27.05.2020

چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ: وزیر اعظم نے این ایس اے، سی ڈی ایس اور مسلح افواج کے تینوں سربراہان کے ساتھ میٹنگ میں لیا صورتحال کا جائزہ

آج ملک کے تمام اخبارات نے چین کے ساتھ جاری سرحدی تنازعے اور تعطل کے پس منظر میں اُس اعلیٰ اختیاراتی میٹنگ کی خبروں کو جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے جس میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال،، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت اور مسلح افواج کے تینوں سربراہان نے شرکت کی۔ روزنامہ ہندو نے متعدد ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ یہ میٹنگ فوج کے کمانڈروں کی دوسالہ  کانفرنس سے ایک دن قبل ہوئی ہے۔ بری فوج کے سربراہ، جنرل منوج نروانے نے حقیقی کنٹرول لائن پر مشرقی لداخ کے کئی مقامات پر تعطل کے بارے میں تفصلی پریزینٹیشن دیا۔ خیال رہے کہ اس تعطل کو دور کرنے کے لئے مقامی ڈیویژنل کمانڈروں کی سطح پر بات چیت کے کئی  دور ہوچکے ہیں مگر ان سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اس سے ایک روز قبل، فوج میں جاری اصلاحات کے سلسلے میں وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے سی ڈی ایس، مسلح افواج کے تینوں سربراہوں اور دیگر حکام کے ساتھ میٹنگ کی تھی جس میں حقیقی کنٹرول لائن پر موجودہ صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا تھا۔اخبار آگے لکھتا ہے کہ وزارت خارجہ نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ حالات سے باخبر کرنے کے لئےسکریٹری خارجہ ہرش سنگلا سے اس میٹنگ میں شرکت کے لئے کہا گیا تھا۔ وزارت نے چین کے ساتھ کشیدگی کے بارے میں صرف ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چین کے فوجی دستے، ہندوستانی فوجیوں کی معمول کی گشت میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بیان میں چین کے تمام الزامات کی تردید بھی کی گئی ہے۔واضح ہو کہ گذشتہ ہفتے چین کی وزارت خارجہ نے ہندوستانی فوجیوں پر سکم اور لداخ میں  کنٹرول لائن پار کرنے،  سرحد کی خلاف ورزی جیسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور  سرحد کنٹرول میں تبدیلی کرنے کا الزام لگایا تھا۔اخبار نے ہندوستانی وزارت خارجہ کے حوالے سے مزید تحریر کیا ہے کہ تنازعے کو سلجھانے کے لئے  فوجی کمانڈروں اور سفارتی چینلس کے درمیان طے شدہ طریقۂ  کار موجود ہے۔ دوسری جانب  کچھ دیگر کا ذرائع کا کہنا ہے کہ حقیقی صورتحال بہت سنگین ہے اور لداخ و سکم میں ناتھو لا درے کے کم از کم تین مقامات پر دونوں فوجیں آمنے سامنے ہیں، دریائے گلوان کی وادی سمیت، ہندوستانی گشت والے علاقوں میں چین نے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے اور پینگاگ ٹسو جھیل پر فنگر علاقوں میں چینی فوجی، ہندوستانی فوجیوں کے گشت میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔اخبار کے مطابق، اسی دوران، دفاع کے ذرائع نے ان خبروں کی تردید کی ہے اتراکھنڈ میں کنٹرول  لائن کے پار چین نے اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کیا ہے۔خصوصاً جوشی مٹھ علاقے میں جہاں ہندوستانی فوجیوں کو سرحد کے اگلے علاقوں میں بھیج دیا گیا ہے۔ دوسری جانب دہلی میں، چین کے سفارت خانے نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ وبا کے پیش نظر، چینی شہریوں کو واپس بھیجنے کے لئے جن خصوصی طیاروں کا انتظام کیا گیا تھا اس کا تعلق حقیقی کنٹرول لائن پر جاری کشیدگی سے ہے۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمس نے اسی سلسلے میں کچھ ذرائع کے حوالے سے اپنی خبر میں کہا ہے کہ ہندوستان، سرحدی علاقوں سے متعلق اپنے دعوے سے دستبردار نہیں ہوگا  یعنی وہ حقیقی کنٹرول لائن کی موجودہ صورتحال میں کسی قسم کی تبدیلی کی اجازت نہیں دے گا۔ ماضی میں بھی ملک کو اسی طرح کی صورتحال سے دوچار ہونا پڑا ہے اور اس بار بھی حالات کا مقابلہ طاقت  کے مظاہرےاور ضبط و تحمل کے ساتھ کیا جائے گا۔ سلامتی سے متعلق،ہندوستانی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ چین کی سرگرمیوں کا مقصد اس علاقے میں غلبہ حاصل کرنے اور ہندوستان کو داربک۔ شیاک۔ دولت بیگ سڑک کی تکمیل سے روکنا ہے۔کیوں کہ سڑک مکمل ہوجانے کے بعد ملک کی فوج کو نقل و حرکت میں کافی آسانی ہوجائے گی۔روزنامہ انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق، ہندوستان اور چین نے سفارتی سطح پر  طے شدہ ‘‘ورکنگ میکینزم’’ کو فعال کردیا ہے۔ وزارت خارجہ میں مشرقی ایشیا کے امور سے متعلق جوائنٹ سکریٹری نوین سریواستو ہندوستانی وفد کی قیادت کررہے ہیں جب کہ چین کی نمائندگی  وازرت خارجہ میں، ڈائرکٹر جنرل، ڈپارٹمنٹ آف باؤنڈری اینڈ اوشنک افیرس ہانگ لیانگ کررہے ہیں۔

