01.06.2020

کورونا کے خلاف جنگ کو نہ ہونے دیں کمزور: من کی بات

آج ملک کے تمام اخبارات نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ماہانہ پروگرام، ‘‘ من کی بات’’ کو اپنی اشاعتوں میں خاص جگہ دی ہے۔ اس حوالے سے روزنامہ ہندوستان ٹائمز اور سہارا کے مطابق، وزیر اعظم نے ملک کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کورونا کے خلاف جنگ کو کسی بھی سطح پر کمزور نہ ہونے دیں کیوں کہ یہ جنگ اب بھی شدید ہے۔ اتوار کے روز آل انڈیا ریڈیو سے ہر ماہ نشر ہونے والے پروگرام میں انھوں نے کہا کہ اس وبا کا چیلنج ابھی برقرار ہے  لہٰذا اس کے خلاف محاذ پر ملک کو مضبوطی سے کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ ہندوستان میں 68 دن طویل لاک ڈاؤن میں نرمی کے اعلان حوالے سے انھوں نے کہا کہ  اس لڑائی کے خلاف اصولوں پر اور بھی سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے جن میں حفظان صحت، خصوصاً ہاتھوں کی صفائی، ماسک کا استعمال اور سوشل ڈسٹینسنگ  سمیت دیگر احتیاطی تدابیر شامل ہیں۔انھوں نے زور دے کر کہا کہ جس طرح ملک کے عوام لاک ڈاؤن کے دوران ان تدابیر پر عمل کرتے رہے ہیں اس طرح لاک ڈاؤن میں نرمی کے دوران بھی ان پرعمل ہونا چاہئے۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ  ملک کے عوام کو یہ بات اپنے ذہن میں رکھنا ہوگی کہ  اس سخت محنت کے بعد جس طرح ملک نے حالات کو سنبھالا ہے، اس محنت کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہئے اور احتیاطی تدابیر کو ترک نہیں کرنا  ہوگا۔ اخبار من کی بات کے حوالے سے مزید رقم طراز ہے کہ نریندر مودی نے اقتصادی محاذ پر اٹھائے گئے  فیصلوں کو صحیح قرار دیتے ہوئے کہ ان سے دیہی علاقوں میں صنعتی کاموں میں اضافہ ہوگا اور مقامی  مصنوعات کو فروغ حاصل ہوگا۔اس وبا کی وجہ سے محنت کش طبقے کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے، انھوں نے کہا کہ ان کی تکالیف کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے لیکن مرکزی حکومت کے حالیہ فیصلوں سے گاوؤں میں روزگار، خود روزگار اور چھوٹی صنعتوں کے لئے بڑے امکانات کے دروازے کھلے ہیں۔ انھوں نے مزدور اسپیشل ٹرینوں  کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ  ریلوے ان مزدوروں کو ان کے گھر تک پہونچانے کے لئے دن و رات محنت کررہی ہے،اور مزدوروں  کے کھانے پینے کی فکر، ان کے لئے قرنطینہ  مراکز کا انتظام، جانچ، علاج و معالجہ وغیرہ تمام کام بڑے پیمانے پر جاری ہیں۔اخبار کے مطابق، وزیر اعظم نے  معاشی خود مختاری اور ماحول کے تئیں حساسیت،کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے،  سمندری طوفان امفن سے متاثرہ مغربی بنگال اور اڈیشہ  کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور بیماریوں سے دفاع اور بہتر صحت کے لئے یوگا اپنانے پر زور دیا۔ واضح ہو کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے پہلے مرحلے میں میں 8 جون سے عبادت گاہیں، شاپنگ مالس، ہوٹل اور ریسٹوراں کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ 

 

ٹرمپ نے جی۔7 کو قرار دیا بیحد فرسودہ، ہندوستان، جنوبی کوریا اور روس کی شمولیت کی بھی پیش کی تجویز

