22.05.2020

سمندری طوفان اِمفن  سے متاثرہ لوگوں کی  ہر طرح سے کی جائے گی مدد: وزیر اعظم

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ سمندری طوفان امفن  سے پیدا مشکل گھڑی میں  پورا ملک ریاست مغربی بنگال کے ساتھ  ہے اور  متاثرہ لوگوں کی مدد کےلئے کوئی  کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ آل انڈیا ریڈیو نے اپنی خبروں میں بتایا ہے کہ سلسلے وار ٹوئیٹ میں وزیر اعظم نے کہا کہ این ڈی آر ایف کی ٹیمیں طوفان سے متاثرہ  علاقوں میں  سرگرم ہیں اور اعلیٰ عہدیدار صورتحال پر پوری  طرح نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور مغربی بنگال حکومت کے ساتھ پوری طرح تال میل کے ساتھ کام کررہے ہیں نیز وہاں معمول کے حالات بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس سے قبل وزیراعظم نے، مغربی بنگال کے دورے کے لئے ریاستی  وزیر اعلیٰ  ممتا بنرجی کی دعوت  قبول کرلی تھی تاکہ  فضائی سروے کے علاوہ جائزہ میٹنگوں میں شرکت اور راحت و بازآبادکاری پر تبادلہ خیال کیا جاسکے۔ ریڈیو نے اپنے بلیٹن میں آفات کے بندوبست سے متعلق فورس، این ڈی آر ایف کے ڈائریکٹر جنرل   ایس این پردھان کے حوالے سے مزید  بتایا ہے کہ اس طوفان نے اڈیشہ  کےمقابلے میں مغربی بنگال کو زیادہ متاثر کیا ہے۔نئی دہلی میں ذرائع ابلاغ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے  امید ظاہر کی کہ اڈیشہ کے متاثرہ علاقوں میں اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران حالات معمول پر آجائیں گے اور وزارت داخلہ کی  ٹیم نقصان کا جائزہ لینے کے لئے متاثرہ ریاستوں کا دورہ کرے گی۔

افغانستان میں  ہندوستان کے اثر کو کم کرنے کے لئے پاکستان کی کوششیں جاری: پنٹاگن رپورٹ

افغانستان میں  ہندوستان کے اثر کو کم کرنے کے لئے پاکستان اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے نیز  وہ طالبان  اور حقانی نیٹ ورک جیسے  ان گروپوں کی پشت پناہی کررہا ہے جو افغانستان کی سرزمین پر تشدد برپا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمس نے پنٹاگن کی ایک تازہ ترین  رپورٹ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ  جنوری تا مارچ   مدت پر مبنی یہ رپورٹ امریکی وزارت دفاع کے انسپکٹر جنرل کے ذریعے پیر کے روز جاری گئی  جس کے مطابق، پاکستان، افغانستان میں اپنے اسٹریٹجک مقاصد کے حصول کے لئے   مسلسل کوشاں ہے۔ ان میں اس سرزمین سے ہندوستان کے اثر ورسوخ کو کم کرنے کا مقصد بھی شامل ہے۔اخبار نے توجہ دلائی ہے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان، افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی سے متعلق معاہدے پر 29 فروری کو دستخط  ہوئے تھے جس کے بعد اس قسم کی یہ  پہلی رپورٹ ہے۔ ہندوستانی حکام کی جانب سے اس پر کسی فوری ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا ہے۔ پنٹاگن کے تحت، ڈیفنس انٹلی جنس  ایجنسی کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ توقع ہے کہ پاکستان افغانستان میں طالبان کے غلبے میں اضافہ میں مدد کرسکتا ہے اور حالات کو اپنی موافقت  میں لانے کے لئے،  افغانستان امن بات چیت  اثر انداز ہوسکتا ہے۔اخبار اس رپورٹ کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ  پاکستان نے ان مذاکرات میں حصہ لینے کے طالبان کی حوصلہ افزائی تو کی لیکن ان کو مزید تشدد سے باز  رکھنے کے لئےکسی  قسم کا سخت دباؤ ڈالنے سے احتراز کیا کیوں کہ اس کو خدشہ تھا کہ کہیں  اس سے افغان طالبان کے ساتھ اس کے تعلقات خراب نہ ہوجائیں۔خیال رہے کہ یہ رپورٹ ایسے وقت میں آئی ہے جب خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد ،ہندوستان سے طالبان کے ساتھ بات چیت کی اپیل کرچکے ہیں۔ دوسری جانب،  ٹرمپ انتظامیہ میں  جنوب ایشیا کے لئے امریکی سفیر ایلس ویلس  کہہ چکی ہیں کہ طالبان سے  بات چیت کا فیصلہ ہندوستان پر منحصر ہے۔

