موضوع: کالاپانی پر بھارت اور نیپال کے درمیان تنازعہ

نیپال نے ایک بار پھر کالا پانی کے علاقائی تنازعہ پر جارحانہ رخ اختیار کرلیا ہے۔ یہ علاقہ ہندوستان کی اتراکھنڈ ریاست میں پتھوڑا گڑھ ضلع اور نیپال کے مغربی علاقے میں واقع دھرچولا ضلع میں ہندوستان ، نیپال اور چین کے تراہے پر واقع ہے۔ موجودہ تنازعہ اس وقت کھڑا ہوا جب نیپال کی کمیونسٹ حکومت نے ملک کا ایک نیا سیاسی اور انتظامی نقشہ اس ماہ کی 20 تاریخ کو جاری کیا۔ وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی کابینہ کی جانب سے منظور شدہ اس نقشہ میں کالاپانی، لمپیا دھرا اور لیپولیکھ کو نیپال کے حصوں کے طور پر دکھایا گیا ہے، جبکہ ہندوستان کی جانب سے جموں و کشمیر اور لداخ کی تنظیم نو کرنے اور انہیں مرکز کے زیر انتظام علاقے قرار دیئے جانے کے بعد حکومت کی جانب سے پچھلے سال دو نومبر کو  جاری کئے گئے نقشہ کے مطابق یہ علاقے ہندوستان کے خود مختار علاقے ہیں۔

ہندوستان اور نیپال دونوں پڑوسی ممالک ہیں جن کے تعلقات دوستانہ ہیں۔ ان دونوں ملکوں کے سماجی، ثقافتی اور معاشی تعلقات کافی مضبوط ہیں۔ تاہم ہمالیائی علاقے میں کالاپانی سے نکلنے والی کالی ندی کے نزدیک ایک چھوٹے سے لیکن نہایت اہم زمین کے ٹکڑے پر نیپال کے دعوے نے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کردیا ہے۔ دو دسمبر 1815 کو سلطنت نیپال اور برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان ایک معاہدہ ہواتھا ۔ اس معاہدہ کو سنگولی معاہدے کا نام دیا گیا جس پر مارچ 1816 میں عمل ہوا۔ اس معاہدے کی دفعہ 5 کے مطابق کالی ندی کے مغرب کی جانب تمام علاقے ہندوستانی علاقے قرار دیئے گئے جبکہ مشرق کی جانب واقع تمام علاقے نیپال کو دے دئے گئے۔ اس طرح بھارت، نیپال اور چین کے تراہے کے نزدیک کالی ندی ہندوستان اور نیپال کے درمیان ایک سرحد بن گئی۔ اس کے علاوہ 12 فروری 1996 کو ٹنک پور بیراج اور پنچیشورہائڈل پاور پروجیکٹ کی ترقی و توسیع کیلئے ہندوستان اور نیپال کے درمیان جو معاہدہ ہوا اس میں بھی مہا کالی ندی کو دونوں ملکوں کے ایک بڑے علاقے کے درمیان سرحدی ندی کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ تاہم معالے کو بھارت کے ساتھ دوستانہ طریقے سے حل کرنے کیلئے نیپالی پارلیمنٹ میں ایک قرارداد منظور کی گئی۔ دونوں ملکوں نے اس موضوع پر تبادلۂ خیال کیلئے خارجہ سکریٹری سطح کی میٹنگوں سے بھی اتفاق کیا تھا لیکن اس پر عمل نہ ہوسکا۔

ہندوستان کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اس ماہ کی آٹھ تاریخ کو لیپولیکھ کو پتھوڑا گڑھ کے دھارمولا قصبے سے جوڑنے والی 80 کلو میٹر لمبی سڑک کا افتتاح کیا جسے بھارت نے تعمیر کی ہے۔ اس سڑک کی تعمیر کا مقصد تبت میں کیلاش مانسروور یاترا کو آسان بنانا اور تاجروں کو سڑک کی سہولت فراہم کرنا تھا۔ اس سڑک کی تعمیر کے بعد نیپال کے تمام اراکین پارلیمنٹ اور عام پبلک نے احتجاج کرنا شروع کردیا۔ نیپال نے ہندوستان کے ساتھ سفارتی سطح پر بھی اس معاملے کو اٹھایا جس کے بعد نئی دہلی نے وعدہ کیا کہ موجودہ  وبا کووڈ-19 کے خاتمہ کے بعد وہ اس موضوع پر بات چیت کرے گا۔ اس وبا کے دونوں شکار ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جب نیپال میں یہ وبا پھیلی تو بھارت نے نہ صرف اپنی میڈیکل ٹیم وہاں بھیجی بلکہ ضروری دوائیں اور طبی آلات بھی فراہم کئے۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم کے پی شرما او لی  نے نیپالی پارلیمنٹ میں کہا کہ  لمپیادُھرا کالاپانی اور لیپو لیکھ نیپال کے حصے ہیں اور وہ انہیں کسی بھی قیمت پر واپس حاصل کرکے رہیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت اس سلسلسہ میں چین کے رابطے میں ہے۔

بھارت نے نیپال کے الزامات کی تردید کی ہے اور واضح الفاظ میں کہا ہے کہ نیپال کا نقشہ تاریخی حقائق اور شواہد پر مبنی نہیں ہے۔ نئی دہلی نے یہ بھی کہا کہ اسے کٹھمنڈو کا علاقائی دعویٰ ہرگز منظور نہیں۔

جناب اولی نے بھارت پر نیپال میں کورونا وائرس پھیلانے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین یا اٹلی سے واپس آنے والوں کی بہ نسبت بھارت سے آنے والے لوگوں میں وائرس کی شدت کہیں زیادہ تھی۔ نئی دہلی نے کہا کہ اس طرح کے الزامت بے بنیاد ہیں۔ تاہم نیپالی وزیر اعظم کے بیان سے یہ بات تو صاف ظاہر ہے کہ ان کا جھکاؤ چین کی جانب ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی پارٹی میں پیدا داخلی خطرات سے بچنے کے لئے اس طرح کے بیان دے رہے ہوں۔ بہر صورت بھارت کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات بھی دھیان میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ بھارت اور نیپال کے درمیان دوستانہ تعلقات ہیں۔ اس لئے موجودہ تنازعہ کو خوشگوار ماحول میں جلد از جلد حل کیا جانا چاہئے۔