03.06.2020

ہند چین سرحد پر بڑی تعداد میں چینی افواج تعینات: راج ناتھ سنگھ

آج ملک کے تمام اخبارات نے ہند۔چین سرحد پر کافی بڑی تعداد میں چینی فوجوں کی تعیناتی کے حوالے سے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان کو شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ روزنامہ ہندو کے مطابق، حقیقی کنٹرول لائن پر چینی افواج کی تعیناتی کی تصدیق کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان 6 جون کو اہم مذاکرات ہوں گےاور اس سلسلے میں انھوں نے سینئر فوجی افسران سے بھی بات چیت کی ہے۔سی این این نیوز 18 سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ چینی فوجوں کی اس تعیناتی کے پیش نظر، ہندوستان نے بھی ضروری اقدامات کئے ہیں۔ اس کے علاوہ فوجی سطح پر بھی بات چیت جاری ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ چین کو بھی اس سلسلے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے تاکہ یہ تنازعہ سلجھایا جاسکے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا کہ ہندوستان نہ تو کسی کی خودمختاری کو پامال کرے گا اور نہ ہی اپنے سلسلے میں کسی دوسرے کو ایسا کرنے دے گا۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس نے اسی سلسلے میں وزارت خارجہ کے بیان کے حوالے سے ایک خبر میں تحریر کیا ہے کہ گروپ سات کی توسیع کے سلسلے میں جب امریکی صدر ڈونل ٹرمپ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو فون کیا تھا تو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہند۔چین سرحدی تنازعے پر بھی بات چیت ہوئی تھی۔

اقوام متحدی کی رپورٹ: افغانستان میں لشکر طیبہ اور جیش محمد سرگرم، ہندوستان کا شدید اظہار تشویش

اخبارات نے جن دیگر اہم خبروں کو اپنی اشاعت میں نمایاں جگہ دی ہے ان میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ بھی شامل ہے جس کے مطابق، ساڑھے چھ ہزار پاکستانی شہریوں سمیت، بڑی تعداد میں غیر ملکی دہشت گرد افغانستان میں سرگرم ہیں۔ اس رپورٹ پر ہندوستان نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔  روزنامہ انڈین ایکسپریس نے اپنی خبر میں اقوام متحدہ سلامتی کاؤنسل کی اینالیٹکل سپورٹ اینڈ سینکشنس مانیٹرنگ ٹیم  کی رپورٹ کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ذریعے مشتہر لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی تنظیمیں پاکستان کے کنٹرول والے علاقوں سے سرگرم ہیں اور افغانستان کے دیگر علاقوں سے ٹریفیکنگ میں مدد اور تربیت کی سہولتیں فراہم کررہی ہیں۔ خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی یہ ٹیم افغانستان میں امن  وسلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے والی تنظیموں پر نظر رکھتی ہے۔ اخبار ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستو کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ حکومت ہند نے اس رپورٹ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہاں اقوام متحدہ کے ذریعے مشتہر القاعدہ اور اس سے جڑی ہوئی دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں اور جن میں 6 ہزار 500 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔اس رپورٹ سے ہندوستان کے اس پرانے موقف کی تصدیق ہوتی ہے کہ پاکستان بدستور بین الاقوامی دہشت گردی کا اڈا  بنا ہوا ہے  اور اُس سرزمین پر ان مشتہر تنظیموں اور افراد کو  سرکاری سرپرستی میں مالی، تربیتی، اسلحہ جاتی اور دہشت گردوں کی  بھرتی جیسی سہولیات حاصل ہیں ۔ یہ افراد اور تنظیمیں اس خطے اور دنیا کے دیگر حصوں میں دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں اور دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان ابھی تک ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے جن کے تحت اس کو اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں دہشت گردی کی حمایت اور اس کا خاتمہ کرنا ہے۔ ترجمان کے مطابق، ہندوستان، افغانستان میں امن، استحکام اور سلامتی کی بقا کے لئے کی جانے والی تمام کوششوں  کی حمایت جاری رکھے گا اور اس کے لئےتعاون کرتا رہے گا۔

پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں بجلی پروجیکٹ قائم کرے گا چین

