04.06.2020

سرحدی تنازعے کے حل کے لئے کسی تیسرے فریق کی مداخلت کی ضرورت نہیں: چین

۔ آج اخبارات نے ایک بار پھر ہند چین تنازعے سے متعلق خبروں کو نمایاں انداز میں شائع کیا ہے۔ اب تک ہندوستان یہ کہتا رہا ہے کہ دونوں ملک اس تنازعے کو باہمی طور طریقوں سے حل کر سکتے ہیں یہاں تک کہ اس نے امریکہ کے ذریعے پچھلے ہفتے ثالثی کی پیش کش کو بھی مسترد کردیا تھا، لیکن اب چین نے بھی یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ اس معاملے میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سلسلے میں روزنامہ ہندو چین کی وزارت خارجہ کے  ترجمان  ژہاؤ لی جیان  کےحوالے سے لکھتا ہے کہ چین اور ہندوستان دونوں ہی اس مسئلے کو سلجھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کے لئے کسی تیسرے فریق کی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ  حقیقی کنٹرول لائن پر کشیدگی دور کرنے کے لئے باہمی طریقہ کار کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور اس مسئلے کو بگفت و شنید کے حل کیا جاسکتا ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی چینی وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا ہے کہ سرحدی  تنازعے پر چین کا موقف واضح ہے۔ اخبارات کے مطابق، یہ بیان، وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفون پر اس معاملے پر بات چیت کے ایک روز بعد آیا ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژہاؤ لی جیان نے ایک بارپھر اپنی وزارت کے پچھلے ہفتے کے بیانات کو دہرایا جس میں کہا گیا تھا کہ  سرحد پر صورتحال مجموعی اعتبار سے مستحکم اور کنٹرول میں ہے۔ خیال رہے کہ لداخ اور سکم میں ایل اے سی کے  کم از کم چار مقامات پر  تعطل کی صورتحال اور فوج کی زبردست تعیناتی کی خبریں موصول ہوتی رہی ہیں نیز یہ کہ اس تنازعے کو حل کرنے کے لئے بات چیت کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔

 

کشمیر میں دھماکہ خیز مادے کے ماہر سمیت، جیش محمد کے تین دہشت گرد ہلاک

۔ اخبارات نے ایک اور ہم خبر کی طرف بھی قارئین کی توجہ مبذول کرائی ہے جس کے مطابق،کشمیر میں ہندوستانی سلامتی افواج نے  جیش محمد سے تعلق رکھنے والےدھماکہ خیز مادے کے ایک اعلیٰ ماہر کو ہلاک کردیا ہے۔ روزنامہ ہندو کے مطابق، خیال کیا جاتا ہے کہ عبدالرحمٰن عرف فوجی بھائی نے 28 مئی کو کئے جانے والے کار بم دھماکے کی سازش تیار کی تھی، جس کو بروقت ناکام بنادیا گیا تھا۔بدھ کو کی گئی اس کارروائی میں دو مقامی دہشت گرد بھی ہلاک کئے گئے۔ عبدالرحمٰن عرف فوجی بھائی،  پاکستان میں راولپنڈی کا رہنے والا تھا۔ حکام کے مطابق، اس نے افغان جنگ میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا اور وہ 2017 سے جنوبی کشمیر میں سرگرم تھا۔ کشمیر پولیس کے آئی جی وجے کمار نے بتایا کہ خفیہ اطلاعات ملنے کے  بعد ، فوج کی راشٹریہ رائفل، سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس کی مشترکہ ٹیم نے پلوامہ ضلع کے کانگن گاؤں میں یہ کارروائی انجام دی جہاں یہ دہشت گرد چھپے ہوئے تھے۔ بقیہ دونوں دہشت گردوں کی شناخت منظور کار عرف مَنش اور  جاوید زرگر کے طور پر کی گئی ہے۔ یہ دونوں جیش محمد کے مقامی کمانڈر تھے۔اخبار آگے لکھتا ہے کہ پچھلے دو ماہ سے جیش دہشت گردوں کے ذریعے سلامتی دستوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کی اطلاعات ملتی رہی تھیں۔

 

