ہندوستان ترقی کی راہ پر دوبارہ ہوگا گامزن، وزیراعظم کو اعتماد

وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ مزید ڈھانچہ جاتی اصلاحات  کے ساتھ ہی ہندوستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے اس سفر میں نجی  شعبہ کو شامل کیا جائے گا تاکہ کووڈ -19سے پیدا چیلنجوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔ وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار نئی دہلی میں کنفڈریشن آف انڈین انڈسٹریز کے 125 ویں سالانہ اجلاس سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے صنعت کاروں کو یقین دلایا کہ ہم سب مل کر دوبارہ ترقی حاصل کریں گے۔

موجودہ حالات سے پریشان ملک کے صنعت کاروں میں اعتماد پیدا کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انہیں ملک کی صلاحیتوں، بحران سے نکلنے کی اس کی طاقت، اس کی ٹیکنالوجی اور متضاد صلاحیتوں، ملک کے کسانوں اور تمام درمیانہ اور چھوٹے درجے کی صنعتوں پر غیر متزلزل اعتماد ہے اور انہیں قوی امید ہے کہ ہم جلد ہی ترقی کی راہ پر دوبارہ گامزن ہوجائیں گے۔ ملک کی کل گھریلو پیداوار میں درمیانہ، اور بہت چھوٹی صنعتوں کا حصہ 30 فیصد ہے۔ اب جب کہ حکومت نے 200 کروڑ روپے تک کے سازوسامان کے لیے عالمی ٹینڈر ختم کردیا ہے، امید ہے کہ اس شعبہ کو جلاء ھاصل کرنے میں کافی مدد ملےگی اور وہ ایک خود انحصار معیشت بن کر ابھرے گا۔

کووڈ-19 وبا کے پھیلنے کے بعد ملک میں پچیس مارچ سے لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا، جس کی وجہ سے تمام معاشی سرگرمیاں رک گئیں۔ لیکن اس کے باوجود حکومت معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانے کے تمام اقدامات کرتی رہی۔ حکومت نے تمام شعبوں کی مدد کے لیے بیس لاکھ کروڑ روپے کے پیکیج کا اعلان کیا اور ابھی چند روزقبل وزیراعظم نے ملک کو خود انحصار بنانے کی اپیل کی۔

اس بات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہ ملک میں اصلاحات کس طرح کی گئیں، جناب مودی نے زراعت کے شعبہ میں کیے گئے حالیہ اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی بہبود کے لیے ضروری اشیاء قانون اور زرعی پیداوار سے متعلق مارکیٹنگ کمیٹی ایکٹ میں ترامیم کی گئیں۔ اس کے علاوہ گوداموں میں رکھے ہوئے اناجوں کو الیکٹرانک ٹریڈنگ کے ذریعہ فروخت کرنے کی اجازات دی گئی تاکہ زرعی تجارت کے لیے راستے کھل سکیں۔ کووڈ-19 کے باعث مزدوروں کی فراہمی کا مسئلہ بھی پیدا ہوگیا تھا اس لیے حکومت نے اس شعبہ میں اصلاحات کے قدم اٹھائے تاکہ مزدوروں کو روزگار فراہم ہوسکے اور ضرورتمند آجروں کو مزدور مل سکیں۔

یہ بات بھی اب ایک حقیقت بن چکی ہے کہ ایسے غیر اسٹریٹجک شعبوں میں جہاں نجی شعبہ کو پہلے کام کرنے کی اجازت نہیں تھی اب انہیں وہاں کام کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں کوئلے کے شعبہ کا ذکر کیا جاسکتا ہے جہاں نجی شعبہ کو تجارت کی غرض سے کان کنی کی اجازت دے دی گئی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ خواہ وہ کان کنی ہو یا توانائی، تحقیق ہو یا ٹیکنالوجی ان شعبوں میں حکومت جس انداز سے کام کررہی ہے امید ہے کہ اس سے صنعت اور نوجوانوں دونوں کو ترقی کے کافی مواقع ملیں گے۔

حکومت کا میک ان انڈیا پروگرام روزگار فراہم کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ ابھی تک ملک میں فرنیچر، ایئرکنڈیشنر، چمڑا اور جوتے چپل جیسی چیزیں درآمد ہورہی ہیں لیکن اس پروگرام کے تحت ایک ایسا کام چل رہاہے جس سے ان چیزوں کی درآمدات پر انحصار کم ہوجائے گا کووڈ-19 کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں پی پی ای کٹ تیار نہیں ہوتی تھیں، لیکن اس وبا کے باعث جب اس کی ضرورت پڑی تو ملک میں ہی روزانہ تین لاکھ کٹس تیار ہونے لگیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم میں اندرون ملک چیزیں تیارکرنے کی کتنی صلاحیت ہے اور ہمیں اس صلاحیت کی نشوونما کرنی چاہیے۔

آتم نربھر بھارت مہم کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس مہم کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ ہم عالمی معیشت سے بالکل الگ ہوجائیں ہمیں اس کے ساتھ مل کر چلنا ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے ہندوستانی صنعت سے ایک مضبوط سپلائی چین (Chain) کے قیام کے لیے سرمایہ لگانے کی اپیل کی۔ انہوں نے سی آئی آئی جیسے اداروں سے اپیل کی کہ وہ ایسی مصنوعات تیارکریں جنہیں نہ صرف برآمد کیا جاسکے بلکہ گھریلو بازار میں بھی سپلائی کیاجاسکے۔ کووڈ-19 وبا پھیلنے کے بعد صورت حال بالکل بدل چکی ہے۔ اس لیے صنعت کاروں کو بھی ایک نئے رول میں سامنے آنا ہوگا۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ ترقی کو پٹری پر واپس لانے کے لیے وزیراعظم کی جانب سے لیے گئے فیصلے بالکل صحیح وقت پر لیے گئے ہیں۔