جموں و کشمیر میں 24 گھنٹے میں دوسرا حملہ، ایک کانسٹبل ہلاک

 ‘‘جموں و کشمیر میں 24 گھنٹے میں  سلامتی دستوں پردوسرا حملہ، ایک کانسٹبل ہلاک’’ یہ سرخی ہے روزنامہ انڈین ایکسپریس کی۔ خبر کے مطابق، جمعرات کے روز، ملٹنٹوں نے جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس میں ایک کانسٹبل ہلاک  اور دو اہلکار زخمی ہوگئے۔ پلوامہ کے پیچو علاقے میں قائم اس چیک پوسٹ پر سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس کے اہلکارمشترکہ طور پرڈیوٹی پر تھے۔اخبار سی آر پی ایف کے ترجمان کے حوالے سے لکھتا ہے کہ ان میں سے ایک کانسٹبل کو معمولی زخم آئے ہیں۔حملہ آور موٹر سائیکل پر آئے تھے اور حملے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔  علاقے میں اضافی دستے تعینات کردئے گئے ہیں اور  حملہ آوروں کو پکڑنے کے لئے تلاشی مہم شروع کردی گئی ہے۔اخبار آگے لکھتا ہے کہ اس سے قبل، بدھ کی شام، سری نگر کے قرب جوار کے پنڈاچ    علاقے میں ملٹنٹوں  نے ایک حملے میں بارڈر سکیورٹی فورس کے دو اہلکاروں کو ہلاک  کردیا تھا۔ جس کے بعد  سلامتی دستوں نےمسلح جھڑپ کے دوران، حزب المجاہدین کےایک اعلیٰ کمانڈر اور  ایک ملٹنٹٹ کو ہلاک کردیا تھا۔

ہند چین سرحدی تنازعہ:ہندوستانی فوج کے ذریعےکشیدگی پیدا کرنے کے  چین کے الزام کو نئی دہلی نے سختی سے کیا مسترد

جمعرات کو روز، حکومت ہند نے چین کے اس الزام کو سختی سے مسترد کردیا کہ لداخ اور سکم سیکٹروں میں، ہندوستانی افواج کے ذریعے حقیقی کنٹرول لائن کو پار کرنے کی وجہ سے سرحد پر کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ اس کے برخلاف اس نے بیجنگ پر الزام لگایا کہ  اس کے دستے سرحد کے اِس طرف ہندوستانی فوج کے گشت میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔  روزنامہ ہندوستان ٹائمس نے وزارت داخلہ کے ترجمان،  انوراگ سری واستو کے حوالے سے تحریر کیا ہے  ہندوستانی فوج سرحدوں پر امن و ہم آہنگی برقرار رکھنے کے عہد بستہ ہے لیکن اس  کے ساتھ ہی وہ ملک کی سالمیت اور خود مختاری کے تحفظ کے تمام اقدامات اٹھانےمیں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گی۔خیال رہے کہ حقیقی کنٹرول لائن پر خصوصاً   وادئ لداخ کے گلوان  علاقے میں جاری سرحدی کشیدگی کے پس منظر میں ترجمان کا یہ بیان سامنے آیا ہے جہاں دونوں ملکوں نے اضافی دستے تعینات کردیئے ہیں۔اخبارآگے لکھتا ہے کہ  سرحدی کشیدگی پرنئی دہلی  کا یہ پہلا سرکاری  ردعمل ہے جو اس  تنازعے پر  ہندوستان کو امریکی حمایت کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ اعلیٰ امریکی سفیر ایلس ویلس نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس طرح کے تنازعات، بقول ان کے چین کے ذریعے اشتعال انگیزی کی یاددہانی ہے۔ دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژہاؤ لی جیان کا کہنا ہے کہ ہندوستانی فوجیوں نے حقیقی کنٹرول لائن پار کی تھی ۔ اس کے ساتھ ہی  ترجمان نے ایلس ویلس کے بیان کو بھی  بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ہندوستان کو چین کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہئے اور  بقول ان کے ایسی یک طرفہ کارروائیوں سے  احتراز کرنا چاہئےجس سے صورتحال ابتر ہوتی ہو۔اخبار نے ہندوستانی   وزارت خارجہ کے ترجمان کی آن لائن اخباری کانفرنس کے حوالے سے مزید تحریر کیا ہے کہ چین کا یہ  کہنا کہ ہندوستانی دستوں نے ایل اے سی کے اُس  پار کسی قسم کی کارروائی کی ہے صحیح نہیں ہے۔ کیوں کہ فوج کی تمام سرگرمیاں ایل اے سی کے اِس جانب رہی ہیں جو معمول کی گشت پر مبنی ہوتی ہیں۔ فوج ہمیشہ ہی بڑی ذمہ داری سے اپنے فرائض انجام دیتی ہے اور طرفین کے درمیان اس طرح کی صورتحال کو حل کرنے کے لئے مذاکرات کا راستہ موجود ہے۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس نے اسی  سلسلے میں سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سےاپنی خبر میں تحریر کیا ہے کہ لداخ  میں چین کے ذریعے ایل اے سی کی خلاف ورزیوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال کے پہلے چار ماہ کے دوران،  چین نے  لداخ میں 170خلاف ورزیاں کی ہیں جب کی سال 2019 میں اسی مدت میں اس نے اس طرح کی 110 خلاف  ورزیاں کی تھیں۔اخبار آگے لکھتا ہے کہ سال 2019 میں جب بشکیک اور مہابالی پورم میں وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان سربراہ کانفرنسیں ہوئی تھی تو لداخ میں ان خلاف ورزیوں میں 75 فیصد اضافہ ہوا  جب کہ 2018 میں ان خلاف ورزیوں کی تعداد 497 تھی۔

