کووڈ 19 کے خلاف عالمی جنگ جاری

تاب لاۓ ہی بنے گی غالبؔ

واقعہ سخت ہے اور جان عزیز

لیکن یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک عالمی وبا ہے، جس سے پوری دنیا اپنے اپنے طور پر نمٹنے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ وبا چین کے علاقے ووہان سے شروع ہوئی۔شروع میں تو چین میں کافی گھبراہٹ کا ماحول تھا، کیونکہ دیکھتے ہی دیکھتے اس  ایک خاص علاقے میں دہشت اس طور پرپھیلی تھی کہ لوگ تھرا اٹھے تھے۔ بہر حال بعد میں جاری کیے گیے اعداد و شمار سے پتہ چلا کہ اس وبا کا شکار ہوکر جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد چار ہزار اور پانچ ہزار کے درمیان تھی، لیکن وہاں کچھ عرصہ بعد بڑی حد تک صورتحال پر قابو پالیا گیا، تاہم احتیاط برتنے میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں برتی جارہی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ وباپوری دنیا میں پھیل گئی۔ جنوبی کوریا نے تو کافی حد تک قابو پالیا، لیکن یوروپ اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک بری طرح اس کی لپیٹ میں آگئے۔ یوروپ میں نیوزی لینڈ سمیت بعض ممالک نے اس پر قابو پانے میں نسبتاًبہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا،لیکن برطانیہ ،اسپین،اٹلی اور فرانس جیسے بڑےممالک میں نہ صرف متاثرین کی تعداد میں لگاتار اضافہ ہوتا گیا، بلکہ اموات بھی بڑے پیمانے پر ہوئیں۔جہاں تک امریکہ کی بات ہے تو وہاں مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے اور متاثرین کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ مجموعی طور پر پوری دنیا میں تین لاکھ سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔اب  ایشیا کے ممالک کی بات کی جاۓ تو یہاں اگرچہ کسی بھی ملک میں اب تک اتنی اموات نہیں ہوئی ہیں، جتنی یوروپ اور امریکہ میں ہوئی ہیں، لیکن صورتحال کو اطمینان بخش کہنا غلط ہوگا۔ ہندوستان میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہو ہیں اور مرنے والوں کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ پاکستان میں متاثرہ افراد 42 ہزار سے اوپر اور مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔ بنگلہ دیش میں ساڑھے تین سو اورافغانستان میں 173 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ سری لنکا اور مالدیپ میں بالترتیب 9 اور چار اموات ہوچکی ہیں، جبکہ نیپال اوربھوٹان سے کسی کے مرنے کی خبر نہیں ہے۔ 

بہر حال بیشتر ممالک اس وبا کی زد میں ہیں اور ابھی تک باقاعدہ کوئی دوایا ٹیکہ نہیں ایجاد ہو پایا ہے۔ دنیا بھر کے سائنسدانوں اور ماہرین پوری کوشش کررہے ہیں کہ جلد از جلد کوئی ایسی صورت نکالی جاۓ جس سے اس وبا پر قابو پایا جاسکے، لیکن جب تک ایسی کسی دوا یا ٹیکے کی ایجاد نہیں ہوجاتی اور اس کی دستیابی آسان نہیں ہوجاتی تب تک پوری دنیا کو صرف احتیاط اور احتیاطی تدابیر کا ہی سہارا لینا پڑے گا۔ ویسے بھی احتیاط اور پرہیز کو بیماریوں اور وباؤں کےلیے بہتر تصور کیا جاتا ہے، جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ یہ کوئی ایک ناگہانی یا بہت بڑا المناک واقعہ نہیں ہے، جس سے ایک فرد یا خاندان یا معاشرہ فوری طور پر متاثر ہوتا ہے اور اس پر اچانک غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔ پھر رفتہ رفتہ غم کی شدت کم ہوتی جاتی ہے اور زندگی معمول پر آنے لگتی ہے۔ کووڈ19کی وبا نے اس وقت پوری دنیا کو پریشان اورفکر مند کردیا ہے۔ فی الحال بیشتر متاثرہ ملکوں میں اس کی شدت میں کوئی قابل ذکر کمی آتی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ ادھر لاک ڈاؤن اور دوسری بندشوں نے بھی لوگوں کو طرح طرح کی پریشانیوں اور الجھن میں ڈال رکھا ہے۔ کورونا کے مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر تمام تر توجہ مرکوز ہے، لہٰذا دوسری بیماریوں میں مبتلا لوگوں پر توجہ نسبتاً کم ہوگئی۔

عالمی پیمانے پر یہ سوچ بھی پروان چڑھ رہی ہے کہ فی الحال اس وبا سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کویٔ صورت نظر نہیں آتی، لہٰذا اسی صورتحال میں زندگی کو آگے بڑھانے کا کوئی راستہ تلاش کیا جانا چاہیے۔ظاہر ہے لاک ڈاؤن کا سلسلہ لمبے عرصہ تک قایم نہیں رکھا جاسکتا۔ کاروبار اور زندگی کو تو آگے بڑھانا ہی ہوگا ، لہٰذا کوئی درمیانی راستہ نکال کر اقتصادی سرگرمیوں کو شروع کرنا پڑے گا ورنہ اس کا انجام انتہائی ناگفتہ بہ ہوسکتا ہے، اسی لیے بیشتر ملکوں نے لاک ڈاؤن کے ضابطوں میں نرمی پیدا کرنے کی شروعات کردی ہے اور احتیاطی تدابیر کو بروۓ کار لاکر اپنے معمول کے کاموں کو آگے بڑھانے کی کوششیں بھی شروع کردی ہیں۔ پریشانی اور گھبراہٹ کے عالم میں کہیں کہیں حکومت اور اپوزیشن پارٹیاں آپس میں ایک دوسرے پر الزام تراشیاں بھی کرنے لگی ہیں۔ عالمی پیمانے پر کچھ ملک دوسرے ملکوں پر اس وبا کے پھیلانے کا الزام لگانے سے بھی باز نہیں آرہےہیں، لیکن یہ سب کچھ فرسٹریشن اور بے بسی کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک ناگہانی وبا ہے اور یہی سمجھ کر اس کا مقابلہ بھی کیا جانا چاہیے۔ اب انہی حالات میں زندگی گزارنا بھی ہوگا اور اس بیماری کا مقابلہ بھی کرنا ہوگا۔ دنیا بھر کے سائنسداں اور ماہرین اپنی اپنی تحقیق میں مصروف ہیں۔مختلف انداز کے تجربے کیے جارہے ہیں، امیدیہی کی جانی چاہیے کہ یہ تجربات جلد ہی اچھے نتائج لے کر سامنے آ ئیں گے۔ کوئی نہ کوئی دوا یا ٹیکہ بھی ایجاد ہوسکتا ہے۔ اس مرحلے میں امید کا دامن نہیں چھوڑنا ہے، جس طرح دوسری وباؤں پر قابو پانے کا راستہ نکالا گیا، اسی طرح اس وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی کوئی نہ کوئی راستہ نکل ہی آۓ گا۔

پایہ زنجیر ہوئی وقت کی رفتار کہاں

جو کبھی کٹ نہ سکے ایسی شب تار کہاں؟