پاکستان کے زبردست منصوبے کے تحت، دہشت گرد گروپ کابل میں سرگرم

۔ پاکستان کے اشارے پرلشکر طیبہ اور جیش محمد کے دہشت گرد افغانستان میں اپنا دائرہ کار بڑھاتے رہے ہیں۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمس نے اس کا علم رکھنے والے ذرائع کے حوالے سے اپنی خبر میں تحریر کیا ہے کہ ان تنظیموں کا یہ منصوبہ، امریکہ۔طالبان امن مذاکرات میں پیش قدمی کی رفتار سے قطع نظر، کابل اور افغانستان کے دیگر علاقوں میں دہشت گردی کو فروغ دینے کے لئے پاکستان کی محتاط حکمت عملی کا حصہ ہے۔اخبار آگے لکھتا ہے کہ پاکستان کی آئی ایس آئی لشکر طیبہ اور جیش محمد کے دہشت گردوں کو اسلامک اسٹیٹ کے خراسان صوبے میں خفیہ طریقے سے بھیج رہی ہے۔خراسان، افغان سلامتی افواج کے ذریعے اس کے سربراہ عبداللہ اُرک زئی آقا  اسلم فاروقی اور اس کے اعلیٰ کمانڈروں کی گرفتاری کے بعد سے انتشار کا شکار ہے۔خیال رہے کہ فاروقی کی گرفتاری کے بعد مولوی محمد کو آئی ایس کے پی کا سربراہ بنایا گیا تھا اور کابل میں انسداد دہشت گردی حکام کے مطابق، مولوی کے لشکر طیبہ سے کافی  گہرے تعلقات ہیں۔اخبار دہلی میں انسداد دہشت گردی عہدیداروں کے حوالے سے آگے رقم طراز ہے کہ پاکستان کے شہر راولپنڈی میں تیار بلیو پرنٹ کے تحت، آئی ایس آئی کے حکام نے ان دہشت گردوں کو ان کی کارروائی میں مدد دینے کے لئے مالی اور لاجسٹک سہولیات کا نیٹ ورک تیار کیا ہے۔ نیز یہ کہ کُنار میں  طالبان کے شیڈو گورنر احمداللہ کے ذریعے بلائی گئی حالیہ میٹنگ میں آئی ایس آئی حکام نے نے شرکت بھی کی تھی جس میں لشکر طیبہ اور طالبان کے اعلیٰ ارکان بھی شریک ہوئے تھے۔ واضح ہو کہ اس سے چند روز قبل، اقوام متحدہ  سلامتی کاؤنسل کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم نے انکشاف کیا تھا کہ چھ سے ساڑھے چھ ہزار غیر ملکی  جنگجو افغانستان میں خفیہ طور پر بھیجے گئے ہیں جن میں لشکر طیبہ کے 800 اور جیش محمد کے 200جنگجو، طالبان کے ساتھ ننگر ہار صوبے کےمہمند درہ، دُر بابا اور شیرزاد اضلاع میں سرگرم ہیں۔ اس کے علاوہ، لشکر طیبہ کے 220 اور جیش محمد کے 30 مزید جنگجو کُنار صوبے میں سرگرم ہیں۔اخبار کابل میں سلامتی دستوں کے حکام کے حوالے سے مزید رقم طراز ہے کہ 29 فروری کو امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد اور طالبان کے درمیان معاہدے کے بعدآئی ایس آئی نے افغانستان میں لشکر طیبہ اور جیش محمد کے دہشت گردوں کے خفیہ داخلے پر زور دیا ہے۔ سفارتی ذرائع نے ہندوستان ٹائمس کو بتایا ہے کہ لشکر طیبہ اور جیش محمد کے دہشت گردوں کی افغانستان میں دراندازی، طالبان اور آئی ایس آئی کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ ان دونوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اس ملک میں اقیام امن کے لئے کام کررہے ہیں لیکن دوسری جانب صورتحال کو خراب کرنے کے لئے وہ اپنی درپردہ حرکتوں سے بھی باز نہیں آتے ہیں۔ 

 

پاکستان میں بودھ دھرم کے مقام پر توڑ پھوڑ، ہندوستان کا سخت احتجاج

۔ پاکستان کے ہی تعلق سے اس اخبار نے خبر دی ہے کہ گلگٹ بلتستان میں بودھ وراثت کے ایک مقام پر مبینہ توڑ پھوڑ کی گئی ہے جس کے خلاف نئی دہلی حکومت نے پاکستان سے سخت احتجاج کیا ہے۔خیال رہے کہ ہندوستان، اس علاقے کو جموں و کشمیر کا حصہ مانتا ہے۔ گذشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر گردش میں ہیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ گلگٹ بلتستان میں بودھ دھرم سے تعلق رکھنے والی پینٹنگس اور  چٹان پر اس دھرم سے متعلق نقاشیوں کو تباہ کیا گیا ہے۔اخبار وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستو کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ گلگٹ بلتستان میں بیش قیمت ہندوستانی ورثے کی توڑ پھوڑ کے خلاف، حکومت ہند نے، پاکستان کو اپنی شدید تشویش سے آگاہ کردیا ہے۔ واضح ہو کہ اس علاقے پر پاکستان نے غیر قانونی طور پر قبضہ کررکھا ہے اور ہندوستان اس پر اپنا دعویٰ جتاتا ہے۔ 

 

ہانگ کانگ چین کا حصہ: نیپال

۔ ‘‘ہانگ کانگ چین کا اٹوٹ حصہ: نیپال’’ یہ سرخی ہے روزنامہ ہندو کی۔ خبر کے مطابق، بدھ کے روز نیپال نے ون چائنا۔ ون پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہانگ کانگ کو چین کا ایک اٹوٹ حصہ سمجھتا ہے۔ کٹھمنڈو میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ نیپال کسی ملک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کو تسلیم کرتا ہےاور ہانگ کانگ میں امن و قانون برقرار رکھنے کے لئے چین کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔اخبار آگے لکھتا ہے کہ بیجنگ نے ہندوستان سمیت تمام ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ ہانگ کانگ میں اس کے نئے قانون کی حمایت کریں۔ پاکستان بھی اسی تناظر میں ون چائنا ون پالیسی کی پوری طرح حمایت کرچکا ہے۔ خیال رہے کہ  اکتوبر 2019 میں صدر شی جن پنگ کے دورۂ نیپال کے وقت، نیپال نے مجرموں اور چین مخالف کارکنوں کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں  ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ اس سمجھوتے کو بیجنگ کے ساتھ حوالگی معاہدےکی سمت میں ایک قدم کے طور دیکھا گیا تھا جس کے تحت بیجنگ کو ، نیپال کا دورہ کرنے والے تبتی کارکنوں اور چین کے ناقدین کو گرفتار کی چھوٹ مل جائے گی۔اخبار کے مطابق، ہانگ کانگ کے مستقبل کے سلسلے میں انگلینڈ کے ساتھ جاری سفارتی تنازعے کے تناظر میں بدھ کے روز ظاہر کی گئی  اس حمایت سے چین کے موقف کو بروقت تقویت  ملے گی۔ اسی دوران نیپال نے ہندوستان کے ساتھ سرحد پر 20 چیک پوائنٹس کھول دیئے ہیں کووڈ ۔19 کی وجہ سے مالی مشکلات کا شکار شہری واپس جاسکیں۔