‘‘ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں بجلی پروجیکٹ قائم کرے گا چین’’۔ یہ سرخی ہے روزنامہ ہندو کی۔ خبر کے مطابق، ہندوستان کے سخت احتجاج کے باوجود، چین  اپنے کثیر ڈالر سی پی ای سی پروجیکٹ کے تحت، مقبوضہ کشمیر میں ایک ہزار 124 میگا واٹ کا کوہالا ہائیڈرو پاور کا پروجیکٹ قائم کرے گا۔ اخبار، پاکستانی روزنامہ ایکپریس ٹریبیون کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ اس پروجیکٹ کی تفصیلات،  پیر کے روز  منعقد، پرائیویٹ پاور اینڈ انفرا اسٹرکچر بورڈ کی 127 ویں میٹنگ میں پیش کی گئیں جس کی صدارت وزیر توانائی عمر ایوب نے کی تھی۔ اس سلسلے میں چین۔ پاکستان، معاشی راہداری کے تحت اس معاہدے کو حتمی شکل دی گئی ہے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ حکومت ہند نے یہ کہتے ہوئے گلگٹ۔بلتستان میں باندھ کی تعمیر کے خلاف احتجاج کیا تھا کہ پاکستان کے غیر قانونی قبضے والے علاقوں میں اس طرح کے پروجیکٹ نامناسب ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعے گروپ سات کی توسیع کے لئے ڈونل ٹرمپ کی تجویز کو حمایت

وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز، امریکی صدر ڈونل ٹرمپ کی اس تجویز کی توثیق کی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا گروپ سات میں توسیع کرتے ہوئے اس میں ہندوستان جیسے ممالک کو سربراہ کانفرنس کے لئے شامل کیا جائے کیوں کہ یہ توسیع، کووڈ۔19 کے بعد کی دنیا میں ابھرتی ہوئی حقیقتوں کے عین مطابق ہوگی۔ اس حوالے سے روزنامہ ہندوستان  ٹائمس تحریر کرتا ہے کہ وزیر اعظم نے اس  توثیق کا اظہار صدر ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفون پر اپنی گفتگو کے دوران کیا۔انھوں نے مزید کہا کہ اس سربراہ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے، ہندوستان کو دوسرے ممالک کے ساتھ کام کرنے میں خوشی ہوگی۔ نریندر مودی کے ساتھ اپنی بات چیت میں ڈونل ٹرمپ نے ہندوستان کے وزیر اعظم کو گروپ سات کی سربراہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی جو ستمبر میں منعقد کی جائے گی۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم نے  صدر امینوئل میکرون کی دعوت پر، گذشتہ سال فرانس میں منعقدہ گروپ سات کی سربراہ کانفرنس میں مہمان خصوصی کے بطور شرکت کی تھی۔ اخبار نے مزید تحریر کیا ہے کہ امریکی صدر کے ساتھ ٹیلیفون اپنی بات چیت میں، نریندر مودی نے امریکہ میں جاری مظاہروں پر اپنی تشویش بھی ظاہر کی اور اس مسئلے کے جلد تصفیے کے لئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

امریکہ میں جاری شورش کے پیش نظر ٹرمپ نے دی فوج بھیجنے کی دھمکی

امریکہ میں افریقی نژاد امریکی سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی پولیس کے ہاتھوں موت کے بعد وہاں جاری شدید مظاہروں کے پیش نظر،  صدر ڈونل ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر مقامی حکام تشدد کو روکنے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ  شہروں اور اسٹیٹس میں فوج تعینات کردیں گے۔ روزنامہ ہندو نے اپنی خبر میں مطلع کیا ہے کہ پیر کے روز وہائٹ روز گارڈن میں ڈونل ٹرمپ نے کہا  تھا کہ اگر میئر اور گورنر شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لئے قدم اٹھانے سے انکار کرتے ہیں تو وہ  امریکی فوج تعینات کرکے اس مسئلے کو فوراً حل کردیں گے۔ اس سے قبل، امریکی صدر نے اسٹیٹ گورنروں سے کہا تھا کہ وہ احتجاجیوں کو کنٹرول کریں۔ خیال رہے کہ فلائیڈ کے موت  کے خلاف، 75 سے زیادہ امریکی  شہروں میں سخت احتجاجات  کئے جارہے ہیں۔ اخبار مزید رقم طراز ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس بیان سے قبل، پولیس نے وہائٹ ہاؤس کے نزدیک، لافیئٹ اسکوائر  میں پر امن احتجاجیوں پر ربر بلیٹس، فلیش بینگ شیلس اور گیس کا استعمال کیا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، کرفیو نافذ کئے جانے سے قبل، حکام نے پارک سے احتجاجیوں کو باہر نکال دیا تھا۔