گروپ سات کو بیحد فرسودہ قرار دیتے ہوئے صدر ڈونل ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا ہے وہ اس گروپ میں ہندوستان، جنوبی کوریا اور روس کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے روزنامہ انڈین ایکسپریس لکھتا ہے کہ انھوں نے اس گروپ کا نام جی۔7 کے بجائے جی۔10 کرنے کی بھی تجویز پیش کی اور کہا کہ اس گروپ کا اجلاس اس سال ستمبر یا نومبر میں منعقد کیا جائے۔خیال رہے کہ گذشتہ سال اگست میں ہندوستان نے فرانس میں منعقدہ اس گروپ کی میٹنگ میں شرکت کی تھی اور ڈونل ٹرمپ نے، اس سال جون میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کو دعوت دی تھی۔ ایر فورس ون کے موقعے پر،  ایک نجی کمپنی اسپیس ایکس (Space X)کے ذریعے خلاء میں آدمی کو لے جانے والے مشن کو روانہ کرنے کے بعد امریکی صدر نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا اور بتایا کہ وہ اس اجلاس کو ملتوی کررہے ہیں کیوں کہ دنیا میں جو کچھ بھی ہورہا ہے اس میں اُس کی بھی نمائندگی ہونا چاہئے۔یاد رہے کہ کورونا وبا کی وجہ سے، جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے اس اجلاس میں شرکت سے معذوری کا اظہار کیا تھا۔ اخبار لکھتا ہے کہ جی۔7 میں چار مزید ممالک کی شرکت، چین کے لئے ایک اشارہ ہے۔ اور اس تجویز کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب، چین اور امریکہ کے درمیان مختلف امور پر شدید زبانی جنگ جاری ہے جن میں تائیوان کی خودمختاری، کووڈ۔19 کی شروعات اور جنوبی بحرچین میں کشیدگی جیسے امور شامل ہیں۔

 

پاکستانی ہائی کمیشن کے دو اہلکار  جاسوسی کے الزام میں گرفتار، ملک چھوڑنے کا دیا گیا حکم

روزنامہ ہندوستان ٹائمس کی ایک رپورٹ کے مطابق، حکومت ہند نے اتوار کے روز پاکستان ہائی کمیشن کے دو اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اخبار،وزارت خارجہ کے حوالے سے لکھتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان اہلکاروں کو جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔ دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کے کچھ ذرائع کے مطابق، ان اہلکاروں کو قرول باغ میں بیکانیر والا چوک پر اس وقت رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا جب وہ ہندوستانی سلامتی تنصیبات کے بارے میں کلاسیفائیڈ مواد حاصل کررہے تھے۔ابتدا میں ان لوگوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ لوگ ہندوستانی شہری ہیں اور ثبوت کے طور پر ان لوگوں نےفرضی آدھار کارڈ بھی پیش کئے تھے۔ مگر بعد میں تحقیقات کے دوران انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ پاکستانی ہائی کمیشن کے اہلکار ہیں اور آئی ایس آئی کے لئے کام کرتے ہیں۔ یہ لوگ پچھلے کئی ماہ سے زیر نگرانی تھے۔حکومت ہند نے ان کو ناپسندیدہ قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

 

پاکستان کے کوئٹہ شہر میں پشتون نوجوان ہجومی تشدد کا شکار

 انڈین ایکسپریس نے پاکستان کے حوالے سے ایک خبر میں بتایا ہے کہ پاکستان کے کوئٹہ شہر میں اس وقت فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوگئی اور احتجاج شروع ہوگئے جب ایک پشتون نوجوان کوہجومی تشدد کا بنایا گیا اور اس کے دو دوستوں کو بری طرح زخمی کردیا گیا۔ خیال ہے کہ اس ہجوم میں زیادہ تر شیعہ ہزارہ فرقے کے لوگ شامل تھے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اس ظالمانہ واقعے کے بعد صوبہ بلوچستان کی راجدھانی میں حالات کشیدہ ہیں اور شہر جزوی طور پر بند ہے۔ پولیس نے اس ہجومی تشدد کے سلسلے میں 12 لوگوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ جھگڑا مالی لین دین پر شروع ہوا تھا جب کہ کچھ دیگر لوگوں نے بتایا ہے کہ پشتون برادری سے تعلق رکھنے والے تین نوجوان اپنے موبائل فونس سےہزارہ برادری کی کچھ خواتین کے فوٹو کھینچ رہے تھے جس پر تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ یاد رہے کہ حالیہ برسوں کے دوران ہزارہ برادری متعدد دہشت گردانہ حملوں کا شکار رہی ہے۔

 

