02.06.2020

ہندوستان کے ساتھ سرحدی  تنازعے کے حل میں چین قواعد و ضوابط کا کرے احترام: امریکی رکن کانگریس

ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی تنازعہ چھڑنے کے بعد پہلی بار کیپٹل ہل سے کسی اعلیٰ کانگریسی رکن نے  اس مسئلے پر رائےزنی کی ہے۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس نے اپنی خبر میں مطلع کیا ہے کہ خارجہ امور سے متعلق ایک اعلیٰ اختیاراتی پینل نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ  ہندوستان کے ساتھ موجودہ تنازعے کو حل کرنے کے لئےقواعد و ضوابط کا احترام کرے نیز سفارتی کاری اور دونوں ممالک کے درمیان مروجہ طریقہ کار کا استعمال کرے۔ ایک بیان میں اس تنازعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی کانگریس کی ہاؤس کمیٹی کے سربراہ ایلیٹ ایل اینجل نے چین کے لئے سخت الفاظ کا استعمال بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ چین نے ایک بار پھر دکھادیا ہے کہ انٹرنیشنل قانون  کے مطابق تنازعے کو حل کرنے کے بجائے وہ اپنے پڑوسی ملک پر دھونس جمانا چاہتا ہے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ بااثر ڈیموکریٹ رکن ہندوستان کے ایک بڑے حامی رہے ہیں۔ تاہم، وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے گذشتہ سال دسمبر میں واشنگٹن ڈی سی میں، اینجل اور دیگر ارکان کانگریس کے ساتھ اپنی میٹنگ منسوخ کردی تھی کیوں کہ اس وفد میں کانگریس رکن پرامیلا جے پال کو شامل کیا گیا تھا کیوں کہ انھوں نے ایک  ایسی قرارداد پیش کی تھی جس ہندوستان پر کشمیر سے پابندیاں اٹھانے کے لئے زور دیا گیا تھا۔

 

تیسرے فریق کے بغیر ہند۔چین سرحدی تنازعے کےحل پر آسٹریلیا نے دیا زور

ہند چین سرحدی تنازعے کے حوالے سے روزنامہ ہندوستان ٹائمس نے بھی ایک خبر شائع کی ہے جس میں آسٹریلیا کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک اپنے تنازعے کو سلجھائیں نیز یہ کہ کسی تیسرا ملک  کواس میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے آسٹریلیائی ہم منصب، اسکاٹ موریسن کے درمیان  4 جون کو ورچوئل سربراہ کانفرنس سے قبل،آسٹریلیا کے ہائی کمشنر بیری او فیرل  نے  پیر کے روز ایک آن لائن میڈیا بریفنگ میں کہا  کہ ان کے ملک کی خارجہ پالیسی اپنے قومی مفادات پر مبنی ہے جس میں جنوبی بحر چین میں استحکام کی خواہش بھی شامل ہے۔ اخبار او فیرل کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ  انھوں نے، عالمی صحت تنظیم جیسے ہمہ جہتی اداروں کی اصلاحات کے لئے ہندوستان کی اپیل کے سلسلے میں اپنے ملک کی حمایت کا بھی اعادہ کیا تاکہ مستقبل میں چیلنجوں اور بحرانوں سے بہتر انداز میں نپٹا جاسکے۔ جب ان سے ایل اے سی پر ہند چین کے درمیان تعطل کے بارے میں خاص طور پر پوچھا گیا نیز یہ کہ آیا اس طرح کے امور آئندہ سربراہ کانفرنس میں زیر غور آئیں گے تو انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ دونوں ملکوں کے درمیان ہے اور اس میں آسٹریلیا دخل اندازی نہیں کرے گا اور توقع ہے کہ اس میں علاقائی اور ہمہ جہت اداروں کے فروغ کے لئے مل کو کام کرنے کا ایجنڈا شامل ہوگا جس میں کووڈ اور صحت عامہ، سائنس اور تکنیکی تعاون، سائبر سکیورٹی پر مستحکم تر تعاون اور اہم تکنالوجی، ہند بحرالکاہل میں بحری معاملات اور آبی ذرائع کا بندوبست شامل ہوگا۔اخبار کے مطابق، جنوبی بحر چین کے تعلق سے انھوں نے کہا کہ آسٹریلیا اس خطے میں استحکام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا خواہاں ہے اور اس کو وہاں فوج کاری جیسے متنازعہ امور پر تشویش ہے۔اس کے ساتھ ہی آسٹریلیائی ایلچی نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ کشیدگی کم کرنے کے لئے بامعنی اقدامات اٹھائے جائیں۔ 

 