امریکی سینیٹ میں چین کی کمپنیوں پر پابندی کے لئے بل  منظور

روزنامہ ہندوستان ٹائمس کی ہی ایک اور خبر کے مطابق،  دنیا کی دو بڑی معیشتوں۔۔امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان،  امریکی سینیٹ نے بدھ کے روز اکثریت کے ساتھ ایک قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت  علی بابا گروپ  ہولڈنگ لمیٹیڈ اور  بائیڈو  انک جیسی چینی کمپنیوں کو امریکہ کی اسٹاک ایکس چینج فہرست سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ اس بل کو رپبلکن سینیٹر جان کینیڈی اور ڈیموکریٹ کرِس وان ہولین  نے پیش کیا تھا۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اس بل کے تحت  اگر کوئی کمپنی یہ تصدیق  کرنے میں ناکام رہتی ہے کہ وہ کسی غیر ملکی کنٹرول میں نہیں ہے یا پبلک کمپنی اکاؤنٹنگ بورڈ لگاتار تین سال تک اس بات کے آڈٹ میں ناکام رہتا ہے کہ کمپنی کسی غیر ملکی کنٹرول میں نہیں ہے تو کمپنی کی سکیورٹیز پر ایکس چینج کرنے کے لئے پابندی عائد کردی جائے گی۔  اسی اخبار کی ایک اور خبر کے مطابق، صدر ڈونک ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ امریکہ اور یوروپ کو کووڈ۔19  کے بارے میں غلط معلومات کی فراہمی اور پروپیگنڈے کے ذمہ دار ہیں۔

چین نے ووہان تجربہ گاہ کو سہواً کیا تباہ: پامپیو

امریکہ  کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر چین کے خلاف  جاری تنقید کے تناظر میں روزنامہ راشٹریہ سہارا نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے حوالے سے خبر دی ہے کہ چین نے ووہان تجربہ گاہ کو جان بوجھ کر تباہ کیا ہے۔ بدھ کے روز  ایک بیان میں پومپیو نے کہا کہ چین نے دنیا میں اس وبا کی روک تھام میں غیر ذمہ دارانہ رویئے کا مظاہرہ کیا ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان  کووڈ۔19 کی روک تھام کے سلسلے میں کئی ماہ سے کشیدگی جاری ہے اور اس میں اس وقت مزید شدت آگئی تھی جب اس وائرس کی وجہ سے دنیا میں بڑے پیمانے پر اموات ہوئی تھیں۔