  ان ممالک کے درمیان  کواڈری لیٹرل سکیورٹی ڈائیلاگ کا حوالہ دیا۔اخبار امریکی رہنما کے بیان کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ امریکہ دوسرے معاملات نیز  بیلٹ روڈ پیش قدمی کے تحت  چین کے عالمی انفرا اسٹرکچر پروجیکٹوں کی بھی مخالفت کرتا ہے۔ ہند۔چین سرحدی کشیدگی کے حوالے سے روزنامہ انڈین ایکسپریس لکھتا ہے کہ پینگانگ ٹسو   پر دونوں ممالک کی مقامی افواج کے درمیان بات چیت کے دونوں دور بے نتیجہ رہے  جس کے بعد بیجنگ حکومت نے بقول اس کے ضروری تدارکی اقدامات کی وارننگ دی ہے۔ خیال رہے کہ پینگانگ ٹسو کے مقام پر دو ہفتے قبل دونوں افواج کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔ چین کا دعویٰ ہے کہ ہندوستانی فوج، ہند۔چین سرحد کے بیجنگ۔لیوجِن ڈوآن سیکشن پر اس کے علاقے میں داخل ہوئی  اور اس نے اس کے دستوں کے معمول کے گشت میں روکاوٹ ڈالی۔ اس کے علاوہ ہندوستانی دستوں نے سرحدی علاقے کی غیر مبدّل صورتحال کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی بھی کوشش کی۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ حالانکہ فوج اور وزارت خارجہ نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے،  تاہم نئی دہلی میں حکام نے اس صورتحال کو ایسے وقت میں نازک اور انتہائی حساس  قراد دیا ہے جب ملک،   کووڈ۔19وبا  اور اس کے اثرات سے نبرد آزما ہے۔ خیال رہے کہ ہندوستان، دریائے گلوان کے علاقے میں سڑک کی تعمیر کررہا ہے جو اس کے اپنے ہی خطے میں واقع ہے لیکن چین اس کی مخالفت کررہا ہے۔یہ مقام پینگانگ ٹسو جھیل کے شمال میں تقریباً 200 کلومیٹر فاصلے  پر واقع ہے۔

 

3۔ کٹھمنڈو کے ذریعے نظر ثانی شدہ نقشے کے اجراء کے بعد، ہند۔ نیپال سرحدی تنازعے میں شدت

ہندوستان اور نیپال کے درمیان بھی ان دنوں سڑک کی تعمیر کا معاملہ  شدت پکڑتا جارہ ہے۔ اس حوالے سے روزنامہ انڈین ایکسپریس نے خبر دی ہے کہ بدھ کے روز نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے اپنے ملک  کا نظر ثانی شدہ نقشہ جاری کیا جس میں ہندوستانی علاقے کو بھی اپنے ملک کی سرحد کے اندر دکھایا  گیا ہے جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعے نے طول پکڑ لیا ہے۔ خیال رہے کہ ہندوستان، مانسروور یاترا کے راستے کے ایک حصے کے بطور، اترا کھنڈ میں دھار چولا کو، لیپو لیکھ سے جوڑنے والی سڑک کی تعمیر کررہا ہے جس پر یہ تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ حکومت ہند نے فوراً ہی اس پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ یکطرفہ کارروائی تاریکی حقائق اور شواہد پر مبنی نہیں ہے۔ اخبار  وزارت خارجہ کے ترجمان  کے حوالے سےآگے لکھتا ہے کہ نیپال کی یہ کارروائی، سفارتی مذاکرات کے ذریعے سرحدی  معاملات کو حل کرنے کے لئے باہمی مفاہمت کے خلاف ہے اور  علاقوں میں توسیع کے لئے اس طرح کے بے بنیاد دعووں کو ہندوستان قطعاً مسترد کرتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ نیپال، اس معاملے میں ہندوستان کےمسلسل موقف سے بخوبی واقف ہے اور حکومت ہندکا نیپال  سے پرزور مطالبہ ہے کہ وہ اس طرح کے غلط اقدامات سے گریز کرے اور ہندوستان کی علاقائی خود مختاری اورسالمیت کا احترام کرے۔ دوسری جانب نئی دہلی حکومت کا خیال ہے کہ چین نے نیپال کی کمیونسٹ پارٹی میں اولی کی طاقت میں اضافے کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے جس کے بعد نیپالی وزیر اعظم کو اس طرح کے اقدامات کی تحریک ملی ہے۔ اخبار کے مطابق، اولی نے قانون سازوں کو بتایا کہ  چین اور اٹلی سے آنے والا کورونا وائرس، ہندوستان سے آنے والے کورونا وائرس کے مقابلے میں بقول ان کے کہیں زیادہ مہلک ہے۔انھوں نے الزام لگایا کہ ہندوستان سے چوری چھپے داخل ہونے والے افراد کی وجہ سے نیپال میں کووڈ معاملات کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

 

4۔ جموں و کشمیر میں متعدد ہلاکتوں میں مطلوب، حزب المجاہدین کا سرگرم  دہشت گرد گرفتار

