ہانگ کانگ سے ایک ملک اور دو سسٹم کا فارمولہ رخصت

گزشتہ دنوں چین کی پارلیمنٹ نے ہانگ کانگ کے تعلق سے قومی سلامتی سے متعلق قانون میں ایک نئی ترمیم منظور کی ہے۔ یاد رہے کہ ہانگ کانگ ایک پورٹ سٹی ہے، جس پر چین کا قبضہ ہے اور یہ چین ہی کا ایک حصہ تصور کیا جاتا ہے، لیکن یہاں جو سیاسی اور انتظامی نظام اب تک قائم تھا وہ چین کے باقی تمام حصوں سے مختلف تھا۔ یہاں چین کے باقی ماندہ حصوں کی طرح انتہائی سخت قانون نہیں نافذ تھے، بلکہ کچھ آزادیاں بھی حاصل تھیں اور سیاسی سرگرمیاں بھی جاری تھیں، اسی لیے کہا جاتا تھا کہ چین میں ایک ملک اور دوسسٹم کا فارمولا نافذ ہے۔ اب چینی پارلیمنٹ نے جو نئی ترمیم منظور کی ہے اس کے تحت ہانگ کانگ میں اب پہلے جیسی آزادیاں حاصل نہیں ہوں گی، اگر چہ نئے قانون کی پوری تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں، جن کے لیے چند ہفتے تک انتظار کرنا پڑے گا، لیکن اس پیش رفت کے پیچھے یہ مقصد کارفرما ہے کہ پرانے سسٹم کے تحت جو آزادیاں حاصل تھیں، ان پر پابندی عائدکی جائے۔ چین کا خیال ہے کہ ان آزادیوں کےلیے خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ چین کا یہ بھی خیال ہے کہ ہانگ کانگ کے لوگوں کو ملی ہوئی آزادی کے تحت نہ صرف علیحدگی پسندی کے رجحانات نے زور پکڑنا شروع کیا تھا بلکہ غیر ملکی اثرات بھی بڑھ رہے تھے، جو چین کی گھریلو سیاست پر اثر انداز ہونے لگے تھے، ان ہی حقائق یا مفروضات کی بنیاد پر چین نے اختلاف کی آواز کو دبانا شروع کردیا تھا۔ اب نئے قانون کے تحت چین کی قومی سلامتی سے  وابستہ ایجنسیوں کو ہانگ کانگ میں جاکر چھان بین کرنے اور دیگر سرگرمیوں کو فروغ دینے کی راہ ہموار ہوگیٔ ہے۔

چینی قیادت یہ محسوس کررہی تھی کہ ہانگ کانگ میں جو سیاسی آزادیاں لوگوں کو حاصل تھیں، اس کے تحت جمہوریت پسندی کو فروغ حاصل ہورہا تھا اوریہ کہ ہانگ کانگ میں اسی کے نتیجے میں ان کی گرفت کمزور پڑتی جارہی ہے۔وہاں جمہوریت کے حامی حلقوں کی طرف سے پورے طور پر جمہوریت کی بحالی کےلیے آوازیں اٹھنے لگی تھیں۔ حالیہ مہینوں میں وہاں احتجاج کی تیز لہر بھی دیکھی گئی تھی، جس سے چین کی مرکزی قیادت خاصی فکر مند تھی۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین کو ایک ایسے موقع کی تلاش تھی کہ جب دنیا دوسرےمعاملات میں الجھی رہے تو کچھ ایسی کارروائی کی جا ۓجس سے جمہورہت پسندوں کی آواز کو دبانے میں مدد مل سکے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کووڈ 19کی وبا نے چین کو ایک ایسا موقع دے دیا، جس سے وہ نیاقانون پاس کرانےمیں کامیاب ہوگیا۔ ظاہر ہے پوری دنیا اسوقت کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہے اور ہر ملک اپنے اپنے معاملات میں بری طرح الجھا ہوا ہے۔ اس بیماری نے عالمی پیمانے پر لاکھوں افراد کو نگل لیا ہے اور بہت بڑی تعداد میں لوگ اس وبا سے متاثر ہوئے ہیں۔ صرف سائنسداں، ڈاکٹر اور حفظان صحت سے وابستہ دیگر بے شمار افراد ہی دن رات اس پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف نہیں ہیں بلکہ ہر ملک کی سیاسی قیادت بھی پریشان اور فکر مند ہے۔ حکمرانوں کی ذمہ داری صرف ملک کا نظم و ضبط سنبھالنا ہی نہیں ہوتا، بلکہ معیشت کو مستحکم رکھنے کےلیے ضروری اقدام کرنا اور لاکھوں کروڑوں عوام کی صحت اور سیکورٹی کا خیال رکھنا بھی ہوتا ہے۔ کورونا وائرس کے اس انتہائی پریشان کن دور میں کسے فکر ہے کہ وہ چین میں ہونے والی ان سیاسی تبدیلیوں اور بندشوں پر زیادہ توجہ صرف کرے۔لہٰذا تجزیہ کاروں کے خیال میں چین نے اس موقع کو غنیمت جانا اور پارلیمنٹ سے نیا قانون پاس کرالیا۔

چین کی اس حالیہ کارروائی پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوۓ امریکہ نے یہ کہا ہے کہ ہانگ کانگ کو اب تک اقتصادی اور تجارتی سطح پر جو مراعات حاصل تھیں وہ ختم ہوجا ئیں گی۔ اس کے علاوہ ایک خطرہ یہ بھی محسوس کیا جارہا ہے کہ مختلف شعبوں سے وابستہ ماہرین اور کثیر قومی کمپنیاں ہانگ کانگ چھوڑ کر کہیں اور منتقل ہوسکتی ہیں، لیکن چین کو ان باتوں سے کچھ زیادہ سروکار شاید نہیں ہے وہ اپنا سخت گیر سسٹم قائم کرنا چاہتا ہے۔ دوسری بات جو عالمی پیمانے پر بھی محسوس کی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ ساؤتھ چائناسی کے تعلق سے چین کی جو یکطرفہ سوچ اور بعض کارروائیاں ہیں یا اپنے بعض پڑوسی ملکوں کی سرحد پررہ کر جو مشکلات پیدا کرنے کی وہ کوشش کررہا ہے، اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ پورے ایشیا میں اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کی فکرمیں ہے۔ چین وقتاً فوقتاً بین الاقوامی ضابطوں کو بالائے طاق رکھ کر بعض معاملات میں من مانی کرنا چاہتا ہے، اس سے بھی اس کے منفی نوعیت کےعزائم کا پتہ چلتا ہے۔ عالمی سیاست چین کے سخت گیر نظام اوار ایشیا میں اس کے سفارتی عزائم اور طریقۂ کار پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار یہ محسوس کرتے ہیں کہ چین صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے اور طاقت ہی کی قدر بھی کرتا ہے۔ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر ایشیا ئی ممالک اس کی سفارتی مہمات اور یکطرفہ فیصلوں سے متاثر ہوکر یا اس کے جھانسے میں آکر اس کی باتوں میں آگئے تو اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی حوصلہ افزائی ہوگی اور اس کے قدم بڑھتے ہی جا ئیں گے، جبکہ دنیا کو ایک  منصفانہ قومی نظام کی ضرورت ہے۔ بہر حال ہانگ کانگ میں چین نے جو نیا قانون نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس کے اثرات اگر فوری طور پر محسوس نہ کیے گئے تو موجودہ صورتحال کے بدلنے کے بعد یقیناً بڑی شدت سے محسوس کیے جا ئیں گے۔