وہائٹ ہاؤس کے باہر شدید جھڑپیں، مزید شہروں میں کرفیو

آج اخبارات نے جن  دیگراہم خبروں کی طرف توجہ دی ہے ان میں امریکہ میں جھڑپوں اور مزید شہروں میں کرفیو کی خبر بھی شامل ہے۔ اس حوالے سے روزنامہ ہندو لکھتا ہے کہ اتوار کو روز، پولیس کو وہائٹ ہاؤس کے باہر اس وقت آنسو گیس کے گولے داغنا پڑے جب نسل پرستی مخالف مظاہرین، پولیس کی ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف ایک بار پھر سڑکوں پر نکل آئے۔ فسادات کو روکنے کے لئے امریکہ کے مزید شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ ایک طرف چھ راتوں سے جاری فسادات میں ملوث افرادکو ٹرمپ انتظامیہ گھریلو دہشت گرد قرار دے رہی ہے تو دوسری جانب، پولیس اور احتجاجیوں کے درمیان مزید جھڑپیں اور لوٹ مار کی تازہ وارداتیں ہوئی ہیں۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ وہائٹ ہاؤس کے آس پاس، چھوٹے پارکوں میں بار بار جھڑپیں ہوئی ہیں اور ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے پولیس کو آنسو گیس کے گولے داغنا پڑے اور مرچ کا اسپرے، اور فلیش بینگ  گرینیڈ کا استعمال کرنا پڑا۔ مشتعل ہجوم نے کئی مقامات پر آگ زنی کی اور املاک کو تباہ کردیا۔ایگزیکٹو مینشن کے پاس، سیکڑوں مظاہرین کے اکٹھا ہونے کے بعد، سیکریٹ ایجنٹ بنکر میں پہونچ گئے اور  صدر ٹرمپ کو تقریباً ایک گھنٹے تک وہاں رہنا پڑا۔اخبار کے مطابق، مقامی رہنماؤں نے شہریوں سے تعمیری انداز میں احتجاج کے لئے کہا جو منی پالیس   میں پیر کے روز پولیس کے ہاتھوں ایک غیر مسلح سیاہ فام شخص جارج فلائڈ کی موت کے خلاف مظاہرہ کررہے ہیں۔ خیال رہے کہ اس ہلاکت کے بعد غیر مسلح افریقی امریکیوں کےخلاف مہلک طاقت کے استعمال پر پورے ملک میں پرتشدد مظاہرے شروع کوگئے تھے۔

 

امریکہ میں جھڑپیں، نسل پرستی کی سنگین بیماری کی مظہر: چین

امریکہ میں ان جھڑپوں کے حوالے سے روزنامہ ہندو ہی نے چین کا ردعمل شائع کیا ہے جس کےمطابق، ان جھڑپوں سے وہاں نسل پرستی اور پولیس بربریت کے شدید مسائل کا اظہار ہوتا ہے اور ہانگ کانگ میں جھڑپوں کی حمایت سے اس کے دوہرے معیار کا پتہ چلتا ہے۔اخبار نے بیجنگ میں اخباری نمائندوں کے ساتھ وزارت خارجہ کے ترجمان  کی گفتگو کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ  سیاہ فام افراد میں بھی جان ہوتی ہے اور ان کے انسانی حقوق کی بھی ضمانت دی جانی چاہئے۔ان کا اشارہ منی پالیس میں حراست کے دوران ایک سیاہ فام کی موت کی طرف تھا۔ ان کے الفاظ میں امریکی معاشرے میں نسلی اقلیتوں کے خلاف نسل پرستی ایک سنگین بیماری کی شکل اختیار کرچکی ہے اور موجودہ صورتحال سے امریکہ میں نسل پرستی اور پولیس بربریت کی شدت کا اظہار ہوتا ہے۔

 