روزنامہ ہندوستان ٹائمس کی ایک خبر کے مطابق، جموں و کشمیر کے کشتوار علاقے میں بی جے پی رہنما انل پریہار، ان کے بھائی نیز آر ایس ایس کارکن چندر کانت شرما اور ان کے ذاتی محافظ کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث حزب المجاہدین کے ایک دہشت گرد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اس گرفتاری کو حزب المجاہدین کے لئے ایک اور زبردست جھٹکا قرار دیا جارہا ہے۔ خیال رہے کہ پریہار  برادران کو نومبر 2018 میں اور شرما اور ان کے ذاتی محافظ کو اپریل 2019  میں قتل کیا گیا تھا۔اخبار کشتوار کے سینئر ایس ایس پی ہرمیت سنگھ مہتہ کے حوالے سےآگے لکھتا ہے کہ حزب المجاہدین کے دہشت گرد رستم علی کو این آئی اے کے حوالے کردیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ علی،حزب المجاہدین کمانڈر ریاض نائیکو کا قریبی ساتھی ہے جس کے سر پر 35 لاکھ کا انعام تھا اور جس کو 6؍ مئی کو پلوامہ ضلع میں ہلاک کردیا گیا تھا۔ اس سے قبل اس گروپ کے اعلیٰ کمانڈر اشرف خاں، اور طاہر بھٹ کو بھی ہلاک کیا جاچکا ہے۔ اب سلامتی دستے اس علاقے میں باقی بچے ہوئے  خطرناک دہشت گرد جہانگیر سروری کو تلاش کررہے ہیں۔ اس اخبار نے ایک اور خبر میں بتایا ہے کہ جموں و کشمیر میں ایک ملٹنٹ حملے کے دوران بی ایس ایف کے دو جوان ہلاک ہوگئے ہیں۔

 

5۔ کووڈ۔19: دنیا میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے لئے چین ذمہ دار: ٹرمپ

5۔        بدھ کے روز، ایک ٹوئیٹ میں، امریکی صدر ڈونل ٹرمپ نے چین کے خلاف حملوں میں شدت پیدا کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ   چین کی نااہلی کی وجہ سے کووڈ۔19 وبا پھیلی ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمس نے اپنی خبر میں مطلع کیا ہے کہ امریکی صدر، اپنے ملک میں اس وبا سے ہوئی بڑی تعداد میں ہوئی ہلاکتوں  اور کورونا وائرس کی وجہ سے عائد پابندیوں سے پیدا معاشی زوال کی طرف سے بظاہرتوجہ ہٹانے کے لئے چین پر الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔خیال رہے کہ ڈونل ٹرمپ نے گذشتہ دسمبر میں چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والی بیماری کے مرکز اور عالمی صحت تنظیم کی ملی بھگت سے اس بیماری سے پیدا اصل صورتحال کو چھپانے کے خلاف آزادانہ تحقیقات پر بھی زور دیا ہے۔

 

6۔ طالبان امن معاہدے پرعمل درآمد کے لئے عہد بستہ: ہیبت اللہ اخون زادہ

روزنامہ ہندو کی ایک خبر کے مطابق، طالبان کے رہنما ہیبت اللہ اخون زادہ نے کہا ہے کہ سنگ میل  امن معاہدے پر دستخط کے بعد، طالبان پر  ہزاروں حملوں کے الزام کے باوجود، گروپ اس معاہدے کی پابندی کے لئے عہد بستہ ہے۔ رمضان کے مبارک مہینے کے اختتام پر جاری ایک پیغام میں انھوں نے واشنگٹن حکومت پر زور دیا کہ امریکہ کو چاہئے کہ وہ اس طویل ترین جنگ کے خاتمے کے لئے اس معاہدے سے ملنے والے موقعے کو ہاتھ سے نہ جانے دے۔ اخبار نے توجہ دلائی ہے کہ کئی ماہ پر مبنی مذاکرات کے بعد امریکہ اور طالبان کے درمیان یہ معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت، سلامتی کی ضمانت کے عوض، واشنگٹن حکومت اگلے سال تک اپنے تمام فوجیوں کوافغانستان سے واپس بلانے پر تیار ہوگئی ہے۔ واضح ہو کہ ہیبت اللہ کا تعلق، طالبان کے روایتی گڑھ قندھار سے ہے اور 2016 میں ایک ڈرون حملے میں گروپ کے سربراہ ملّا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد ان کوسربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

 

7۔ افغانستان میں مساجد پر حملے، 10 ہلاک، 14 زخمی

افغانستان کے تعلق سے روزنامہ راشٹریہ سہارا لکھتا ہے کہ صوبہ خوست میں ضلع صبری  کور چکو گاؤں میں ایک مسجد کے باہر لوگوں پر فائرنگ میں تین افراد ہلاک اور ایک بچہ زخمی ہوگیا۔واقعے کے وقت مسجد میں نما ادا کی جارہی تھی۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ ایک اور واقعے میں صوبہ پروان کی راجدھانی چاریکار سٹی کے ایک گاؤں میں ایک مسجد پر ایسے ہی ایک حملے میں سات افراد ہلاک اور 13 دیگر زخمی ہوگئے۔ کسی بھی دہشت گرد تنظیم نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