نیپالی پارلیمان میں نئے نقشے سے متعلق ترمیم پیش، ایوان میں اختلاف

 ‘‘نیپالی پارلیمان میں نئے نقشے سے متعلق ترمیم پیش، ایوان میں اختلاف۔’’ یہ سرخی ہے روزنامہ ہندو کی۔ اخبار لکھتا ہے کہ ملک کے نئے نقشے کو باقاعدہ شکل دینے کے لئے، حکومت نیپال نے اتوار کے روز ایوان میں آئینی ترمیمی بل پیش کیا جس میں ہندوستان کے کچھ حصوں کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ بل نیپال کے وزیر قانون، انصاف اور پارلیمانی امور شِو مایا تُمبا ہینگ فے نے پیش کیا لیکن وہاں کی مدھیسی پارٹیوں نے اس قبول نہیں کیا ہے۔اسی دوران، سڑکوں پر اس وقت ایک بڑا ڈرامہ شروع ہوگیا جب سینئر سفارت کاروں نے اس تاریخ ساز اجلاس کو دیکھنے کے لئے پارلیمنٹ تک جانے کی کوشش کی۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اس نئے نقشے میں لمپی یادھورا، لیپو لیکھ اور کالاپانی علاقوں کو نیپال کے خطے میں شامل دکھایا گیا ہے جو اس وقت، اترا کھنڈ کے پتھورا گڑھ ضلع کا حصہ ہیں۔ان علاقوں پر ہندوستانی قبضے کی تاریخی دستاویزات اور  باہمی مفاہمت کے باوجود، نیپال نے اس پر تنازعہ پیدا کیا ہوا ہے۔ تُمبا ہینگ فے نے بل پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ترمیم کی منظوری کے بعد، نیپال کا کوٹ آف آرمس بدل جائے گا۔ خیال رہے کہ نیپال کی اہم حزب اختلاف، نیپالی کانگریس نے کے پی شرما اولی کو اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ اس بل کو مطلوبہ دو تہائی حمایت ملے گی۔ جس کے ایک دن بعد یہ بل ایوان میں پیش کردیا گیا۔حالانکہ سابقہ خارجہ سیکریٹری مدھو رمن آچاریہ نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ بل اکثریت کے ساتھ بلا رکاوٹ منظور  ہوجائے گا مگر نیپال کی سیاسی پارٹیاں اس وقت منقسم نظر آئیں جب میدانی یا مدھیسی علاقوں سے تعلق رکھنے والی پارٹیوں میں اس نئے نقشےکے بارے میں کوئی جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آیا۔ سماج بادی پارٹی جو  مدھیسیوں کے حقوق کی لڑائی میں سب سے آگے رہی تھی، اس کے رہنما اپیندر یادو کےحوالے سے  اخبار رقم طراز ہے کہ نئے نقشے کے سلسلے میں ان کی پارٹی کا کوئی واضح موقف نہیں ہے یعنی انھوں نے ابھی تک اس کی حمایت یا مخالفت کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اہم معاملہ یہ ہے کہ بل میں ترمیم کا ایجنڈا یکا و تنہا ہے لیکن ہم چاہتے ہیں  کہ اس میں ملک کی دیگر تشویشات بھی شامل کی جائیں۔ واضح ہو کہ سماج بادی پارٹی اور اس سے بڑی راشٹریہ جنتا پارٹی مدھیسی علاقوں کے نام سے معروف ترائی علاقوں کی اہم نمائندہ پارٹیاں ہیں۔اخبار لکھتا ہے کہ مدھیسیوں کی اس مخالفت سے نیپال کےاندرونی اختلافات کا اظہار ہوتا ہے۔

 

ہانگ کانگ کے سلسلے میں ٹرمپ کے مجوزہ اقدام سے چین کے مقابلے، امریکہ زیادہ ہوگا متاثر: چین کے ذرائع ابلاغ

چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ اور ہانگ کانگ کی حکومت نے امریکی صدر ڈونل ٹرمپ کے اس عزم پر تنقید کی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اگر بیجنگ اس شہر پر اپنے نئے سلامتی قوانین کا نفاذ کرے گا تو وہ ہانگ کانگ کا خصوصی درجہ ختم کردیں گے۔ روزنامہ ہندو نے اس حوالے سے تحریر کیا ہے کہ اس عزم کے خلاف شہرمیں تازہ احتجاج شروع ہوگئے ہیں۔ خیال رہے کہ جمعے کے روز ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ  ایک علیحدہ کسٹمز اور سفری خطے کے بطور،ہانگ کانگ کے ترجیحی درجے کو ختم کرنے کے  اقدامات کریں گے اور بیجنگ کے نئے قوانین کے خلاف پابندیاں عائد کردیں گے۔چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ترجمان پیوپلز ڈیلی نے اس پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے اس سے چین کے مقابلے میں امریکہ پر زیادہ اثر پڑے گا۔ دوسری جانب گلوبل ٹائمز کا کہنا ہے کہ چین اس سے بھی بدتر کے لئے تیار ہے۔