 

فوج بدترین صورتحال کے لئے تیار رہے اور تربیت و جنگی  تیاریوں میں اضافہ کرے: شی جن پنگ

روزنامہ ہندو کی خبر کے مطابق، چین کے  صدر،شی جن پنگ نے فوج سے کہا ہے کہ وہ بدترین صورتحال کے لئے تیار رہیں اور تربیت و جنگی تیاریوں میں اضافہ کردیں۔انھوں نے یہ بات، بیجنگ میں نیشنل پیوپلز کانگریس یا پارلیمنٹ میں شریک، پیوپلز لبریشن آرمی کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ چینی صدر نے 2019 میں پی ایل اے کی میٹنگ کے دوران جنگی تیاریوں کا بھی حوالہ دیا۔  اس سال ان کی تقریر میں کورونا وبا کے بعد کی صورتحال پر توجہ مرکوز کی گئی ہے کیوں کہ انھوں نے  پارلیمنٹ کے پی ایل اے ارکان سےاس وبا کے دوران تربیت کو مستحکم کرنے اور بائیو ڈائیورسٹی ڈیفنس کے بارے سنا تھا۔اخبارشی جن پنگ کے موجودہ خطاب کے حوالے سے آگے رقم طراز ہے کہ اس وبا نے عالمی منظر نامے اور چین کی سلامتی و ترقی کی صورتحال پر برا اثر ڈالا ہے۔ اخبار سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ چینی صدر نے یہ بھی حکم دیا کہ فوج ہر قسم کی پیچیدہ صورتحال سے فوری اور موثر طور پر نپٹے نیز قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقی و فروغ کا تحفظ  بھی کرے۔حالانکہ شی جن پنگ کا یہ بیان کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن ہندوستان میں ان کے اس بیان پر سرحدی تعطل اور تائیوان کے پس منظر میں سنجیدگی سے نظر رکھی جارہی ہے۔واضح ہو کہ این سی پی کی سالانہ رپورٹ میں تائیوان کے ساتھ اتحاد نو کا ذکر، پہلی بار معمول کے لاحقہ ‘‘پرامن’’ کے بغیر  کیا گیا ہے۔چین کی وزارت دفاع کے ترجمان وو قیان  نے منگل کے روز نامہ نگاروں سے کہا تھا کہ تائیوان کی آزادی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

 

ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان، ورچوئل سربراہ کانفرنس کے موقع پر کئی معاہدے متوقع