جموں و کشمیر میں کنٹرول لائن پر تین پاکستانی دہشت گرد ہلاک

 ‘‘جموں و کشمیر میں کنٹرول لائن پر تین پاکستانی دہشت گرد ہلاک۔’’ یہ سرخی ہے روزنامہ ہندوستان ٹائمس کی۔خبر میں سلامتی اہلکاروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ راجوری ضلع کے نوشیرا سیکٹر میں کنٹرول لائن پر فوج نے پیر کے روز،پاکستانی دہشت گردوں کے ذریعے دراندازی کی ایک کوشش کو ناکام بنادیا۔ جھڑپ میں تین دہشت گردوں کو مار گرایا گیا۔ یہ دہشت گرد مہلک اسلحہ جات سے لیس تھے۔اخبار آگے لکھتا ہے کہ یہ دہشت گرد 28 مئی کو پاکستان مقبوضہ کشمیر سے نوشیرا کے کلال علاقے میں چوری چھپے داخل ہونے کے فراق میں تھے لیکن دراندازی مخالف کارروائی کے نتیجے میں ان کی اس کوشش کو ناکام اور تین دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا۔ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ تلاش پارٹیوں نے پیر کے روز ان کی لاشوں کو ڈھونڈ نکالا تھا مگر دشمن کی چوکیوں کی قربت اور فائرنگ کے خطرے کے پیش نظر ان کو وہاں سے اٹھایا نہیں جاسکا تاہم اس آپریشن کے دوران، 13 بھری ہوئی میگزین کے ساتھ دو اے کے 47 رائفلوں،  چھ بھری ہوئی میگزین کے ساتھ امریکی ساخت کی ایک ایم 16 اے ٹو رائفل، 9 ایم ایم کی چینی ساخت کی پستول، چھ گرینیڈ کےساتھ ایک انڈر بیرل گرینیڈ لانچر، پانچ ہینڈ گرینیڈ اور دو چاقوؤں سمیت بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود قبضے میں لیا گیا۔ اخبار نے مزید اطلاع دی ہے کہ فوج کی زبردست فائرنگ کی وجہ سے ان دہشت گردوں کو واپس بھاگنا پڑا اور فرار ہوتے وقت یہ رک سیکس (Ruck sacks) چھوڑ گئے جن میں سے بڑی مقدار میں غذائی اشیاء، دوائیں اور 17 ہزار روپئے کی ہندوستانی کرنسی برآمد ہوئی۔

 

پاکستانی جاسوس، ہندوستانی فوج کی نقل و حرکت کے بارے میں اکٹھا کیا کرتے تھے معلومات  

پاکستانی ہائی کمیشن کے جن دو اہلکاروں کو دو روز قبل مبینہ طور پر،جاسوسی کے الزام کے گرفتار اور ملک بدر کی گیا تھا، وہ دونوں، ٹرین کے ذریعے ہندوستانی فوج کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات اکٹھا کیا کرتے تھے۔ اس حوالے سے روزنامہ ہندو نے دہلی پولیس کے حوالے سے خبر دی ہے کہ چند ماہ قبل، مرکزی خفیہ ادارے نے اطلاع دی تھی کہ نوئیڈا میں ایک پاکستانی ایجنٹ عابد ، پاکستان میں اپنے آقاؤں کے لئے فوج کی نقل و حرکت کے سلسلے میں معلومات اکٹھا کرنے اور ان کو خفیہ دستاویزات بھیجنے میں ملوث ہے۔ بعد میں اس ایجنٹ کو  اتوار کے روز دہلی کے قرول باغ علاقے سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔اخبار کے مطابق، پوچھ تاچھ کے دوران عابد نے اپنے اور اپنی جائے رہائش کے بارےمیں متضاد بیانات دیئے تھے۔ تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا تھا کے عابد مختلف جعلی ناموں سے متعدد تنظیموں اور  محکموں میں کام کرنے والے افراد کو اپنے مطلب کی معلومات اکٹھا کرنے کی ترغیب و تحریص دیا کرتا تھا۔

 

امریکہ ڈبلیو ایچ او میں مشروط واپسی کے لئے تیار

روزنامہ انڈین ایکسپریس نے خبر دی ہے کہ امریکہ عالمی صحت تنظیم میں اپنی دوبارہ شمولیت پر غور کرسکتا ہے بشرطیکہ وہ  اصلاحات نافذ کرے، بدعنوانی سے پرہیز کرے اور چین پر اپنا انحصار ختم کرے۔ یہ بات اتوار کو اے بی سی نیوز کے ساتھ امریکہ کے قومی سلامتی مشیر، رابرٹ او برائن نے ایک گفتگو کے دوران کہی۔  جمعے کے روز، صدر ٹرمپ نے اس تنظیم سے امریکہ کے تعلقات ختم کردئیے تھے اور اس پر الزام لگایا تھا کہ اس نے کورونا وائرس وبا سے متعلق غلط معلومات کے تبادلے میں چین کے ساتھ سازش کی تھی۔ واضح ہو کہ اس وبا کی وجہ سے اب تک پوری دنیا میں تین لاکھ 70 ہزار افراد لقمۂ  اجل بن چکے ہیں۔امریکہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے 400 ملین ڈالر کی جو خطیر رقم اس تنظیم کو دی تھی وہ اس کو واپس ملنا چاہئے۔ اس رقم کو وہ دیگر بین الاقوامی صحت تنظیموں کو فراہم کرے گا۔