روزنامہ ہندوستان ٹائمس نے خبر دی ہے کہ ہندوستان اور آسٹریلیاایک دوسرے کی لاجسٹک سہولیات تک رسائی کے لئے ایک معاہدہ متوقع ہے جو سفارتی سطح پر ایک تاریخ ساز قدم ہوگا۔اس کے علاوہ ان کے درمیان کئی دیگر سمجھوتے بھی ہوں گے جن کا مقصد متبادل سپلائی چینس کا فروغ ہوگا۔ یہ معاہدے، 4 جون کو ہونے والی ورچوئل سربراہ کانفرنس کے موقعے پر طے پائیں گے۔وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے آسٹریلیائی ہم منصب اسکاٹ موریسن کے درمیان اس کانفرنس  کاابھی  باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے جو چین کے ساتھ زبردست کشیدگی کے پس منظر میں ہوگی۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ نریندر مودی کی یہ پہلی ورچوئل سربراہ کانفرنس ہوگی اور کووڈ۔19 کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پہلی بار کئی  معاہدے طے پائیں گے۔گذشتہ دسمبر میں خارجہ اور دفاع کے سکریٹریوں کے درمیان ٹو پلس ٹو میٹنگ میں میوچوئل لاجسٹک سپورٹ ایگریمنٹ یعنی ایم ایل ایس اے طے پایا تھا اس پر جنوری میں موریسن کے دورۂ ہند کے موقع پر دستخط ہونے تھے مگر آسٹریلیا میں جنگلاتی آگ کی وجہ سے یہ دورہ منسوخ ہوگیا تھا۔واضح ہو کہ ہندوستان نے امریکہ، سنگاپور، فرانس اور جنوبی کوریا کے ساتھ بھی 2016 اور 2019 کے درمیان اسی طرح کے لاجسٹکس ایکسچینج معاہدوں پر دستخط کئے تھے۔ ایم ایل ایس اے کے علاوہ آسٹریلیا کے ساتھ جن شعبوں میں مختلف معاہدے طے پائیں گے ان میں  سائنس و تکنالوجی، فارماسیوٹیکلس و طبی آلات اور کمیاب ارضی دھاتیں و اہم معدنیات شامل ہیں۔

 

افغانستان حکومت 900  قیدیوں کو کرے گی رہا، طالبان کرسکتے ہیں جنگ بندی میں توسیع

افغانستان حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ 900  قیدیوں کو رہا کر دے گی۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس نے اس حوالے سے تحریر کیا ہے کہ اس سال امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے بعد پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں قیدیوں کی رہائی عمل میں آئے گی۔ اس معاہدے کے تحت دونوں متحارب گروپوں کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ طے پایا تھا۔اخبار آگے لکھتاہے کہ یہ اعلان ایسے وقت کیا گیا ہے جب شورش پسندوں کے ساتھ تین روزہ جنگ بندی کا خاتمہ قریب ہے۔ طالبان نے عید الفطر کے موقعے پر اس جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔توقع ہے کہ ان قیدیوں کی رہائی سےتشدد میں مزید کمی آئے گی ۔ طالبان عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ اس جنگ بندی میں مزید توسیع کے لئے غور کررہے ہیں۔ اس بات کی تصدیق، طالبان کے ایک سینیر رہنما نے ایسوسی ایٹیڈ پریس سے بات چیت میں کی ہے۔اخبار کے مطابق، یہ قیدی، بگرام جیل اور بدنام زمانہ  پلِ خمری جیل سے رہا کئے جائیں گے واضح ہو کہ بگرام میں امریکہ کا ایک اڈہ اب بھی موجود ہے۔ اس معاہدے کے تحت، کابل کی حکومت کو کل 5000 قیدیوں کو رہا کرنا ہے جبکہ طالبان اپنے قبضے سے 1000قیدیوں کو رہا کریں گے جن میں حکومت اور فوج کے اہلکار شامل ہیں۔ اس معاہدے میں افغانستان سے امریکی کی فوجیوں کی واپسی بھی ہوگی۔ جس کےبعد امریکی تاریخ کی طویل ترین تاریخ کی جنگ کا خاتمہ ہوجائے گا۔

 

ہانگ کانگ میں چینی فوج، ملک کے مفادات کا کرے گی تحفظ

’’ہانگ کانگ میں چینی فوج، ملک کے مفادات کا کرے گی تحفظ‘‘۔ یہ سرخی ہے روزنامہ انڈین ایکسپریس کی۔ اخبار لکھتا ہے کہ ہانگ کانگ میں چین کی گیریسن کے کمانڈر نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہاں پر تعینات چین کی فوجیں، ملک کے قومی سلامتی مفادات کا تحفظ کریں گی۔اس بیان سے چین کے ذریعے، اس نیم خودمختار علاقے پر اپنا اقتدار نافذ کرنے کی ہاددہانی ہوتی ہے۔ گیریسن کمانڈر کا یہ بیان ایسی وقت میں آیا ہے جب ہانگ کانگ کے متحارب رہنما کیری لیم نے نئے قومی سلامتی قوانین کی تیاری کے لئے مرکزی حکومت کے منصوبے کا دفاع کیا ہے جن کے تحت اختلاف رائے یا بغاوت کی سرگرمیوں کے لئے سزا کا اہتمام ہے۔حالانکہ اس عمل کی وجہ سے ملک کا اپنا قانونی عمل الگ تھلگ پڑ گیا ہے۔